خواتین واطفالگوشہ اطفالمضامین ومقالات

نئی ٹکنالوجیز اور بچوں کا بچپن

سہیل عابدین

آج کے اس ترقی یافتہ دور میں نئی نئی Technologies سے جہاں معصوم بچے استفادہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہیں اِن Technologies کے مُضمر اثرات سے بچوں کی معمولاتِ زندگی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ اِن تبدیلیوں نے بچوں کے صحت کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ بچے گھروں میں تنہائی کو زیادہ پسند کرتے ہیں، آخر اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اس مسئلے پر والدین کو ٹھوس قدم اٹھانے کی ضرورت ہے، تاکہ بچوں میں ان کا بچپنا قائم رہ سکے۔
نئی نئی Technologies سے استفادہ کم نقصانات زیادہ ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بچے وقت سے پہلے اپنے آپ کو بالغ سمجھنے لگے ہیں۔ پہلے دیکھا جاتا تھا کہ بچے اسکول سے لوٹتے ہی کھیلنے کی غرض سے باہر نکل جاتے تھے۔ بڑی مشکل سے ان کے والدین انہیں ڈانٹ ڈپٹ کر گھر واپس لاتے تھے۔ وہیں آج 90 فیصد بچے اسکول سے گھر لوٹنے کے بعد باہر کھیلنے نہیں جاتے۔ والدین کے کہنے پر بھی کھیل کود سے کتراتے ہیں۔ Computer میں Game کھیلنا یا اپنے ساتھیوں کے ساتھ Mobile پر Chattingکرنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ یہ کسی خاص ملک یا جگہ کی بات نہیں۔ پوری دنیا کے بچوں میں یہ خصلت پائی جاتی ہے۔ جس کی وجہ کر بچے جسمانی طور سے کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ کیونکہ باہر کھیلنے کودنے کی عادت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ کھیل کود سے جسمانی نشوونما میں بہتری آتی ہے۔ جس سے آج کل کے بچے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ نئی Technologies سے بچے ذہین تو ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے مُضر اثرات بھی بہت زیادہ ہیں جس سے جسمانی نشوونما میں رُکاوٹ آتی ہے۔ مثلاً Computer سے چپکے رہنا، ہر وقت Chatting کرنا، جو صحت کے لیے مُضر ہو سکتا ہے۔ سماج میں یہ فکر کا موضوع بنتا جا رہا ہے۔
شائد اس لیے کہ آج کے نوجوان اور بچے تواریخ کے کسی بھی دور کے مقابلے اپنے اور اپنے مستقبل کے لیے کہیں زیادہ فکر مند ہوتے ہیں۔ آج کے دور میں بچوں کے کندھوں پر اپنے مستقبل کو تابناک بنانے کا بوجھ پڑا ہوا ہے۔ درحقیقت بچوں کے پاس کھیلنے کے لیے کھلونے تو بہت ہیں، لیکن اُن کے ساتھ کھیلنے والا کوئی نہیں۔ تن وتنہاں کھیلتے کھیلتے تنہائی سے پیار ہو جاتا ہے، ایسے میں ماں، باپ چاہیں تو بھی بچے باہر جا کر کھیل نہیں سکتے۔
آج کل کے بچے غیرممالک کی طرح اپنے آپ سے باتیں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ تنہائی میں ہنسنا، کھیلنا، رونا سب کچھ ہوتا رہتا ہے۔ تن وتنہاں ہی اپنی زندگی کے قیمتی لمحات گزارتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نئی Technologies کی طرف بچے اور نوجوان زیادہ راغب ہورہے ہیں۔
حالانکہ دیکھا جائے تو بچوں کے بچپن کا احساس جب ہی ہوتا ہے، جب تک کہ گھروں میں ہنسی، شوروغل کا ماحول ہو۔ لیکن آج کے ترقی یافتہ دور میں ان Technologies نے بچوں کے بچپن کو ہی چھین لیا ہے۔ ہم آپ اپنے بچوں کو ڈاکٹر انجینئر سب کچھ بنانا تو چاہتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ اِن Technologies نے اُن کے جزبات ہی چھین لیے ہیں۔ حالانکہ بچوں اور نوجوانوں میں مسکراہٹ کی جھلک تو نظر آتی ہے، لیکن اُن مسکراہٹوں میں وہ معصومیت نظر نہیں آتی۔ Computer اور Mobile سے بچوں کے ذہن تو متاثر ہو ہی رہے ہیں۔ساتھ ہی ساتھ انہیں صحت سے متعلق کئی طرح کی دقتیں بھی پیدا ہو رہی ہیں۔ یقینا آج کے دور میں بچوں کی زندگی میں زمین وآسمان کا فرق محسوس ہوتا ہے۔
یہ فرق کھیل کود تک ہی محدود نہیں، بلکہ معمولاتِ زندگی کے دوسرے حصوں میں بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ مثلاً آپ کو پاکٹ خرچ کے طور پر دس بیس روپیہ ملتے تھے تو اسی میں خوش ہو جایا کرتے تھے۔ لیکن آج کل کے بچوں کو پاکٹ خرچ کے لیے ایک خطیر رقم کی ضرورت پڑتی ہے۔ ان کی ضرورتیں 100، 50 روپئے میں پوری نہیں ہو پاتی۔
آج شہری بچوں کے پاس تمام طرح کی سہولتیں موجود ہیں، لامحدود قسم کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے کی چیزیں ہیں۔ Mobile اور انٹرنیٹ کے ذریعہ اوڈر کیجئے ساری کی ساری چیز پلک جھپکتے ہی حاضر ہو جاتی ہیں۔ دوستوں سے تعلقات قائم کرنے کے لیے بھی طرح طرح کے طریقۂ کار موجود ہیں۔ پہلے نوجوانوں کے پاس اسکول اور محلے کے پارکوں کے علاوہ گھر اور پڑوس کے دوسرے نوجوانوں سے بات چیت اور کھیلنے کودنے کے لیے دوست ہوا کرتے تھے۔ Technologies سے جڑے دوست کم ہی سننے کو ملتے تھے۔
ظاہر ہے Technologies کے اس دور میں آج کل کے بچوں کا مقابلہ پہلے دور کے بچوں سے نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اِن ساری سہولتوں کے باوجود آج کے نوجوان، پہلے کے نوجوانوں سے خوش وخرم ہیں؟ میرے خیال سے شائد نہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیوں؟
حقیقت یہ ہے کہ بچپن میں ہی بچے سب کچھ کر گزرنا چاہتے ہیں۔ اسی فکر میں نہ تو وہ کچھ بناپاتے ہیں اور نہ ہی کچھ بن پاتے ہیں۔ نتیجتاً اسی فکر وفن نے بچوں کا بچپنا چھین لیا ہے۔ لہٰذا بچوں کو ذہنی طور سے صحت مند ہونے کے ساتھ ساتھ جسمانی طور پر بھی صحت مند ہونا ہو گا۔(یو این این)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker