ہندوستان

نقدی بحران کے درمیان انتخابی تیاریوں میں لگے اتر پردیش میں 5ہزار کروڑ روپے کیش ؟

گورکھ پور،24دسمبر

مشرقی اترپردیش کے بانس گاؤں میں بی جے پی ایم پی کملیش پاسوان اے ٹی ایم کی لائن میں پہنچتے ہیں،ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہاں گزشتہ دنوں نوٹوں کی قلت کم ہوئی ہے کیونکہ نئی نقدی آئی ہے۔ایک بی جے پی کارکن کا کہنا ہے کہ دو دن پہلے 1650کروڑ روپے ضلع میں آئے تھے اور اب بینک نے پیسے نکالنے کی حد 50ہزار روپے تک کردی ہے۔اس علاقے کے باقی حصے سے بھی ہمیں نئی کرنسی کے آنے سے منسلک ایسی ہی خبریں سننے کو ملیں۔جب این ڈی ٹی وی انڈیانے اس دعوے کی تصدیق کرنے کے لئے بی جے پی لیڈروں سے پوچھا تو انہوں نے گزشتہ دنوں مقامی اخبارات میں شائع خبروں کاحوالہ دیا۔اتفاق سے یہ انہیں دنوں کی بات ہے جب پی ایم مودی نے یوپی میں انتخابی مہم چھیڑ رکھی تھی،حالانکہ اس سے منسلک ایک محض میڈیا رپورٹ 17دسمبر کی ہے جو کہ خبر ایجنسی آئی اے این ایس کی طرف سے شائع ہے جس کے مطابق یوپی میں 5ہزار کروڑ روپے، ایک خصوصی طیارے سے آر بی آئی نے بھیجے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ اطلاع ایک افسر سے ملی ہے جس کا نام نہیں بتایا جا سکتا۔
جب این ڈی ٹی وی نے آر بی آئی سے رابطہ کیا تو ان کے ترجمان نے صفائی دی کہ بینک یہ معلومات دیتا ہی نہیں ہے کہ کون سی ریاست میں کتنی نقدی پہنچائی جا رہی ہے۔اس کے باوجود مقامی بی جے پی ایم پی اس بات کی طرف اشارہ کرتے رہے کہ آر بی آئی پر سیاسی دباؤ تو بنایا جا رہا ہے۔یوپی کے فیض آباد سے بی جے پی ایم پی للو سنگھ کہتے ہیں کہ ہماری پارٹی کے صدر (امت شاہ)سے ہم ملے اور انہوں نے تمام ممبران پارلیمنٹ سے رائے لی ہے۔سنگھ کہتے ہیں کہ انہوں نے پارٹی لیڈر سے عرض کیا تھا کہ زیادہ نقدی بھیج کر لوگوں کے مسائل دور کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker