Baseerat Online News Portal

دہلی میںاورنگ زیب کے نام سے روڈہضم نہیں ہوا

خوبصورت عنوان کے ساتھ فرقہ پرستوں نے کھیلاکھیل،کجریوال کی قابل مذمت مبارکباد
شارب ضیارحمانی
این ڈی ایم سی نے دہلی کے اورنگ زیب روڈ کا نام اب اے پی جے عبدالکلام روڈ رکھنے کافیصلہ کیاہے۔جس پروزیراعلیٰ اروند کجریوال نے ٹویٹ کرکے این ڈی ایم سی کومبارکبادپیش کی ہے ۔بظاہراس فیصلہ کوبہت مناسب بتایاجارہاہے لیکن اس کے پس پردہ جس ذہنیت نے کام کیاہے ،اسے سمجھناضروری ہے ۔مغل بادشاہوں میں اکبرفرقہ پرستوں کے نزدیک قابل احترام ہے کیونکہ اس نے دین الٰہی کی بنیادڈالی تھی،دوسری طرف اورنگ زیب کانام وہ سننابھی گوارانہیں کرتے۔دہلی کی کئی سڑکیں مغل شہنشاہوں کے نام پرہیں۔مثلاََشاہجہاں روڈ،اکبرروڈ،ہمایوں روڈ،اورنگ زیب روڈوغیرہ لیکن آرایس ایس کی سیاسی ونگ بی جے پی کوصرف یہی نام سوجھا۔یہ نہیں بھولناچاہئے کہ ارونگ زیب روڈکے نام کی تبدیلی کامطالبہ اوکھلاسے بی جے پی ایم پی مہیش گیری نے کیاتھا۔مہیش گری نے مودی کو خط لکھ کر اورنگ زیب روڈ کا نام سابق صدر عبدالکلام کے نام پر رکھنے کی درخواست کی تھی۔مہیش گری نے اپنے خط میں لکھاتھا کہ عوام کے صدر کے طور پرمعروف کلام کو یہ سب سے مناسب خراج عقیدت ہوگا۔عوام کے صدر کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے میں نئی دہلی میں اورنگ زیب روڈ کا نام تبدیل کرکے ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام روڈ رکھنے کی تجویزپیش کرتاہوں۔قابل غور بات یہ کہ بہت عمدہ پیرایہ میںمطالبہ یہ کیاگیاتھاکہ اے پی جے عبدالکلام کے نام پرارونگ زیب روڈکانام رکھاجائے،بظاہراس سے سابق صدرجمہوریہ کے تئیں ان کی عقیدت جھلک رہی تھی لیکن مقصدتھاارونگ زیب کے نام کومٹانا،پھرآخراوربھی توبہت سے نام سے روڈدہلی میں موجودہیں،مہیش گیری کووہ سب کیوں نہیں نظرآئے،،یقیناََسابق صدرکواعزازبخشاجاناچاہئے لیکن فرقہ پرستی کی قیمت پرنہیں۔یہ بھی مطمح نظررہے کہ دوتین ماہ قبل دہلی کی مسلم شخصیتوں کے نام پرموجودسڑکوں کے کتبوں پرسیاہی پوتی گئی تھی،فرقہ پرستوں کوایک آنکھ یہ نہیں بھارہاہے کہ دہلی کی سڑکیں عظیم مسلم شخصیتوں کے نام پرکیوں ہیں؟۔ہاں ایک بات اورکہ وزیراعلیٰ نے این ڈی ایم سی کے فیصلہ کاخیرمقدم کیاہے،کیاکجریوال جی کواتنی سی بات سمجھ میں نہیں آسکی کہ اس کاتعلق سراسرفرقہ پرستی پرمبنی آرایس ایس کی سیاست سے ہے،انہیں اس کی تائیدبلکہ پیٹھ ٹھوکنے کی بجائے یہ کہناچاہئے تھاکہ این ڈی ایم سی کسی اورسڑک کوسابق صدرکے نام کرے،کسی مسلم شخصیت کے نام کی تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے۔آخرانہیں ایساکیوں نظرآئے گا،ان کاجنم بھی تواناہزارے کی تحریک سے ہواہے جسے بی جے پی نے ہوادی تھی۔
(بصیرت فیچرس)

You might also like