مضامین ومقالات

آزاد ہندوستان کی تاریخ قسط نمبر: ۷۹۱۔ یکم؍دسمبر،

2016 ہندوستان کی تاریخ کا بدترین دور آج مجھے افسوس ہے کہ میں عزیزالہند جاری کیوں نہیں رکھ سکا۔ گجرات 2002 قتل عام کے بعد میں نے لکھا تھا کہ بھیڑیا جب آدم خور ہو جاتا ہے، اس کے منہ میں خون لگ جاتا ہے تو پھر یہ نہیں دیکھتا خون اپنا ہے یا پرایا۔ یہ ہندوستان شاہد رہے آج میرا یہ جملہ حقيقت بن چکا ہے۔مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد میں نے اپنے اخبار عزیز الہند کاصحفہ اول چاروں طرف بلیک بارڈر کر دیا تھا اور سب کچھ معلومات کو مسلسل بلیک کر دیا تھا۔ مجھے اطمینان ہے میرا قدم صحیح تھا اور اس وقت میں نے جو محسوس کیا تھا آج وہ سامنے آ رہا ہے۔ گجرات میں کچھ ہزار لوگوں کا قتل ممکن تھا اور کیا گیا۔ٹھیک کہا تھا واجپي نے مودی کو ‘راج دھرم نبھاؤ ، جو ایک ریاست میں راج دھرم نہ ادا کر سکا، وہ پورے ملک میں راجدھرم کیا نبھائے گا۔
گونگے، بہرے، اندھے، ضمیر پھروش، خود غرض مطلب پرست، موقع پرست ۔میڈیا یہ سچ دکھانے کے بجائے کہ ملک کا کالا دھن 120 لوگوں کے پاس ہے جو تیری اگلے بیٹھے ہے اور تو ان میں شامل ہے۔ 120 کروڑ ہندوستانی عوام کے پاس نہیں۔آج مودی پران پڑھتے نظر آ رہے ہیں ، انہیں عوام کی تکلیف دکھائی نہیں دیتی، یہ سارا کھیل کیوں رچاگیا دکھائی نہیں دیتا۔کل جب انا ہزارے رام لیلا میدان میں تھا تب یہ میڈیا کہہ رہا تھا سارا ہندوستان رام لیلا میدان میں ہے، مطلب 120 لوگ رام لیلا میدان میں ہیں۔ آج ٹی وی پر کچھ چہرے دکھا کر مودی کے فیصلوں کو اس طرح صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ گویا پورا ہندوستان خوش ہے۔ شیم۔۔۔۔۔شیم۔۔۔۔۔۔شیم مودی مت بہاؤ یہ آنسو ! ان کی قیمت يسودا بین کے آنسو سے بہت کم ہے۔ ہندوستان کے کروڑوں عوام کے آنکھوں سے بہنے والے آنسووں سے کافی کم ہے۔جن میں یہ آنسو تم نے دیئے، جاؤ جاکر دیکھ سکتے ہیں جن گھروں کے چراغ تمہارے اس فیصلے نےبجھا دئے۔ ان آنکھوں سے آج بھی آنسو جاری ہے۔روک لو تم ان آنسووں کو تمہیں ان کی بہت ضرورت پڑے گی، دنیا میں بھی اور قیامت کے بعد بھی۔ اللہ کی لاٹھی بےآواز ہوتی ہے۔ کاش ساری دنیا سے کوئی کسی اخبار کا ایک صفحہ مجھے دے دے یا عزیزالهند کو پھر سے جاری کرا دے۔میں مودی کا اصل چہرہ ساری دنیا کے سامنے رکھ دوں گا۔ ملک آمریت کے طرف جا رہا ہے۔ جمہوریت دم توڑ رہی ہے اور ہم خاموش ہیں۔ہر گھر میں ڈکیتی پڑرہی ہے۔ محنت کی کمائی لٹی جا رہی ہے اور ہم ہیں بے گناہ سڑکوں پر دم توڑ رہے ہیں اور خاموش ہیں۔کیا فرق پڑا کالا دھن رکھنے والے امیروں پر میڈیا نے کیوں نہیں لکھا۔میں لکھوںگا اس موضوع پر، مسلسل لکھوںگا۔طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔کچھ دن کے لئے دہلی میں نہیں تھا آج ہی واپس آ رہا ہوں۔پھر وہی شیر جس نے آزادی دلائی اور آج کی بات ختم ۔سرفروشی کی تمنا آج اس دل میں ہے دیکھنا ہے اب کتنا شامل کر باذے قاتل میں ہے شکریہ۔
خدا حافظ عزیز برنی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker