مضامین ومقالات

حلب(شام) کا سقوط اور خاموش تماشائی بنی دنیا

مہدی حسن عینی
مغیبات و بشارتوں کے ملک سیریا میں جب سے بشارالاسدکے ہاتھ میں زمام اقتدار آیا ہے،اس نے تاتاریوں کے طرز پر سنیوں کاقتل عام،ان کی آبادیوں کوتاراج کرکیانکے بچوں وعورتوں پرنیوکلیائی ہتھیاروں کااستعمال کرکے پور ے سیریامیں سنیوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا ہے،کئی لاکھ لوگ ہجرت کرگئے،جو رہ رہے ہیں وہ درختوں کے پتے ا ور کتے بلی کھانے پر مجبور ہیں،مؤرخ جب تاریخ لکھے گا تو اس میں یہ ضرور لکھے گا کہ ملک شام کی عوام پر بشار نے وہ ظلم ڈھائے جو آج تک کسی کافر نے بھی مسلمانوں پرنہیں ڈھائے لیکن افسوس اس بات پر ھیکہ امت مسلمہ خاموش تماشائی بنی ہوئی یہ سب کچھ دیکھتی رہی۔ کوئی ان مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہونے والا تو دور ان کے لئے آواز بلند کرنے والا بھی موجود نہیں۔سب زندہ لاشیں ہیں،عالم اسلام کا سب سے بڑے ڈکٹیٹربشار نیاسلام کو بھی نہیں چھوڑا قرآن کریم میں تحریف کرمحرف شدہ قرآن شائع کروایا،احادیث رسول میں کتربیونت کی اوریہ سب مسلمانوں وعرب کے ازلی دشمن ایران واسرائیل کے ہمہ جہت تعاون سے ہورہا ہے،امن کے ٹھیکیداروں کا عالمی ادارہ”اقوام متحدہ “جو کہ دراصل لٹیروں کی ایک مہذب ترین تنظیم ہے،جس کااساسی مقصد متحد ہوکر اسلام وعالم اسلام پر یلغار کرنا ہے ،وہ روز اول سے ان تمام عالمی جرائم پرساکت ہے،جبکہ اس بات کے پختہ شواہد ہیں کہ بشارالاسد نے سنیوں کو سبوتاز کرنے کے لئے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سنی بستیوں پرمہلک ایٹمی ہتھیاروں وگیس بموں کابے دریغ استعمال کیاہے ،جس کے نتیجہ میں انسانی نسل کشی ہوئی ہے لیکن اس پرعالمی قوانین سازادارہ اقوام متحدہ بالکل خاموش ہے اور ظلم کے خلاف قیام امن کے لئے تشکیل دی گئی پانچ عالمی طاقتوں کا متحدہ محاذ’’ناٹو‘‘جسے افغانستان و عراق میں تو تباہی وقتل وغارت گری مچانے کے لئے اتاردیاگیاتھا پر شام میں جاری نسل کشی،تباہی،قتل عام اورعالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی کرنے پر بھی کرہ ارضی کے مسیحایونٹ’’ناٹو‘‘کو بشار کے خلاف کیوں نہیں اتارا گیا؟کیونکہ سبھی عالمی طاقتوں اور مغربی اقوام کا واحدمقصد اسلام کا خاتمہ ہے جس کے لئے عربی و خلیجی ممالک میں عدم استحکام کابرقرار رہنا امر لابدی ہے،فی الحال چند دنوں سے حلب پوری طرح جل رہا ہے،وہاں منظم طریقہ سے نسل کشی کی جارہی ہے،ایرانی روافض اور روسی کوافر کی مدد سے بشار اس مرتبہ حلب کے مسلمانوں کی تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کی کوشش میں ہے،اتنے قیامت خیز حالات میں دکھاوے کے لئے بلائی گئی اقوام متحدہ کی میٹنگ میں شامی درندہ بلا کسی تامل کے اس نسل کشی اور قتل عام کو جائز اور دستوری بتلارہا ہے،حلب کی اندوہ ناک صورت حال پراقوامِ متحدہ کے ھنگامی اجتماع میں تمام تر بے حیائی کے ساتھ شام کی غیرقانونی حکومت کے نمائندے نے کہا ’ حلب یادیگرشامی شہروں میں شام اوراس کی اتحادی افواج جوکچھ بھی کارروائیاں کررھی ھیں، وہ قانون اور دستور کے مطابق ھیں اورعوام کودھشت گردوں سے بچانے کے لیے کی جارھی ھیں‘ اسے شایدمعلوم نہیں یاوہ کھلے عام دنیاکی آنکھوں میں دھول جھونکنا چاھتاھے، جودیکھ رھی ھیں کہ ایران وروس کی مددسے بشار لعین کی فوج عام،نہتے اورمعصوم شہریوں پربم وبارود انڈیل رھی ھے،چندماہ اورچندسال کے بے خطا بچوں کوخاک وخون میں تڑپایاجارھاھے، جانوں کوتہہ تیغ کرنے کے ساتھ عفت مآب ماؤں اوربہنوں کی ردائے عصمت تاتار کی جارھی ھے، اورنوبت اس حدتک الم ناک موڑپرپہنچ چکی ھے کہ شامی شہری علمائے اسلام سے اپنی بیوی، بیٹیوں اوربہنوں کوقتل کردینے کی اجازت مانگ رھے ھیں تاکہ اپنی آنکھوں کے سامنے ان کے ساتھ ھونے والی زیادتی نہ دیکھ سکیں،حقیقت یہ ہے کہ بشار الاسد اپنے ظالم وسفاک حامیوں کے لشکرکے ساتھ مل کر شامی شہریوں کی نسل کشی کررھاھے،
اسلامی دنیاشایدکسی معجزے کے انتظارمیں ھے، عالمی برادری ساحل کی تماشائی ھے ۔
اپنے باشندوں و شہریوں پر انسانیت سوزمظالم کی وجہ سے شامی صدر بشار الاسد نہ صرف ملک کی قیادت کرنے کا انسانی و اخلاقی حق کھوچکے بلکہ نوے فیصد عوام کی حمایت بھی گنواچکے ہیں۔ ‘‘داعش،النصرہ فرنٹ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں پر حملے کے نام پر شامی سرکاری فوجیں اور روسی افواج گزشتہ ایک ہفتہ سے شام کے تاریخی شہر حلب میں جس پیمانہ پربمباری کررہی ہے جس کے نتیجہ میں ہزاروں بے گناہ شہری ہلاک اور سینکڑوں مفلوج ہوچکے ہیں،۔
رپورٹ کے مطابق امریکی افسروں نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی افواج شام کے ان علاقوں بھی فضائی حملے کررہے ہیں جہاں آئی ایس آئی کا کاوجود بھی نہیں ہے، دراصل دنیا کی دو بڑی طاقتیں امریکہ اور روس شام کے بہانے پر ایک الگ ہی کھیل کھیل رہی ہیں ،امریکہ اور مغرب کے کئی ممالک شامی صدر بشار الاسد کی مخالفت صرف اسلئے کررہے ہیں تاکہ بشار کو اقتدار سے بے دخل کرکے شام کو مالی غنیمت کے طورپر آپس میں تقسیم کرلیں۔ دوسری جانب روس دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر بے گناہوں ہوں پر ہوائی حملہ کرکے عالم عرب پراپنا سکہ بٹھانے کی کوشش کررہا ہے،ایسے حالات میں جبکہ حلب پوری طریقہ سے شامیوں ،روسیوں اور رافضیوںکے ہاتھ میں جاچکا ہے ،اطلاعات کے مطابق اس شہر کی کوئی بھی عمارت صحیح سلامت نہیں بچی ۔ ہاسپٹل بند ہوچکے ہیں،آخری ڈاکٹر بھی شہید ہوچکا ہے،پورا شہر جل رہا ہے،آج وہاں نہ دفاع کے لئے مرد بچیں ہیں، نہ بیوہ ہونے کے لئے عورتیں، نہ ہی یتیم ہونے کے لئے بچے، اور نہ ہی کسی کا سہارا بننے کے لئے نوجوان، انسان تو کجا اشجار و احجار، نباتات اور حیوانات بھی بھسم ہورہے ہیں،
اب جبکہ ایک مدت مدید سے تمام ترصلیبی وصیہونی مشنریاں شیعی ممالک، اور دیگر قوتوں کو عالم اسلام کے خلاف جم کر استعمال کررہی ہیں،اور فوجی سطح کے علاوہ ظلم سے انتقام کے نام پرپہلے “حزب اللہ”اوراب داعش جیسی عالمی دہشتگرد، انسان دشمن،فرعون صفت ظالم وجابر”کفریہ”جماعتیں اتار کرپوری دنیا میں امن و سلامتی کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ اسلام کی صاف ستھری شبیہ کو داغدار اور مسلمانوں کو ہراساں کرنا چاہتی ہیں،حزب اللہ اور اس طرح کی شدت پسند تنظیمیں جنہیں اسرائیل وامریکہ نیزایران فوجی ودفاعی امداد بھیجتے ہیں اور مکمل پشت پناہی کرتے ہیں ان کے ذریعہ عراق وشام نیز لبنان میں سنیوں کی خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے،اور ان دہشت گرد تنظیموں کا قلع قمع کرنے کے نام پر دوسرا عالمی سپر پاور”روس”عرصہ سے “سیریا”میں نہتوں پر فضائی حملہ کرکے بشار جیسے جلادکا ساتھ دے رہاہے،امریکہ و روس کی دوغلی پالیسیوں،بشار کے موروثی ظالمانہ تیور کے سبب شام بدستور جل رہا ہے،ادھر عراق تباہ ہورہا ہے،
ایسے وقت میں شاہ سلمان وحافظ اردغان نیز پاکستان کو ظلم کے اس طوفان سے ٹکرانے کے لئے بادبان کھول دیناچاہئے۔ساری دنیا کے انصاف پسند ممالک کو جوڑ کر انہیں ساتھ لیکرشام پر متحد ہوکر حملہ کرکے بشار کے ظلم و جبر سے وہاں کے نہتوں کو بچانا اور انکی بازآبادکاری کے لئے ہرممکن قدم اٹھاناچاہئے، فلسطین کی کھلی حمایت وتعاون کرکے اسے اسرائیل کے ظلم سے بچانا چاہئے،اسی میں عالم اسلام اوراسلام کی بھلائی ہے.کیونکہ حالات بتارہے ہیں کہ دنیا تیسری جنگ عظیم کے دہانے پر ہے،اب بھی اگرعرب و عجم کے اسلامی راہنماخواب خرگوش سے ناجاگے توانہیں ایسی تباہی کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے جس سے بچانے والا مسیحا “مھدی وعیسی”سے پہلے کوئی نہیں آئیگا،کیونکہ قیامت کے دن ہم سے یہ ضرور پوچھا جائے گا کہ شام والے کیا انسان نہیں تھے؟ حلب جل رہا تھا لیکن ہم سوئے رہے، ماؤوں کی عصمتیں تار تار ہوتی رہیں، ہم مدہوش رہے بہنوں کے دوپٹے جلائے جاتے رہے ہم بے خبر رہے،بچوں کی سسکیاں آسمان تک پہنچتی رہی ہمارے کان بہرے رہے، بوڑھے درد سے کراہتے رہے ہم بے درد بنے رہے ،نوجوان آس لگائے رہے ہم بے حسی کی چادر تانے رہے ،کروڑوں انسانی جانیں گنواکر،لاکھوں بچوں اور عورتوں کو بیوا و یتیم کر،کروڑوں انسانوں کو مفلوج و لاچار کرواکر بھی ملک شام دنیائے انسانی بالخصوص مسلمانان عالم کی توجہ کیوں نہیں کھینچ پارہا ہے؟کیوں نہیں ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیمیں راجدھانی کی سڑکوں سے لے کر پورے ملک میں منظم احتجاج کرپوری دنیا کو بشار کے ظلم کے خلاف اٹھنے کی دعوت نہیں دیتی؟اقوام متحدہ کو چھوڑدیں،او،آئی،سی کے نام سے بنے اسلامی ممالک کی متحدہ تنظیم پر تو دباؤ بنایا جاسکتا ہے، حلب جل رہا ہے، شام لٹ رہا ہے.عالم اسلام پر سکوت طاری ہے، دنیا منجمد ہوچکی ہے،عالمی امن کے ٹھیکیدار برف کی طرح جامد ہوچکے ہیں،ضرورت ھیکہ برصغیر کے امن پسند عوام اور یہاں کے مسلمان بائیکاٹ کریں اقوام متحدہ کا،امریکہ کا،روس کا،ایران کا،جب ان کی معیشت گریگی تو وہ شام کو چھوڑ راہ فرار لینگے،تب عرب کامسئلہ اہل عرب خود سلجھالینگے،بشار سے اسی کی زبان میں نمٹ لینگے،انشاء اللہ ،جب تک دوغلی پالیسی والے دہشت گرد سپرپاور امریکہ و روس شام کو اپنی حالت پرنہیں چھوڑ دیتے،یونہی کٹتے رہینگے ہمارے بھائی،یونہی لٹتی رہینگی بہنوں کی عصمتیں،اسی لئے ساری دنیا کے امن پسند ظلم مخالف لوگوں، جماعتوں اور تنظیموں کو مل کربشار،اقوام متحدہ، امریکہ اور روس و ایران کا بائیکاٹ کرناچاہئے،ان کی معیشت کمزور کرنے کے لئے مل کرساری دنیا سے ان کے سفارتی تعلقات منقطع کرانے کے ساتھ ساتھ ان کے پروڈکٹس کو اپنے لئے شجر ممنوعہ بنانے کے لئے قدم اٹھانا چاہئے،تاکہ اپنی معیشت کی فکر میں خطہ سے یہ دہشت گرد انسانی خونوں کی ر سیاں قوتیں نکل جائیں اورپھر عرب کا معاملہ اہل عرب خود نمٹاسکیں۔علاوہ ازیں پوری دنیا کے تمام مساجد میں ائمہ کرام کی جانب سے قنوت نازلہ کا اہتمام کرنا بھی ضروری ہے۔
مضمون نگار بصیرت میڈیاگروپ کے رکن ہیں
بصیرت فیچرس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker