ہندوستان

دونوں ایوانوں میں کام کاج بری طرح متاثر،16ویں دن بھی پارلیمنٹ ٹھپ

نئی دہلی، 9 ؍دسمبر

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی آج بھی مختلف وجوہات سے متاثر رہی اور حکمران بی جے پی نے رکاوٹ کے بارے میں صدر پرنب مکھرجی کے تلخ تبصرے کا حوالہ دیتے ہوئے لوک سبھا میں مطالبہ کیا کہ اپوزیشن کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے معافی مانگے۔ادھر راجیہ سبھا میں اپوزیشن نے گندم پر درآمدگی فیس ہٹائے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے حکومت پر کسان مخالف ہونے کا الزام لگایا۔پارلیمنٹ میں کام کاج میں رکاوٹ کے معاملے پر حکمراں فریق اور اپوزیشن کے درمیان تناؤ کی وجہ سے لوک سبھا کااجلاس دو مرتبہ کے التوا کے بعد پورے دن کے لیے ملتوی کر دیاگیا۔لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے اس کشیدگی کی وجہ سے ایوان کا اجلاس صبح شروع ہونے کے کچھ دیر بعد ہی ساڑھے 11بجے تک کے لئے ملتوی کر دیا۔ایک بار کے التوا کے بعد اجلاس شروع ہونے پر پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار نے کہا کہ ہم نوٹ بندی مسئلے پر ابھی بحث کے لئے تیار ہیں۔اپوزیشن کی جانب سے گزشتہ 16دنوں سے ایوان میں خلل ڈالا جا رہا ہے۔صدر جی نے بھی کہا ہے کہ یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس، ترنمول کانگریس اور لیفٹ ایوان کے کام کاج میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ایوان میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے اپوزیشن کو ملک کے عوام سے معافی مانگنی چاہئے۔کمار نے کہاکہ پہلے وہ ملک کی عوام سے معافی مانگیں،ملک کے عوام کا پیسہ برباد کیوں کیا۔کانگریس، ترنمول کانگریس اور بائیں محاذ کے ارکان اپنی جگہ سے کچھ کہنا چاہ رہے تھے لیکن ہنگامے میں ان کی بات نہیں سنی جا سکی۔
شور شرابہ تھمتا نہیں دیکھ کر صدر نے ایوان کی کارروائی 11بج کر 35منٹ پر دوپہر 12بجے تک کے لئے ملتوی کر دی۔صبح ایوان کی کارروائی شروع ہونے پر کانگریس کے لیڈر ملکاارجن کھڑگے کچھ کہنا چاہ رہے تھے لیکن بی جے پی ارکان نے کہا کہ صدر نے ایوان میں رکاوٹ کو لے کر تلخ تبصرہ کیا ہے۔اپوزیشن کی جانب سے رکاوٹ ڈالنا ٹھیک نہیں ہے۔دوپہر 12بجے ایوان کے اجلاس شروع ہونے پر بھی صورت حال ویسی ہی رہی۔اپوزیشن ارکان اسپیکر کے قریب آکر نعرے بازی کرنے لگے۔صدر سمترا مہاجن نے شور شرابے کے درمیان ہی ضروری کاغذ ایوان میں رکھوائے،ہنگامے کے درمیان ہی فروغ انسانی وسائل کے وزیر پرکاش جاؤڈیکر نے قومی ٹیکنالوجی سائنس تعلیم اور تحقیقی انسٹی ٹیوٹ(دوسرا ترمیم)بل، 2016ایوان میں رکھا۔اس دوران جب حکمراں فریق کے ارکان پہلے کی طرح اٹھ کر اپوزیشن ارکان کی مخالفت کر رہے تھے تو بی جے پی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی کو ناراضگی میں حکمراں فریق کے ارکان کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے دیکھا گیا،اس کے بعد بی جے پی کے ارکان اپنی جگہوں پر بیٹھ گئے۔صدر نے وقفہ صفر شروع کرنے کی کوشش کی لیکن ہنگامہ نہیں تھما اور انہوں نے ایوان کا اجلاس پورے دن کے لئے ملتوی کر دیا۔
ادھر راجیہ سبھا کی کارروائی بھی آسانی سے نہیں چل سکی،وقفے سے پہلے کی کارروائی گندم پر درآمدگی فیس ہٹانے کے حکومت کے فیصلے کے خلاف اپوزیشن کے ہنگامے کی وجہ سے رکاوٹ پیدا رہی۔اس کے بعد ایوان میں کورم پورا نہیں ہونے کی وجہ سے سے اجلاس دن بھر کے لئے ملتوی کر دیاگیا۔صبح اجلاس شروع ہونے پر سی پی ایم، کانگریس، بی ایس پی، ایس پی، جے ڈی یو وغیرہ جماعتوں نے گندم پر درآمد گی فیس ہٹائے جانے کا مسئلہ اٹھایا اور سوال کیا کہ جب ملک میں گندم کافی ذخیرہ ہے تو ایسے وقت درآمد کی فیس کو 10فیصد سے صفر کئے جانے کا کیا جواز ہے۔اپوزیشن ارکان کی طرف سے اس معاملے پر تشویش کااظہارکئے جانے کے درمیان خوراک ورسد امور کے وزیر رام ولاس پاسوان نے کہا کہ ملک میں گندم کی کوئی کمی نہیں ہے اور یہ فیصلہ گھریلو قیمت کو ذہن میں رکھ کر کیا گیا ہے جس میں حالیہ ہفتوں سے اضافہ کا رجحان دیکھنے کو مل رہاتھا۔انہوں نے تاہم کہا کہ یہ کوئی مستقل فیصلہ نہیں ہے۔زراعت وزیر مملکت پرشوتم روپالا نے کہا کہ اقدار پر کنٹرول رکھنے کے لئے حکومت مارکیٹ میں مداخلت کرتی ہے،اگر کسانوں کو مسئلہ ہوتا ہے تو ان کے مفاد میں درآمد کی فیس کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے گی۔
اس سے قبل سی پی ایم کے سیتارام یچوری نے کہا کہ انہوں نے کسٹم سے متعلق فیصلے پر بحث کے لئے قانون 267کے تحت ایک نوٹس دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے ہندوستان کے کسان متاثر ہوں گے اور کثیر القومی کمپنیاں مستفید ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ خوردہ مارکیٹ میں نوٹ بندی کی وجہ سے قیمت بڑھ رہی ہے۔نوٹ بندی کے سبب کسان پہلے ہی بری طرح متاثر ہیں۔انہوں نے گندم پر درآمدگی فیس ہٹانے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ہندوستانی کسانوں کی حالت بگڑے گی۔بی جے پی کے بھوپندر یادو نے کہا کہ نوٹ بندی کے معاملے پر قانون 267کے تحت بحث شروع ہوئی تھی اور وہ پوری نہیں ہوئی ہے تو ایسے میں اسی اصول کے تحت بحث کے لئے دوسرا نوٹس قبول نہیں کیا جا سکتا۔ڈپٹی چیئرمین پی جے کورین نے ان کی بات سے اتفاق کیا اور کہا کہ انہوں نے یچوری کے نوٹس کو قبول نہیں کیا۔بی ایس پی کی مایاوتی نے کہا کہ فیصلے سے کسانوں کو بھاری نقصان ہوگا اور امیروں کو فائدہ ہوگا۔انہوں نے حکومت سے اس فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کیا۔جے ڈی یو کے شرد یادو اور سماج وادی پارٹی کے ریوتی رمن سنگھ نے بھی اس فیصلے کی مخالفت کی۔کانگریس کے جے رام رمیش نے بھی سوال کیا کہ اگر ملک میں گندم کا کافی ذخیرہ ہے تو اسے درآمد کیوں کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ گندم پر درآمد کی فیس ختم کیا جانا ہندوستانی کسانوں کے مفادات پر ایسے وقت سخت حملہ ہے جب ملک سبز انقلاب کا 50واں سال منا رہا ہے۔ترنمول کانگریس کے سکھیند شیکھر رائے نے نوٹ بندی کا مسئلہ اٹھایا اور نوٹ بندی کے سبب جان گنوانے والے 111افراد کو خراج عقیدت پیش کئے جانے کا مطالبہ کیا۔بعد میں اپوزیشن ارکان اسپیکر کے سامنے آکر حکومت کے خلاف نعرے بازی کرنے لگے۔ایوان میں ہنگامہ کو دیکھتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین کورین نے کارروائی 11بج کر تقریبا 30منٹ پر 12بجے تک کے لئے ملتوی کر دی۔ایک بار کے التوا کے بعد دوپہر 12بجے ایوان کا اجلاس شروع ہونے پر بھی ایوان میں ہنگامہ جاری رہا اور اپوزیشن اراکین حکومت پر کسان مخالف ہونے کا الزام لگاتے ہوئے نعرے بازی کرنے لگے۔چیئرمین حامد انصاری نے ارکان سے وقفہ سوال چلنے دینے کی اپیل کی۔ہنگامے کے درمیان ہی پارلیمانی امورکے وزیرمملکت مختار عباس نقوی نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ اپوزیشن ارکان ایوان کو نہیں چلنے دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صدر نے بھی اراکین سے پارلیمنٹ چلنے دینے کی اپیل کی ہے۔انہوں نے کہا کہ کئی اہم مسائل ہیں جن پر ایوان میں بحث ہونی ہے،یہ مسئلہ غریبوں، معاشرے کے کمزور طبقوں، خواتین وغیرہ سے متعلق ہے۔ایوان میں ہنگامہ کو دیکھتے ہوئے انصاری نے 12بج کر تقریبا پانچ منٹ پر اجلاس ڈھائی بجے تک کے لئے ملتوی کر دیا۔دو مرتبہ کے التوا کے بعد ڈھائی بجے اجلاس شروع ہونے پر ڈپٹی چیئرمین کورین نے رنگاسایی رام کرشا کے ذاتی قرارداد پر آگے بحث شروع کرنے کو کہا۔اسی دوران کانگریس کے آنند شرما نے ایوان میں کورم پورا نہیں ہونے کا مسئلہ اٹھایا۔حزب اختلاف کے رہنما غلام نبی آزاد اور کانگریس رکن موتی لال وورا نے بھی یہ مسئلہ اٹھایا اور کارروائی ملتوی کئے جانے کا مشورہ دیا۔کورین نے کورم کی گھنٹی بجانے کی ہدایت دی،دو بار کورم کی گھنٹی بجانے کے بعد بھی ایوان میں کورم پورا نہیں ہوا،اس کے بعد کورین نے دو بج کر تقریبا 40منٹ پر اجلاس پورے دن کے لئے ملتوی کر دیا۔کارروائی میں خلل ہونے کی وجہ سے دونوں ایوانوں میں وقفہ سوال اور وقفہ صفر نہیں ہو سکا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker