ہندوستان

شام کی تباہی و بربادی پر عالمی اداروں کارویہ شرمناک:مولانااسرارالحق قاسمی

نئی دہلی ،19دسمبر

شام میں2011سے جاری خانہ جنگی اوراس دوران وسیع پیمانے پر معصوم اور بے گناہ شہریوں کے قتل و خوں ریزی پراپنے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے معروف عالم دین اور ممبرپارلیمنٹ مولانااسرارالحق قاسمی نے کہاکہ تقریباًپونے دو کروڑ کی آبادی والے اس ملک کی بہت بڑی آبادی ظالم حکومت کے ہاتھوں قتل کی جاچکی ہے ،جبکہ باقی بچے لوگ خانماں برباد ہوکر یہاں وہاں بھٹکنے پر مجبور ہیں جوایک عظیم اورددناک انسانی المیہ ہے۔انھوں نے کہاکہ اس وقت شام کے سفاک اور ظالم حکمراں بشار الاسدنے اپنے ظلم وستم کی انتہا کرتے ہوئے حلب میں ’باغیوں‘ کو کچلنے کے نام پرزیادہ سے زیادہ ہلاکتوں کو یقینی بنانے کے لئے جس طرح بے قصور اور معصوم بچوں،عورتوں، ضعیفوں اور مردوں کو بے رحمانہ طریقے سے مہلک کیمیکل گیسوں کا استعمال اوربموں کی بارش کرکے موت کے گھاٹ اتارا ہے اس سے دنیا کے سبھی حساس دل بوجھل ہو گئے ہیں، آنکھیں اشکباراور زبانیں گنگ ہوگئی ہیں۔انھوں نے کہاکہ موجودہ عہد کے اس سنگین ترین المیہ پر تاریخ کے بڑے بڑے درندوں ہلاکو، چنگیز خان،ہٹلراور مسولینی کی بدروحیں بھی شرما ہی گئی ہوں گی۔انھوں نے شام کی دل دوزصورتِ حال پرتبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ اس کی ذمے داری شام کی غیر دستوری حکومت اور اس کے حلیف ایران و روس کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اقوامِ متحدہ پر بھی عائد ہوتی ہے جنھوں نے تمام تر اختیار ات کے باوجود اس ملک میں بے گناہ شہریوں پر ہونے والے مظالم کوروکنے کے لیے کوئی سنجیدہ اور مؤثر اقدام نہیں کیا۔مولاناقاسمی نے اس تعلق سے عالم اسلام کی خاموشی کومجرمانہ قراردیتے ہوئے کہاکہ عرب لیگ سمیت علاقائی و عالمی سطح پر تمام مسلم ممالک بشارالاسدکے اس انسانیت کش جرم میں شریک ہیں جنھوں نے شام میں ہونے والے مظالم کی روک تھام کے لیے کوئی اقدام نہیں کیااور وہ خاموش تماشائی بنے دیکھتے رہے۔انھوں نے کہاکہ بشارالاسداور ان کے حلیفوں کو سوچنا چاہیے کہ آج کے عہدمیں کسی بھی سیاسی مسئلے کاحل تشددکے ذریعے نہیں تلاش کیاجاسکتااوراس کی وجہ سے خود اس ملک کوغیر معمولی سیاسی،معاشی و سماجی نقصانات سے دوچارہوناپڑتاہے،شامی حکومت جتنی جلدی اس حقیقت کوسمجھ لے یہ اس کے لیے بہتر ہوگا۔انھوں نے عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ شام میں رونماہونے والے اس المناک بحران پر قابوپانے کے لیے فوری طورپرمؤثراقدامات کریں ورنہ مقامی سطح پرہی نہیں بلکہ عالمی پیمانے پر اس کے نہایت برے اثرات مرتب ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker