Baseerat Online News Portal

’ایک اوردادری! کچھ کام بھی کریں گے مودی جی! ‘

محمدشار ب ضیاء رحمانی
گذشتہ دنوں دادری کے بساہڑاگائوں میں اخلاق کی شہادت کے بعدجس طرح مودی حکومت کی کرکری ہوئی ہے وہ چھپائے نہیں چھپ رہی ہے۔ادیبوں کے ایوارڈلوٹانے پرارون جیٹلی خواہ کچھ بھی کہیں،لیکن حقیقت یہی ہے کہ ان کی حکومت کی سرپرستی میں فرقہ پرستی کافروغ ہورہاہے ۔دادری واقعہ کے بعداب نیامعاملہ ہماچل پردیش کاسامنے آیاہے۔ ہماچل پردیش کے سرمور ضلع کے ایک گاؤں میں یوپی سے تعلق رکھنے والے نعمان کو پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا گیا۔اہل خانہ نے بجرنگ دل کے کارکنا ن پر قتل کا الزام لگایا ہے۔نعمان کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ یوپی کے سہارنپور کی رائے پور تحصیل کے بیہٹ گاؤں کا رہنے والا تھا۔نعمان کے رشتہ دار عمران اصغر نے دعویٰ کیاکہ بجرنگ دل کے کارکنان نے ٹرک کو رکوایا۔نعمان کو ان لوگوں نے بری طرح مارا پیٹا ،اس کے بعد ملزم وہاں سے ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے۔بعد میں پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا اور زخمی ہونے کی وجہ سے سبھی کو اسپتال میں داخل کرادیا۔لیکن وہاں 22سالہ نعمان زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑدیا ۔پولیس نے نعمان کے قاتلوں کے خلاف دفعہ 302کے تحت معاملہ درج کیا ہے۔پولیس اس بات کی تحقیقات کررہی ہے کہ واردات کے پیچھے بجرنگ دل کا ہاتھ تو نہیں ہے؟۔
ایک طر ف تووزیراعظم دادری واقعہ کی بظاہرمذمت کرتے ہیں تودوسری طرف ادباء کے ایوارڈلوٹاکراحتجاج درج کرانے پرارون جیٹلی حملہ آورہوتے ہیں۔وزیراعظم کی پہلے دن سے ہی یہی پالیسی ہے کہ وہ مذہبی رواداری کی تلقین فرماتے رہیں گے اوران کے گرگے کھلے عام فرقہ پرستی کاننگاناچ ناچتے رہیں۔ان کی حکومت توبے تکے اوراشتعال انگیزبیانات کیلئے اپنے لیڈروں کوعہدئہ وزارت سے بھی نوازتی رہی ہے۔بی جے پی کی اتحادی جماعت شیوسینانے مودی کی مذمت پران کی پول کھول ہی دی،کہتے ہیں نا،گھرکابھیدی لنکاڈھائے،شیوسینانے بتایاہے کہ مودی کی شناخت گودھراواقعہ کی وجہ سے ہے،اب بی جے پی گجرات فسادات سے مودی کے دامن کوکیوں نہ بچانے کی کوشش کرے لیکن حقیقت سامنے آچکی ہے کہ فرقہ پرستوں میں ان کی مقبولیت ان کے کٹرواداورمسلم مخالف شبیہ کی وجہ سے ہے اوریہ بھی حقیقت ہے کہ دنیاانہیں گجرات فسادات کے حوالہ سے زیادہ جانتی ہے،درست کہاگیاہے کہ ’’بدنام ہوں گے توکیانام نہ ہوگا؟۔
کل کی رپورٹ کے مطابق مودی کے’ ’گہرے دوست‘ ‘مسٹرباراک اوبامہ کی امریکی حکومت نے بھی ہندوستان کی بی جے پی سرکارکی تھوتھوکی ہے اورعالمی برادی کے درمیان وطن عزیزکی بی جے پی نے جگ ہنسائی کرادی ہے ۔اس سے قبل بھی جب اوبامہ یوم جمہوریہ کے موقعہ پرمہمان خصوصی بن کرہندوستان آئے تھے توجاتے جاتے انہوں نے مودی کی ساری ضیافت پرپانی پھیردیا،اظہاریگانگت اورہرہرقدم پراوبامہ کی ہمراہی کرنے والے وزیراعظم کی جم کرخبرلے لی۔بی جے پی کی آنکھ اس پربھی نہیں کھلی اوروزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے اس بیان کوعمومی بات کہہ کرہوامیں اڑانے کی کوشش کی تھی لیکن اوبامہ نے وہائٹ ہائوس کے اندرپھراپنے موقف کااعادہ کردیا۔
دادری واقعہ کے بعدبی جے پی کے چہرہ پروزیراعظم نے گرچہ پردہ ڈالنے کی کوشش کی لیکن کاروائی نہ کرکے جووہ پیغام دیتے رہے ہیں وہ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ حقیقت میں آرایس ایس کے رضاکارہیں جس پرانہوں نے فخرکااظہاربھی گذشتہ دنوں موہن بھاگوت کے قدموں پرجاکرکیاہے۔امریکہ نے اس پربھی نوٹس لیا۔امریکہ کی یہ تشویش بتاتی ہے کہ عالمی برداری کے درمیان ہندوستان کس طرح شرمسارہورہاہے،ہماراملک جس نے گاندھیائی آئیڈیالوجی کے ذریعہ دنیاکوتحمل کادرس دیاتھا،آج اسے عالمی برداری کے طنزاوراس کی تنقیدکاشکارہوناپڑرہاہے۔دادری کی مذمت کرنے والے مودی ہماچل پردیش کے معاملہ پرپھرکیاکہیں گے؟۔اورملک کورواداری کی نصیحت کرنے والے وزیراعظم کب اپنی حکومت میں بڑھتی فرقہ پرستی پراوراپنے لیڈروںپرلگام لگائیں گے۔وزیراعظم پوری دنیامیں گھوم گھوم کرعالمی برادری کوہندوستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دے رہے ہیں لیکن کیاملک میں امن وامان کے بغیران کی یہ کوشش کامیاب ہوسکے گی؟۔یہی وجہ ہے کہ اب تک سولہ ماہ گھومنے کے بعدبھی بین الاقوامی برداری کااعتمادوہ حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔وہ یہ بتائیں کہ ان کی حکومت کب تک دادری ہوتے رہنے دے گی؟،اوران کے گرگے بے لگام ہوکرملک کے امن وامان کوپامال کرتے پھریں گے۔اشتعال انگیزبیانات اورملک میں ایک خاص فضاپیداکرنے کی کوششوںسے وہ پلہ جھاڑکردست بردارنہیں ہوسکتے،ہریانہ کے سی ایم منوہرلال کھٹر،گری راج،مہیش شرما،یوگی آدتیہ ناتھ اورساکشی مہاراج کوئی اورنہیں ان کے اپنے لوگ ہیں۔انہیں یہ بتاناہوگاکہ کیایہی گڈگورننس ہے اورکیااسی گورننس کووہ بہاروالوں پرتھوپنے کاارادہ رکھتے ہیں۔ معاشی بدحالی کے ساتھ ساتھ مہنگائی عروج پرہے،دال گھرکی مرغی کے برابرہوچکی ہے ،پیازنے آنسوسے رلادیئے ہیں،انتظامیہ بے قابوہے،ملک کاامن وامان بگڑرہاہے،اوروزیراعظم سمیت سنیئرلیڈران بہارکے اقتدارکی لالچ میں کام کاج چھوڑکرانتخابی ریلی میں مصروف ہیں،وزیراعظم ملک کے تنخواہ دارملازم ہیں،انہیں ٹیکس دہندگان کے پسینوں کے پیسوں سے تنخواہ اوردیگرمراعات صرف ملک کی ترقی وخوشحالی کے کام کرنے کیلئے دی جاتی ہیں۔پارٹی ورک میں اپنے اوقات ضائع کرناان پیسوں کاضیاع ہے،بہارکی عوام بھی اس بات کوسمجھ چکی ہے کہ جہاں انہیں کام کرنے کے لئے بیٹھایاگیاوہاں وہ کام نہیں کرپارہے ہیں توخاک بہارکاوکاس کریں گے۔بی جے پی سرکارکارول ماڈل توپوری دنیادیکھ رہی ہے ۔یہ سب جملہ ہے۔حالانکہ انہوں نے خودکوپردھان منتری نہیں پردھان سیوک بتایاہے لیکن ان کی مصروفیت کودیکھتے ہوئے لگتاہے کہ وہ ملک کے نہیں ،بی جے پی اورآرایس ایس کے پردھان سیوک ہیں۔
(مضمون نگار بصیرت میڈیا گروپ کے فیچر ایڈیٹر ہیں) 
(بصیرت فیچرس)

You might also like