مضامین ومقالات

سونے کی چڑیا کو اندھی چوہیا بنانے والا فیصلہ

ڈاکٹر مولانا محمد عبدالسمیع ندوی
دھن دھن ہوتا ہے جس کا کوئی رنگ نہیں ہوتا۔ البتہ دھن کی آمدنی کے ذرائع غیر مجاز اور اس کے مصارف (خرچ کے مدات) غیر قانونی ہوں اور ان دونوں جگہوں پر استعمال ہونے والی دولت سیاہ دولت کہلاتی ہے۔ لیکن اگر دولت خون پسینے کی کمائی کی ہو اور خون پسینہ بہانے والوں پر خرچ کی جائے تو سفید دولت کہلائی جاتی ہے۔ گورنمنٹ کی طرف سے عائد کردہ انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور گورنمنٹ کے طئے شدہ دیگر ٹیکسیز حکومت کی آنکھوں میں دھول جھونک کر جو بچائے جائیں گورنمنٹ کی نظر میں وہ دولت بھی سیاہ کہلاتی ہے۔ حکومتی کارندوں کی نظر عقابی ہوتی ہے کہاں کتنا مال ہے اور رشوت خوروں اور رشوت خوری کے تمام اڈوں کے علاوہ کہاں کتنے ٹیکس چور ہیں، ہر کسی کی کنڈلی حکومتی اداروں کے پاس لگ بھگ موجود ہے۔ کالے دھن کو نکالنے کی اگر ان میں صحیح دھن ہوتی تو آج پیدا شدہ حالات کا سامنا نہ کرنا پڑتا لیکن کیا جائے اسی زمرہ کے سرمایہ داروں نے حکومت کی بنیاد رکھنے میں دھن لگایا ہے ان کا وہ دھن جو اندرون ملک یا بیرون ملک ہے بڑی بڑی بینکوں میں ڈپازٹ رکھا ہوا ہے۔ تو پھر ان کا دھیان ان دھن پتیوں کی طرف کیوں جائے گا۔ حالیہ فیصلے میں جو چیز سب سے زیادہ اہمیت کی حامل رہی ہے وہ یہ کہ تمام اپوزیشن پارٹیوں کو نہ صرف مالی اعتبار سے کنگال کیا جائے بلکہ سیاسی اعتبار سے ان کو فنا کردیا جائے تاکہ وہ نوٹ کے بدلے ووٹ کی سیاست نہ چل سکیں اور وہ اس مقصد میں کامیاب بھی ہوچکے ہیں جس طرح کہ بلدیاتی الیکشن کے نتائج سے ظاہر ہوا ہے اور آئندہ یوپی اور پنجاب کے الیکشن میں وہ اس کو آزمانا چاہیں گے۔ اسی کے ساتھ ساتھ ڈھائی سال قبل الیکشن کے موقع پر کالا دھن لانے کا جو وعدہ کیا تھا اسے بھی پورا کرنا ہے، حجت پوری کرنا ہے اور اپنے محسنوں کے احسانات کو بھی فراموش نہیں کرنا تھا تو اس سے بہتر طریقہ اور کیا ہوسکتا ہے لیکن ماہرین معاشیات و اقتصادیا ت کے ساتھ ساتھ معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والوں پر بھی یہ حقیقت عیاں ہوجائے گی۔ جلد بازی میں کیا گیا یہ فیصلہ نہ ہی ملکی مفاد میں نظر آتا ہے نہ ہندوستانیوں کے مفاد میں، بلکہ صرف اور صرف خود غرضی پر مبنی، من مانی، نفسانی، انانیت اور آمریت پسندی اور ایک تیر میں کئی شکار پر مبنی فیصلہ نظر آتا ہے۔ جس کی کسک، چبھن ہر ہندوستانی محسوس کررہا ہے۔ فیصلہ کا یہ انداز فرعونی ہے، اس فیصلے کے ہاں میں ہاں ملانے والے قارونی مزاج کے پروردہ نظر آتے ہیں اور انجام اس کا شدادی نظر آتا ہے۔ اس طرز عمل سے ہندوستان کی نہ صرف معیشت تباہ و برباد ہوجائے گی بلکہ عروج و ترقی کے بجائے انحطاط و زوال کا شکار ہوجائے گی اور سونے کی چڑیا کہلانے والا ملک اندھی چوہیابن جائے گا۔
نومبر کے دوسرے ہفتے کا آغاز سرد ہونے کے باوجود بڑا گرم رہا۔ یہی نہیں بلکہ حیرتناک، دردناک، المناک اور افسوسناک بھی رہا جس نے اچھے اچھوں کے چھکے چھڑادئیے۔ خوشحال لوگوں کی نیندیں اڑادیں، متوسط طبقے کے ہوش اڑادئیے اور سطح غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی زندگی اجیرن کردی۔ وجہ صاف تھی کسی کے خواب و خیال میں نہ تھا کہ مالدار اچانک کنگال اور عام آدمی بدحال ہوجائے گا۔ ہر ایک کے سامنے اندھیرا چھاگیا، دن میں تارے نظر آنے لگے اچھے اچھوں کے قدموں تلے زمین کھسکتی نظر آنے لگی ہوا وہ جو کبھی سوچا نہیں تھا۔ ناعاقبت اندیشی پر محمول کچھ ایسا فیصلہ کردیا گیا جسے خود عواقب و نتائج کا شعور نہیں تھا خلوص سے ماوراء کئے گئے فیصلوں کا انجام بڑا تکلیف دہ ہوتا ہے۔ جو اوروں کیلئے گڑھا کھودتا ہے خود ہی اس میں گرتا ہے۔ صرف محاورہ اور ضرب المثل ہی نہیں بلکہ اس محاورے کے سیکڑوں واقعات شاہد عدل ہیں۔
اچھے خیالات اونچی فکر اور وسیع النظری اعلیٰ خاندان میں پروردہ شخصیت کی طرف سے ممکن ہے۔ گھٹیا خیالات، سطحی فکر اور تنگ نظری اس شخص کے خاندانی شجرہ کا پتہ دیتی ہے۔ ۸؍ نومبر کی رات عوام الناس کیلئے کچھ کم قیامت سی رہی ہے۔ ماضی میں اسکائی لیب کے بارے میں گلی گلی کوچہ کوچہ نکڑ نکڑ بچے جوان بوڑھے ہر مزاج ہر خیال ہر مذہب و مسلک کے لوگ گفتگو کرتے اور اپنی خیر منانے کی تدبیریں سوچتے ہوئے مناظر دیکھے ہیں کچھ ایسا ہی نظارہ اب کی بار بھی نظر آیا۔ اس وقت زندگی کے خاتمے سے متعلق باتیں ہوا کرتی تھیںاب کی بار گھٹن بھری زندگی کے نقشے نظروں کے سامنے ابھر رہے تھے سوشل میڈیا کو طنز و مزاج تیر ونشتر ہنسی مذاق کیلئے ایک بہت بڑا مواد فراہم ہوگیا تھا۔ کچھ جل رہے تھے تو کچھ جلا رہے تھے، کچھ ہنس رہے تھے کچھ رو رہے تھے اانسانوں کی عجب کیفیت تھی، اضطراب تھا، بے چینی تھی، سکون غائب تھا، ہر کسی کے چہرہ پر اداسی چھائی تھی، پرمژدگی کا منظر تھا عجیب افراتفری اور انتشار کا ماحول جس میں روپئے ہوکر بھی کنگال، خوشحال ہوکر بھی پریشان حال، کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ کیونکہ ہوا ہی کچھ ایسا تھا کہ جس کا کسی نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔
اچھے دن آنے والے ہیں، سب کا ساتھ سب کا وکاس، جیسے نعرے کانوں میں زہر گھول رہے تھے۔ اپنے روپئے بینکوں اور اے ٹی ایم سے نکالنا جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا، نفسا نفسی کا عالم، کوئی کسی کا پرسان حال نہیں تھا۔ دم کلیجے میں آرہا تھا۔ لوگ نہایت اذیت ناک دن کاٹ رہے تھے، لوگ اے ٹی ایم کا پتہ پوچھ رہے تھے، رقم کی حد بڑھ رہی تھی، گھٹ رہی تھی لوگوں کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں عوام الناس کی پلاننگ فیل ہورہی تھی مختلف گھروں میں خوشی کے شادیانے بجنے تھے وہاں ماتم ہونے لگے تھے۔ اور آنکھوں کے سامنے خواب ٹوٹتے اور بکھرتے نظر آنے لگے تھے۔ اکثر واقعات اکثریتی فرقے کی اکثریت میں ظہور پذیر ہوئے وہ اکثریتی طبقہ جس نے نے برسراقتدار پارٹی کو اکثریت سے حکمرانی کی کرسی پر براجمان کیا اس قدر اکثریت سے کہ وہ فیصلے کرنے میں من مانی کرنے کے قابل ہوجائے ایسی پارٹی کو اقتدار سونپا تھا جس نے پہلے کانگریس مکت کا خواب دیکھا اور دوسروں کو دکھایا پھر مسلمان مکت کا تصور دیا اسلام مکت کا نظریہ عام کیا ہندو راشٹر کا خواب دیکھا پھر اب اپوزیشن مکت بھارت کا خواب دیکھتے ہوئے اپنا آمرانہ، جابرانہ اور قاہرانہ فیصلہ صادر کردیا ۔ اب تک صرف من کی بات یا دھن کی بات دو نکاتی پروگرام کے ہی ارد گرد حکومت چل رہی تھی اب اس بار تمام کالا دھن لایا جائے گا اور ہر کسی کے کھاتے میں ۱۵ لاکھ آئیں گے۔ لائق قدر عہدیدار نے اپنی رعایا کو شیخ چلی بنادیا اسی ۱۵ لاکھ کے سنہرے خواب نے انہیں دوراہے پر کھڑا کردیا زندگی اجیرن کردی ہنستے کھیلتے گھرانوں کو اجاڑدیا وہ لکشمی جس کی پوجا ہوتی تھی ان کی نظروں سے چلی گئی پھر ایسی زندگی سے کیا فائدہ؟ خود کشیاں ہونے لگیں۔ ایسی لکشمی جس کی پوجا ہوتی تھی کاٹ کاٹ کر پھینک دی گئی، دریا برد کردی گئی اس جرم کا ارتکاب کرنے والے کچھ تو پکڑے گئے، کچھ رنگے ہاتھوں گرفتار ہوئے، نہایت ہی دلدوز اور ہولناک مناظر آنکوں نے دیکھے جن چیزوں کا سوچا ہی نہیں تھا وہ چیزیں منظر عام پر آگئیں۔ ابھی بھی اضطراب ہے، بے چینی ہے، سکون عوام الناس کی زندگی سے کوسوں دور ہے، اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا کسی کو علم نہیں، ہر کوئی پریشان ہے اکثریتی طبقے کی اکثریت نالاں ہے پھر بھی ۹۰ فیصد اس انہونی فیصلے سے خوش ہیں کہہ کر باور کرایا جارہا ہے۔ زرخرید میڈیا جانتے بوجھتے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کرنے پر تلا ہے موجود دنیا میں ہندوستانی میڈیا کی کذب بیانی، غلط بیانی، زیرو کو ہیرو، ظالم کو برحق اور بے قصور کو دہشت گرد قرار دینے میں آسکر ایوارڈ دیا جانا چاہئے۔ کیونکہ ملک کے بدترین حالات کے اگر تین لوگ ذمہ دار ہوسکتے ہیں تو ان میں تیسرا میڈیا ہی ہے کوئی اور نہیں۔ اکثریتی طبقے کے ذہن و دماغ میں یہ کبھی نہیں ہوگا کہ ہم نے سوچا کیا تھا اور ہوا کیا ہے اور اب ہر کوئی یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا ہے کہ اس مرض کی دوا کیا ہے؟ ان کا فیصلہ ہی فیصلہ کن ہوگا شرط یہی ہے کہ جو بھی فیصلہ لیں مبنی برخلوص ہو، جرأتمندانہ ہو، جیو اور جینے دو والی پالیسی پر محمول ہو۔ حزب اختلاف کو متحدہ، مستحکم وفاق بنانا اور تمام پریشان حال عوام کو اعتماد میں لینا بے حد ضروری ہے۔
رہی بات اقلیتی طبقے کی تو وہ تو پہلے ہی سے اقلیت میں ہے بیس فیصد میں دو فیصد بھی ایسے نہیں ہوں گے جنہیں مال کا ملال ہو، ان میں بھی جن کا مال حلال ہے، قرآنی حکم اور اپنے خالق کائنات و مالک کے حکم کے مطابق زکوۃ دہندگا ن ہوں گے تو ان کے مال کی حفاظت کی ضمانت اللہ نے لے رکھی ہے۔ دوسرے قسم کے لوگوں کیلئے قرآن کی جو وعید ہے وہ پوری ہوکر رہے گی۔ جو لوگ سونا چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں انہیں درد ناک عذاب کی خوشخبری سنادیجئے کہ جس دن پگھلے ہوئے سونا چاندی سے ان کے پیشانیوں، پہلوؤں اور پیٹھوں، کو داغا جائے گا اور کہا جائے گا یہ ہے وہ جو تم نے جمع کررکھا تھا سو اپنے جمع کررکھنے کا مزہ چکھو۔ اس قسم کے لوگوں کیلئے آخرت میں تو عذاب ہے ہی، دنیا میں بھی چین و سکون کی زندگی سے محرومی، آنکھوں سے نیند غائب، دل و جاں کی بے قراری ہی ان کا مقدر ہوگی۔ اس فیصلے سے ہر کسی کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔
(بصیرت فیچرس)
* ایم اے عربی، اردو، فارسی، اسلامیات، بی ایڈ، یو جی سی نیٹ، پی ایچ ڈی
* لیکچرار شعبہ عربی ، ڈاکٹر رفیق زکریا کالج فار ویمن، نوکھنڈہ، جوبلی پارک، اورنگ آباد۔ مہاراشٹر (انڈیا)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker