مضامین ومقالات

نوٹ بندی اور بلیک منی

ڈاکٹر عابد الرحمن(چاندور بسوہ)

نوٹ بندی کے فیصلے کو ایک مہینہ ہو چکا ہے یعنی مودی جی نے جو پچاس دن مانگے تھے اس میں سے تیس سے زیادہ دن بیت چکے لیکن ابھی تک اس سے ہونے والی خرابیء حالات میں کوئی سدھار نہیں آیا ،وہ افراتفری جو شروعات میں تھی اب بھی جوں کی توں قائم ہے ،لوگ ابھی بھی دن دن بھر لائنوں میں کھڑے رہنے کے لئے مجبور ہیں حالانکہ اب بینکوں سے پیسے نکالنے کی لمٹ بڑھادی گئی ہے پھر بھی بینکوں کے باہر لائنیں کم نہیں ہو ئی ہیںاور اس کی بڑی وجہ بینکوں میں کیش کی کمی ہے ۔گاؤں دیہاتوں میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی دن بینک میں ایک پیسہ نہیں ہوتا اور کبھی یوں ہوتا ہے کہ بینک میں کیش تو ہوتا ہے لیکن لائن میں لگے تمام لوگوں کے کافی نہیں ہوتا لوگ ’میرا نمبر کب آئے گا ‘کا سوال لئے کھڑے رہتے ہیں اور ان کا نمبر آنے پر معلوم ہوتا ہے کہ پیسہ ختم،اور لوگ اپنی ہی کمائی اپنے لئے استعمال نہیں کر پاتے۔خبروں کے مطابق مارچ 2016 تک پورے ملک میں زائد از چودہ لاکھ کروڑ رپئے مالیت کی ہزار اور پانچ سو کی نوٹیں تھیں اور ان میں سے اب تک تقریباً گیارہ لاکھ کروڑ کی پرانی نوٹیں بینکوں میں جمع کروادی گئی ہیںاور شاید ڈیڈ لائن ختم ہونے تک بقیہ نوٹیں بھی بینکوں میں آ جائیںگی جبکہ حکومت کو صرف دس لاکھ کروڑ کی امید تھی ۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جتنی پرانی نوٹیں مارکیٹ میں تھیں اسکا اتنا ہی بدل مہیا کروادیا جاتا لیکن ایسا نہیں ہوا رپورٹ کے مطابق جتنی پرانی کرنسی بینکوں میں جمع ہوئی ہے اس کا صرف ۳۵ فیصد ہی نئی نوٹوں کی شکل میں بدلا گیا ہے اور سرکار نے جو نئے نوٹ جاری کئے وہ بھی اتنی عجلت میں یا اس قدر غیر منصوبہ بندی سے جاری کئے گئے کہ اے ٹی ایم مشینوں نے بھی انہیں قبول نہیں کیا ۔اب کہا جا رہا ہے کہ تقریباً 95فیصد اے ٹی ایم نئے نوٹون کے لئے recalibrate کر دئے گئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے صرف 35 فیصد ہی کام کر رہے ہیں۔ یعنی مودی جی نے جو پچاس دن مانگے تھے ان میں سے تیس دنوں میں مجموعی طور پر صرف 35فیصد کام ہی ہوپا یا ہے اگلے بیس دنوں میں بقیہ 65 فیصد کام ہوجائے گا ناممکن لگتا ہے۔نوٹ بندی سے پیدا ہونے والے مسائل اور نئی نوٹیں مہیا کروانے میں ناکامی کوچھپانے کے لئے اب حکومت کیش لیس اکنامی کا شور مچا رہی ہے ۔ اور اس کو بڑھا وا دینے کے اقدام کر رہی ہے لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ جس دیش میں کارڈ ہولڈرس کم ہیں کارڈ قبول کر نے والے کم ہیں اورپچاس فیصد عوام کو ابھی تک اسمارٹ فون کا استعمال نہیں معلوم کیا وہ عوام یک لخت کیش لیس اکنامی کے ذرائع استعمال کر سکیں گے؟انتہائی مشکل بلکہ ناممکن۔ پرانے نوٹوں کی جو رقم ابھی تک بینکوں میں جمع کروائی گئی ہے اس میں سے بلیک منی کتنی ہے ،کتنے لوگوں نے انکم ٹیکس لمٹ سے زیادہ رقم جمع کروائی ہے ،کتنے ٹیکس چور پکڑے گئے اور ان سے کتنا ٹیکس اور جرمانہ وصول ہوا یہ تو شاید اس رقم کی پوری جانچ پڑتال کے بعد ہی معلوم ہوسکے گا۔سرکار نے نوٹ بندی کا پہلا مقصد’ بلیک منی ‘ کا انکشاف اور اسے روکنا بتایا تھا ،اس میںکتنا بلیک منی ملا وہ اس اقدام کی وجہ سے ہونے والے معاشی نقصان سے ملا کر دیکھنا چاہئے ۔ کیش لیس اکنامی فی الوقت تو انڈیا میں ممکن نہیں اور پرانے نوٹوں کو نئے نوٹوں سے بدلنے کے لئے ایک لمبا عرصہ لگے گا ماہرین کے مطابق اس دوران ملکی معیشت کو تقریباً تین لاکھ کروڑ روپئے کا خسارہ ہو سکتا ہے ،کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ نقصان نوٹ بندی کے ذریعہ پکڑی گئی بلیک منی سے زیادہ ہو جائے۔بلیک منی دراصل بڑے بڑے کاروباریوں ، دھنا سیٹھوں اور سیاسی لیڈدران کے پاس ہی ہوگی اور ان میں سے کسی کے بھی بینک کی لائن میں کھڑے ہونے کی کوئی خبر نہیں ہے۔شاید ان لوگوں نے کوئی دوسرا راستہ نکال لیا ہے ،ابھی تو صرف جن دھن اکاؤنٹس اور بینک ملازمین کے ذریعہ غیر قانونی طور پر پرانی نوٹیں بدلوانے کی بات سامنے آئی ہے آگے اور کیا کیا سامنے آئے کہا نہیں جاسکتا ۔عوام لائنوں میں کھڑی ہے اس کے باوجود انہیں ضرورت سے کم ہی ر و پئے مل پارہے ہیں ۔لیکن نئے نوٹوں کی کالا بازاری بھی بہت دھوم سے جاری ہے ملک میں مختلف مقامات پرکئی لوگوں کے پاس سے کروڑو ں روپئے کے نئے نوٹ پکڑے گئے ہیںاور ان میں بھی مودی جی کی پارٹی کے کئی پکے دیش بھکت شامل ہیں جو نوٹ بندی کی حمایت میں دن رات بولے جا رہے ہیں اور اس پر سوال اٹھانے والوں کو دیش دروہی بھی قرار دے رہے ہیں۔ سرکار اس فیصلے کو لوک سبھا انتخابات کے دوران بلیک منی کے خلاف اقدامات کے اپنے وعدے پر عمل بتا رہی ہے لیکن ایسا نہیں ہے لوک سبھا انتخابات کے دوران جسے بلیک منی کہا گیا تھا وہ دراصل انڈیا میں نہیں ہے بلکہ بیرون ممالک کی بینکوں میں ہے یاان بیرون ممالک کمپنیوں(Offshore Companies میں سرمایہ کاری کی صورت مٰیں ہے جن کا ذکر ابھی کچھ مہینوں پہلے ’ پناما لیکس ‘ میں کیا گیا۔بیرون ممالک بینکوں میں بھارتی شہریوں کی جمع شدہ پونجی پر پچھلی سرکار نے قرطاس ابیض (White paper)جاری کیا تھا جس کے مطابق وہ کل رقم 92.95 بلین یعنی 9295کروڑ روپئے تھی جو کہ میڈیا میں آنے والے آنکڑوں سے کئی سو گنا کم تھی ۔