Baseerat Online News Portal

مسلم معاشرہ میں دارالقضاء کی ضرورت و اہمیت

بسم اللہ الرحمن الرحیم
مفتی محمد اشرف خان قاسمی
اللہ تعالی نے ہمیںایک ایسا مذہب عطا فرمایا ہے جو اپنے تمام شعبوں میں کامل اور مکمل ہے اسلام ایک ایسامذہب ہے جس میں انسانی زندگی کے چھوٹے سے چھوٹے مسئلہ کا حل اور بڑے سے بڑے جھگڑے کا علاج موجود ہے کوئی انسان اسی وقت دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کر سکتا ہے جب وہ دین اسلام کے تمام تر تعلیمات اور احکام پر مکمل طور پر عمل کرے دین اسلام کے جتنے شعبے (ایمانیات عبادات اخلاقیات معاملات اور معاشرت )ہیں ان تمام کے حقوق کی بجا آوری کو اپنا اولین فریضہ سمجھے اور سنت رسول ﷺ کے مطابق ان پر عمل کرے تو یقینا دنیا و آخرت کی کامیابی اسکے قدم چومے گی اور انسان دنیاوی و اخروی زندگی میں سر خرو ہوگا۔
انسان پر از روئے شریعت جو احکام اور حقوق عائد ہوتے ہیں وہ دو طرح کے ہیں ۔ اول حقوق اللہ دوسرے حقوق العباد ۔حقوق اللہ یعنی وہ حقوق جن کا تعلق براہ راست اللہ تعالی اور بندے سے ہو جیسے نماز ،روزہ ،حج ، زکوۃ اور قربانی و غیرہ۔اور حقوق العباد یعنی وہ حقوق جن کا تعلق ایک بندے کا دوسرے بندوں کے ساتھ ہوجیسے معاشرت(آپسی رہن سہن) شادی بیاہ خرید و فروخت اور دیگر لین دین وغیرہ۔
قرآن و حدیث میں حقوق اللہ کو ادا کرنے کی بہت تاکید آئی ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ حقوق العباد کی اہمیت بتائی گئی ہے اس کی حفاظت اور اس کی ادائیگی کی بہت زیادہ ترغیب دی گئی ہے اس میں کوتاہی کرنے اور دوسروں کے حقوق ادا نہ کرنے پر سخت وعید آئی ہے اور اس کو ناقابل معافی گناہ قرار دیا گیاہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن ہر حق والے کو اس کا پورا پورا حق دیا جائیگا یہاں تک کہ اگر ایک سینگ والی بکری نے بغیر سینگ والی بکری کو مارا تھا تو اس دن سینگ والی بکری سے بھی اس کا بدلہ لیا جائیگا۔
اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام ؓ سے دریافت فرمایا کہ تم جانتے ہو مفلس کسے کہتے ہیں؟ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کہ جس کے پاس نہ درہم و دینار یعنی مال و دولت ہو اور نہ کوئی ساز و سامان ہو اس کو مفلس کہتے ہیں ، آقاء دوجہاں ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں مفلس شخص وہ ہے جو قیامت کے دن بہت سارے اعمال نماز روزہ اور زکوۃ ساتھ لائیگا لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی کسی پہ جھوٹا الزام لگایا ہوگا کسی کا مال ناحق کھایا ہوگا کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا پھر اس شخص کی ساری نیکیاں ان حقدار لوگوں کو دیدی جائینگی اگر معاملہ برابر سرابر رہے تو ٹھیک ہے ورنہ ان مظلوم لوگوں کے گناہ اس پر لاد دئیے جائیں گے اور اس کو جہنم میں پھینک دیا جائیگا۔
اس لئے حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق کا معاملہ نہایت اہم ہے اس میں کوتاہی دنیا میں جھگڑے کا سبب اور آخرت میں نیکیوں کے باوجود ناکامی اور اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی کا ذریعہ بنتی ہے ۔
چنانچہ انسان پر دو طرح کے حقوق عائد ہوتے ہیں ایک حقوق اللہ اور دوسرے حقوق العباد اور ان کو دونوں طرح کے حقوق کی ادائیگی انسان پر اپنی کامیابی کے لئے ضروری ہے لیکن ایسا ہوتا رہا ہے کہ انسان اپنے فرائض کو انجام دینے میں سست اور غافل رہتاہے لیکن اپنے حق سے بڑھ کر لینے میں بہت چست نظر آتاہے اس کے بڑھے ہوئے حوصلے اللہ تعالی کے بنائے ہوئے قانونی دائرہ کو توڑنا چاہتے ہیں اور انسان زیادہ کی طلب میں کبھی دوسروں پر اپنی برتری اور طاقت کے اظہار کے لئے کبھی دوسروں کو پریشان کرنے کے لئے اور کبھی غلط فہمی میں دوسروں کے حقوق پامال کرتا ہے اور یہی بات آپسی جھگڑوں کی وجہ بن جاتی ہے اور جھگڑا جب شروع ہوتا ہے تو کبھی ایک دوسرے کی حق تلفی اور تعلقات کے خاتمہ پر ختم ہو جاتا ہے اور ایک نوبت یہاں تک آجاتی ہے کہ ایک دوسرے پر حملے ہونے لگتے ہیں دونوں ایک دوسرے سے دست وگریباں ہوجاتے ہیں ایسے موقع پر ظلم کو روکنے حقدار کو حق دلوانے اور ہر شخص کو اپنے حد میں رکھنے کا نام ہی عدل و انصاف ہے ۔جس کو دین اسلام نے خصوصی اہمیت دی ہے عدل و انصاف قائم رکھنے اور لوگوں کے جھگڑوں کو انصاف کے ساتھ حل کرنے کا حکم نہ صرف امت کو دیا گیا بلکہ خود انبیاء کرام جو گناہوں سے معصوم ہوا کرتے ہیں ان کو بھی اس کا حکم دیا گیا جس کی بہت سی مثالیں قرآن پاک میں موجود ہیں۔
اللہ تعالی نے حضرت داؤد علیہ السلام کو حکم فرمایا : اے داؤد ؑ ہم نے تمہیں زمیں پر نائب بنایا ہے تم لوگوں کے درمیان حق اور سچائی کے ساتھ فیصلہ کرو!(سورہ ص/۲۶) اسی طرح رسول اکرم ﷺجن کے دشمن بھی ان کو صادق و امین کہہ کر پکارتے تھے ان کو بھی یہ حکم سنایا گیا تھا کہ لوگوں کے آپسی معاملات میں اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کے مطابق فیصلہ فرمایا کیجئے۔ (سورہ مائدہ /۴۸)
عدل و انصاف کے اسی عمل کو قضا کہتے ہیں اور جہاں عدل و انصاف قائم کیا جائے اسے محکمہ قضاء یا دارالقضاء کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ اتنا عظیم الشان عمل ہے کہ خود نبی کریم ﷺ اس معاملہ میں بہت توجہ فرماتے تھے حتی کہ خود نبی کریم ﷺ لوگوں کے جھگڑے سنتے اور ان کے معاملات کا حکم خداوندی کے مطابق فیصلہ فرماتے، اسی طرح نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو باقاعدہ اس کام کا حکم فرمایا اور بہت سے صحابہ کرام کو اس کام پر مامور فرمایا، چنانچہ حضرت ابن اسید ؓ کو مکہ میں قاضی بنایا اور حضرت معاذ ؓ کو یمن کا قاضی بناکر بھیجا تو ان سے دریافت فرمایا کہ کیسے فیصلہ کروگے انہوں نے عرض کیا کہ اللہ کی کتاب کے ذریعہ فیصلہ کرونگا ، فرمایا : اگر کتاب اللہ میں مسئلہ کا حل نہ مل پائے تو؟ عرض کیا رسول اللہ ﷺ کی سنت سے فیصلہ کرونگا ، فرمایا : اگر سنت میں بھی نہ ہو تو ؟ حضرت معاذ ؓ نے عرض کیا کہ میں اجتہاد سے کام لوں گا یعنی (کتاب اللہ و سنت رسول ﷺ میں غور و فکر کرکے )قیاس سے فیصلہ کرونگا۔ حضرت معاذ ؓ کا یہ جواب سن کر نبی پاک ﷺ بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے جس نے اپنے رسول کے قاصد کو اس بات کی توفیق عطا فرمائی ۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓ کو قضاء کی ذمہ داری سونپی تو انہوں نے عرض کیا کہ میں نوجوان ہوں محکمہ قضا کا علم اور تجربہ نہیں ہے تو آپ ﷺ نے ان کو دعا دی کہ اللہ تمہارے دل کی رہنمائی کرے گااور تمہاری زبان کو لغزش سے بچائے گااور پھریہ اصول تعلیم فرمایا کہ جب تمہارے سامنے فریقین آکر بیٹھیں تو اس وقت تک فیصلہ نہ کرنا جب تک دوسرے فریق سے بھی اس کی بات نہ سن لو جیسا کہ تم نے پہلے فریق سے سناہے، تمہار ے لئے اس صورت میں فیصلہ واضح ہونے کا زیادہ امکان ہے۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے ہمیشہ قضاء کی خدمت انجام دی اور کبھی بھی مجھ کو کسی فیصلہ میں تردد نہیں ہوا۔
عہد نبوی ﷺ کے بعد بھی اس معاملہ کی اہمیت کو برقرار رکھا گیا اور خود صحابہ کرام ؓ نے اس فریضہ کی انجام دہی میں مکمل توجہ دی خلیفہ اول حضرت ابوبکرؓ کے دور میں انہوں نے خود بھی فیصلے کئے ہیں اور مروی ہے کہ حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ مجھے قاضی بنائیے تو حضرت ابوبکرؓ نے ان کو قاضی بنایا۔ خلیفہ ثانی سیدنا حضرت عمر فاروق ؓ کا دور تو عہد قضا کا زرین باب مانا جاتا ہے اور ان کا وہ خط جو انہوں نے حضرت ابوموسی اشعری ؓ کو لکھا تھا اس باب میں بنیادی اصول کا درجہ رکھتا ہے جس میں انہوں نے عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے اور تمام لوگوں کے ساتھ برابری سے پیش آنے حق واضح ہوجانے پر غلطی سے رجوع کرنے اور اللہ تعالی کے لئے مخلص رہنے جیسی بیش بہا نصیحتیں فرمائی ہیں۔
خود سیدنا حضرت عمر ؓ بھی لوگوں کے جھگڑے سن کر فیصلہ فرمایا کرتے تھے ان کا یہ واقعہ اسلام میں اطاعت کے لازم ہونے میں دلیل کے طور پر بیان کیا جاتا ہے کہ ایک یہودی اور ایک بظاہر مسلم مگر دل سے منافق شخص میں کسی بات پر جھگڑا ہوا بات دربار رسالت مآب ﷺ تک پہونچی عدل و انصاف کے پیکر مجسم ﷺ نے معاملہ کی شنوائی کے بعد غیر جانبدارانہ اور انصاف پر مبنی فیصلہ یہودی کے حق میں سنایا، لیکن منافق کو اطمینان نہ ہوا اس نے باہر آکر یہودی سے کہا کہ یہ فیصلہ مجھے منظور نہیں چلو عمر کی عدالت میں فیصلہ کرواتے ہیں جب معاملہ حضرت عمر تک پہونچا اور باتوںباتوں میں یہودی کی زبان سے نکل آیا کہ آقاء دوجہاں ﷺ نے میرے حق میں فیصلہ فرمادیا ہے حضرت عمر طیش میں آگئے اوراٹھ کر اندر تشریف لے گئے کچھ دیر بعد باہر آئے تو ہاتھ میں ننگی تلوار تھی اسی تلوار سے اس منافق کا سر کاٹ کر جہنم رسید کیا اور فرمایا جو رسول خدا کا فیصلہ نہ مانے اس کا فیصلہ میری تلوار ہے۔ اسی طرح امیر المومنین حضرت علی ؓ کا مشہور واقعہ ہے کہ آپ کی زرہ گم ہوگئی ، آپ نے وہ زرہ ایک یہودی کے پاس دیکھی آپ نے یہودی سے فرمایا : یہ زرہ جو تمہارے پاس ہے میری ہے فلاں دن میرے پاس سے گم ہو گئی تھی، یہودی کہنے لگا : یہ میری زرہ ہے میرے قبضہ میں موجود ہے آپ کیسی بات کر رہے ہیں؟ اگر آپ میری زرہ پر اپنا دعوی کرتے ہیں تو ایک ہی راستہ ہے کہ میرے اور آپ کے درمیان مسلمانوں کا قاضی فیصلہ کرے۔ چنانچہ معاملہ قاضی شریح کی عدالت میں پیش ہوا ، قاضی شریح نے جب امیر المومنین کو دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے امیر المومنین نے فرمایا بیٹھے رہیں قاضی شریح بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا میری زرہ کھو گئی تھی میں نے اس یہودی کے پاس دیکھا ہے ۔ قاضی موصوف نے یہودی سے پوچھا تمہیں کچھ کہنا ہے؟ یہودی نے کہا کہ میری زرہ میرے قبضہ میں ہے اور میری ملکیت ہے ۔ قاضی شریح نے زرہ دیکھی اور کہا کہ اے امیر المومنین اللہ کی قسم یہ زرہ آپ کی ہی ہے اور آپ کا دعوی بالکل سچ ہے لیکن اسلامی قانون کے مطابق آپ کے لئے گواہ پیش کرنا واجب ہے۔ حضرت علیؓ نے بطور گواہ اپنے غلام قنبر کو پیش کیا اس نے آپ کے حق میں گواہی دی پھر آپ نے حسنؓ اور حسینؓ کو پیش کیا ان دونوں نے بھی آپ ؓ کے حق میں گواہی دی۔ قاضی شریح نے کہا : آپ کے غلام کی گواہی تو میں قبول کرتا ہوں لیکن آپ کے دونوں صاحبزادوں کی گواہی قبول نہیںکرسکتا لہذا آپ کو دعوی ثابت کرنے کے لئے مزید ایک گواہ چاہئے کہ اسلام میں دعوی ثابت کرنے کے لئے کم از کم دو گواہ ضروری ہیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم ! میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کو رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ حسنؓ اور حسینؓ نوجوان جنتیوں کے سردار ہیں۔قاضی شریح نے کہا کہ اللہ کی قسم ! یہ بالکل سچ ہے حضرت علیؓ نے فرمایا کہ آپ نوجوان جنتیوں کے سرداروں کی گواہی قبول نہیں کرینگے؟قاضی شریح نے کہا کہ یہ دونوں آپ کے بیٹے ہیں اور شریعت میں باپ کے حق میں بیٹے کی گواہی قابل قبول نہیں ہے، یہ کہہ کر قاضی شریح نے یہودی کے حق میں فیصلہ کیا اور زرہ یہودی کے حوالہ کردی۔ یہودی یہ دیکھ کر کہ مسلمانوں کے امیر کا معاملہ عدالت میں پیش ہوتا ہے اور قاضی اپنے امیر کے خلاف شریعت کے اصول و ضوابط کے مطابق فیصلہ سنا دیتا ہے اور امیر المومنین بلا چوں و چرا اس کا فیصلہ قبول بھی کر لیتے ہیں حیرت و تعجب میں پڑگیا اور کہا کہ اے امیر المومنین ! آپ کا دعوی بالکل سچ ہے اور یقینا یہ زرہ آپ کی ہی ہے فلاں دن یہ آپ سے گر گئی تھی تو میں نے اٹھا لیا تھا لہذا یہ آپ ہی کی ہے آپ لے لیں ۔ اور پھر کلمہ شہادت پڑھ کر حلقہ اسلام داخل ہوگیا ۔ پھر حضرت علیؓ نے وہ زرہ اور اپنا گھوڑا بھی اس کو ہدیہ کر دیا۔
یہ دو واقعات بطور مثال کے پیش کئے گئے ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے کئی واقعات ہیں جو اسلام کی عدالت و انصاف پسندی کی سچی تصویر ہیں اور تاریخ کی کتابیں ایسے واقعات سے بھری پڑی ہیں جن میں قاضیوں اور حاکموں کے دوٹوک فیصلوں نے دنیا میں اسلامی نظام عدل و انصاف کی ایک نمایاں مثال قائم کی ہیں جن میں قاضی شریح کے علاوہ قاضی ایاس خلیفہ عمر بن عبدالعزیز قاضی شریک قاضی ابوحازم قاضی ابویوسف قاضی منذر بن سعید وغیرہ کے نام جگ ظاہر ہیں ، الغرض ہر زمانہ میں مسلمانوں نے اسلام کے اس مقدس فریضہ کو انجام دینے کے لئے بھرپور کوششیں کی ہیں۔
شریعت مطہرہ نے امت مسلمہ کو بھی اس بات کا پابند بنایا ہے کہ اگر کبھی آپس میں کوئی اختلاف یا جھگڑا ہو جائے تو اسے شریعت کی روشنی میں ایک دوسرے کے حق کے حفاظت کے ساتھ ہی حل کیا جائے ۔ فرمان خداوندی ہے : اے ایمان والو! اگر تم کسی معاملہ میں جھگڑ پڑو تو اس معاملہ کو حل کرنے کے لئے اللہ اور رسول ﷺ کے پاس لیجاؤ۔(سورہ نساء /۵۹) اور ایک دوسری جگہ قسم کھا کر اللہ تعالی فرماتے ہیں :قسم ہے آپ کے رب کی کہ وہ مومن نہ ہونگے جب تک وہ آپ کو ایسے معاملات میں جن میں جھگڑا ہو آپ کو حاکم (فیصلہ کرنے والا) نہ بنائیں اور آپ کے فیصلہ کو قبول کرنے میں دلوں میں تنگی نہ پائیں اور فیصلہ کو خوشی سے قبول کر لیں۔ (سورہ نساء /۶۵) اسی طرح ایک اور جگہ فرمایا گیا ہے کہ اگر کوئی قرآن و حدیث کے مطابق اپنے معاملات کا فیصلہ نہ کرے تو وہ ظالم ہے فاسق ہے اور کافر ہے۔
مسلم معاشرہ میں ہر دور میں خواہ وہ حاکم ہوں یا محکوم نظام قضاء قائم کرنے کا خاص اہتمام رہا ہے وطن عزیز میں بھی مسلمانوں نے ہر دور میں قضاء کا نظام قائم رکھا اور مسلمانوں کی حکومت کے زمانہ میں تو عدالتوں میں باقاعدہ مسلم قاضی ہوا کرتے تھے جو مسلمانوں کے معاملات میں شریعت کے مطابق فیصلہ کیا کرتے تھے لیکن افسوس کہ انگریزوں نے اپنی اسلام دشمنی کی وجہ سے اولا تو مسلم قاضیوں کی تقرری موقوف کر دی پھر آہستہ آہستہ نظام قضاء کو ہی ختم کردیا اور مسلمانوں کے پرسنل مسائل کو بھی عام عدالتوں کے حوالہ کر دیا اور مسلمان جو اپنے معاملات شریعت کے مطابق حل کراتے تھے اس میں ایک بڑی دقت یہ محسوس کرنے لگے کہ بہت سے ایسے مسائل جن میں غیر مسلموں کا فیصلہ مسلمانوں کے حق میں نافذ نہیں ہوتا، ان مسائل میں مسلمان عدالتوں کے بہترین نظام کے باوجود بھی اپنے پرسنل لاء پر عمل کرنے میں عاجز و بے بس نظر آنے لگے۔
دوسری طرف دین سے دوری اسلامی احکام سے ناواقفیت کی وجہ سے مسلم معاشرہ میں بھی عورتوں پر ظلم ہونے لگا اور کئی جگہوں پر نوبت یہاں تک پہونچی کہ عورتوں کے مرتد ہونے تک کی خبریں آنے لگیں۔ علامہ انور شاہ کشمیریؒ نے تحریر فرمایا تھا :آج اگر اعداد و شمار سے کام لیا جائے اور نظر تدقیق و تفتیش سے دیکھا جائے تو ہندوستان میں ایسی عورتوں کی تعداد جو اپنے ؤخاوندوں کے جور و ستم کی تختہ مشق بنی ہوئی ہیں یا خاوندوں کے مفقود اور لاپتہ ہوجانے کی وجہ سے نان شبینہ کی محتاج ہیں، یا ظالم شوہروں نے ان کو معلقہ بنا کر چھوڑ رکھا ہے لاکھوں تک پہونچتی ہے۔ایسی مظلوم عورتیں جب کہ کسی طرح اپنے خاوندوں کے جور و ستم سے خلاصی حاصل نہیں کر سکتیں تو وہ بے بسی اور بے کسی کے عالم میں بدحواس ہو کر ارتداد کی طرف متوجہ ہوتی ہیں ہندوستان میں اس قسم کے دلخراش اور ناگفتہ بہ کتنے ہی کیس ہو چکے ہیں ۔۔۔دردمند مسلمانوں کا اس وقت کا سب سے بڑا فریضہ ہے کہ وہ ان بے کس اور بے بس مظلوم عورتوں کی گلو خلاصی کا پہلی فرصت میں سامان کریں اور اس کی ایک ہی سبیل (طریقہ) ہے کہ محکمہ قضاء (دارالقضاء) قائم کرانے کی کوشش کریں اور محکمہ قضاء ان بے چاریوں کے مصائب کا علاج کرے۔ (خطبہ صدارت جمعیۃ العلماء اجلاس پشاور دسمبر ۱۹۲۷؁ء)
ایک بڑی مصیبت یہ ہے کہ ملک کی فرقہ پرست طاقتیں آزادی کے بعد سے ہی مسلسل اس کوشش میں لگی ہوئی ہیں کہ کسی طرح ملک کے قانون سے مسلم پرسنل لاء یعنی اسلامی قانون کو جو کہ اس ملک کے مسلمانوں کی ایک امتیازی شان ہے اس کو ختم کر دیا جائے اس کے لئے موجودہ حکومت کی طرف سے ہر ممکن کوشش ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے کبھی یوگا تو کبھی سوریہ نمسکار کے ذریعہ مسلم بچوں کو اس کے لئے مجبور کرنے کی کوشش تو کبھی ملک میں یونیفارم سول کوڈ لاگو کرنے کی دھمکی تو کبھی تین طلاق کے نام پر اتنا بڑا پروپیگنڈہ کہ پورے ملک کی میڈیا اسی کا رونا روئے ، یہ ایک ایسی سازش ہے جس کے ذریعہ مسلم سماج کی روح کو ہی فنا کردیا جائے۔ اللہ تعالی کا لاکھ شکر ہے کہ اللہ تعالی نے اس ملک کے بسنے والے مسلمانوں کے لئے ایک ایسا پلیٹ فارم عطا فرمایا ہے جو ہر نازک موڑ پر مسلمانوں کی اور قانون اسلام کی حفاظت کے لئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر سامنے آتا ہے اور پھر شیطان کے چیلوں اور اسلام کے دشمنوں کو منھ کی کھانی پڑتی ہے جسے ہم اور آپ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نام سے جانتے ہیں یہ ملک کے تمام مسلمانوں کا مشترکہ اور متحدہ پلیٹ فارم ہے جس میں تمام مسلک کے نمائندہ حضرات شامل ہیں۔
انہی ناگفتہ بہ حالات کے پیش نظر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بور ڈ نے اجلاس کلکتہ ۱۹۸۵؁ء میں یہ فیصلہ کیا کہ ملک میں جگہ جگہ دارالقضاء کا نظام قائم کیا جائے تاکہ مسلمان اپنے خاندانی و گھریلو مسائل (نکاح طلاق ھبہ اور وراثت ) کو شریعت کے مطابق حل کر سکیں اور ہمارے ستم رسیدہ و مظلوم طبقہ کو آسانی کے ساتھ کم سے کم خرچ میں اور کم وقت میں اور سب سے اہم بات یہ کہ شریعت کے مطابق انصاف مل سکے اور مسلمان اپنے قانون شریعت پر مکمل آزادی کے ساتھ عمل کر سکیں اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپنے پلیٹ فارم سے ہونے والے تقریباً ہر اجلاس سے مسلمانوں کو یہ آواز دی کہ جگہ جگہ دارالقضاء قائم کئے جائیں اور مسلمان اپنے گھریلو معاملات کو حل کرنے کے لئے دارالقضاء سے رجوع کریں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے حالیہ اجلاس منعقدہ نومبر ۲۰۱۶؁ء کلکتہ میں بھی مسلمانوں کو اس بات کی طرف متوجہ کیا گیا کہ مسلمان اپنے گھریلو معاملات کو دارالقضاء سے ہی حل کریں اور یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ملک میں جہاں جہاں دارالقضاء نہیں ہیں وہاں جلد از جلد دارالقضاء قائم کئے جائیں۔اس فیصلہ کے بعد ملک کے بڑے بڑے شہروں اور بہت سے دوسرے علاقوں میں دارالقضاء قائم کئے گئے اور ملک کے مسلمان بھی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اس فیصلہ کے آگے سرتسلیم خم کرتے ہوئے دارالقضاء سے رجوع ہونے لگے اور وہاں سے فیصلہ کروانے کو اپنے لئے باعث سعادت سمجھنے لگے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی اس جہد مسلسل اور فکرمندی کا نتیجہ کہ مہاراشٹر میں بھی مختلف جگہ دارالقضاء قائم ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے پہلا دارالقضاء آکولہ میں قائم ہوا جس کی بنیاد قاضی القضاۃ حضرت مولانا قاضی مجاھد الاسلام رحمۃ اللہ علیہ نے رکھی اس کے بعد دھولیہ پوسد پونہ بمبئی رتناگری شری وردھن شولاپور کولہاپور اور دیگر بہت سے شہروں میں دارالقضاء کا قیام عمل میں آیا اور اب مہاراشٹر میں کل چالیس دارالقضاء آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے زیر نگرانی قائم ہیں
دارالقضاء آل اندیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کولہاپور
۲۸؍ اپریل ۲۰۱۳؁ء کو ضلع کولہاپور و اطراف کے لئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء کی جانب سے سیکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ اور کنوینر دارالقضاء کمیٹی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ حضرت مولانا عتیق احمد بستوی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے مبارک ہاتھوں سے دارالقضاء کا قیام عمل میں آیا ۔ جس کی مکمل نگرانی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کررہا ہے اور علاقہ میں اس دارالقضاء سے مسلمانوں کو بڑا فائدہ پہونچ رہا ہے دور دراز سے لوگ آکر اپنے معاملات کو شریعت کے مطابق حل کروا رہے ہیں اور دارالقضاء کے فیصلہ کو دل و جان سے قبول کر رہے ہیں، یہ دارالقضاء دارالعلوم کولہاپور (شرولی ) پونہ بینگلور روڈ نیشنل ہائی وے نمبر ۴ پر واقع ہے اور مدرسہ ھذا کے زیر انتظام ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ مسلمانوں کو یہ آواز دیتا ہے کہ مسلمان اپنے عائلی و گھریلو مسائل نکاح طلاق ھبہ وراثت وغیرہ کو دارالقضاء سے ہی حل کریں اور دنیا و آخرت میں کامیابی اور اللہ تعالی کی رضامندی حاصل کریں۔
اپیل۔
لہذا دارالقضاء کولہاپور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ضلع کولہاپور و اطراف (سانگلی اور ستارہ) کے مسلمانوںسے یہ اپیل کرتا ہے کہ اپنے گھریلو جھگڑے (جیسے میاں بیوی کے جھگڑے، شوہر کا اپنی بیوی کو کھانا خرچہ نہ دینا ،بیوی کے ساتھ گالی گلوج کرنا، اس کے ساتھ مارپیٹ کرنا، اس کے حقوق ادا نہ کرنا، بیوی کو چھوڑ کر غائب و لاپتہ ہوجانا، شوہر کا طلاق دیکر مکر جانا اسی طرح بیوی کا اپنے شوہر کی نافرمانی کرنا باربار بغیر کسی وجہ کے میکہ چلی جانا ان کے حقوق ادا نہ کرنا وغیرہ )کو صلح ،خلع، طلاق یا بیوی کی رخصتی وغیرہ کے ذریعہ قرآن و سنت کے مطابق حل کرنے کے لئے اسی طرح دو لوگوں یا دو گروپ کے درمیان صلح مصالحت کے لئے نیز اپنے مالی حقوق کو حاصل کرنے اور اپنے والدین اور پُرکھوں کے چھوڑے ہوئے مال (مال وراثت ) کو شریعت کے مطابق تقسیم کروانے کے لئے دارالقضاء کولہاپور سے رجوع کریں ۔
* مضمون نگارآل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کے تحت چل رہے دارالقضاء کولہاپورکے قاضی شریعت ہیں ۔
دارالقضاء کولہاپور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ
وقت:
دوپہر ۱۲؍ بجے سے شام ۴؍ بجے تک
پتہ:
دارالقضاء کولہاپور ،آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ
دارالعلوم کولہاپور (شرولی )
نیشنل ہائی وے نمبر ۴؎ ، پونہ بینگلور روڈ شرولی
ضلع کولہاپور مہاراشٹر ۔ پن نمبر۔۴۱۶۱۲۲

You might also like