شعر و ادبمضامین ومقالات

جمعیۃ علماء ہند کا قیام اور تاریخی پس منظر

(مولانا )محمد عارف عمری
(ناظم شعبہ نشر و اشاعت ،جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی)
+91-8087175185
ماہ دسمبر جمعیۃ علماء ہند کی تاسیس کا مہینہ اور عجیب اتفاق ہے کہ دسمبر میں ہی جمعیۃ علماء ہند کے تین مرکزی ستون واصل بحق ہوئے، اگلے تین برس میں جمعیۃ علماء ہند ایک صدی پوری کر لے گی۔دسمبر کی 28-29تاریخ 1919کو امرتسر کی سر زمین پر اسلامیہ ہائی اسکول کے وسیع کمرے میںجمعیۃ علماء ہندکا پہلا تاسیسی اجلاس منعقد ہوا،اور اس کے بانی صدر مفتی اعظم حضرت مولانا کفایت اللہ دہلوی ؒ اور بانی جنرل سکریٹری سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید دہلویؒ نے اسی ماہ میں اس عالم فانی کو الوداع کہا ،نیز جمعیۃ علماء ہند کے صدر دوم شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ کی وفات کا سانحہ بھی اسی ماہ کی 5تاریخ کو پیش آیا،گو یہ اتفاقات ہیں مگر جمعیۃ علماء ہند کے منتسبین کے لئے یہ مہینہ تاریخی حیثیت کا حامل ہے۔
حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی ؒ کے تلامذہ اور منتسبین نے ۱۹۱۹ء؁ میں حضرت شیخ الہند ؒ کے دورِ اسارت میں جب کہ وہ مالٹا میں مقید تھے ،اس جماعت کی داغ بیل ڈالی۔۲۸؍ دسمبر ۱۹۱۹ء؁ کو اس کا باقاعدہ پہلا اجلاس امرتسر میں زیر صدارت مولانا عبدالباری فرنگی محلی ؒ منعقد ہوا،اورمفتی اعظم مولانا محمد کفایت اللہ دہلویؒ اس کے پہلے صدراورسحبان الہندمولانا احمد سعیددہلویؒ جنرل سکریٹری منتخب ہوئے ۔اس اجلاس میںملک کے مشاہیر علماء نے شرکت کی جن میںمولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب دہلویؒ،مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری ،مولانا عبدالصمد صاحب بدایونی ،مولاناسیدمحمد فاخر صاحب الٰہ آبادی (سجادہ نشین دائرہ شاہ اجمل ،آلٰہ آباد)مولانا مولوی محمد معین الدین صاحب اجمیری ،مولانا فضل الدین صاحب سیالکوٹی،مولانا نور احمد صاحب بمبئی ،مولانانور احمد صاحب امرتسری،مولاناعلی احمد صاحب لاہوری ،مولوی لقاء اللہ صاحب عثمانی ،مولانا علی احمدصاحب لاہوری (مفسر قرآن)،غازی محمود صاحب،حکیم ابو یوسف اصفہانی صاحب،مولاناحافظ احمد سعید صاحب دہلوی ،سید جالب صاحب ایڈیٹر اخبار ہمدم کے نام قابل ذکر ہیں ۔
جمعیۃ علماء ہند کا دوسرا اجلاس۱۹۲۰ء؁ میں اس کے فکری رہنما حضرت شیخ الہندؒکی صدارت میں دہلی میں منعقد ہوا،جس میں ترکِ موالات کا وہ اہم فیصلہ کیا گیا جس کے مطابق انگریزوں کے دیئے ہوئے تمام سرکاری خطابات،عہدے،کونسل کی ممبری،فوجی ملازمت ترک کرنا نیز انگلستان سے تجارتی تعلقات ختم کرنا ،سرکاری تعلیم اور عدالتوں میں مقدمات کی پیروی کے بائیکاٹ اور سرکاری امداد سے پر ہیزجیسے تاریخی نوعیت کے فیصلے کئے گئے،اور اس کے دوسرے سال نومبر ۱۹۲۱ء؁ میں ترکِ موالات کا فتویٰ دوبارہ شائع کیا گیا جس میں ولایتی کپڑوں،سرکاری نوکریوںکے بائیکاٹ کا اعلان کرکے برطانوی معاشیات پر گہری چوٹ پہونچائی گئی۔ اسی ترک موالات کے فتوے کے نتیجہ میں حضرت شیخ الاسلا م مولاناسید حسین احمد مدنی ؒ (صدر دوم جمعیۃ علماء ہند)سمیت آٹھ لوگوںپر وہ تاریخی مقدمہ چلا جو کراچی کے مقدمہ کے نام سے مشہور ہے۔٭ ۱۹۲۸ء؁ میں کانگریس کی رہنمائی میںآل پارٹیز کی طرف سے تیار کی گئی نہرو رپورٹ پرجمعیۃ علماء ہند مسلمانوں کی وہ واحد جماعت تھی جس نے ملکی اور اسلامی مفاد کو پیش نظر رکھ کر ایک تنقیدی رپورٹ تیار کی ٭ جمعیۃ علماء ہند کی تائید اور کوشش سے صوبۂ بہار و اڑیسہ میں امارتِ شرعیہ کا نظام شروع ہوا،نیزجمعیۃ علماء ہند نے کل ہندامارت ِشرعیہ قائم کی٭جمعیۃ علماء ہند نے سب سے پہلے یہ فیصلہ کیا کہ ہندوستان کی مکمل آزادی نہایت ضروری اور لازم ہے ،اور اس کی آزادی کی جد وجہد ایک اہم ملکی اور مذہبی فریضہ ہے۔ جمعیۃ علماء کے اس فیصلہ کے برسوںبعد کانگریس اور دیگر ملکی اور اسلامی انجمنوں نے بھی اس نصب العین کا اعلان کیا ٭شرعی حدود کے مطابق غیر مسلم برادران ِ وطن کے ساتھ ہمدردی و اتفاق کے تعلقات کا قیام٭تقسیم ِ ہند کی پوری قوت کے ساتھ مخالفت٭ملک کے مختلف مقامات سے مسلم آبادی کے نقل ِمکانی کی وجہ سے ویران ہوگئے مدارس ،معابد ،ماٰثراور ملی اداروں کو از سر نو زندہ کیا٭جمہوریۂ ہند کے آئین کی ترتیب تدوین میں نمایاں کارکردگی٭تقسیم ِ ہند کے موقع پر محکمۂ کسٹوڈین کے مظالم کے مقابلہ اور مسلمانوں کی جائیدادوں کوان کے قبضہ سے آزاد کرانے کے لئے مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی ؒ کی قیادت میں ایک قانونی کمیٹی بنائی گئی ،اور قانونی لڑائی کے ذریعہ مسلمانوں کی ۷۰ سے ۸۰ فیصد جائیدادوں کو غیروں کے قبضے سے آزاد کرایا گیا ٭اسلامی اوقاف کے متعلق ایک مسودۂ قانون کی تیاری ،جس کو ۱۲؍ اپریل ۱۹۵۱ء؁ کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا ٭ مسلمان طلبہ و طالبات میںدینی تعلیم کے فروغ کے لئے دینی تعلیمی بورڈ کا قیام ٭مسلم پارلیمنٹری بورڈ کی تشکیل اور آل انڈیا مسلم کنونشن کے ذریعہ ہندوستان کے مسلمانوں کوحوصلہ دینے کی کوشش٭مسلم پرسنل لاء کے تحفظ کا مطالبہ٭یکساں سول کوڈکی مخالفت اور مسلمانوں کو دستور کی دفعہ (۴۴)سے مستثنیٰ رکھنے کا مطالبہ٭اردو یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ٭جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کی بحالی میں نمایاں کردار٭علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کا مسلسل مطالبہ٭ٹاڈا ،پوٹا جیسے ظالمانہ قوانین پر صدائے احتجاج٭فرقہ وارانہ یکجہتی کے فروغ کی کوشش اور ملک گیر کانفرنسوں کا اہتمام ٭مسلمانوں میںمعاشی استحکام پیدا کرنے کی غرض سے مسلم فنڈ کی تحریک ٭مسلمانوں کے لئے پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن کا مطالبہ٭فساد متاثرین اور قدرتی آفات کے شکار لوگوں کی باز آبادکاری ٭عصری علوم کے ہونہار طلبہ و طالبات کی تعلیمی امداد٭سلاخوں کے پیچھے مقید بے قصور دہشت گردی کے الزام میں ماخوذ نوجوانوں کی قانونی پیروی ٭آسام و بنگال میںحق شہریت سے محروم کئے گئے خاندانوںکے لئے قانونی چارہ جوئی وغیرہ جمعیۃ علماء ہند کے نمایاں نقوش ہیں۔
واضح رہے کہ جمعیۃ علماء کے قیام کے وقت ملک کے سیاسی افق پر ’’خلافت تحریک ‘‘کی گونج تھی،اور ترک موالات کی تحریک خلافت کے بینر تلے ہی اٹھی تھی جس میں جمعیۃ علماء ہند نے بھر پور حصہ لیا،سابقہ صدی کی تیسری دہائی کے آخر میں خلافت کا زور ٹوٹ گیا،اور مسلم لیگ نے مسلمانوں کا جذباتی استحصال کر کے علٰیحدگی پسندی کا مزاج بنانا شروع کیا، تو اس کے مقابلہ میں جمعیۃعلماء ہند آگے بڑھی،اور اس کے قائدین نے ملک کی آزادی میں ہراول دستہ کا کام انجام دیا اور آزادی کی جد و جہد کے ساتھ تنگ نظری اور علیٰحدگی پسندی کے خلاف ایک طویل اور صبر آزما جنگ لڑی ،با لآخر ملک آزاد ہوا،مگر جمعیۃ علماء ہند کی منشاء کے بر خلاف تقسیم بھی ہوگیا،جس سے دلبرداشتہ ہوکرجمعیۃ علماء ہند نے مسلمانان ہند کی سر گرم سیاسی قیادت سے کنارہ کشی اختیار کرکے دینی اور رفاہی میدان اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔جس پر وہ آج بھی پوری پامردی کے ساتھ گامزن ہے ۔
ماہ دسمبر کی مناسبت سے جمعیۃ علماء ہند کی خدمات جلیلہ کی مختصر جھلک پیش کرنے کے بعد جمعیۃ علماء ہند کے ان تین ستونوں کا ذکر کیا جاتا ہے جنہوں نے اس ماہ میں وفات پائی ہے ۔
مفتیٔ اعظم حضرت مولانامحمدکفایت اللہ صاحب دہلویؒ صدر ِ اول جمعیۃ علماء ہند کی پیدائش۱۲۹۲ھ؁ میں آبائی وطن بمقام شاہجہاں پور(روہیل کھنڈ) میں ہوئی ابتدائی تعلیم وطن میں حاصل کی ،پھر مدرسہ شاہی مراد آباد میں متوسطات کی کتابیں پڑھیں اور اس کے بعد دار العلوم دیوبندسے فراغت حاصل کی ۔دہلی میں مدرسہ امینیہ میں استاد مقرر ہوئے اور اس تعلق سے دہلی کے ہو رہے ۔عملی حیثیت سے مدرسہ امینیہ کے تمام انتظامی معاملات نیز درس ِحدیث اور افتاء آپ ہی انجام دیتے تھے۔اور پوری عمر اس مدرسہ کی خدمت میں گذاری ۔آپ کی زندگی میں مؤتمر اسلامی کے دو اجلاس منعقد ہوئے ایک مکہ المکرمۃ(۱۹۲۶ء؁) میں اور دوسرا قاہرہ (۱۹۳۸ء؁)میں ،حضرت مفتی صاحب ؒنے ان دونوں میں شرکت فرمائی اور اپنی علمیت اور شخصیت سے دنیائے اسلام کے نمائندوں کو بہت متأثر کیا ۔ حضرت مفتی صاحب نے ہزاروں استفسارات کے جوابات تحریر فرمائے ،جن کا مجموعہ کفایت المفتی کے نام سے نو (9)ضخیم جلدوں میںشائع شدہ ہے۔اس کے علاوہ تعلیم الاسلام چار (4)حصے ،اردو قاعدہ ،اصول اسلام ،قنوتِ نازلہ اور اس کے متعلق مسائل وغیرہ آپ کے اہم رسالے ہیں ۔٭مدرسہ امینیہ میں آپ ہی کے کمرہ میں جمعیۃ علماء ہند کا پہلا دفتر قائم ہوا ،جہاں نہ کوئی محرر تھا نہ کوئی چپراسی ۔بلکہ آپ خود اور مولانا احمد سعید دہلوی ؒ صاحب ناظم عمومی اپنے ہاتھوں سے تمام کام کیا کرتے تھے،آپ نے اپنے ہاتھ سے پورے ہندوستان کے علماء کی ایک فہرست مرتب کی ٭رولٹ بل ۱۹۱۹ء؁ کے خلاف جب گاندھی جی نے خلافت کمیٹی کے اشتراک سے ستیہ گرہ تحریک شروع کی تو حضرت مفتی صاحب نے بڑے انہماک سے اس تحریک میں حصہ لیا ،آپ آل انڈیا خلافت کمیٹی کے ہمیشہ ممبر رہے ٭۱۹۳۰ء؁ کی تحریک سول نا فرمانی میں ۱۱؍ اکتوبر ۱۹۳۰ء؁ کو گرفتار کئے گئے اور آپ کو چھ(6) ماہ قید با مشقتA کلاس کی سزا سناکر گجرات جیل منتقل کر دیا گیا ۔دوسری گول میز کانفرنس (دسمبر ۱۹۳۱ء؁ )کی ناکامی کے بعد دوبارہ سول نا فرمانی کی تحریک شروع ہو گئی ،جس میں ۴؍ جنوری ۱۹۳۲ء؁ کو گاندھی جی گرفتار کر لئے گئے ،اس موقع پر ۱۱؍ مارچ ۱۹۳۲ء؁ کو حضرت مفتی صاحب کی قیادت میں بعد نماز جمعہ ایک عظیم الشان جلوس نکلا جس میں ایک لاکھ نفوس شامل تھے ،اس جلوس پر پولس نے بے تحاشا لاٹھی چارج کیا اور حضرت مفتی صاحب اور ان کے رفقاء کو گرفتار کر لیا گیا ۔ اس موقع پر آپ کو اٹھارہ (18)ماہ قید با مشقتA کلاس کا حکم سنایا گیا اور نیو سینٹرل جیل ملتان میں رکھا گیا ٭جمعیۃ علماء ہند کاآئین اور اس کے آئندہ کے طریقہ ٔ کا ر کا مسودہ چند گھنٹوں میں تیار کر کے۱۹۱۹ء؁ کے اجلاس امرتسر میں علماء کے سامنے پیش کیا۔ ۱۹۱۹ء؁ سے لیکر ۱۹۳۹ء؁ تک مسلسل بیس(20)برس جمعیۃ علماء ہند کے صدر رہے ،اور خاکساری کا یہ عالم تھا کہ اس طویل مدت میں جمعیۃ علماء کے کسی اجلاس کی صدارت نہیں کی بلکہ اپنے ہم عصر دوستوں اور اہلِ علم کا نام اس کے لئے تجویز کرتے رہے ۔٭۱۹۲۲ء؁ میں شدھی تحریک کے اثر سے ہزاروں ملکانی برادری کے مسلمان مرتد ہوگئے تھے اس کی روک تھام کے لئے پہلا تبلیغی وفد روانہ کیا اور خود ایک وفد لے کر روانہ ہوئے ٭۱۹۳۲ء؁ میں دوسری مرتبہ جب سول نافرمانی کی تحریک شروع ہوئی تو اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند نے ادارۂ حربیہ کی اصطلاح وضع کی تھی ،جس کا پہلا ڈکٹیٹر آپ کو بنایا گیا تھا ٭اپنے استاد حضرت شیخ الہند ؒ کی قائم کردہ انجمن جمعیۃ الانصار کے سر گرم کار کن تھے،اور قاسم المعارف کے نام سے اسکا ایک ذیلی ادارہ قائم کیا ٭۱۹۲۸ء؁ میں نہرو کمیٹی کی رپورٹ پرآپ ہی نے شاندار تبصرہ اور ترمیمات کی تجاویز پیش کی ٭فتنۂ قادیانیت کی تردید میں ایک ماہانہ رسالہ البرہان کے نام سے جاری کیا، جس کے ایڈیٹر آپ خود تھے٭مولانا اشرف علی تھانویؒ کے استعفیٰ کے بعد دار العلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ کے صدر آپ ہی بنائے گئے۔ ۳۱؍ دسمبر ۱۹۵۲ء؁کو اپنے گھر واقع کوچۂ چیلاں ،دہلی میں وفات پائی ،اور وصیت کے مطابق مہرولی میں حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ کے مزار کے قریب ظفر محل کی دیوار کے نیچے آسودۂ خاک ہوئے ۔
سحبان الہندحضرت مولانا احمد سعید دہلوی ناظم عمومی اول جمعیۃ علماء ہند ۵؍ دسمبر ۱۸۸۸ء؁ کودہلی کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے ،ابتدائی تعلیم مولوی عبد المجید مصطفیٰ آبادی سے حاصل کی اور قرآن مجید حفظ کیا ۔گھریلو روزگار کی وجہ سے بچپن میںباضابطہ مدرسہ کی تعلیم کا موقع حاصل نہیں ہوپایا،مگر عہد ِطفولیت ہی سے آپ کے اندر خطابت کا فطری ملکہ تھا جس کی وجہ سے حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب ؒ کی نگاہ التفات اس جوہرِقابل پر پڑی اور آپ کی تعلیم کا خصوصی انتظام فرمادیا ۔ کچھ دنوں کاروباری مشغولیت کے ساتھ تعلیم حاصل کی پھر باقاعدہ مدرسہ امینیہ سے فارغ التحصیل ہوئے۔اور اپنی سحر البیانی اور طلاقت ِ لسانی کی بناء پر سحبان الہند کے لقب سے مشہور ہوئے ،آپ کو فنِ مناظرہ سے بھی خاص تعلق تھا نیز متعدد اصلاحی اور تبلیغی نوعیت کی کتابیں بھی تالیف فرمائیں ،جنت کی کنجی،دوزخ کا کھٹکا، اور اس جیسی بہت سی کتابیں آپ کی یاد گار ہیں ۔علم ِتفسیر اور ترجمۂ قرآن مجید سے
خاص لگائو تھا ،تفسیر کشف الرحمٰن اس موضوع پر آپ کی مشہور تصنیف ہے ۔مدرسہ امینیہ میں تدریس کے فرائض انجام دیئے اور پوری زندگی اپنے محسن استاد حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب ؒ کے مشن کی آبیاری کی ۔٭جمعیۃ علماء ہند کے قیام کے وقت اس کے اولین جنرل سکریٹری بنائے گئے ،جس کا پہلا دفتر مدرسہ امینیہ میں تھا ،اور مولانا احمد سعید دہلوی ؒ نے حضرت مفتی صاحبؒ کی رہنمائی میںجمعیۃ علماء ہند کے لئے ملک گیر تبلیغی دورے فرمائے٭شدھی تحریک کے فتنہ سے متاثرمسلمانوں کو ارتداد سے بچانے میں آپؒ کے جوہرِ خطابت کا بڑا حصہ ہے ،بعض مقامات پر آپ کے جوہر خطابت سے متاثر ہوکر پورے گائوں کے لوگ از سر نو مسلمان ہوگئے ٭حضرت مفتی صاحب ؒ کے ساتھ ۱۹۳۰ء؁ میں گجرات کی جیل میں اور۱۹۳۲ء؁ میں ملتان کی جیل میں رفاقت حاصل کی ،اس کے علاوہ ۱۹۲۱ء؁ ،۱۹۴۰ء؁ اور ۱۹۴۲ء؁ میں بھی جیل کی صعوبتیں برداشت کیں ،ا ن تمام تحریکات ِآزادی میں آپ کو آٹھ (8)مرتبہ گرفتار کیا گیا۔آپ کی اسارت کی مجموعی مدت تقریباً دس سال ہوتی ہے٭انقلاب ۱۹۴۷ء؁ میں دہلی اور پنچاب کے مسلمانوں پر جو قیامت گذری اس میںآپ نے اپنے جو ہرِ خطابت سے مسلمانوں کی داد رسی کے لئے راہ ہموار کی بالخصوص خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ؒ کے مزار اور اس کے آس پاس کے علاقوں کی حفاظت کے لئے گاندھی جی کو متوجہ کیا ٭۲۰؍ اکتوبر ۱۹۴۷ء؁ کو جمعہ کی نماز کے بعد دہلی کی تاریخی جامع مسجد میں مسلمانون کا جو عام جلسہ ہوا تھا اور جس میں مولانا ابو الکلام آزاد نے تاریخ ساز تقریر فرمائی تھی اور مسلمانوں کو ملک کی تقسیم کے نتیجہ میں پیدا شدہ نامساعد حالات سے مغلوب ہوکر ہندوستان سے ترک سکونت کر کے پاکستان جانے کے ارادہ سے باز رہنے کا مشورہ دیا تھا ،اس جلسہ کی صدارت حضرت سحبان الہند ؒ نے فرمائی تھی ٭۱۲؍ فروری ۱۹۵۸ء؁ کو مولانا ابو الکلام آزاد ؒ کے نماز جنازہ کی امامت کا شرف بھی آپ ہی کو حاصل ہوا۔٭آپ حد درجہ غیور طبیعت کے حامل تھے ایک بار پنڈت جواہر لعل نہرو نے اپنے سکریٹری جان متھائی کو مولانا کے پاس بھیجا تاکہ تین سو روپیہ ماہانہ وظیفہ کے کاغذات پر منظوری دے سکیں ،مولانا کاغذات کو پیشانی سے لگایا اور فرمایا کہ ’’پنڈت جی سے احمد سعید کا سلام کہنا ،اور کہنا کہ آزادی کی لڑائی لڑنا میرا فرض تھا اور ادائیگی فرض کی کوئی قیمت نہیں ہوتی‘‘حالانکہ مولانا کی آمدنی کے ذرائع محدود تھے ٭حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے دور ِصدارت میںآپ جمعیہ علماء ہند کے نائب صد ررہے ،حضرت مدنیؒ کی وفات کے بعد صدر منتخب ہوئے٭آپ سیاسی خیالات کے لحاظ سے نیشنلیسٹ مسلمان تھے ،آخر وقت تک کانگریس پارٹی سے وابستہ رہے اور اسی کے ٹکٹ پر ۱۹۵۷ء؁ میںپارلیمنٹ کا الیکشن بھی لڑے ،آپ مسلم لیگ کے دو قومی نظریہ کے شدید مخالف تھے اور اسے بر صغیر کے مسلمانوں کے لئے مہلک تصور کرتے تھے۔آپ نے ۴؍ دسمبر ۱۹۵۹ء؁ کواس عالم آخری سانس لی۔
حضرت شیخ الاسلام مولانا سیدحسین احمد مدنی ؒ صدر دوم جمعیۃ علماء ہند کی پیدائش۱۸۷۹ء؁ میںبمقام بانگر مئو ضلع انائو میں ہوئی۔آپ کا آبائی وطن قصبہ ٹانڈہ ضلع امبیڈکر نگر تھا ،چنانچہ ابتدائی تعلیم وطن مالوف میں ہوئی ،بعد ازاں دار العلوم دیوبند میں پوری تعلیم حاصل کی۔ آپ کے والد نے اپنے پورے خاندان کو لے کر مدینہ منورہ میں اقامت اختیار کرلی ،اس بناء پر یہ پورا خاندان مدینہ منورہ میں آباد ہوگیا ، مسجد نبوی میں مدرس ہوئے،سولہ(16) برس تک تدریس کی خدمت انجام دی ،۱۹۱۶ء؁ میں جب حضرت شیخ الہند ؒ حجاز مقدس سے گرفتار ہوئے اسی وقت سے عملی طور پر آپ ؒنے حضرت شیخ الہند ؒ کی تحریک میں شمولیت اختیار کی ،اور حضرت شیخ الہند ؒ اور ان کے دیگر رفقاء کے ساتھ گرفتار ہوئے۔۸؍جون ۱۹۲۰ء؁ کو تین برس سات ماہ کی قید کے بعدجزیرہ مالٹا سے رہا ہو کر ہندوستان پہونچے اور حضرت شیخ الہند ؒ کے مشن کو آگے بڑھانے کے لئے ہندوستان میں ہی اقامت اختیار کرلی ۔ کچھ عرصہ سلہٹ میں تدریسی خدمات انجام دیں ،بعد ازاں دار العلوم دیوبند کے صدر المدرسین اور شیخ الحدیث کی حیثیت سے دیوبند بلائے گئے اور اخیر عمر تک اس منصب پر فائز رہے۔اور اسی کے ساتھ ساتھ جمعیۃ علماء ہند کے پلیٹ فارم سے تحریک آزادی کی قیادت بھی فرماتے رہے۔آپ کے علمی تبحر اور جلالت شان کا مظہر’’ مکتوبات شیخ الاسلام‘ ‘کی چار جلدیں ہیں ،اور آپ کی خود نوشت’ ’نقشِ حیات‘‘محض ایک آپ بیتی نہیں بلکہ ہندوستان میں جد و جہد آزادی کی سو سالہ تاریخ کا ایک مستند ماٰخذ ہے ۔٭حضرت شیخ الاسلام ؒ کی مالٹا سے رہائی کے بعد ہندوستان میں ترکِ موالات کی تحریک پورے شباب پر تھی ،چنانچہ اس کو کامیاب بنانے میں سر گرم حصہ لیا ،جس کی بناء پر کراچی میں آپ پر مقدمہ چلا اور حضرت شیخ الاسلام ؒنے انگریز جج کے رو برو ۲۹؍ ستمبر ۱۹۲۱ء؁ کوجو عدالتی بیان دیا وہ شجاعت و مردانگی اور اسلامی حمیت کا ایک روشن باب ہے ۔حضرتؒ نے اپنے بیان میں فرمایا کہ’’ اگر مذہبی فرائض کا لحاظ و احترام نہ کیاگیا تو اس صورت میں کروڑوں مسلمانوں کو اس مسئلہ کا تصفیہ کر لینا چاہئے کہ آیا و ہ مسلمانوں کی حیثیت سے زندہ رہنے کو تیار ہیں یا حکومت برطانیہ کی رعایا کی حیثیت سے۔اگر گورنمنٹ مذہبی آزادی چھیننے کے لئے تیار ہے تو مسلمان جان تک قربان کر دینے کو تیار ہوں گے اور میں پہلا شخص ہوں گا جو اپنی جان قربان کروں گا ‘‘ ان آخری الفاظ پر بے ساختہ مولانا محمد علی مرحوم نے حضرت مدنیؒ کے قدم چوم لئے ٭تحریکِ آزادی کے دور میں حضرت شیخ الاسلام ؒ نے دو قومی نظریہ کی تردید کی اور ہندوستان کے مخصوص حالات میں ہندو مسلم اتحاد و تعاون کے جواز اور ضرورت پر کئی ایک رسالے تحریر فرمائے،جن کی معنویت آج ماضی کے مقابلہ میں زیادہ محسوس کی جاسکتی ہے،مگر اس وقت کے نا عاقبت اندیش مسلمانوںنے حضرت کے ساتھ اس موقف کے اختیار کرنے کی بناء پر گستاخیاں اور بد تمیزیاں کیں ٭حضرت مدنیؒ ہندوستان کی تقسیم کو اسلام، مسلمانوں اور اہل ِ وطن سب کے لئے مضر سمجھتے تھے،آپ نے اپنی تحریر و ں اورتقریروں کے ذریعہ علیٰحدگی اختیار کرنے کے عظیم خطرات سے مسلمانوں کو آگاہ کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی ٭حضرت شیخ الاسلامؒ کے دور صدارت میں جمعیۃ علماء ہند کے دفتری نظام کا عملی قالب وجود میں آیا،اس سے پہلے جمعیۃ علماء کا نجی دفتر نہیں تھا بلکہ ایک کرایہ کی عمارت میں یہ نظام چل رہا تھا ،آپ کی سر پرستی میں ساٹھ ہزار روپیہ میں جمعیۃ علماء ہند کے دفتر کے لئے گلی قاسم جان ،پرانی دہلی میں ایک بڑی عمارت خریدی گئی ٭سائمن کمیشن کی مخالفت کی اور وردھا تعلیمی اسکیم پر تنقید کی نیز شاردا ایکٹ اور سول میرج کے قانون کے خلاف تحریک چلائی ٭شریعت بل(۱۹۳۷ء؁)اور امارت ِشرعیہ کے قیام کی جد و جہد آپ کا بڑا کار نامہ ہے ٭آپ کو بارہا جیل جانا پڑا ،۱۹۳۰ء؁ میں جمعیۃ علماء ہند نے سول نافرمانی تحریک کے لئے جو ادارۂ حربیہ قائم کیا تھا اس کا ایک اہم ستون آپ کی ذاتِ گرامی تھی ،چنانچہ اس موقع پر آپ کو گرفتار کیا گیا ،اس کے علاوہ بھی تحریک آزادی کے الگ الگ موڑ پر آپ نے گرفتاریاں دیں ،۲۵؍ جون ۱۹۴۲ء؁ سے ۲۳؍ جنوری ۱۹۴۳ء؁ تک مرادآباد جیل میں اور اس کے بعد ۲۶؍ اگست ۱۹۴۴ء؁ تک نینی جیل الٰہ آباد میں تقریباً ۲؍ برس ۲؍ ماہ قید رہے مگر آزاد ہندوستان میں جب آپ کو ملک کا ایوارڈ’’پدما و بھوشن‘‘ پیش کیا گیا تو اس کو واپس کردیا ۔۵؍دسمبر ۱۹۵۷ء؁ کو دیوبند میںانتقال ہوا ،اور مزار ِقاسمی میں اپنے استاد حضرت شیخ الہندؒ کے جوار میں مدفون ہوئے۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker