طب وسائنسمضامین ومقالات

کینسر سے کیسے بچیں ؟

ایس اے ساگر
آپ کو شاید سننے میں عجیب سا لگے تاہم سرطان عرف کینسر کے40 فیصد کیسوں کا تعلق طرزِزندگی سے ہے۔یہ وہ مرض ہے جس کا نام سنتے ہیں انسان پرلرزہ طاری ہوجاتا ہے۔کینسر کے نتیجہ میں بالوں سے محرومی، وزن میں کمی اور کئی دیگر سائیڈ ایفیکٹ کا بھی سامناکرنا پڑتا ہے۔برطانیہ میں کینسر کے مریضوں پر ہونے والی تحقیق کے اعداد و شمار کے مطابق کینسر کے دس میں سے چار مریض صحت مندانہ انداززندگی اپنا کر اس مرض سے بچ سکتے ہیں جبکہ در حقیقت کینسر یا سرطان کا مرض ماضی کی مانندآج لاعلاج نہیں ہے البتہ اس کا علاج تکلیف دہ اور طویل ضرور ہے۔کینسر کا مرض لاحق ہونے کی کئی وجوہات ہیں لیکن ایک بڑی وجہ ہماری چند عام غذائیں بھی ہیں۔ غذائیں ایسی ہی جو انسان کو کینسر میں مبتلا کرسکتی ہیںلیکن اس کا کیا کیجئے کہ یہ غذائیںانسانی زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔
طرز زندگی کا زہر:
خیراتی ادارے یو کے کینسر ریسرچ کے مطابق سگریٹ نوشی کینسر کے لاحق ہونے میں ایک ایسا خطرناک عنصر ہے جس سے پرہیز کینسر سے بچاؤ میں مددگار ہو سکتا ہے۔البتہ یو کے کینسر ریسرچ کے ماہر شماریات ڈاکٹر میکس پارکن نے واضح کیا ہے کہ مکمل صحت مندطرززندگی بھی کینسر سے بچاؤ کی ضمانت نہیں ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ مثبت اقدام کے ذریعہ کینسر کے خطرے کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے جبکہ تمباکو نوشی سے چھٹکارے، شراب نوشی میں کمی اور تواتر کیساتھ ورزش کو اپنا کر کینسر کے خطرے کو مزید کم کیا جا سکتا ہے۔ پانچ سالہ تحقیق سے پتہ چلاکینسر کے تین لاکھ مریض سگریٹ نوشی میں مبتلا تھے۔
نامناسب غذائیں:
جبکہ ایک لاکھ 45 ہزار مریضوں کا مرض غیر صحت مندانہ انداز زندگی اور پکے پکائے منجمد کھانوں سے جڑا ہوا تھا۔مزید 88 ہزار کیسوں کا تعلق موٹاپے سے تھا جبکہ 62 ہزار کثرت شراب نوشی کو وجہ سے کینسر کے مرض میں مبتلا ہوئے۔ براہ راست سورج کی روشنی اور جسمانی سستی بھی ایسے عناصر ہیں جو کینسر کے مرض کا سبب بن سکتے ہیں۔یو کے کیسنر ریسرچ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر میکس پارکن نے ریسرچ کے بارے میں کہا کہ اس میں کوئی ابہام نہیں رہ گیا ہے کہ مخصوص طرزِ زندگی کینسر کے خطرے کے عناصر میں اہم کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ دنیا کے دیگرحصوں میں کینسر پر ہونے والی ریسرچ میں بھی یہی وجوہ سامنے آئی ہیں۔
سپر فائن آٹا:
برصغیرمیں فروخت ہونے والاسفید آٹایاHighly Processed White Flours مکمل تیار ہونے تک نہ صرف تقریباً تمام غذائی اجزاسے محروم ہوچکا ہوتا ہے بلکہ اس تیاری کے دوران اس میں ایک خطرناک کیمیکل بھی شامل کردیا جاتا ہے جسے کلورین گیس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ گیس خون میں موجود شکر کیلئے خطرناک ہوتی ہے اور جسم میں موجود چربی میں اضافہ کرتی ہے- اس کے علاوہ اس گیس کی وجہ کینسر لاحق ہونے کے خطرات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
سویٹنر کا رواج:
بازار میں بکنے والے شربت اور شکنجی عام طور پر مصنوعی مٹھاس یعنی سکرین سے بنے ہوئے ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ اگر آپ چینی کے استعمال سے اجتناب برتتے ہیں اور اس کی جگہ بازار میں دستیاب مصنوعی میٹھے عرفArtifical Sweeteners کو ترجیح دیتے ہیں تو یاد رکھیں یہ بھی آپ کیلئے خطرناک ہے۔ یہ آپ کے وزن میں اضافہ کرسکتی ہے جبکہ مصنوعی میٹھے کی وجہ سے آپ کے خون میں شامل شکر کے نظام میں بیقاعدگی بھی آسکتی ہے۔ اس میں موجود ایک کیمیکل انسان کو برین ٹیومر کا مریض تک بنا سکتا ہے۔
مائیکروویو کے پوپ کورن:
اس میحں کوئی شک نہیں کہ پاپ کورن ایک مزیدار غذا ہے لیکن اس کا کیا کیجئے کہ جس طرح روایتی طورمکا کے دانے بھونے جاتے تھے،اس کا چلن اب ختم ہوچکا ہے۔ بازار میں دستیابMicrowave Popcorn پوپ کورن جو ماںیکرو ویو اوون میں تیار کئے جاتے ہیں انتہائی مخدوش ہوتے ہیں۔یہ ایسے کیمیکل پر مشتمل ہوتے ہیں جو آپ کے جسم میں داخل ہو کر آپ کو گردوں یا پھر جگر کے کینسر میں مبتلا کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان پوپ کورن کے استعمال سے خواتین میں بانچھ پن پیدا ہوسکتا ہے-
مصنوعی پھل:
باز۔ار میں ایسے پھلوں کی کمی نہیں ہے جنہیںنان آرگینک فروٹسNon-Organic Fruits مصنوعی طریقوں سے جلد تیار کیا جاتا ہے۔ تیارہونے تک یہ مختلف ادویات اور نائروجن کھاد سے آلودہ ہوچکے ہوتے ہیں۔یہ پھل ہارمون میں خرابی پیدا کردیتے ہیں۔ ان پھلوں میںعام طور پر سیب،سنگترے، اسٹرابیری اور انگور شامل ہوتے ہیں۔
آلو کے چپس:
کوئی شخص بازار میں دستیاب آلو کے چپس Potato Chipsکھانا شروع کردے تو پھرہاتھ نہیں رکتا۔کھانے والے کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ یہ بہت زیادہ چربی اور کیلیوریز پر مشتمل ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ لوگوں میں نہ صرف بیماریاں فروغ پارہی ہیں بلکہ وزن میں اضافہ کا خطرناک رجحان بھی دیکھنے میں آرہا ہے۔دراصل یہ چپس ٹرانس فیٹ پر بھی مشتمل ہوتے ہیں جو کولیسٹرول کی وجہ بنتا ہے۔اس کے علاوہ اضافی سوڈیم بھی پایا جاتا ہے جس سے انسان ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہوسکتا ہے۔ ان کی تیاری میں مصنوعی رنگ اور ایک ایسا کیمیکل استعمال کیا جاتا ہے جو سگریٹ میں بھی موجود ہوتا ہے اور یہی کیمیکل کینسر کا سبب بنتا ہے۔
کولڈ ڈرنکس کی مار:
اکثر لوگ کولڈ ڈرنکس ڈائیٹ Diet کا استعمال کرتے ہیں لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ یہ بھی حد درجہ نقصان دہ ہے۔ ان ڈرنکس میں اضافی سوڈیم اور مصنوعی رنگ شامل کئے جاتے ہیں۔ ان کا زیادہ استعمال انسان کو کئی قسم کی بیماریوں میں مبتلا کرسکتا ہے۔
سوڈے کا رواج:
ان دنوںشہروں یں’سوڈا شاپ‘ کا رواج بڑھ رہا ہے۔بازار میں دستیاب یہ سافٹ ڈرنکس یا سوڈا Sodaدراصل اضافی چینی پر مشتمل ہوتے ہیں جبکہ ان میں کیلوریز نہیں پائی جاتیں۔یہ ڈرنکس وزن اور خون میں موجود شکر میں اضافہ کردیتے ہیں جو کہ بعد ذیابیطس کا مرض لاحق ہونے کا سبب بن جاتی ہے۔مزید یہ کہ یہ ڈرنکس مصنوعی رنگوں اور ذائقوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔
میٹھا زہر :
میٹھے مشروبات نہ صرف موٹاپے اور ذیابیطس کا خطرہ بڑھاتے ہیں بلکہ معدے یا اس سے متعلقہ دیگر عضو میں کینسر کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ امریکہ کی مینی سوٹا یونیورسٹی کے اسکول آف پبلک ہیلتھ کی تحقیق کے مطابق جو خواتین بڑی مقدار میں چینی سے بھرپور مشروبات کا استعمال کرتی ہیں ان میں درون رحمی یا رحم مادر کے کینسر کا خطرہ 87 فیصد تک بڑھ جاتا ہے، جبکہ موٹاپے اور ذیابیطس جیسے عوارض الگ عذاب جان بن سکتے ہیں۔
گوشت کا شوق:
شائقین کو ہوسکتا کہ یہ برا لگے لیکن اس کا کیا کیجئے کہ حالیہ تحقیق نے ثابت کیا ہے گوشت یا ریڈ میٹRed Meat کے استعمال سے کینسر لاحق ہونے کے خطرات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اضافی گوشت کے استعمال سے خواتین بریسٹ کینسر میں بھی مبتلا ہوسکتی ہیں۔
کیا ہے حل؟
ان تمام تلخ حقائق کا مقابلہ کرنے کیلئے’علاج سے پرہیزکہیں بہتر ہے‘کا اصول اختیار کرنا ہوگا۔پرہیز اوراحتیاط کسی بھی مرض کو پھیلنے سے قبل بھی روک لیتی ہے جبکہ علاج اس کا حل ہے یہی وجہ ہے احتیاط کو علاج سے بہتر قرار دیا گیا ہے۔اس کہاوت کا عملی مظاہرہ برصغیر کے علاوہ دنیا بھر میں ہوتا ہے جبکہ تیسری دنیا کے ممالک میں صحت کے حوالہ سے بہت سے تحفظات پائے جاتے ہیں اور خاص طور پر یہاں مرض کو پھیلنے دیا جاتا ہے اور احتیاط کے پہلو کو نظر انداز رکھا جاتا ہے۔ غالباً یہاں احتیاط کے حوالہ سے عام لوگوں کے خیالات اتنے واضح ہی نہیں ہیں۔
اپنائیں مناسب طریقے:
ایسا نہیں ہے کہ محض مخدوش غذاوں کا استعمال کرنے سے ہی کینسرسے نجات مل جائے۔اگر آپ اوائل عمر یا نوجوانی سے ہی سرطان کیخلاف مزاحمت کرنے والی غذاوں اور طرز زندگی کے دیگر امور کو اپنا لیں تو کینسر کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کرسکتے ہیں۔اس موذی مرض کے حوالہ سے اکثر طبی تحقیقی رپورٹیں سامنے آتی رہتی ہیں جن میں اس پر قابو پانے کیلئے مختلف طریقے نہ صرف آسان بلکہ نسبتاً کم مضر ہوتے ہیں۔ کینسر راتوں رات انسانی جسم کو نشانہ نہیں بناتا بلکہ اس کیلئے کافی عرصہ درکار ہوتا ہے ۔تاہم کسی قسم کے خطرے کی صورت میں پہلی فرصت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا نہ بھولیں۔طرز زندگی میں ذراسی تبدیلی کینسر جیسے مرض کا شکار ہونے سے بچا سکتی ہے۔
زیادہ کھڑے ہونا:
حالیہ طبی تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ اپنے دن کا زیادہ تر وقت بیٹھ کر گزارنے کے عادی ہوتے ہین ان میں بڑی آنتوں اور معدے کے کینسر کا خطرہ جسمانی طور پر سرگرم افراد کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ ایک الگ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جو لوگ ٹیلیویڑن کے سامنے بہت زیادہ وقت گزارتے ہیں ان میں آنتوں کے کینسر کا خطرہ 54 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اگر تو کھڑا ہونا مشکل لگتا ہے تو ہر گھنٹے میں کم از کم کچھ منٹ کیلئے ارگرد کی چہل قدمی کو ہی اپنالیں جو اس موذی مرض کا خطرہ کم کرنے کیلئے کافی ثابت ہوتی ہے۔
لہسن کا استعمال:
برصغیر کے ہر کھانے میں لگ بھگ عام استعمال کی جانے والی اس سبزی یا جڑی بوٹی میں ایلائیل سلفر نامی جز پایا جاتا ہے جو کینسر کیخلاف جسم کے اندر موجود قدرتی دفاعی نظام کو حرکت میں لاتا ہے، جس کے نتیجے میں کینسر کا باعث بننے والے کیمیکلز کو جسم سے خارج کرنے میں مدد ملتی ہے جبکہ کینسر کے خلیات کو قدرتی طریقے مرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ ایک امریکی تحقیق کے مطابق جو خواتین بڑی مقدار میں لہسن کو غذا کا حصہ بناتی ہیں ان میں آنتوں کے کینسر کا خطرہ 50 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔
گوبھی اورگردے:
جو لوگ گوبھی، بند گوبھی یا اسی قسم کی دیگر سبزیوں کا ہفتے میں ایک بار ضرور استعمال کرتے ہیں ان میں گردوں کے کینسر کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ ایک یوروپی تحقیق کے مطابق گوبھی اور اسی کی نسل کی دیگر سبزیاں گردوں کے افعال کو درست رکھ کر کینسر کا خطرہ کم کردیتا ہے خاص طور پر ان افراد کے مقابلہ تو بہت کم ہوتا ہے جو مہینے میں یا کئی کئی ماہ بعد اس کو اپنی غذا کا حصہ بناتے ہیں۔
پندرہ منٹ کی دھوپ :
انسانی جسم میں وٹامن ڈی کی 90 فیصد مقدار سورج کی روشنی کے نتیجہ میں آتی ہے اور اس میں غذا یا کسی سپلیمنٹ کا کمال نہیں ہوتا۔ وٹامن ڈی کی کمی خلیات کے درمیان رابطے کی صلاحیت کو گھٹا دیتا ہے جس کے نتیجہ میں ان کے اکھٹے ہونے کا عمل رک جاتا ہے اور کینسر کے خلیات کو پھیلنے کا موقع مل جاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق وٹامن ڈی خلیات کے مناسب رابطے اور دوبارہ پیدا ہونے کے عمل کو بھی روکتا ہے۔ وٹامن ڈی کی کمی کے شکار افراد میں بریسٹ، آنتوں، مثانے، مادر رحم اور معدے کے کینسر کا خطرہ بہت ہوتا ہے جبکہ ہڈیوں کی کمزوری، ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر بھی آپ کو شکار کرسکتا ہے۔ مگر سورج کی روشنی میں بہت زیادہ رہنا جلد کے کینسر کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
سبز چائے:
متعدد طبی تحقیقی رپورٹس میں سبز چائے اور کینسر کے درمیان تعلق کو واضح کیا گیا ہے۔ سبز چائے کا استعمال معمول بنالینے سے بریسٹ، مادر رحم، آنتوں، مثانے اور پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ کچھ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سبز چائے میں پائے جانے والے کیمیکلز درحقیقت چند طاقتور انسداد کینسر اجزائ￿ میں سے ایک ہوتے ہیں جس کی وجہ ان میں بڑی تعداد میں اینٹی آکسائیڈنٹس کا پایا جانا ہے۔
مچھلی کا استعمال:
جو خواتین ہفتے میں تین بار مچھلی کا استعمال کرتی ہیں ان میں آنتوں کے کینسر کا باعث بن جانے والے خلیات کی نشوونما کا خطرہ بھی 33 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ مچھلی خاص طور پر سالمون اومیگا تھیر فیٹی ایسڈز سے بھرپور ہوتی ہے جو کہ کینسر کیخلاف جنگ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک آسٹریلین تحقیق کے مطابق جو لوگ ہفتے میں مچھلی کے 4 یا اس سے زائد ٹکڑے کھاتے ہیں ان میں خون کے سرطان کی مختلف اقسام کا خدشہ کم ہوتا ہے۔ اسی طرح مچھلی کے استعمال سے خواتین میں مادر رحم کے کینسر کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔
خواب گاہ میں تاریکی:
متعدد طبی تحقیقی رپورٹیں شاہد ہیں کہ رات کو روشنی میں رہنے سے خواتین میں مادر رحم اور بریسٹ کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ درحقیقت روشنی جسم میں میلاٹونین کی نارمل مقدار کی پیداوار کو کم کردیتی ہے جو ایسا دماغی کیمیکل ہوتا ہے جو نیند کے چکر کو کنٹرول کرتا ہے اور اس کے نتیجہ میں کینسر کے خلیات سے بھرپور ایسٹروجن کا اخراج بڑھ جاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطاق ایسی خواتین میں بریسٹ کینسر کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے جو میلاٹونین کی بلند مقدار کے دوران سونا پسند نہیں کرتیں۔
چربی کا کم استعمال:
معتبر ہاورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ روزانہ 3 اونس سرخ گوشت کا استعمال کرتے ہیں ان میں امراض قلب یا کینسر کے باعث موت کا خطرہ 13 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح یالے یونیورسٹی کا اپنی ایک تحقیق میں کہنا ہے کہ جو خواتین حیوانی پروٹین سے بھرپور غذاوں کا زیادہ استعمال کرتی ہیں ان میں خون کے سرطان کی ایک قسم کا خطرہ 70 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں کم چربی یا بغیر چربی جیسے مرغی یا مچھلی کو زیتون کے تیل میں بنانے سے اس خطرہ کو ٹالا جاسکتا ہے۔
کھائیںپیاز :
کینسر کیخلاف لڑنے والی اشیامیںپیاز کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ کارنیل یونیورسٹی کے محققین نے دریافت کیا ہے کہ پیاز کے اندر ایسے طاقتور اینٹی آکسائیڈنٹس ہوتے ہیں جو کینسر کی متعدد اقسام سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اس کا غذا میں استعمال یا خام صورت یعنی کچھ مقدار میں روزانہ کچا کھانا بھی آپ کو اس جان لیوا مرض سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے جبکہ یہ مزاج پر چھائی مایوسی کو بھی دور بھگانے میں مددگار سبزی ہے۔
آدھا گھنٹہ یومیہ چہل قدمی:
درجن بھر سے زائد تحقیقی رپورٹوں سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ جو خواتین نصف گھنٹہ روزانہ ورزش کرتی ہیں ان میں بریسٹ کینسر کا خطرہ جسمانی طور پر کم سرگرم خواتین کے مقابلہ30 سے 40 فیصد تک کم ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق متعدل مقدار میں ورزش سے خون میں ایسٹروجن کی سطح کم ہوتی ہے جو ایک ایسا ہارمون ہے جو بریسٹ کینسر کے خطرے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ایک اور طبی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ہفتہ بھر میں چار گھنٹے تک چہل قدمی سے لبلبے کے کینسر کا خطرہ 50 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے جس کی وجہ اس معمولی سمجھی جانے والی جسمانی سرگرمی کے نتیجے میں انسولین میٹابولزم میں بہتری آنا ہے۔
تلی ہوئی اشیاکااستعمال کم
جب غذا?ں کو تیز آنچ پر تلا یا بھونا جاتا ہے تو اس میں ایک کینسر کا باعث بننے والے جز Acrylamide تشکیل پانے کا امکان بھی پیدا ہوجاتا ہے جس کی وجہ تیز آنچ میں بننے سے غذا میں آنے والی کیمیائی تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق Acrylamide کے طویل عرصے تک جسم کا حصہ بننے سے مختلف اقسام کے کینسر لاحق ہوسکتے ہیں۔ اس حوالے سے مسلسل طبی تحقیقات جاری ہیں اور ماہرین کا مشورہ ہے کہ فرنچ پرائز یا آلو کے تلے ہوئے چپس کے بہت زیادہ استعمال سے گریز کرنا زیادہ بہتر ثابت ہوسکتا ہے۔
دودھ پئیں:
حالیہ طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق کیلشیئم بڑی آنت کے کینسر سے تحفظ فراہم کرسکتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ روزانہ 700 ملی گرام سے زیادہ کیلشیم کا استعمال بڑی آنت کے کینسر کا خطرہ 45 فیصد تک کم کردیتا ہے۔ سننے میں سات سو ملی گرام بہت زیادہ مقدار لگ سکتی ہے مگر ایک کپ دودھ، کچھ مقدار میں دہی اور پالک وغیرہ کا استعمال اس ضرورت کو پورا کرنے کیلئے کافی ثابت ہوتا ہے۔
اسپرین سے اٹھائیں فائدہ :
اگر ڈاکٹر آپ کو دل کی صحت بہتر بنانے کیلئے اسپرین لینے کا مشورہ دیں تو درحقیقت اس سے آپ کے جسم کو کینسر سے محفوظ رہنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ امریکہ کے کینسر کے قومی ادارے کی ایک تحقیق کے مطابق جو خواتین روزانہ اسپرین کا استعمال کرتی ہیں ان میں مادر رحم کے کینسر کا خطرہ 20 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ تاہم اپنے ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر روزانہ اسپرین کا استعمال نہ کریں کیونکہ یہ آپ کے معدے کی نالی میں خون بہنے کا باعث بن سکتی ہے۔مثبت طبی مشوروں کے مطابق جلد پر پیدا ہونے والی کسی بھی ایسی تبدیلی کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کر کے کینسر کا ٹیسٹ کر لیا جائے، تو ایسی صورت میں کینسر کی ابتدائی مرحلہ پر تشخیص اور ایک چھوٹے سے آپریشن کے ذریعے خاتمہ ممکن ہوتا ہے۔
بروقت تشخیص:
ڈاکٹروں کے مطابق اگر جلد کے کینسر کو ابتدا ہی میں تشخیص کر کے خاتمہ نہ کیا جائے، تو یہ انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔برلن میں واقع انسٹیوٹ فار کوالٹی اینڈ ایفیشنسی ان ہیلتھ کیئر کی اس تحقیق کو اس سے قبل کی جانے والی متعدد تحقیقاتی رپورٹوں کی سند بھی حاصل ہے۔جرمن ادارے کی ویب پر جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جلد میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کو فوری طور پر ڈاکٹر کے پاس جا کر جانچنا کوئی فضول کام نہیں بلکہ انتہائی معقول طریقہ ہے۔اس ادارہ کا کہنا ہے کہ جلد میں پیدا ہونے والی غیرمتوقع اور عجیب تبدیلی، کینسر کی کئی اقسام سے وابستہ ہو سکتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جلد میں جس جگہ پر سورج سب سے زیادہ پڑتا ہے، وہاں باسل سیل کارسینوما پیدا ہو جاتا ہے، اسی لیے چہرہ یا گردن ایسے دھبوں یا ابھاروں کا شکار ہوتے ہیں۔
معمروں کیلئے نتہائی سنجیدگی :
اس رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کینسر کا باعث ایک اور خلیہ اسکواموس کانوں کے کونوں یا چہرے پر پیدا ہوتا ہے اور جہاں یہ موجود ہو، وہاں جلد کا رنگ تبدیل ہو جاتا ہے۔محققین کے مطابق ان دونوں خلیات کی پیدائش کو انتہائی سنجیدگی اختیار کرنی چاہئے اور فوراکسی جلد کے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔رپورٹ کے مطابق زیادہ صاف یا گوری جلد کے حامل افراد اس طرح کے خطرات سے زیادہ دوچار ہوتے ہیں جب کہ عمر کیساتھ ساتھ جلد کے سرطان کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سکاموس سیل کارسینوما عموماساٹھ یا اس سے زائد عمر کے افراد میں دیکھا گیا ہے جبکہ باسل سیل ارسینوما چالیس اور پچاس برس کی عمر میں زیادہ پیدا ہو سکتا ہے۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker