ہندوستان

بنگال کے مختلف ٹول پلازہ پر فوجی جوانوں کی تعیناتی

بنگال سے دہلی تک ماحول گرم، متضاد دعوے
کلکتہ؍نئی دہلی۲؍دسمبر :مغربی بنگال کے مختلف ٹول پلازہ پر فوجی جوانوں کی تعیناتی پر احتجاج کرتے ہوئے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کل شام سے ہی آج دوپہر تک ریاستی سیکریٹریٹ سے باہر نہیں نکلیں ۔ممتا بنرجی کا دعویٰ ہے کہ ریاستی سیکریٹریٹ کے قریب ٹول پلازہ سمیت دیگر ٹول پلازہ پر ریاستی حکومت سے رابطے کیے بغیر فوجی جوانوں کو تعینات کردیا گیا ہے۔اس کی وجہ سے آج پارلیمنٹ کے دونوں ایوان تعطل کا شکار رہے۔دوسری جانب مرکزی حکومت اور فوج نے ممتا بنرجی کے دعویٰ کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی پولس سے رابطے کرنے کے بعد ہی ٹول پلازہ پر فوجی جوانوں کی تعیناتی کی گئی ہے اور یہ معمول کی ایک ایکسر سائز ہے اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے ۔ترنمول کانگریس کے سینئر وزراء اور ممبران اسمبلی آج ریاست کے اسمبلی سے گورنر ہاؤس تک مارچ کیا اور گورنر ہاؤس کے دروازے پر دھرنا دیا ۔گورنر ریاست کے باہر ہیں ۔ٹول پلازہ پر فوجی جوانوں کی تعیناتی کی ویڈیو بھی صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کو بھیجی گی ہے ۔ممتا بنرجی ریاستی سیکریٹریٹ میں اعلیٰ فوجی اور سول افسران کے ساتھ میٹنگ کررہی ہیں ۔لوک سبھا میں وزیر دفاع منوہر پاریکر نے کہا کہ ٹول پلازہ پر فوجی جوانوں کی تعیناتی کا علم پہلے سے ہی بنگال پولیس اور حکومت کو دیدیا گیا تھا اور یہ معمول کی ایکسر سائز ہے ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 15-20برسوں سے لگاتار یہ ایکسرسائز ہورہی ہے ۔گزشتہ سال نومبر 19-21کے درمیان یہ ایکسر سائزکی گئی تھی۔منوہر پاریکر نے کہا کہ پہلے یہ ایکسر سائز 28نومبر سے 30نومبر کے درمیان ہونی تھی۔مگر 28نومبر کو ملک گیر ہڑتال کے پیش نظر پولس نے اس ایکسر سائز کی تاریخ کو آگے بڑھانے کی درخواست کی تھی اس لیے یہ مشق یکم دسمبر سے 3دسمبر کے درمیان کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔انہوں نے ممتا بنرجی پر اس معاملے میں سیاست کرنے کاالزام بھی عائد کیا ۔انہوں نے کہا کہ اس ایکسر سائز کو سیاسی طور پر متنازع بنایا جارہا ہے ۔کلکتہ میں ایسٹرن کمانڈ نے پریس کانفرنس میں نامہ نگاروں کو فوج اور مقامی پولس کے درمیان ہوئے تحریری رابطے کے کاغذات دکھاتے ہوئے ہوئے جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل سنیل یادو نے کہا کہ ہم تمام الزامات کی تردید کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا فوجی جوانوں پر ٹول پلازہ پر گاڑیوں سے روپیہ وصولنے کا الزام بے بنیاد ہے ۔انہوں نے کہا کہ فوجی جوان سالانہ مشق کررہے ہیں جس میں گاڑیوں کی آمد و رفت سے متعلق معلومات کو جمع کیا جارہا ہے ۔کل شام وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ریاستی سیکریٹریٹ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت تک وہ ریاستی سیکریٹریٹ سے نہیں جائیں گی جب تک ٹول پلازہ سے فوجی جوانوں کو ہٹا نہیں دیا جاتا ۔وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ریاستی سیکریٹریٹ نوبانا سے محض 500میٹر دوری پر واقع ہگلی ندی کے دوسرے پل پر فوجی جوانوں کی تعیناتی کو ریاستی حکومت کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت نے ریاست میں ایمر جنسی جیسے حالات پیدا کردیے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ میں اپنے جمہوری حکومت کے تحفظ کیلئے رات بھر یہیں رہوں گی۔تاہم نصف رات میں ایسٹرن کمانڈ نے کہا کہ فوجی جوانوں کو ریاستی سیکریٹریٹ کے قریب ٹول پلازہ سے ہٹادیا گیا ہے۔خیال رہے کہ کل شام وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے نامہ نگاروں سے کہا کہ نیشنل ہائی وے نمبر 2پر ڈانکونی اور پال سیٹ میں واقع ٹول پلازہ پر ریاستی حکومت کو مطلع کیے بغیر فوجی جوانوں کو تعینات کردیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ سیاسی انتقام کے نتیجے میں اس طرح کی حرکتیں کی جارہی ہیں اور یہ غیر جمہوری ہے ۔جمعہ کو پارلیمنٹ کے دوانوں ایوان اس تناز ع کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوگیا ۔اپوزیشن کے ممبران کی طرف سے وزیر اعظم کا موازنہ ہٹلر سے کرنے کی وجہ سے راجیہ سبھا کی کارروائی معطل کردی گئی ۔مغربی بنگال میں ریاست کے 19ٹول پلازہ پر تعینات کیا گیا ہے۔ غلام نبی آزاد نے راجیہ سبھا میں کہا کہ فوجی جوانوں کی تعیناتی کا علم نہ چیف سیکریٹری ، نہ ریاستی انتظامیہ اور نہ ڈائریکٹر جنرل آف پولس کو ہے ۔ترنمول کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ سوکھندو سیکھررائے اور بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی نے بھی آزاد کے بیان کی حمایت کی۔مایا وتی نے مرکزی حکومت کے اس عمل کو ملک کے وفاقی ڈھانچہ کے خلاف قرار دیا۔۔لوک سبھا میں ترنمول کانگریس کے لیڈر سدیپ بندو پادھیائے اور دیگر اپوزیشن لیڈروں نے بھی اس معاملے کو اٹھایا۔فوجی جوانوں کی تعیناتی کے خلاف کلکتہ میں راج بھون کے باہر دھرنے پر بیٹھے ترنمول کانگریس نے راج بھون میں گورنر کے نہیں ہونے کی وجہ سے .2.5گھنٹے کے بعددھرنا یہ کہتے ہوئے ختم کردیا کہ وہ پھر کل آئیں گے اور گورنر کو میمورنڈم دیں گے۔ریاستی وزیر تعلیم و پارلیمانی امور پارتھا چٹرجی نے نامہ نگاروں سے کہا کہ ان کی فوج پر گورنر سے بات ہوئی ہے ۔گورنر نے کہا ہے کہ وہ کل راج بھون میں رہیں گے ۔پارتھو چٹرجی نے کہا کہ ترنمول کانگریس حکومت کے خلاف یہ بڑی سازش ہے مرکزی حکومت ممتا بنرجی کی منتخب حکومت کے خلاف سازش کررہی ہے ۔چٹرجی نے کہاکہ ریاست کے 18مقاما ت پر ریاستی حکومت کو مطلع کیے بغیر فوج کی تعیناتی وفاقی ڈھانچے کے سراسر خلاف ہے ۔اس دھرنے میں ترنمول کانگریس کے 200ممبران اسمبلی موجود تھے۔چٹرجی نے کہا کہ ممتا بنرجی چوں کہ مرکز ی حکومت کے ذریعہ پانچ سو اور ہزار روپیہ کے نوٹوں پرپابندی کے خلاف ملک گیر احتجا ج کررہی ہیں ۔اس لیے مرکزی حکومت ممتا بنرجی کی منتخب حکومت کے خلاف سازش کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے ممتا بنرجی جس جہاز میں تھی اسے تیل نہیں ہونے کے باوجود فوری اترنے نہیں دیا گیا اور اب ریاست میں مختلف مقامات پر فوجی جوانوں کو تعینات کیا گیا ہے۔تاہم کلکتہ پولس نے کہا کہ انہوں نے ایکسر سائز کے مقام پر اعتراض کیا تھا۔انہوں نے کہاکہ اکاؤنٹ نمبر اور دیگر تفصیلات عام ہوچکی ہیں مگر اب تک بی جے پی نے اس پر کوئی وضاحت پیش نہیں کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح بہار، راجستھان اور دیگر علاقوں میں بڑے پیمانے پر زمینیں خریدی گئیں اور اس کیلئے نقد روپیہ کااستعمال ہوا۔یہ سب کالادھن کو سفید کیا گیا ہے ۔پائلٹ نے کہا کہ متعدد تصویروں اور اخبارات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بی جے پی لیڈروں کے پاس سے بڑے پیمانے پر 2000ہزار کے نئے نوٹ ملے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ جب عام آدمی روپیہ کیلئے ترس رہے ہیں اور ان کے پاس اتنی بڑی رقم کہاں سے آگئی۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک بڑا سوال ہے کہ اور اس کا مطلب ہے بی جے پی لیڈروں کو پہلے سے ہی نوٹ پرپابندی کا علم تھا۔سچن پائلٹ نے اس معاملے کی جانچ کیلئے مشترکہ پالیمانی کمیٹی کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی ہی اس معاملے کی جانچ کرسکی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے فیصلے کی وجہ سے دیہی علاقوں کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں نقد میں کام ہوتے ہیں اور نقد روپیے نہیں ہونے کی وجہ سے دیہی علاقوں میں مارکیٹ ویران ہے اور لوگ پریشان حال ہیں اور روزگار میں بھی گراوٹ آئی ہے۔سچن پائلٹ نے نریندر مودی حکومت کے رات بھر میں ہندوستانی معیشت کو ڈیجیٹل کرنے کے دعویٰ کو غیر فطری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کسی مذاق سے کم نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ پہلے غیر قانونی آمدنی معلوم ہونے پر 90فیصد جرمانہ عائد کیا جاتا تھا مگراب وزیر اعظم مودی نے اس کو کم کرکے 50فیصد کردیا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ چند افراد کو فائدہ پہنچانے کیلئے ہے اور کچھ بھی نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker