Baseerat Online News Portal

مذہب پرعمل کرنا بنیادی حقوق میں شامل ہے

اوربنیادی حقوق کوختم کرنے کااختیارپارلیمنٹ کوبھی نہیں ہے
انٹرویو:حضرت مولاناخالدسیف اللہ رحمانی مدظلہ العالی
شمالی بہارکی معروف دینی درسگاہ دارالعلوم سبیل الفلاح جالہ کی لائبریری میں آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈ کے سکریٹری ،اسلامک فقہ اکیڈمی کے جنرل سکریٹری اورعالم اسلام کے دلوں کی دھڑکن حضرت مولاناخالدسیف اللہ رحمانی کی تشریف آوری کے موقع سے بصیرت میڈیاگروپ کے چیف ایڈیٹر مولاناغفران ساجدقاسمی،ایڈیٹرمولانامظفررحمانی،سینئرسب ایڈیٹر مولانامحمدنافع عارفی اورنمائندہ مولاناعامرمظہری نے مولاناسے ملاقات کی اورمختلف ملی ، سیاسی اورسماجی مسائل پرتبادلہ خیال کیا۔اس موقع پرمسلم پرسنل لاکودرپیش مسائل،ملک کے موجودہ حالات،مسلمانوں کے عائلی قوانین میں حکومت ہندکی مداخلت کی کوشش ،عدالت عظمیٰ میں حکومت کے حلف نامے اورمسلم پرسنل لابورڈ کے موقف کے سلسلہ میں چنداہم سوالات کئے ۔اس انٹرویوکاخلاصہ ہدیہ قارئین ہے۔
سوال:مسلم پرسنل لابورڈ نے ملک گیرپیمانے پردستخطی مہم شروع کررکھی ہے اس کاکیافائدہ ہے؟
جواب: ذرائع ابلاغ کی جانب سے یہ دعویٰ کیاجارہاتھا کہ مسلم خواتین طلاق ثلاثہ کے خلاف ہیں اوربے بنیادسروے دکھاکرحکومت ہندیہ باورکرانے کی کوشش کررہی تھی کہ وہ مسلم خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے طلاق ثلاثہ کے خلاف ہے۔لیکن اس دستخطی مہم کے بعد حکومت کی آوازمدھم پڑنے لگی ہے،ان کے وزراء کے تیوربدل گئے ہیں،الیکٹرانک میڈیاکااندازبھی بدلابدلاسانظرآرہا ہے۔اب تک مسلم پرسنل لابورڈ کی جانب سے وزیراعظم کے دفتر،وزارت داخلہ،لاءکمیشن،خواتین کمیشن کوایک کروڑسے زائددستخط شدہ فارم بھیجے جاچکے ہیں اوریومیہ حکومت کوایک لاکھ سے زائددستخط شدہ فارم وصول کرائے جارہے ہیں ۔یہ مہم مکمل طورپرکامیاب ہے اوربورڈ نے ٹکراؤ کی صورت نہ اختیارکرتے ہوئے حکومت کے سامنے اپناموقف واضح کردیا۔اورحکومت نے یہ بات باورکرلی ہے کہ ہندوستانی مسلمان کسی قیمت پرشریعت میں مداخلت برداشت نہیں کریں گے۔اس دستخطی مہم کاایک فائدہ یہ بھی ہواکہ پوری قوت کے ساتھ مسلم خواتین آگے آئیں اورانہوں نے شریعت اسلامیہ پراپنے اعتمادکااظہارکیا،اس سے پہلے کبھی بھی آپ نے خواتین کواتنافعال اورمتحرک نہیں دیکھاہوگا۔
دوسرا بڑا فائدہ یہ ہوا کہ کچھ منحرف قسم کے لوگ بددیانتی سے کام لے رہے تھے اوروہ میڈیامیں آکرکہاکرتے تھےکہ فلاں گروپ نے پانچ ہزارعورتوں کاسروے کیااورنوے فیصدعورتوں نے کہا کہ وہ قانون شریعت کی مخالف ہیں،طلاق ثلاثہ کاقانون ختم ہوناچاہئے،ایک تویہ کہ آپ نے پانچ ہزارعورتوں کاسروے کیابھی یانہیں؟ یانام نہادمسلمان عورتوں کاسروے کیاہوگا؟ جن عورتوں نے اس وقت کورٹ میں مقدمہ دائرکیاہے ان کانکاح بھی ہندومیرج ایکٹ کے تحت ہواہے۔ان میں سے بعضوں کے شوہربھی ہندو ہیں۔پھریہ کہ آپ نے جوسروے کیاتووہ آپ نے اپنے مزاج کی خواتین کاہی کیا،جب کہ ایک کروڑسے زائددستخط شدہ فارم وزیراعظم دفتر،وزارت داخلہ،لاکمیشن اورخواتین کمیشن کوبھیجے جاچکے ہیں ۔اس کی وجہ سے ان کی زبان پرلگام لگااوران کے بلندبانگ کھوکھلے دعوے کی قلعی کھلی۔یہ دوبڑے فائدے ہوئے ہیں دستخطی مہم کے۔
سوال: اگرخدانخواستہ یہ دستخطی مہم کامیاب نہ ہوئی توبورڈ کااگلاقدم کیاہوگا؟
جواب: کامیاب نہ ہونے کاکوئی سوال ہی نہیں ہے۔بہت ہی زوروشورسے مسلم مردوخواتین نے دستخطی مہم میں حصہ لیا اوروہ تمام فارم لاءکمیشن،وزیراعظم دفتر،خواتین کمیشن تک پہونچے ہیں اوراس کی وجہ سے حکومت کی آوازبھی مدھم ہوئی ہے۔دستخطی مہم کایہ فیصلہ بورڈ کابہت ہی دانشمندانہ اورسوچ سمجھ کرلیاگیااہم فیصلہ تھا جس میں کسی قسم کی ٹکراؤ کی کوئی گنجائش نہیں تھی اورالحمدللہ بورڈ اپنے اس مقصدمیں سوفیصدکامیاب ہے۔بورڈ یہ چاہتاہے کہ وہ اس تمام ذخیرے کوصدرجمہوریہ کے سامنے پیش کرے لہذابورڈ اپنے مقصدمیںکامیاب ہے۔
سوال: وزیراعظم کہہ چکے ہیں کہ ہم کسی بھی قیمت پرطلاق ثلاثہ کوجاری نہیں رہنے دیں گے اس پرہرحال میں پابندی عائدکریں گے،اوراگرضرورت پڑی توپارلیمنٹ میں اس پرقانون سازی بھی کریں گے۔اگرحکومت نے پارلیمنٹ سے ایساکوئی بل پاس کرالیاتوبورڈ کیاکرے گا؟
جواب: پہلی بات تویہ ہے کہ وزیراعظم کوئی ہٹلر،مسولینی یا ڈکٹیٹرنہیں ہے،نہ ہی اس ملک میں کسی قسم کی آمریت نافذ ہے۔دستورہندکی دفعہ 25 اور26 میں ہندوستان کے ہرشہری کواپنے مذہب پرعمل کرنے اس کی تبلیغ کرنے کاحق دیاگیاہے اوریہ بنیادی حقوق کی دفعات ہیں جوناقابل تنسیخ وترمیم ہیں۔دفعہ 25 میں فردکی مذہبی آزادی کاذکرہے اوردفعہ 26 میں گروہ کی مذہبی آزادی کاذکرہے۔پارلیمنٹ یاعدلیہ کواس میں کسی قسم کی ترمیم یاتنسیخ کاکوئی اختیارنہیں ہے،دوسری بات یہ کہ لوک سبھامیں بی جے پی کواکثریت حاصل ہے راجیہ سبھامیں ابھی بھی وہ اقلیت میں ہے اس لئے اس طرح کاکوئی بل پاس کرنا یاقانون سازی کرنامشکل ہے ۔اوروزیراعظم کااس طرح سے کہنا سراسرغلط ہے اوردستورہندکے ساتھ مذاق ہےاوریہ ان کے منصب اورعہدے کے مغایرہے۔اگرانہوں نے ایساکیاتوہم ان کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کریں گے۔
سوال: عام طورپرمسلم تنظیمیں اورخودبورڈ کے اراکین اس بات کی شکایت کرتے ہیں اوران کی شکایت بجابھی ہے کہ الیکٹرانک میڈیاان کوکوریج نہیں دیتااورایسادیکھنے میں بھی آتاہے کہ بڑے سے بڑے اجلاس کی خبرتک نشرنہیں کی جاتی جب کہ مسلم مخالف نیوزکوبریکنگ نیوزبناکر24؍گھنٹہ چلایاجاتاہے توکیوں نہ بورڈاپناچینل شروع کرے؟
جواب: اس سلسلہ میں پیش رفت ہورہی ہے ،بورڈ نے فیصلہ کیاہے کہ بورڈ میڈیاسیل قائم کرے گااوراس کاآغاز میڈیاورکشاپ سے ہوگا۔ اس ورکشاپ میں فنی ماہرین اورقانون شریعت کے ماہرین کی نگرانی میں کچھ علما اور پروفیشنل نوجوانوں کومیڈیاکی تربیت دی جائے گی ،اورپھر وہ لوگ الیکٹرانک میڈیا اورپرنٹ میڈیامیں بورڈ کی بہترترجمانی کے فرائض انجام دیں گے اوران شاءاللہ اس کا م کو مختلف زبانوں میں انجام دیا جائے گا۔اسی طرح بورڈ کی یہ بھی کوشش ہے کہ سوشل میڈیاکواپنامضبوط ہتھیاربناکراسلام اورمسلم پرسنل لا کی ترجمانی کے لئے اس کواستعمال کرے گا۔ہمارااپناچینل ہوناچاہئے لیکن اس سلسلہ میں پہل مسلم سرمایہ داربھی کرسکتے ہیں اوروہ زیادہ بہترہے کہ وہ بورڈ کے ذمہ داران اور دیگرعلما کی سرپرستی ونگرانی میں اس کام کوشروع کریں۔تاہم مجھے خودبھی اس اہم ضرورت کااحساس ہے۔
سوال: بورڈ اورمسلم تنظیموں کامقصدہمیشہ دفاعی کیوں ہوتاہے؟ہم اقدام کی پوزیشن میں خودکوکیوں نہیں لاپاتے؟اگرہمارے پاس اپنامیڈیانہیں ہے توکم ازکم سوشل میڈیاجیسے کہ فیس بک اوریوٹیوب کواپنے مقاصدکے لئے کیوں نہیں استعمال کرتے؟ جب کہ آج کے دورمیں یہ بہت بڑاہتھیارہے۔
جواب: ہاں یہ کمی ہے۔اوراس کی ضرورت ہے کہ ہم الیکٹرانک اورپرنٹ میڈیاکے ذریعہ اوربطورخاص سوشل میڈیاکے ذریعہ ان مسائل کوطشت ازبام کریں جیسے ہندوؤں کے یہاں بیٹیوں کوصرف نقدمال میں وراثت دی جاتی ہے اور زمین اورمکان وغیرہ میں بیٹیوں کاکوئی حق نہیں سمجھاجاتا۔جب کہ اسلام نے یہ کہا ہے کہ ایک تنکاسے لے کرپہاڑ تک میں بیٹے بیٹیوں کے درمیان وراثت کی تقسیم ہوگی۔اسی طرح آپ دیکھتے ہیں کہ اورنگ زیب بادشاہ کومتہم کیاجاتاہے جب کہ اورنگ زیب نے مندروں کوبڑے بڑے عطیات دیئے وہیں شیواجی نے بڑے بڑے مندروں کوتوڑا،اس لئے ضرورت ہے کہ ہم ہندولاء میں جوکمیاں ہیں اس کواجاگرکریں لیکن اس کا اسلوب دعوتی ہونہ کہ تنقیدی۔جہاں تک سوشل میڈیافیس بک اوریوٹیوب کاسوال ہے تواس سلسلہ میں کوششیں جاری ہیں،ان شاءاللہ اس جانب خصوصی توجہ دی جائے گی،اوراس سلسلہ میں تومیں کہناچاہوں گاکہ یہ مسئلہ تمام امت مسلمہ کاہے اوراس کام کوتمام ملی تنظیموں کوکرناچاہئے اس سلسلہ میں چاہیں توتمام ملی ودینی تنظیمیں مشترکہ طورپرایک لائحہ عمل تیارکرکے مضبوطی کے ساتھ اس کام کوکریں یہی وقت کی ضرورت ہے۔
سوال: دیہی علاقوں میں عام مسلمانوں کویہ پتہ ہی نہیں ہے کہ مسلم پرسنل لاکیاہے،بلکہ پڑھے لکھے لوگوں کی بڑی تعدادہے جنہیں مسلم پرسنل لاکے بارے میں معمولی واقفیت بھی نہیں ہے۔اسی طرح بہت سارے ائمہ اورعلما بھی بہت حدتک اس سے ناواقف ہیں۔بورڈ اس سلسلہ میں کیاکوششیں کررہاہے کہ مسلم پرسنل لاکاتعارف سماج کے آخری فردتک پہونچ جائے؟
جواب: یہ بہت ہی اہم سوال ہے اوربورڈ بھی اس سلسلہ میں مستقل کوشاں ہے۔لیکن میں سمجھتاہوں کہ ائمہ ،علما اوردانشوران واقف نہیں ہیں تواس میں ان کاخودقصورہے،ایسے لوگ جوامت کی رہنمائی کااہم فریضہ انجام دیتے ہوں اوروہ ایسے مسائل سے ناواقف ہوں جواس ملک میں مسلمانوں کے لئے موت وزیست کامسئلہ ہو۔ان کی ملی وجود کے باقی رہنے یانہ رہنے کامسئلہ ہو،ان کی ملی شناخت کے باقی رہنے یاگم ہوجانے کا مسئلہ ہو۔اس سلسلہ میںمسلم پرسنل لابورڈ کی جانب سے متعددکتابیں؍کتابچے اورپمفلٹ شائع کئے گئے ہیں،خبرنامہ جاری کیاگیا ہے،اس کی ویب سائٹ موجود ہے،ہرسال اس کے اجلاس عام ہوتے ہیں جس میں لاکھوں افرادشریک ہوتے ہیں ،اس موضوع پروقفہ وقفہ سے اخبارات ورسائل میں مختلف مضامین شائع کئے جاتے ہیں،پھربھی بورڈ کوشش کرے گاکہ اس کومزیدلوگوں تک پہونچانے کے لئے مختلف منصوبوں کوبروئے کارلائے۔بورڈ صرف چندعہدیداروں کانام نہیں ہے بلکہ تمام ملی تنظمیں اس میں شامل ہیںاوران سب کومل کراس کام کوکرناچاہئے۔ یہ ذمہ داری صرف بورڈ کی نہیں ہے بلکہ ہراس شخص کی ہے جواللہ اوراس کے رسول پرایمان رکھتاہے وہ قانون شریعت سے واقفیت حاصل کرے ،اس لئے کوئی بھی مسلمان یہ کہہ کربری الذمہ نہیں ہوسکتا کہ مجھے قانون شریعت کاعلم نہیں تھا اس لئے میں نے یہ کام نہیں کیا۔اگرکوئی شخص سڑک پربائیں جانب چلنے کی بجائے دائیں جانب چلے اوراس کااکسیڈینٹ ہوجائے اوریہ کہے کہ مجھے علم نہیں تھا تویہ اس کی حماقت تصورکیاجائے گا۔قانون سے لاعلمی اپناقصورہے نہ کہ قانون بنانے والے کا۔ویسے بورڈپوری کوشش کررہا ہے کہ اللہ اوراس کے رسول کاپیغام معاشرہ کے ہرفردتک پہونچے۔
سوال: مسلم پرسنل لابورڈ ضلعی اوربلاک سطح پراپنی تنظیمی ڈھانچہ کی تشکیل کیوں نہیں کرتاتاکہ اس کاپیغام ملت کے ہرفردتک پہونچ سکے؟بالخصوص گاؤں دیہات کی عورتوں تک مسلم پرسنل لاکے پیغام کوپہونچانے کے لئے بورڈ کے پاس کیامنصوبے ہیں؟
جواب: مسلم پرسنل لابورڈ کوئی تنظیم نہیں ہے جوضلع اوربلاک سطح پراپنی تنظیمی ڈھانچے کی تشکیل کرے بلکہ بورڈ ملی تنظیموں کاایک پلیٹ فارم ہے ۔ ہندوستان کی تمام مسلم تنظیمیں اس میں شامل ہیں،تنظیمی کام کرنابورڈکے دستورسے خارج ہے۔اگربورڈ بھی اوپرسے نیچے تک اپنی تنظیمیں قائم کرتی ہیں تو دوسری تنظیمیں بورڈ کواپناحریف سمجھنے لگیں گی جب کہ بورڈ تمام ملی تنظیموں کامشترکہ پلیٹ فارم ہے ۔اس سلسلہ میں ان تنظیموں کے ذمہ داروں سے اپیل کی جاسکتی ہے کہ وہ ضلعی اوربلاک سطح پرمسلم پرسنل لاکاتعارف کرائیں ۔
سوال: ملک میں آرایس ایس ایک تنظیم ہے جوبلاک اورپنچایت سطح پراپنااسکول چلاتی ہےاوران کی کوشش ہوتی ہے کہ ایک سے پانچ تک بچوں کومذہبی تعلیم دی جائے جس کے ذریعہ وہ بچوں کی ذہن سازی کاکام کرتے ہیں،توکیابورڈ کے منصو بے میں ایسی کوئی تجویزہے جس کے ذریعہ بورڈ بھی بلاک یاضلع سطح پراسی طرزکے اسلامک انگلش میڈیم اسکول قائم کریں جہاں مسلم بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ عمدہ ذہن سازی کاکام بھی ہو؟
جواب: آرایس ایس کے بارے میں جیساکہ میں نے کہا کہ وہ ایک تنظیم ہے اورمسلم پرسنل لابورڈ کوئی تنظیم نہیں ہے بلکہ وہ تنظیموں کامشترکہ پلیٹ فارم ہے۔آرایس ایس تنظیم ہے یہی وجہ ہے کہ اس نے مختلف مقاصدکے لئے مختلف شاخیں بنارکھی ہیں لیکن پرسنل لاکوئی تنظیم نہیں ہے۔اس طرح کے کام دیگر ملی تنظیمیں کررہی ہیں اوربہت ہی اچھے اندازسے کررہی ہیں بالخصوص جماعت اسلامی نے ملک بھرمیں اس طرح کے اداروں کاجال بچھارکھا ہے،جمعیۃ علمائے ہند اوردیگرتنظیمیں بھی کام کررہی ہیں،یہ کام بورڈ کے دائرہ سے خارج ہے۔بورڈ کاکام قانون شریعت کاتحفظ ہے،حکومت سے تحفظ،عدالتی فیصلوں کے منفی اثرات کوزائل کرنااورمسلمانوں کواس بات پرآمادہ کرناکہ وہ رضاکارانہ طورپرقانون شریعت پرعمل کریں۔
سوال: آخری سوال،بصیرت آن لائن اوربصیرت میڈیاگروپ کے سلسلہ میں آپ کے تاثرات؟
جواب: بصیرت آن لائن نے مجھے میرے وطن سے جوڑے رکھاہے،دنیاکے کسی خطہ میں بھی ہوتاہوں تواپنے علاقہ کی خبردیکھ کربڑی مسرت ہوتی ہے۔ اس نیوزپورٹل نے علماکے درمیان رابطہ کاکام کیاہے۔اس نے نوجوان نسل کوزردصحافت کے اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے سے بچالیاہے اورصحیح صحافت کے رخ پرڈال دیاہے۔اس کے لئے بصیرت میڈیاگروپ کومیں دل کی گہرائیوں سے مبارکباددیتاہوں ۔
(بصیرت فیچرس)

You might also like