Baseerat Online News Portal

نکاح کے اغراض ومقاصدشریعت مطہرہ کی روشنی میں

مفتی محمدعبد اللہ قاسمی
نکاح افزائش نسل ،تحفظ اخلاق اورقلب ونظرکی پاکیزگی کاذریعہ ہے،عفت وپاکدامنی اورشرافت وحیاکاجلی عنوان ہے،نکاح صرف مردوعورت کے مابین تعلق وارتباط کانام نہیں ہے؛بلکہ دوخاندانوں کے درمیان ایک مضبوط بندھن اوراٹوٹ رشتہ کاسبب ہے،نکاح محض عارضی اوروقتی طورپرصنفی ذوق کی تسکین کاسامان نہیں ہے۱بلکہ انسانی سماج میں عفت وپاکدامنی اورشرافت وحیاکوفروغ دینے کاایک بہترین وسیلہ ہے،نکاح سے بہت سے سماجی اورمعاشرتی مصالح وابستہ ہیںجن کاجاننا نئی نسل کے لئے ضرروی ہے؛تاکہ وہ اسلامی بنیادوں پرنکاح کی تقاریب کواستوارکریں،اوراس کے نتیجے میں ایک خوش گوارمعاشرے کی تعمیرممکن ہو۔
افزائش نسل
نکاح کاایک اہم اوربنیادی مقصدافزائش نسل ہے،یہ فطرت کامنشااورقدرت کادستورہے،قرآن کریم میں اللہ تبارک وتعالی کاارشادہے:الذی أحسن کل شئ خلقہ وبدأ خلق الانسان من طین ثم جعل نسلہ من سلالۃ من ماء مہین (الم السجدۃ:۸،۷)اللہ نے ہراس چیزکوجواس نے بنائی بہترین بنایا،اورانسان کی تخلیق مٹی سے شروع کی،پھراس کی نسل کوحقیرپانی کے نچوڑسے پیداکیا ۔اولادکی خواہش رکھنااوراس کے لئے اللہ تبارک وتعالی سے دعاء مانگناانبیاء کرام کی سنت ہے،قرآن کریم نے متعددمقامات پرحضرت زکریاعلیہ السلام کی دعاء کاتذکرہ کیا ہے جس میں انہوں نے اولادکی دعاء مانگی تھی،اللہ تبار ک وتعالی کاارشادہے:ذکررحمۃ ربک عبدہ زکریا إذ نادی ربہ نداء خفیا قال رب إنی وہن العظم منی واشتعل الرأس شیباولم أکن بدعائک رب شقیا وإنی خفت الموالی من ورائی وکانت امرأتی عاقرا فہب لی من لدنک ولیا(مریم:۵-۲)یہ اس رحمت کاذکرہے جوآپ کے رب نے اپنے بندے زکریاپرکی تھی،جب انہوں نے اپنے رب کودھیمی آوازمیں پکارا،انہوں نے عرض کیا :اے میرے پروردگار!میری ہڈیاں کمزورہوگئی ہیں،اوربوڑھاپے کی وجہ سے میرے سرکے بال چمکنے لگے ہیں،اوراے میرے رب! میں تجھ سے مانگ کرکبھی محروم نہیں ہوا،اورمیں اپنے بعدرشتہ داروں سے ڈرتاہوں اورمیری بیوی بانجھ ہے،تومجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطافرما۔آپﷺنے بھی امت کوایسی عورتوں سے نکاح کی ترغیب دی ہے جواپنے شوہرسے ٹوٹ کرمحبت کرنے والی اورزیادہ بچے جننے والی ہوں،آپﷺکاارشادگرامی ہے:تزوجواالودودالولودفإنی مکاثربکم الأنبیاء یوم ا لقیامۃ(مسندأحمد،حدیث نمبر:۱۳۵۶۹)زیادہ محبت کرنے والی اورزیادہ بچے جننے والی عورتوں سے نکاح کرو؛کیوں کہ قیامت کے دن میں تمہاری کثیرتعدادکے ذریعے دوسرے انبیاء پرفخرکروں گا۔ایک روایت میں آپﷺنے فرمایا:سوداء ولودخیرمن حسناء لا تلد (المعجم الکبیرللطبرانی،حدیث نمبر:۱۰۰۴)وہ کالی کلوٹی عورت جوبچے جنتی ہے اس حسین عورت سے بدرجہا بہترہے جوبچے نہیں جنتی ہے۔چوں کہ نکاح کاایک بنیادی اوراساسی مقصدحصول اولادہے،اس لئے بیج کوغیرصالح اورغیرمنتج بنانے کوشریعت نے حرام اورناجائزقراردیاہے،اللہ تبا رک وتعالی کاارشادہے:ولاتقتلوا أولادکم من إملاق نحن نرزقہم وإیاکم إن قتلہم کان خطأ کبیرا(بنی إسرائیل : ۳۱)اورتم اپنی اولادکوتنگدستی کے خوف سے نہ قتل کرو،ہم انہیں رزق دیں گے اورتمہیں بھی ،ان کاقتل یقینا بہت بڑاگناہ ہے۔حجۃ الاسلام حضرت امام غزالی ؒلکھتے ہیں :فرقہ خوارج کے عورتوں کی عادت تھی کہ قربت کے وقت استقرارحمل کوروک دیتی تھیں،تاکہ حمل کی مصیبت اوربچوں کی پرورش کے عذاب سے آزادرہیں،حضرت عائشہ صدیقہؓ جب بصرہ تشریف لے گئیں توان خوارج عورتوں میں سے ایک عورت نے آپ سے ملاقات کرنی چاہی،آپؓ نے ملاقات سے اس لئے انکارکردیاکہ وہ استقرارحمل کی مخالفت کرتی تھیں۔(احیاء العلوم :۲/۵۲)حضرت عبداللہ بن عمرؓسے کسی نے پوچھاکہ عزل (جومنع حمل کی عملی تدبیرہے)کرنادرست ہے؟ آپؓ نے فرمایا:کیاایساکام کوئی مسلمان بھی کرسکتاہے۔(مدخل الشرع)حضرت ابوامامہؓ سے عزل کے بارے میںپوچھاگیا توآپؓ نے فرمایا:میں نے کبھی نہیں دیکھاکہ مسلمان نے ایساعمل کیا ہے۔(زادالمعاد)الغرض ضبط ولادت ،برتھ کنٹرول کی تدابیرکرنامقصدنکاح کے منافی ہے،اورفطرت سے بغاوت ہے،اورفطرت سے بغاوت ہمیشہ انسا ن کے لئے تباہی وبربادی کاپیش خیمہ ثابت ہوئی ہے۔
ذہنی اورجسمانی سکون کاسامان
نکاح جہاں افزائش نسل اورطلب اولادکاذریعہ ہے وہیں آپسی محبت اورچین وسکون کاوسیلہ بھی ہے،نکاح کی وجہ سے زوجین کوایک دوسرے سے ذہنی اورجسمانی سکون ملتاہے،اوردونوں کی زندگی خوش گواراوربہترطریقے پرگزرتی ہے،اللہ تبارک وتعالی نے قرآن کریم کے اندراپنی منجملہ نعمتوں میں ایک نعمت یہ بھی ذکرکی ہے کہ ہم نے بیوی کوشوہرکے لئے سکون واطمینان کاسامان بنایا ہے،ومن آیاتہ أن خلقکم من أنفسکم أزواجا لتسکنوا إلیہا وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ (الروم :۲۱)اوراللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہارے ہی جنس سے ازواج پیداکیے؛تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو،اوراس نے تمہارے درمیان محبت اورمہربانی پیداکی۔اوریہ ایک ناقابل انکارحقیقت ہے کہ مرد وعورت ہردوکے جسمانی ساخت میں اللہ نے ایک خاص قسم کی کشش اورمقناطیسیت رکھی ہے،جس کی وجہ سے عام حالات میں فطری طورپرہرمرد کاعورت کی طرف اورہرعورت کامردکی طرف میلان ہوتاہے،یہ ہرانسان کی فطرت اوراس کی طبیعت کاجزولاینفک ہے،ظاہرہے کہ نکاح حلال طریقے پراس فطری اورطبعی خواہش کوپوراکرنے کاوسیلہ ہے،اگراس فطری خواہش کوحلال طریقے سے پورانہیں کیا جائے گااوراس کودبانے کی کوششیں کی جائیں گی،تویہ غلط اورناجائزراستے تلاش کرے گی،اورحرام طریقے سے خواہش پوری کرے گی،اوراب یہ حقیقت کسی باشعوراورحالات زمانہ سے واقف شخص سے مستورنہیں رہ گئی کہ پادری لوک جوتبتل اورتجردکی زندگی گزارنے کادعوی کرتے ہیںاورراہبہ عورتیں جوشادی کیے بغیرپوری زندکی کلیسااورگرجاگھروں میں وقف کردینے کا ڈھونگ کرتی ہیں وہ درپردہ ایسے جنسی جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں کہ شرافت وحیااپنی آنکھیں نیچی کرلیتی ہیں،اورایک شریف انسا ن کاسرشرم کے مارے جھک جاتاہے۔
دوخاندانوں کے استحکام کاذریعہ
نکاح کے جہاں دیگرمقاصد اورمصالح ہیں وہیں نکاح کی ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ اس سے دوخاندانوں میں مضبوط اوراٹوٹ رشتہ قائم ہوتاہے،اوریہ رشتہ زندگی کی آخری سانس تک باقی رہتاہے،دوخاندان جولڑکے اورلڑکی کے ایجاب وقبول سے پہلے اجنبی اوربے گانہ ہوتے ہیںنکاح کارشتہ قائم ہونے کے بعد ایک دوسرے کے ایسے شناسا بن جاتے ہیں کہ ایک خاندان دوسرے خاندان کے دکھ درداورخوشی ومسرت کواپنادکھ درداوراپنی خوشی ومسرت خیال کرتاہے،بلکہ غورکیا جائے تومعلوم ہوگاکہ نکاح سے صرف دوخاندانوں کے تعلقات ہی استوارنہیں ہوتے ؛بلکہ یہ پورے سماج اورپوری سوسائٹی میںافراد کے آپسی تعلقات کوخوش گواراوربہتربناتاہے،اورایک دوسرے کے تئیں باہمی تعاون اورمحبت وہمدردی کویقینی بناتاہے،کیوں کہ جس سماج کے لوگ نکاح کرنے کے پابندہوں،اورنکاح کے مقاصداوراس کے مصالح کوپیش نظررکھتے ہوں توظاہرہے کہ اس سماج میںخاندانوںکاایک دوسرے سے گہراتعلق ہوگا،اوران میں اخوت ومحبت اورایثاروہمدردی کے صالح جذبہ موجزن ہوگا،اورکئی خاندان کے مجموعے ہی کوسماج اورمعاشرہ کہاجاتاہے؛اسی لئے پوراسماج امن وآشتی کاگہوارہ ہوگا،اورالفت ومحبت کادرس اس معاشرے میں زبان زدعام وخاص ہوگا،اوریہی وہ سماج ہے جس کامظلوم اورستائی ہوئی انسانیت خواب دیکھ رہی ہے،اوراسی صالح اورخوش گوارمعاشرے کے زیرسایہ پوری دنیا کے لوگ امن واطمینان اورچین وسکون سے رہ سکتے ہیں۔
شخصیت کی تعمیر
نکاح انسان کی شخصیت اوراس کے اخلاق وکردارپربڑاگہرااثرڈالتاہے،اوراس کے افکاروخیالات کونئی جہت عطاکرتاہے،نکاح کے بعدشریعت نے شوہرکے ذمہ بیوی اوربال بچوں کے اخراجات کی ذمہ داری رکھی ہے،اوراہل وعیال پروسعت سے خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے،نکاح کے بعد مسلسل یہ عمل کرنے سے ایک طرف انسان کے اندرذمہ داری کااحساس پیداہوتاہے،اوراپنے فرائض کوبحسن وخوبی بجالانے کی فکرپیداہوتی ہے،تودوسری طرف سخاوت اوردوسروں پرخرچ کرنے کاجذبہ پیداہوتاہے،بخل وحرص اورخودغرضی جیسی صفات رذیلہ انسان سے دورہوتی ہیں،پھرنکاح کے بعد فطری طورپرانسان کے دل میں بیوی اوراس کے بچوں کی اتھاہ محبت رکھ دی گئی ہے،اوراس محبت کی وجہ سے انسان اپنی شریک حیات اوراولادکے واسطے مال ودولت قربان کرنے کے لئے تیارہوجاتاہے،اوران کی خاطرہرقسم کی مشقت وتکلیف برداشت کرلیتاہے،اوران کے دکھ درد کواپنا دکھ درد اوران کی خوشی ومسرت کواپنی خوشی ومسرت سمجھتاہے،ظاہرہے کہ اس سے انسان کے اندرایثاروہمدردی اوردوسروں کوفائدہ پہونچانے کی نیک خصلت پیداہوتی ہے، حقوق مانگنے کے بجائے حقوق اداکرنے کی فکرہوتی ہے،غریب اوربے سہارالوگوں کے چہرے پر خوشی ومسرت کے آثاردیکھ کراس کوقلبی اطمینا ن وسکون نصیب ہوتاہے ،اوران کے آلام ومصائب کودیکھ کررنجیدہ اورکبیدہ خاطرہوجاتاہے،اورخاندان کی تعمیروتشکیل آپ ﷺ کے اس فرمان کے مطابق ہوتی ہے المومنون تراحمہم ولطف بعضم ببعض کجسد رجل واحد إذا اشتکی بعض جسدہ ألم لہ سائرجسدہ (صحیح ابن حبان ،حدیث نمبر:۲۹۷)مسلمان آپس میں محبت وہمدردی رکھنے میں آدمی کے جسم کے مانندہیں ،جب جسم کے کسی حصے میں دردہوتاہے توساراجسم تکلیف محسوس کرتاہے۔
(بصیرت فیچرس)

You might also like