اسی طرح 2015میں ایسے 1195 بھارتی افراد کے نام سامنے آئے تھے جن کے HSBCبینک کی جینیوا برانچ میںاکاؤنٹس ہیں اور ان میں مجموعی طور پر 25240کروڑ روپئے جمع ہیں۔اور اسے لانے کے لئے سرکار نے ابھی تک کوئی خاص اقدام نہیں کیا ،مودی جی نے پچھلی سرکاروں کو اس بلیک منی کا ذمہ دار قرار دیا تھا لیکن خود ان کی سرکار نے بھی اس معاملہ میں ہو بہو وہی کیا جو پچھلی سرکاریں کر تی آئی ہیںیہاں تک کہ سپریم کورٹ نے اسے آرڈر دیا تھا کہ وہ خود اس معاملہ میں کوئی تفتیش نہ کرے بلکہ اس کے پاس موجود سارا مواد خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو سونپ دے۔ نوٹ بندی سے اس ساری بلیک منی پر کیا اثر پڑ نے والا ہے ،کچھ نہیں ۔ کالے دھن کی پیداوار اور اس کے خاتمہ کے لئے ضروری اقدام کے مطالعہ کے لئے یو پی اے سرکار نے سینٹرل بورڈ آف ڈیریکٹ ٹیکسیس کے چیئر مین ایم سی جوشی کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی تھی اس کمیٹی نے کچھ ہی دنوں میں اپنی ڈرافٹ رپورٹ حکومت کو سونپ دی تھی۔اس کمیٹی کے اہم نکات میں سے ایک یہ تھا کہ ’ملک کی دو بڑی سیاسی پارٹیاں(کانگریس اور بی جے پی ) پانچ بلین (پانچ سوکروڑ) اوردو بلین( دو سو کروڑ) روپئے کی آمدنی بتاتی ہیں لیکن یہ ان کے اخراجات کا عشر عشیر بھی نہیں ہے یہ پارٹیاں صرف انتخابی مد میں سو اور ڈیڑھ سو بلین( دس ہزار اور پندرہ ہزار کروڑ ) روپئے سالانہ خرچ کرتی ہیں۔‘ اور ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاسی پارٹیوں کو یہ پیسہ دراصل بلیک منی ہی سے آتا ہے۔ 2013 میں سینٹرل انفارمیشن کمیشن نے ملک کی چھ بڑی سیاسی پارٹیوں کو پبلک پراپرٹی قرار دیتے ہوئے ان پر آر ٹی آئی ایکٹ کا اطلاق کردیا تھا جس کے بعداپنی آمدنی اور اخراجات کی معلومات دینا ان کے لئے ضروری ہو گیا تا۔یہ سیاسی پارٹیوں کی فنڈنگ اور اخراجات میں شفافیت کی طرف پہلا قدم تھا لیکن اس وقت بی جے پی کے علاوہ سبھی سیاسی پارٹیوں نے اس فیصلے کو مسترد کردیا تھا اور اب بی جے پی اقتدار میں آئی تو اس نے بھی سپریم کورٹ میں اس کی مخالفت کردی۔دراصل بلیک منی کے تئیں اپنی اسی منافقت کو چھپانے کے لئے سرکار نے نوٹ بندی کا فیصلہ کیا ہے ۔اور نوٹ بندی بھی منصوبہ بند طریقے سے نہیں کی گئی کہ اس کا کچھ فائدہ ہو ۔ نوٹ بندی سے ملک میں ہونے والی ٹیکس چوری اگر پوری نہیں تو کچھ نہ کچھ ضرور پکڑی جائے گی لیکن اس کی وجہ سے جو حالات پیدا ہوئے ہیں لگتا ہے وہ اس کے فائدے سے زیادہ نقصان کا باعث ہوں گے ۔ (جمعہ 9،دسمبر 2016 ( dr.abidurrehman@gmail.com
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker