خبردرخبرمضامین ومقالات

سلام اس پرکہ جس نے زخم کھاکرپھول برسائے

محمدشارب ضیاء رحمانی
رسول اکرم ﷺکی ولادت جس ماہ مبارک میں ہوئی وہ ربیع الاول ہے جس کامعنیٰ ہے، َبہارکاپہلامہینہ۔ یعنی آپ ﷺکی پیدائش سے عالم میںایک بہارآگئی۔دوسرے لفظوں میں کہہ لیجئے کہ انسانیت کے ختم ہوجانے کے بعدظلم وتشددکی تاریک فضائوں کے اندرماہ ربیع الاول میں ہی ایک بااخلاق،باکرداراورصالح معاشرہ کی بنیاد’’ایک نیرتاباں‘‘ کے ظہورسے رکھی گئی ۔جس کیلئے مہ وآفتاب کی نگاہیں منتظرتھیں۔ سب کچھ حسن وجمال کی معراج اوردلکشی ورعنائی کامنتہائے کمال تھا۔گویاعبدالمطلب کہہ رہے تھے ۔’’وہ آئے گھرمیں ہمارے خداکی قدرت ہے کبھی ہم ان کوکبھی اپنے گھرکودیکھتے ہیں‘‘۔ اس عالم رنگ وبومیں ’’انسان کامل ‘‘بس صرف ایک ہی پیداہوا،جس پرحسن وخوبی اورکمال وبلندی کی انتہاء ہوگئی ۔اب اس دنیامیں جسے بھی عروج وسربلندی کی تلاش ہے وہ اسی ’’انسان کاملﷺ‘‘کے اسوئہ حسنہ کی پرچھائیوں میں ہی ملے گی ۔دنیانے بہت ڈھونڈامحمدکاجواب ثانی توبڑی چیزہے ،سایہ نہ ملا۔اس آفتابِ رسالت کے طلوع ہونے کے بعد فکرونظراورضمیروباطن کاعظیم انقلاب پیداہواجس نے صالح تمدن اورپاکیزہ معاشرہ کی بنیادڈالی اوراوردنیاکووہ قانون دیاجوچودہ صدی کے بعدبھی دنیاکے ہرخطہ ،ہرتہذیب اورہرقوم میں نافذالعمل ہونے کی صلاحیت رکھتاہے ۔تمام شعبہ ہائے زندگی میں آپ کی سیرتِ طیبہ ساری دنیاکیلئے کافی اورنمونہ عمل ہے۔چنانچہ نبی امیﷺکے ساتھ آنے والے اس عالمگیرمذہب نے عرب کے جاہل وناخواندہ ماحول کویکایک سب سے شائستہ ،سب سے زیادہ بااخلاق ،سب سے زیادہ متمدن اورساری دنیاکااستاذورہبربناکرثابت کردیاکہ ان تمام محیرالعقول انقلاب کاسبب اسلامی تعلیم کے سواکچھ بھی نہیں ہے۔جس سے ہرملک،ہرزمانہ میں فیضیاب ہواجاسکتاہے،نیزیہ بھی کہ دنیاکے تمام ہادی اورتمام انبیاء اپنی اپنی قوموں کے لئے جس قدرتعلیمات اورہدایت نامے لے کرآئے تھے وہ سب کے سب اصولی طورپرآپﷺکے قلب اطہرپہ نازل ہونے والی کتاب میں موجودہیں اورنبی آخرالزماں ﷺکی ذات جامع جمیع کمالات نبویہ وانسانیہ ہے۔آنچہ خوباں ہمہ دارندتوتنہاداری۔
آپ ﷺکی ولادت بابرکت اس بات کااعلان تھی کہ حضرت ابراہیمؑ کے دین کونئی زندگی ملنے والی ہے اوران کی اُس دعاء کے پوراہونے کاوقت آچکاہے جوانہوں نے تعمیرخانہ کعبہ کے بعدمانگی تھی:مفہوم’’ اے میرے رب!آپ میری اولادمیں سے ایک رسول کوبھیجئے،جس کے تین کام ہوں،تلاوتِ آیات،تعلیمِ کتاب وحکمت اورتزکیہء نفوس‘‘ ۔نیز حضرت عیسیٰؑ کی یہ بشارت بھی پوری ہونے والی ہے:مفہوم ’’میرے بعدایک نبی آئے گاجس کانام احمدہوگا‘‘۔چنانچہ نبی آخرالزماں کی بعثت کیلئے ایک مناسب جگہ کاانتخاب کیاگیاجسے جغرافیائی اعتبارسے بھی مرکزیت حاصل ہے اور حضرت ابراہیمؑ سے ایک خاص نسبت بھی۔اس مقدس مقام میں آپ کومبعوث فرماکر بتایاگیاکہ محمدﷺعالمی نبی ہیں۔ساتھ ہی اسراء میں مسجدحرام سے بیت المقدس تک کی سیرکراکرگویابتاگیا کہ یہ تمام امم سابقہ کے نبی ہیں،دونوں قبلوں کے امام ہیں اورانبیاء کی امامت کرائی گئی کہ ان تمام انبیاء سابقہ کی امتوںکوبھی ان کی امامت تسلیم کرنی ہوگی ۔ بعدازخدابزرگ توئی ایں قصہ مختصر۔نمونہ اورآئیڈیل بنانے کیلئے اس چیزکی ضرورت پڑتی ہے جوہرطرح سے کامل ومکمل ہو،یہ شرف صرف پیغمبراسلامﷺکوحاصل ہے کہ آپ کی زندگی اورآپ کی سیرت،جامعیت وکاملیت کے ساتھ بہترین نمونہ ہے جس کی شہادت، قرآنی آیات دیتی ہیں ۔قدرت نے آپﷺکوانسان کامل بناکربھیجاتھاچنانچہ ایسے انسان کوسیرت وصورت اورظاہروباطن کے اعتبارسے خوبی وکمال کاجامع ہوناہی چاہئے تھااورآپ اس کے صحیح مصداق تھے۔فروغِ ماہ بھی دیکھا،نمودِگلشن بھی تمہارے سامنے کس کاچراغ جلتاہے،دونوں جہاں آئینہ دکھلاکے رہ گئے لاناپڑاتمہیں کو،تمہار ی مثال میں۔
ہدایت اورتعلیم کاسب سے کارگراسلوب یہ ہے کہ صرف زبان سے ہی کہہ کرنہ چھوڑدیاجائے بلکہ جن چیزوں کی تعلیم دینی ہوان کاعملی نمونہ بن کربھی لوگوں کے سامنے آیاجائے،کیونکہ انسان ،کانوں کے ذریعہ کم اورآنکھوں سے زیادہ سیکھتاہے اسلام کے پیغمبراورقائداعظم ﷺکایہی دستورتھاکہ کبھی کوئی نصیحت آپﷺ کی زبان سے نہیں سنی گئی مگرآپﷺنے ان پرپہلے عمل کرکے دکھایا،یادِالٰہی کی ترغیب دی توپہلے خود’’دل بہ یار،دست بہ کار‘‘کامصداق بن گئے۔،تمام ادیانِ عالم میں یہ شرف پیغمبراسلامﷺکوہی حاصل ہے کہ وہ تعلیم اوراصول کے ساتھ ساتھ اپنے عمل اوراپنی مثال پیش کرتے ہیں،نمازکاطریقہ اس طرح سکھاتے ہیں’’ تم اس طرح نمازپڑھوجس طرح مجھے پڑھتے دیکھتے ہو‘‘۔نمازکی نصیحت فرمائی تواپنایہ عالم بنالیاکہ کھڑ ے کھڑ ے پائوں سوج جاتے ،سجدہ اتنالمباہوتاکہ ایسالگتاکہ اب سرہی نہیں اٹھائیں گے،روزہ کایہ عالم کہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ روزہ رکھنے پرآتے تومعلوم ہوتاکہ اب کبھی افطارہی نہیں فرمائیں گے۔بیوی اوربچوں کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم ان الفاظ میں دیتے ہیں،خیرکم خیرکم لاھلہ واناخیرکم لاھلی تم میں سب سے اچھاوہ ہے جواپنی بیوی بچوں کیلئے اچھاہواورمیں اپنے اہل وعیال کیلئے تم سب سے اچھاہوں۔ذرااحجۃ الوداع کے مجمع میں چلئے!آخری حج کے موقعہ پرزبانِ نبوت سے آخری پیغام سنایاجارہاہے،رہنمااصول بتائے جارہے ہیں،عرب کے باطل رسوم ورواج اورنہ ختم ہونے والی لڑائیوں کاسلسلہ توڑاجارہاہے ،مگردیکھئے !تعلیم کے ساتھ ساتھ ذاتی نظیراورعملی مثال بھی ہرقدم پرپیش کی جارہی ہے۔فرمایا’’آج عرب کے تمام انتقامی خون باطل کئے گئے اورسب سے پہلے میں اپنے خاندان کاخون معاف کرتاہوں،ایامِ جاہلیت کے تمام سودی لین دین اورکاروبارآج ختم کئے گئے اورسب سے پہلے میں اپنے چچاعباس بن عبدالمطلب کاسودمعاف کرتاہوں‘‘۔اگرکوئی باپ ہے توفاطمہؓ کے والدکی زندگی اس کیلئے نمونہ عمل ہے،اگرکوئی شوہرہے توخدیجہؓ وعائشہؓ کے شوہرکی زندگی راہ ہدایت ہے ،کوئی سربراہ ہے تومسجدنبوی میں بیٹھ کرحکومت کرنے والے کی سیرت کامطالعہ کرے ، فاتح ِزمانہ ہے توفتحِ مکہ میں فاتحِ اعظم کے حسنِ سلوک کودیکھے جنہوں نے اپنے دشمن کومعاف ہی نہیں کیابلکہ دشمن کے گھرکوبھی دارالامان بنادیا۔انسانیت کی پوری تاریخ ،عفوودرگذرکی اس مثال سے خالی ہے ۔سلام اس پہ کہ جس نے دشمن کوحیات ِجاوداں دے دی سلام اس پر،بوسفیاں کوجس نے اماں دے دی سلام اس پہ کہ اسرارِمحبت جس نے سکھلائے سلام اس پرکہ جس نے زخم کھاکرپھول برسائے ۔غرض کہ آپ ﷺکی ذات سارے عالم کیلئے رحمت ہے،آپ میں انسانی زندگی کی ساری حیثیتیں جمع تھیں ،آپ ﷺکی حیثیت ایک انسان ،ایک باپ ،ایک شوہر،ایک دوست ،ایک تاجر،ایک افسر،ایک حاکم ،ایک سپہ سالار،ایک بادشاہ ،ایک استاذ ،ایک واعظ ،ایک مرشداوران سب سے الگ ایک کامل ومکمل پیغمبرکی نظرآتی ہے اور آپ ﷺکاطرزِعمل اورآپ کی پوری زندگی ساری انسانیت کیلئے اورہمیشہ کیلئے آئیڈیل اورنمونہ ہے’’یقیناتمہارے لئے اللہ کے رسول ﷺکی زندگی میں بہترین نمونہ ہے‘‘(پ۲۸،حشر)۔
اسلام ،خوداپنے پیغمبرﷺکواپنی کتاب کاعملی نمونہ بناکرپیش کرتاہے ۔گویاآپ نے وہی کیاجوقرآن نے بتایا،آپ نے انہی احکام کی تشریح فرمائی جوقرآن میں بیان کئے گئے ۔’’محمدﷺاپنی مرضی سے کچھ نہیں بولتے وہ وہی بولتے ہیں جو’’وحی ‘‘ہوتی ہے ۔حضرت عائشہؓ سے پوچھاگیاآپ ﷺکااخلاق کیساتھا، جواب دیا’’تم نے قرآن نہیں پڑھا؟،کان خلقہ القرآن آپ کی سیرت ہی قرآن ہے اورآپ کی پوری سیرت طیبہ، قرآن کی آئینہ داراورقرآن کی عملی تشریح ہے۔نگاہِ عشق ومستی میں وہی اول ،وہی آخر وہی قرآں ،وہی فرقاں، وہی یسٓ ،وہی طٰہ۔یہ خصوصیت بھی آپ ﷺ کوہی حاصل ہے کہ آپﷺکے وصال کے بعدبھی آپ کے پیام اوراسوئہ حسنہ کوزوال وفناسے محفوظ کردیاگیاہے،مقدس زندگی کی ایک ایک ادا،آپ ﷺکاایک ایک عمل،ایک ایک فرمان چودہ سالوں سے آج تک محفوظ ہے ۔جس طرح قرآن مقدس کی حفاظت کی ذمہ داری اسے نازل کرنے والے کی طرف سے لی گئی اسی طرح بیان ِقرآن،معانیِ قرآن ،شرحِ قرآن ،تفسیرِقرآن اورحاملِ قرآن کی ایک ایک اداکی حفاظت کاانتظام بھی قدرتی طورپہ کیاگیاچنانچہ آپﷺکاایک ایک عمل اسی طرح زندہ ہے جس طرح مکہ ومدینہ ،بدر واحد ،طائف وحنین ،خندق وتبوک میںجاری ونافذتھا۔
یہ افسوسناک پہلوہے کہ جوذاتِ گرامی ہماری ہدایت کیلئے آئی تھی آج ہم نے اس کے دیئے ہوئے سبق کوبھلادیا، ہم صرف محبتِ رسول ﷺکے دعویٰ کوہی اپنی نجات کیلئے کافی سمجھ بیٹھے ہیں ،ہمارے اعمالِ حسنہ کاپھول ُمرجھاگیاہے۔ہم نے اس حبل متین کوچھوڑدیاجس کانزول قلب امین پرہواتھا۔کیاکبھی ہم نے اس پہلوپرغورکیاکہ ہم ڈاڑھی کے مسئلہ پرعدالت توجاتے ہیں لیکن پیروی کارکے چہرے سنت رسول سے خالی ہوتے ہیں،ہم وقتی نعرے تولگاتے ہیں،لیکن ہمارے دل اورہمارے ا عمال رسول کی سیرت طیبہ سے کتنے ہم آہنگ ہیں۔ہمارے حوصلے اورہمارجذبہ ایمانی دیکھتے ہی دیکھتے سردہوجایاکرتاہے کیونکہ ان نعروں میں جذباتیت توہوتی ہے لیکن روح سے خالی۔ حقیقی محبت تویہ ہوگی کہ ہم یہ عہدکریں کہ آج سے اپنے محبوب کی کوئی سنت نہیں چھوڑیں گے،اپنے چہرے ،لباس،رہن سہن،اخلاق ومعاملات سب کچھ اپنے آقاﷺکے اسوئہ حسنہ کے مطابق بنائیں گے۔تمام رسوم ورواج کے بندھن کوتوڑکرخالص اسلامی زندگی گذاریں گے ۔ہم وہ زندگی گذاریں گے جوہمارے محبوب کومحبوب تھی ۔گھریلومعاملات سے لے کرمعاشرتی امورتک ہماراکوئی بھی کام محبوب کی مرضی کے خلاف نہیں ہوگا،ہم جائزہ لیں کہ کیابیویوں کے ساتھ ،والدین کے ساتھ،اولادکے ساتھ اورغیروں کے ساتھ ہماراسلوک وہی ہوتاہے رسول کریم ﷺکی زندگی میں نظرآتاہے۔اگرہم نے اسوئہ رسول کواپنی زندگی میں داخل کرلیاتوہرگزشریعت کے کسی حکم پرکسی کوانگلی اٹھانے کاموقعہ نہیں ملے گا،ہماری بداعمالیوں کی وجہ سے ہمارے دین کوبدنام کیاجارہاہے۔ساری غلط فہمیاں ہماری اسی بے راہ روی کی وجہ سے پیداہورہی ہیں یاہوادی جارہی ہیں اور دشمن طاقتیں ہماری اس بے عملی کافائدہ اٹھاکراسلام کی غلط تشریح کررہی ہیں۔غیروں کے ساتھ بھی آپ ﷺکا حسن سلوک کیساتھا،اس سے روشنی حاصل کی جائے،بازاروں سے لے کرتنہائی تک صرف محمدرسول اللہ ﷺکے غلام رہنے کاعہدہو،ملک کے نفرت انگیزماحول میں محبت،ہمدردی ،حسنِ سلوک اوربھائی چارگی کی فضاعام کی جائے،اینٹ کاجواب پتھرسے دینے کے اشتعال انگیزنظریہ سے گریزکرکے ’زخم کھاکرپھول برسانے ‘کا سبق ،حیاتِ طیبہ اورسیرت نبوی سے لیاجائے ،دلتوں اورکمزورطبقات کے دکھ دردمیں شریک ہوکرانہیں قریب کیاجائے اوراسلام اوررسول ﷺ کی سیرت کو اپنی عملی زندگی میں نافذکیاجائے۔
ہوس نے ٹکرے ٹکرے کردیاہے نوعِ انساں کو اخوت کابیاں ہوجا،محبت کی زباں ہوجا
مضمون نگار بصیرت میڈیاگروپ کے فیچرا یڈیٹر ہیں
(بصیرت فیچرس)

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker