ہندوستان

یوپی میں کانگریس سماج وادی پارٹی اور آر ایل ڈی کے درمیان اتحاد کا امکان

مسلم ووٹوں کو منتشر ہونے سے بچانے کی کوشش، اعلان آئندہ ہفتے متوقع
لکھنؤ، 23 دسمبر (یو این آئی) اترپردیش اسمبلی انتخابات کی بڑھتی سرگرمیوں کے درمیان سماج وادی پارٹی (ایس پی)، کانگریس اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے درمیان اتحاد کی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ اتحاد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو اقتدار میں آنے سے روکنے اور مسلم ووٹوں کو اپنے حق میں برقرار رکھنے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ اس اتحاد کا باقاعدہ اعلان اگلے ہفتے ہونے کا امکان ہے۔سماج وادی پارٹی کے ایک اعلی عہدیدار نے آج یہاں ‘یواین آئی’ کو بتایا کہ خاص طور پر ریاست کے مغربی علاقوں میں مسلمانوں کے ووٹ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) میں جانے کی قیاس آرائی شروع ہو گئی تھیں، لیکن اتحاد ہو جانے پر اس بات کا امکان کم ہو جائے گا کیونکہ ممکنہ اتحادی امیدوار ہی بی جے پی سے مقابلہ کے دوڑ میں رہے گا۔مغربی اتر پردیش میں عام طور پر انتخابات میں ایک ساتھ نظر آنے والے مسلمان اور جاٹ مظفرنگر اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں 2013 میں ہونے والے فسادات کے بعد الگ الگ نظر آنے لگے تھے۔ دونوں میں اختلافات بڑھ گیا تھا لیکن اتحاد ہونے کی حالت میں دونوں کا ایک بار پھر ساتھ آنے کا امکان بڑھ جائے گا۔کانگریس اور سماج وادی پارٹی میں اتحاد کی بات چیت آخری مرحلے میں ہے۔ آئندہ ہفتے کسی بھی وقت اس کا اعلان ہو سکتا ہے۔ اتر پردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو کانگریس سے اتحاد کی بات کچھ دنوں سے عوامی طور پر کر رہے ہیں۔انہوں نے پارٹی کے پہلی مرتبہ منتخب ممبران اسمبلی کی آج میٹنگ طلب کی ہے۔ میٹنگ کل صبح بھی ہونے کا امکان ہے۔اس درمیان، کانگریس کے سینئر لیڈر نے بتایا کہ سیٹوں کی تقسیم بھی تقریباً طے ہے۔ان کے مطابق اسمبلی کی کل 403 نشستوں میں 78 پر کانگریس اور 22 پر آر ایل ڈی امیدوار الیکشن لڑیں جبکہ باقی 303 سیٹوں پر ایس پی اپنے امیدواروں کو اتارے گی۔اتحاد کے اقتدار میں آنے پر وزیر اعلی اکھلیش یادو ہی ہوں گے جبکہ نائب وزیر اعلی کا عہدہ کانگریس کے کھاتے میں آئے گا۔ایس پی لیڈر کے مطابق پارٹی صدر اتحاد کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نیتا جی (ملائم سنگھ یادو) کریں گے۔مسٹر یادو نے حال ہی میں اتحاد سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے ساتھ الیکشن لڑنے والوں کو اپنی پارٹی کا ایس پی میں ضم کرنا ہوگا۔اس کے بعد ایسا لگنے لگا تھا کہ اتحاد نہیں ہو گا، لیکن حالیہ سیاسی واقعات کے بعد اتحاد کا امکان ایک بار پھر بڑھ گیا ہے۔ریاستی اسمبلی کے 2012 میں ہوئے انتخابات میں کانگریس کے 29 امیدواروں نے جیت حاصل کی تھی جبکہ 31 دوسرے نمبر پر تھے۔50 سیٹوں پر کانگریس نے اچھی کارکردگی پیش کی تھی اسي بنیاد پر کانگریس پہلے 100 سے 125 سیٹوں کا مطالبہ کررہی تھی، لیکن ایس پی صدر 80 سیٹ سے زیادہ دینے کو تیار نہیں تھے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اتحاد ہونے کی حالت میں وزیر اعلی اکھلیش یادو کی سیاسی طاقت بڑھ سکتی ہے۔اتحاد کے امکان کے پیش نظر ایس پی اور کانگریس دونوں ہی پارٹیوں کے امیدوار کشمکش میں گرفتار ہیں۔ انہیں اپنی انتخابی مہم تیز کرنے میں دقت محسوس ہو رہی ہے۔دوسری طرف، کل منعقد ہوئے ریاستی اسمبلی کے اجلاس کے دوران کانگریس قانون ساز پارٹی کے لیڈر پردیپ ماتھر نے بھی سماج وادی پارٹی کے خلاف خاموشی برقرار رکھی۔ ایک اور سینئر کانگریس لیڈر نے آج یہاں يو این آئی سے کہا کہ پارٹی نائب صدر راہل گاندھی نے بھی ریاست کے کچھ پارٹی رہنماؤں سے کہا ہے کہ الیکشن سے قبل اتحاد کے سلسلے میں ریاست کی یہ مبہم صورتحال تین چار دنوں میں صاف ہو جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker