فقہ وفتاویٰ

آپ کے شرعی مسائل

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
عصری تعلیم میں زکوٰۃ سے تعاون
سوال:- بعض طلبہ جدید تعلیم حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہیں ، اگر زکوٰۃ سے ان کی مدد کردی جائے تو کیا زکوٰۃ ادا ہوجائے گی ؟ بعض کہتے ہیں کہ دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ ہی کو زکاۃ کی رقم دی جائے ، اس سلسلہ میں وضاحت فرمائیں ۔
(محمد فہیم الدین ، ٹولی چوکی)
جواب:- زکاۃ کا تعلق اصل میں ایک ضرورت مند شخص کی ضرورت کو پوری کرنے سے ہے نہ کہ تعلیم سے ، تعلیم انسان کی ایک ضرورت ہے ؛ اس لئے زکاۃ کی مد سے طلبہ کا تعاون کیا جاتا ہے ، تعلیم کا تعلق چاہے دین سے ہو یا دنیا کے امور سے ، غریب طلبہ کو زکاۃ کی رقم دینا درست ہے ؛ البتہ تین باتیں ملحوظ رکھنا ضروری ہے : اول : زکاۃ لینے والا شخص واقعی زکاۃ کا مستحق ہو، عام طور پر عصری تعلیم میں جو طلبہ شریک ہوتے ہیں ، وہ خوشحال گھرانے کے ہوتے ہیں اور زکاۃ کے مستحق نہیں ہوتے ، اس کا اچھی طرح اندازہ کرلینا چاہئے ، دوسرے : ایک شخص کو ایک نصاب زکاۃ سے کم رقم ہی دی جاسکتی ہے ، بیک وقت اس سے زیادہ دینا مکروہ ہے اور ایک دفعہ اتنی رقم کا مالک ہونے کے بعد اس کو مزید رقم دی جائے تو زکاۃ ادا نہیں ہوتی ، تیسرے : دینی تعلیم میں لگے ہوئے طالب علم پر اگر زکاۃ خرچ کی جائے تو دہرا اجر ہوگا ، زکاۃ بھی ادا ہوجائے گی اور دین کی حفاظت و اشاعت کا اجر بھی ہوگا ، جو دنیوی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ پر خرچ کرنے میں حاصل نہیں ہوسکتی ، غرض کہ مذکورہ حدود کی رعایت کرتے ہوئے عصری تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو زکاۃ کی رقم دی جاسکتی ہے ؛ لیکن دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ پر زکاۃ کی رقم خرچ کرنا زیادہ باعث اجر و ثواب ہے ۔
بینک میں رقم کی حفاظت
سوال:- یہ بات ظاہر ہے کہ بینک سودی لین دین کرتے ہیں ؛ اس لئے بینک میں رقم ڈپازٹ کرنا جائز نہیں ہے ؛ لیکن سوال یہ ہے کہ رقم کی حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے تو آخر لوگ اپنے سرمایہ کو کیا کریں اور کیسے رکھیں جب بینک میں رکھیں گے تو کچھ نہ کچھ انٹرسٹ ملے گا ، پھر اس انٹرسٹ کا مصرف کیا ہوگا ؟
(شاہد کرمانی ، بنجارہ ہلز)
جواب:- یہ درست ہے کہ بینک سے ملنے والا نفع سود ہونے کی بناپر حرام ہے ؛ اس لئے بینک میں رقم فکس ڈپازٹ کرانا جائز نہیں ؛ کیوںکہ فکس ڈپازٹ کرنے کا مقصد ہی سود حاصل کرنا ہوتا ہے ؛ لیکن چوںکہ مروجہ کرنسی کاغذ کی ہوتی ہے ، جسے گذشتہ زمانے کی طرح دفینہ کی شکل میں محفوظ نہیں کیا جاسکتا ، اور ایک خاص حد سے زیادہ کیش رقم اپنے پاس رکھنے کی بھی قانوناً ممانعت ہے ؛ اس لئے رقم کے تحفظ کی غرض سے بینک کی مدد لینا ایک مجبوری بن گئی ہے ؛ لہٰذا حفاظت کے لئے بینک میں رقم رکھنا جائز ہے ؛ البتہ رقم کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھنا چاہئے ، جس میں سود لینا مقصد نہیں ہوتا ہے ؛ بلکہ رقم کی حفاظت مقصود ہوتی ہے ، اس کے باوجود اگر اس میں کچھ سود آجائے تو ضروری ہے کہ اسے غرباء پر ثواب کی نیت کے بغیر خرچ کردیا جائے ، نیز رفاہی کاموں میں بھی خرچ کرنے کی گنجائش ہے ، بینک میں سود کی یہ رقم چھوڑنی نہیں چاہئے ؛ کیوںکہ ایسا کرنا ایک سودی ادارہ کو مزید تقویت پہنچانا ہوگا ۔
دوزخیوں کا نہ جینا نہ مرنا
سوال :- قرآن مجید میں سورۃ الاعلیٰ میں دوزخیوں کی سزا کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’ ثم لایموت فیہا و لا یحییٰ ‘‘ یعنی وہ نہ اس میں جئیں گے اور نہ مریں گے ، حالاںکہ ظاہر ہے کہ یا تو جئیں گے یا مریں گے ؟ ان دونوں کے علاوہ تیسری صورت نہیں ہوسکتی ، اس کا تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں ؟
( فلاح الدین ، بازار گھاٹ)
جواب :- قیامت میں جب لوگ جنت و دوزخ میں داخل کردیئے جائیں گے تو موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا اور اسے ذبح کردیا جائے گا ، یہ علامتی طور پر اس بات کا اظہار ہوگا کہ اب کسی پر موت نہیں آئے گی ، اہل جنت کے لئے اس سے زیادہ خوشی کا کوئی دن نہ ہوگا کہ یہ ان کے عیش دوام کا مژدہ ٔ جانفزا ہوگا اور اہل دوزخ کے لئے اس سے زیادہ حزن وملال کا کوئی دن نہ ہوگا کہ یہ ان کے لئے نہ ختم ہونے والے رنج و محن کا اعلان ہوگا ، یہ باتیں صحیح حدیثوں سے ثابت ہیں۔ (صحیح البخاری، حدیث: ۶۵۴۸ ) اور قرآن مجید نے اہل جنت اور اہل دوزخ کے لئے خلود و دوام کی بات باربار کہی ہے ، وہ بھی اس پر واضح دلیل ہے ، پس حاصل یہ ہے کہ اہل دوزخ بھی ہمیشہ زندہ رہیں گے ، سورۃ اعلیٰ میں جو بات فرمائی گئی ہے کہ وہ نہ اس میں زندہ رہیں گے اور نہ مریں گے ، اس میں زندہ رہنے سے مراد یہ ہے کہ وہ زندگی کے لطف سے محروم رہیں گے ، زندگی تو ہوگی لیکن زندگی کی راحت اور سکون سے خالی ، اللہ تعالیٰ ہم سب کی اس سے حفاظت فرمائے ۔
مسجد کا منتظم اگر غیر مسلم ہو ؟
سوال:-مسجد کا کسی غیر مسلم ادارہ یا غیر مسلم انتظامیہ کی جانب سے انتظام شرعاً کس حد تک جائز قرار پاتا ہے ، جبکہ اس ادارہ یا انتظامیہ کے تحت غیر مسلم عبادت گاہیں بھی ہیں ، اور اندیشہ ہے کہ اس سے حصول کردہ رقم سے مسجد کے تمام اخراجات برداشت کئے جارہے ہوں ۔
(انتظامیہ مسجد ، جگہ غیر مذکور )
جواب:-کسی مسجد کا ہندو اوقاف کے تحت ہونا شرعاً درست ہوگا یا نہیں ؟ اس میں دو پہلو قابل غور ہیں ، ایک یہ کہ کسی غیر مسلم کو مسجد کا متولی بنایا جائے یا نہیں ، اس لئے کہ جب ہندو وقف کے تحت مسجد ہے تو ضروراس کا نظم بھی ہندو ارباب حل و عقد اور ذمہ دار انجام دیتے ہوںگے ، دوسرے یہ کہ غیر مسلم اوقاف کا مسجدوں کے لئے استعمال جائز ہوگا یا نہیں ؟ جہاں تک مسجد پر غیر مسلم کی تولیت کا مسئلہ ہے تو قرآن نے اس کے نادرست ہونے کی صراحت کر دی ہے: {مَا کَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسَاجِدَ اللّٰہِ شَاہِدِیْنَ عَلیٰ اَنْفُسِہِمْ بِالْکُفْرِ } (التوبۃ : ۱۷ )دوسرا مسئلہ غیر مسلموں کے اوقاف کا ہے ، غیر مسلموں کا وقف اسی وقت درست ہوگا جب وہ ان کے عقیدے کے مطابق بھی قربت اور ثواب کا کام ہو ، مثلاً بیت المقدس ہے اگر عیسائی و یہودی اس کے لئے کچھ وقف کریں تو صحیح ہوگا کیونکہ اس مسجد سے ان کا بھی اعتقادی اور مذہبی تعلق ہے اس کے برخلاف اگر وہ حج و عمرہ کے لئے وقف کریں تو صحیح نہیں ہوگا ، کیونکہ وہ خود اس کے قائل نہیں ہیں ، علامہ شامی ؒ لکھتے ہیں: ’’إن شرط الوقف الذی أن یکون قربۃ عندنا و عندہم ۔۔۔ بخلاف الوقف علی حج و عمرۃ فإنہ قربۃ عندنا فقط‘‘ (ردالمحتار : ۶/۵۲۴ ، ط : مکتبۃ زکریا)ہندوستان میں عام ہندو حضرات کے ذہن میں بھی مساجد کا تقدس و احترام ہے ، اور مشرکانہ عقیدہ کی وجہ سے وہ اپنی مذہبی عبادت گاہوں کے ساتھ ساتھ مساجد کو بھی خدا کا گھر سمجھتے ہیں ، اس لیے ان کا تعاون قبول کیا جاسکتا ہے ، بہ شرطیکہ یہ اندیشہ نہ ہو کہ آئندہ وہ بھی اپنی عبادت گاہوں ، تہواروں وغیرہ کے لیے آپ سے تعاون کے طلب گار ہوں گے ۔ واللہ اعلم۔
خرید و فروخت کے نام سے قرض و رہن کا معاملہ
خلاصہ سوال:- ’الف‘ نے مالی دشواریوں اور کاروباری نقصان کی وجہ سے ’ب‘ سے قرض مانگا ، اور اس سلسلہ میں فلیٹ رہن کے طور پر ان کے حوالہ کرنے کو کہا ، ’ب‘ نے قبول کرلیا ؛ لیکن کاغذ اس طرح بناکر لایا کہ گویا ’الف‘ یہ فلیٹ ’ب‘ سے فروخت کررہا ہے وجہ بتائی کہ فلیٹ کے کرایہ کو جائز کرنے کے لئے ایسا لکھا ہے ، ’ الف‘ نے ’ ب‘ سے پیسے لینے کے بعد ایک لاکھ تو اسی وقت ادا کردیا اور شاید دو ماہ میں کچھ اور رقم ادا کی ، بہر حال ساڑھے چار لاکھ روپے قرض کے باقی رہ گئے ، بعد میں جب ’ الف‘ نے ایک او رزمین بیچ کر رقم ادا کرنی چاہی تو ’ب‘ نے کہا کہ موجودہ قیمت کے حساب سے رقم ادا کرنی ہوگی ، وہ گورنمنٹ ویلو کو بھی ماننے کو تیار نہیں ہوئے ، اس عرصہ میں ’ الف‘ کینسر کا مریض ہوگیا ، مگر ’ب‘ کو رحم نہیں آیا ، سوال یہ ہے کہ ’ب‘ کو یہ مکان ’الف‘ کو لوٹا ناچاہیے یا نہیں ، اور کیا ان کا اس مکان پر ملکیت کا دعویٰ کرنا درست ہے ؟ (کوثر بیگم ، زوجہ جعفر شریف)
جواب:- جو صورت آپ نے دریافت کی ہے ، اس کو فقہ کی اصطلاح میں ’’ بیع بالوفاء ‘‘ کہتے ہیں ، یعنی ایک شخص کسی سے مثلاً پانچ لاکھ روپیہ حاصل کرکے اپنا مکان اسے دے اور کہے کہ وہ اس سے استفادہ کرے اور جب اس کو رقم مہیا ہوجائے گی تب وہ اسے واپس خرید کرلے گا ، اس صورت میں بظاہر خرید و فروخت کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں ، لیکن حقیقت میں یہ قرض اور رہن کا معاملہ ہے ، جو رقم دی جاتی ہے وہ قرض ہے ، اور مکان قرض دہندہ کے پاس بطور رہن کے ہے ، آپ کے سوال سے بھی یہ بات واضح ہے کہ مالک مکان نے رہن کے طور پر اس کے حوالہ کیا تھا ، اور بعد میں جب اس نے رقم کا کچھ حصہ ادا کیا تو دوسرے فریق نے اس کو قبول کرلیا ، اس وقت بھی فریقین کے ذہن میں رہن ہی کی بات تھی ، ورنہ تو اگر وہ مکان بیچ چکا ہوتا تو رقم کی واپسی کیوں عمل میں آتی؟ —– اس معاملہ کا حکم یہ ہے کہ شرعاً یہ رہن سمجھاجائے گا ، ’ الف‘ پر قرض کی ادائیگی واجب ہوگی ’ ب‘ پر واجب ہوگا کہ وہ مکان کو قرض کی ادائیگی تک اپنے قبضہ میں رکھے ؛ لیکن اس سے استفادہ نہ کرے ، خواہ استفادہ بغیر کرایہ کے خود مکان میں رہ کر ہو یا کسی اور کرایہ دارکو رکھ کر ، اگر اس نے اس مکان سے استفادہ کیا تو یہ سود ہے ؛ کیوںکہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا کہ قرض پر جو بھی نفع حاصل کیا جائے وہ سود ہے ، ’’ کل قرض جر نفعا فہو ربا ‘‘ ( کشف الخفاء : ۲/۹۸۶، حدیث نمبر : ۱۹۹۱) اس لئے ’ب‘ کو چاہئے کہ جو رقم اسے اداکی گئی ہے اور اب تک جو رقم اس نے کرایہ کے طور پر حاصل کی ہے ، اس کو جمع کرکے اگر قرض ادا ہوجاتا ہو تو مکان واپس کردے ، اگر قرض ادا نہ ہوتا ہو تو زائد رقم وصول کرلے اور مجموعی رقم قرض سے زائد ہوجائے تو مکان کے ساتھ وہ رقم بھی واپس کردے ؛ کہ دنیا کی چند روزہ لذت کے لئے سود جیسے گناہ کا وبال اپنے سر لے جانا عقل مندی کی با ت نہیں ہے ۔ وباللہ التوفیق۔
راشن کے غلہ کو فروخت کردینا
سوال : – اکثر راشن دکانوں پر جو راشن غریبوں کے لئے حکومت کی طرف سے آتا ہے ، وہ زیادہ قیمت میں دکانوں پر بیچ دیا جاتا ہے ، اور جن غریبوں کے راشن کارڈ ہوتے ہیں ،وہ اگر پوچھے تو کہہ دیتے ہیں کہ مال نہیں آیا یا پھر دکان ہی بند رہتی ہے ، غریبوں کو ان کا حق نہیں ملتا ، کیا ایسا کرنا شرعاً صحیح ہے؟ کیا اس طرح کی کمائی حلال ہے، ایک عالم صاحب کا کہنا ہے کہ دکاندار نے جب سرکار سے مال خرید لیا تو وہ مال اس کا ہوگیا ، اب وہ جسے چاہے جتنی قیمت میں چاہے ، بیچ دے ، یہ شرعی گناہ نہیں ہے ، وہ شخص شریعت کا گناہگار نہیں ؛ بلکہ حکومت کا گنہگار ہے ، اس کا حل بتائیے۔
(محمدعمران۔ گولکنڈہ)
جواب:- حکومت غریبوں کے لئے جو راشن فراہم کرتی ہے ، اس کا معاملہ صرف یہ نہیں ہے کہ حکومت نے ڈیلر سے اجناس فروخت کردی ہیں ؛ بلکہ وہ زیادہ پیسوں میں کسان سے اجناس خریدتی ہے ، اور نقصان کے ساتھ ڈیلر کو دیتی ہے کہ کم قیمت میں غریبوں کو غلہ فراہم کرے اور ڈیلر کو ان کا نفع بھی دیتی ہے ، اس طرح راشن کا ڈیلر خود مختار تاجر نہیں ہے ، بلکہ وہ حکومت کا وکیل ہے ؛ اس لئے اس کا دوسروں سے زیادہ قیمت میں بیچنا جائز نہیں ہے ، یہ جھوٹ اور دھوکہ ہے ، اور جو زائد پیسے اس نے حاصل کئے ہیں ، وہ اس کے لئے حرام ہیں ، نیز جو لوگ اس بات کو جانتے بوجھتے اس سے مال خریدتے ہیں ، ان کا مال خریدکرنا بھی جائز نہیں ہے ؛ کیوںکہ جس مال کے بارے میں معلوم ہو کہ یہ چوری کا ہے ، تو اس کو خرید کرنا بھی جائز نہیں ۔
(بصیرت فیچرس)

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker