مضامین ومقالات

سیکولر اتحاد بنام ایس پی بی ایس پی

عبدالرحمن صدیقی
نیوز ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز
اترپردیش میں جیسے جیسے چنائو کا وقت قریب آرہا ہے سیکولر پارٹیوں کے آپسی اتحاد کا نعرہ بھی نہایت تیزی سے بلند ہورہا ہے دو روز قبل خبر آئی تھی کہ کانگریس اور سماج وادی پارٹی راشٹریہ لوک دل کے ساتھ مل کر چنائو لڑنے والی ہیں بعد میں اس تعلق سے کچھ متضاد خبر یں آرہی ہیں۔ آج بہوجن سماج پارٹی کی صدر مایاوتی نے نہایت زور وشور کے ساتھ دلت مسلم اتحاد کا نعرہ بلند کیا ہے مایاوتی کا کہنا ہے کہ دلت مسلم اتحاد بی جے پی کو شکست دے سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے بی جے پی کی مدد سے اقتدار ضرور حاصل کیا ہے لیکن میں نے کبھی اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا ہے جبکہ اس کے برعکس سماج وادی پارٹی نے بی جے پی کو مضبوط بنایا ہے اور اس پارٹی کی سماج وادی پارٹی سے ہمیشہ سانٹھ گانٹھ رہی ہے۔
اس وقت یہ بحث بے معنی ہے کہ کون سی پارٹی سیکولر ہے کون فرقہ پرست کس پارٹی نے سیکولر ازم کو تقویت بخشی اور کس پارٹی نے بی جے پی سے سانٹھ گانٹھ کی کیوں کہ ماضی میں سبھی پارٹیاں برا ہ راست یا بالواسطہ فرقہ پرست طاقتوں کو تقویت پہنچا چکی ہیں اور موقع پر بالواسطہ یا براہ راست ان کی مدد بھی کرچکی ہیں اور ان کی مدد لے بھی چکی ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 2017 میں یوپی اسمبلی میں چنائو ہونے والے ہیں اس میں سیکولر ووٹوں کی تقسیم کو کس طرح روکا جائے تاکہ فرقہ پرستوں کو اقتدار حاصل نہ ہوسکے کیوں کہ اگر یوپی انتخاب میں کسی طرح بی جے پی اقتدار میں آجاتی ہے تو 2019 میں دوبارہ مودی حکومت کا اقتدار میں آنا یقینی ہوجائے گا اور اگر یوپی میں سیکولر طاقتوں کا اتحاد کامیاب ہوجائے تو 2017 میں دیگر پانچ ریاستوں میں بھی چنائو ہونے والے ہیںوہاں بھی فرقہ پرست طاقتوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
اترپردیش میں مسلم ووٹوں کی حیثیت فیصلہ کن ہے ایک مدت تک کانگریس اس ووٹ بینک کا اپنے مقصد کے لئے استعمال کرتی چلی آئی ہے بابری مسجد کی شہادت کے بعد یہ منظر نامہ تبدیل ہوا مسلم ووٹ کانگریس سے الگ ہوگئے پہلی مرتبہ مسلم ووٹ سماج وادی پارٹی اوربہوجن سماج پارٹی کو مشترکہ طو رپر ملے اس کے بعد مسلم ووٹ کبھی سماج وادی پارٹی تو کبھی بہوجن سماج پارٹی کو ملتے رہے کانگریس سے مسلمانوں کی ناراضگی کچھ حد تک کم ہوئی ہے لیکن خود کانگریس اتنی کمزور ہوچکی ہے کہ وہ اترپردیش کے اقتدار پر سنجیدگی سے دعویٰ کرنے کی بھی پوزیشن میں نہیں ہے اور ابھی بھی یہی صورت حال ہے۔
2007 میں مسلمانوں نے یکطرفہ طور پر بہوجن سماج پارٹی کو ووٹ دیے اور مایاوتی اقتدار میں آگئیں لیکن انہوں نے مسلمانوں کی فلاح وبہبود کے لئے کوئی قدم اُٹھانے کے بجائے اپنی تمام تر توجہ پتھر کی مورتیاں اور پارکوں کی تعمیر پر مرکوز رکھیں لہذا 2012 میں سماج وادی پارٹی اقتدار میں آئی او راکھلیش یادو وزیراعلیٰ بنے ۔ان کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ یوپی میں انہوں نے اپنے دور ا قتدار میں بہت سے کام کیے ہیں لیکن مسلمانوں کے تعلق سے ان کا معاملہ بہت اچھا نہیں تو بہت برا بھی نہیں رہا اس لئے 2017 کے الیکشن میں سماج وادی پارٹی کے لئے مسلمانوں میں نہ تو کوئی خاص جوش وخروش ہے نہ ناراضگی۔ اس وقت ریاست میں مسلم ووٹوں کے تین بڑے اور کئی چھوٹے چھوٹے دعویدار ہیں اگر سیکولر پارٹیوں میں آپسی تال میل نہیں ہوسکا تو مسلم ووٹ منتشر ہوجائیں گے کیو ںکہ مسلمانوں کے نام پر میدان میں کئی چھوٹی پارٹیاں بھی اپنے امیدوار میدان میں اتار سکتی ہیں اور مسلم ووٹ کا نگریس، سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی میں تقسیم ہوں گے۔ کچھ ووٹ بی جے پی کو مل گئے کچھ ووٹ غیر سنجیدہ مسلم امیدوار لے گئے تو بی جے پی کو اقتدار میں آنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔
ریاست کا سیاسی منظر نامہ یہ ہے کہ سماج وادی پارٹی او ربہوجن سماج پارٹی میں کسی طرح کا تال میل نہیں ہوسکتا لیکن ایک سیکولر اتحاد ضرور قائم کیاجاسکتا ہے اس کے لئے بہار ماڈل پہلے سے ہی موجود ہے۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker