فقہ وفتاویٰ

آپ کے شرعی مسائل

بی ، سی (چٹھی ) چلانا
سوال:- کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے ذیل میں کہ ایک شخص ایک لاکھ روپے کی بی سی (چٹھی) چلاتا ہے ، جس میں تقریبا بیس افراد ہوتے ہیں ، ہر ایک فرد سے ماہانہ پانچ ہزار روپے جمع کراتا ہے ، اس مجموعی رقم کی بیس افراد کے درمیان ہر ماہ قرعہ اندازی کی جاتی ہے ، جس کا بھی نام قرعہ میں نکلتا ہے ، اسے سب کی رضامندی سے ایک لاکھ کی رقم دے دی جاتی ہے ، اس کے بعد یہ شخص قرعہ میں منتخب ہونے والے شخص کی رضامندی سے بطور فیس ، محنتانہ ، گاڑی میں خرچ ہونے والے پٹرول اور رابطہ کے لئے کئے گئے فون وغیرہ کے نام پر پانچ ہزار روپے وصول کرتا ہے ، بیس ماہ میں وہ شخص ہر منتخب ممبر سے ایسے ہی پانچ ہزار وصول کرتا ہے اور ہر ممبر کو ایک لاکھ کے بجائے پچانوے ہزار ہی ملتے ہیں ، سوال یہ ہے کہ :
(۱) مذکورہ بالا صورت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
(۲) کیا چٹھی کا اصل محرک شخص بطور فیس پانچ ہزار روپے لے سکتا ہے ؟
(۳) کیا اس طریقہ سے بی سی چلانا شرعا جائز ہے کہ چٹھی کا منتظم شرکاء کی رضامندی سے پہلی چٹھی خود اٹھالے ؟
برائے کرم ان سوالات کے جوابات عنایت فرماکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ۔
(محمد یٰسین عبد الرحمن ، ناندیڑ)
جواب:- (۱)چٹھی کی مذکورہ صورت جائز ہے ، چٹھی کی ایسی صورت جائز نہیں جس میں بعض شرکاء نقصان کے ساتھ چٹھی اٹھالیں ، اور انہوں نے جو نقصان اٹھایا ہے ، وہ کمیشن کے طور پر شرکاء میں تقسیم ہوجائے ، یہ صورت سود کی ہے ؛ لیکن ہر ماہ قرعہ اندازی کے ذریعہ کسی ایک شخص کا نام نکلے اور وہ پوری رقم حاصل کرلے ، یہ صورت جائز ہے ۔
(۲)جو شخص اس نظم کو چلاتا ہے اگر وہ اپنی اجرت کے طور پر پانچ ہزار روپے پہلے سے طئے شدہ معاہدہ کے مطابق اس میں لے لیتا ہے تو یہ صورت جائز ہے ؛ کیوںکہ یہ ایک جائز خدمت کی اجرت ہے ۔
(۳)اگر چٹھی میں پہلے سے تمام شرکاء کے درمیان یہ بات طئے پاجائے کہ چٹھی کی پہلی رقم منتظم کے حصہ میں آئے گی اور اس کے بعد قرعہ اندازی کے ذریعہ دیگر لوگوں کو رقم ملاکر ے گی تو یہ بھی جائز ہے ،یہ دوسرے شرکاء کی طرف سے باہمی رضامندی سے انتظام کار کو قرض حسنہ فراہم کرنا ہے اور قرض دینا اور لینا درست ہے ۔
کلائی پر دھاگہ یا زنجیر باندھنا
سوال:- آج کل ایک رواج لڑکوں کے ہاتھوں کی کلائی میں دھاگے باندھنے کا بڑھتا جارہا ہے ، کبھی یہ دھاگہ کالا ہوتا ہے ، کبھی لال اور بعض دفعہ سونا چاندی یا لوہے کی زنجیر بھی پہنی جاتی ہے ، بعض لوگ اس عقیدہ کے تحت پہنتے ہیں کہ اس کی وجہ سے نظر بد سے یا مصیبتوں سے محفوظ رہیںگے ، اور بعض نوجوان فیشن کے طور پر پہنتے ہیں ، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ (وجیہ الدین ، ممبئی)
جواب:- نفع و نقصان پہنچانے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے ، اللہ ہی بھلائیاں عطا کرتے ہیں اور مصیبتوں سے بچاتے ہیں ؛ اس لئے اس عقیدہ کے ساتھ ہاتھوں میں دھاگہ یا زنجیر کا باندھنا درست نہیں کہ اس طرح مصائب سے نجات مل جائے گی؛ بلکہ بعض فقہاء نے تو اسے افعال کفر میں شمار کیا ہے ، زمانہ جاہلیت میں لوگ گردن میں یا ہاتھ میں اپنے عقیدہ کے مطابق خود کو مصیبت سے بچانے کے لئے دھاگے باندھا کرتے تھے ، ان دھاگوں کو ’’رتیمہ‘‘ کہا جاتا ہے ، فقہاء نے لکھا ہے کہ یہ ممنوع ہے اور بعض فقہاء نے تو اسے کفریہ کاموں میں شمار کیا ہے : ’’ ثم رتیمۃ ۔۔۔ وہي خیط کان یربط في العنق أو في الید في الجاہلیۃ لدفع المضرۃ عن أنفسہم علي زعمہم ہو منہي عنہ وذکر في حدود الإیمان أنہ کفر ‘‘ (رد المحتار : ۹؍۵۲۳ ، نیز دیکھئے : البحر الرائق : ۸؍۳۵۱) —- اور اگر یہ عمل فیشن اور آرائش کے طور پر ہو تب بھی درست نہیں ، سونے اور لوہے کے کسی بھی زیور کا استعمال مرد کے لئے جائز نہیں ، چاندی کی بھی صرف انگوٹھی استعمال کی جاسکتی ہے ، زنجیر نہیں پہننی جاسکتی ہے ، اگر سیاہ یا سرخ دھاگہ اس نیت سے کلائی میں باندھے تو اس میں عورتوں کی مشابہت ہے؛ کیوںکہ یہ عورتوں کے لیے مقام زینت ہے نہ کہ مردوں کے لئے ، اور عورتوں کے مشابہت اختیار کرنے والے مردوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی لعنت بھیجی ہے ، (صحیح البخاري ، کتاب اللباس ، باب المتشبہون بالنساء والمتشبہات بالرجال ، حدیث نمبر : ۵۴۳۵)اسی طرح ہاتھوں میں کڑا پہننا بعض غیر مسلموں کا مذہبی شعار ہے اور غیر مسلموں کا تشبہ اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے ، (سنن أبي داؤد ، کتاب اللباس ، باب في لبس الشہرۃ ، حدیث نمبر : ۳۵۱۲)مسلمان نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے زیب و زینت اختیار کریں اور ہر رواج کو قبول کرنے کا مزاج نہ بنالیں ، آپ کا مقام یہ نہیں ہے کہ لوگوں کے رنگ میں رنگ جائیں ؛ بلکہ آپ کا مقام یہ ہے کہ دنیا آپ کو اپنے لئے نمونہ بنائے ۔ وباللہ التوفیق ۔
داڑھی میں خلال کا طریقہ
سوال:- اگر داڑھی گھنی ہوتو خلال کرنے کا کیا طریقہ ہوگا ؟ (احمد مرتضی ، وجئے واڑہ)
جواب:- خلال کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی انگلیوں کو گلے کی طرف سے ٹھوڑی کے بال میں داخل کرکے اسے اوپر کی طرف لے جائے ؛ـتاکہ اچھی طرح بال کی جڑوں تک پانی پہونچ جائے ، گویا ہاتھ دایاں ہو ، خلال ہتھیلی کی طرف سے ہو اور گردن سے ٹھوڑی کی طرف ہو : ’’ والمتبادر فیہ إدخال الیدین أسفل بحیث یکون کف الید لداخل من جہۃ العنق ۔۔۔ الخ ‘‘ (رد المحتار : ۱؍۲۳۸) یہ طریقہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے ، حضرت انس رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرماتے تو ایک چلو پانی لے کر داڑھ کے نیچے رکھتے اور اس سے داڑھی کا خلال کرتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل کے بعد یہ بھی فرمایا کہ مجھ کو میرے پروردگار نے اس کا حکم دیا ہے : ’’ کان إذا توضأ أخذ کفا من ماء فأدخلہ تحت حنکہ فخلل بہ لحیتہ وقال ہکذا أمرني ربي عز وجل ‘‘ (سنن أبي داؤد ، عن أنس بن مالک ، کتاب الطہارۃ ، باب تخلیل اللحیۃ ، حدیث نمبر : ۱۲۴) ۔
یونٹ ٹرسٹ آف انڈیا میں شرکت کا حکم
سوال:- گورنمنٹ کی ایک اسکیم یونٹ ٹرسٹ آف انڈیا کے نام سے ہے ، اس میں متعین نفع نہیں ملتا ؛ بلکہ نفع کی مقدار گھٹتی بڑھتی رہتی ہے ، اس میں شریک ہونا جائز ہے یا نہیں ؟ (محمد نافع ، بنگلور)
جواب:- اس حقیر کے علم کے مطابق یونٹ ٹرسٹ آف انڈیا اپنی رقمیں شیئر مارکٹ میں لگاتا ہے اور اس امتیاز کے بغیر کہ کمپنی کا کاروبار حلال ہے یا حرام ، جس کمپنی کے شیئر میں زیادہ نفع کی امید ہوتی ہے ، اس میں اپنے سرمایہ کو مشغول کرتا ہے ، نیز اگرچہ سرمایہ کاری کرنے والوں کے نفع کی مقدار گھٹتی بڑھتی رہتی ہے ؛ لیکن کم سے کم نفع کی شرح متعین ہوتی ہے ؛ اس لئے اس سے حاصل ہونے والا نفع سود میں داخل ہے ، اور اس اسکیم میں شریک ہونا جائز نہیں ۔
حج سبسیڈی قبول کرنا
سوال:- گورنمنٹ آف انڈیا حج کمیٹی کے ذریعہ حج کا سفر کرنے والوں کو سبسیڈی دیتی ہے اور چھتیس ہزار کی جگہ ان سے صرف بارہ ہزار روپیہ کرایہ وصول کرتی ہے ، حج ایک مالی عبادت بھی ہے ، اس میں حلال پیسہ لگانے کا حکم ہے ، اور یہ عبادت اسی مسلمان پر فرض ہے جو صاحب استطاعت ہو ، گورنمنٹ کے پاس حلال وحرام ہر طرح کا پیسہ ہوتا ہے تو کیا مسلمانوں کے لئے سبسیڈی قبول کرنا جائز ہے ۔ (احمد صفی اللہ ، چنئی)
جواب:- حاجیوں کو لے جانے والی ائیر لائنز بھی گورنمنٹ ہی کی ہے ، جیسے کوئی شخص اپنے کسی گاہک سے ہزار روپیہ کی جگہ پانچ سو روپے وصول کرے تو کرایہ دار کو پانچ سو روپے کی سہولت قبول کرنا جائز ہے ، اسی طرح اگر گورنمنٹ چھتیس ہزار کی جگہ بارہ ہزار ہی کرایہ لے تو اس کے قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں ، پھر گورنمنٹ کو دوسری اقوام کی طرح مسلمان بھی ٹیکس ادا کرتے ہیں ، اس طرح کی رعایتیں مذہبی اسفار اور مذہبی تقریبات کے انتظام میں دوسرے لوگوں کو بھی دی جاتی ہیں ؛ اس لئے اگر حج کے سفر میں رعایت کی جاتی ہے تو یہ رعایت نہیں ہے ؛بلکہ مسلمانوں کا حق ہے ، یہ سمجھنا درست نہیں ہے کہ حکومت کے پاس بیشتر رقم حرام کی ہوتی ہے ؛ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے بیشتر وسائل آمدنی حلال ہوتے ہیں ، جیسے قدرتی وسائل کی فروخت اور عوامی سہولتوں کے عوض ٹیکس وغیرہ ؛ اس لئے اس کے جائز ودرست ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہئے ۔
قضائے حاجت کی جگہ قرآن مجید کی کیسٹ
سوال:- قضائے حاجت کی جگہ میں ایسی کیسٹ لے جانے کا کیا حکم ہے ، جس میں قرآن مجید ٹیپ ہو یا جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو ؟
جواب:- یہ بات ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر ذکر قابل احترام ہے ، اور قرآن مجید تو سب سے افضل ذکر ہے؛ کیوں کہ براہِ راست اللہ تعالیٰ کا کلام ہے ، اس احترام کے تقاضوں میں یقینی طور پر یہ بات شامل ہے کہ اس کو ناپاکی کی جگہ سے بچایا جائے ، رسول اللہ ا کی مبارک انگوٹھی میں ’ محمد رسول اللہ ‘ نقش تھا، اس لیے جب آپ بیت الخلاء میں داخل ہوتے تھے ، تو انگوٹھی اتار دیا کرتے تھے ، ’’ إذا دخل الخلاء وضع خاتمہ ‘‘ ( ابو داؤد عن انس بن مالک ، حدیث نمبر : ۱۹ ، کتاب الطہارۃ ، باب الخاتم یکون فیہ ذکر اللّٰہ تعالیٰ یدخل بہ الخلاء ، سنن ابن ماجہ ، حدیث نمبر : ۳۰۳ ، کتاب الطہارۃ و سننہا ، باب ذکر اللّٰہ عز وجل علی الخلاء و الخاتم في الخلاء )
چنانچہ فقہاء نے بیت الخلاء میں ایسی انگوٹھی لے جانے کو جس پر اللہ کا ذکر کندہ ہو ، یا قرآن مجید کا کوئی حصہ لے جانے کو منع فرمایا ہے ، ’’و یکرہ أن یدخل فيالخلاء و معہ خاتم علیہ إسم اللّٰہ تعالیٰ أو شیٔ من القرآن ‘‘ ( ہندیہ : ۱ ؍ ۵۰) — البتہ اگر کیسٹ کوباہر چھوڑنے کی صورت میں چوری ہوجانے کا اندیشہ ہو ، تو اسے پلاسٹک کے غلاف میں رکھ کر لے جانے یا کرتے کے جیب میں رکھ کر لے جانے کی گنجائش ہے ، چنانچہ امام احمد بن حنبلؒ سے منقول ہے کہ اگر انگوٹھی میں اللہ تعالیٰ کا نام ہو تو انگوٹھی کے نگینہ کو ہتھیلی کی جانب کر کے بیت الخلاء میں داخل ہو ، اور عکرمہ نے اضافہ کیا ہے کہ اسے اپنی مٹھی میں لے لے ، ( المغنی لابن قدامہ : ۱؍۲۲۷ ) اسی طرح اسلامی عہد میں سکوں پر بھی اللہ تعالیٰ کے نام یا بعض آیات کندہ ہوتی تھیں ، اگر آدمی گھر سے باہر ہو تو سکوں کا باہر چھوڑ کر بیت الخلاء جانا دشوار ہوتا ہے ، اور اس میں پیسوں کے ضائع ہو جانے کا خدشہ ہوتا ہے، اسی لیے امام احمدؒ نے درہم کو بیت الخلاء میں لے جانے کی اجازت دی ہے ، ’’ … في الرجل یدخل الخلاء و معہ الدراہم أرجو أن لایکون بہ بأس ‘‘ ( المغنی : ۱؍۲۲۸ )
(بصیرت فیچرس)

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker