مضامین ومقالات

ہم کو قبروں کی زمینیں دے کر مت بہلائے

مدثراحمد
ایڈیٹر روزنامہ آج کاانقلاب،شیموگہ۔کرناٹک:۔9986437327
پچھلے ہی مہینے جسٹس سچر کمیٹی کی رپورٹ کے دس سال مکمل ہونے پر ملک کے مسلمانوں کی حالا ت پر جب ہم سر سری نگا ہ دوڑا کر دیکھیں گے تو یقینا ہمیں اس بات کا احساس ہوگا کہ موجودہ وقت میں بھی مسلمانوں کے حالات پہلے کی طرح ہی بد حال ہیں ۔ جو حالا ت 2001سے 2011؍ تک وہی حالات 2016؍ میں بھی ہیں ، نہ تعلیمی شعبے میں مسلمانوں کی خاطر خواہ بہتری آئی ، نہ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کو اہمیت دی گئی ، نہ مسلمان تعلیم یافتہ نوجوان یو پی یس سی کے امتحانات میں بڑی تعداد میں افسران بن سکے ، نہ پولیس میں انہیں ریزرویشن ملا، نہ انتظامیائی امور میں مسلمانوں کو نوکریاں دی گئیں ، اعلیٰ تعلیم کیلئے مسلمان طلباء کو نہ ریزرویشن دیا گیا ، مالی حالات کو مستحکم بنانے کے لیے قرضہ جات کی اسکیمیں مسلمانوں کیلئے آسان نہیں کی گئیں ، جن بینکوں کو قرضہ جات کی ادائیگی کیلئے منتخب کیا گیا ان بینکوں میں مسلمانوں کے ناموں کیلئے قرضہ جات دینے سے افسران کا انکار معمول رہاہے ، بے گھروں کے لئے ریاستی و مرکزی حکومتوں کے منصوبے ضرور ہیں لیکن مسلمانوں کو یہاں گھر ملنا نصیب کی بات ہے ، مسلمان کل بھی مزدور تھے آج بھی مزدور ہیں جبکہ مسلمانوں کے مقابلے میں دلتوں کی حالت کہیں زیادہ بہتر ہے۔ لیکن دوسری جانب ہم ہندوستان کی حکومتوں اور ان حکومتوں کی دریادلی سے استفادہ کرنے والی تنظیموں کی ستائش کرنا چاہیں گے جو ملی و قومی مفادات کو محدود دائرے میں رکھ کر پوری قوم کو خوش کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ کچھ سال قبل تک مسلمانوں کو ہر سال بجٹ میں حج کیلئے سبسڈی دے کر خوش کیا جاتا تھا ، جب مسلمانوں کو اس سبسڈی کی حقیقت کا پتہ چلا تو حکومتوں نے حج سبسڈی کے نظام کو بجٹ کی فہر ست سے خارج کردیا لیکن ایک بات ہندوستان کی آزادی کے بعد سے اب تک مسلمانوں کو خوش کرنے کیلئے باقاعدہ کی جارہی ہے ،گائوں کے گرام پنچایت سے لے کر شہر کے کارپوریشن تک ، ریاستوں کی اسمبلیوں سے لے کر ملک کی پارلیمنٹ تک مسلمانوں کو خوش کرنے کا ایک آسان ذریعہ ہے وہ ہے قبرستان کے لئے زمینیں دینا، مزاروں کی باز آباد کاری کے لیے کروڑو ں روپیے کا فنڈس دینا، جھنڈے کے ستون کے لئے جگہ مختص کرنا عام ہوگیا ہے اور جب بھی بجٹ میں مسلمانوں کو ان قبرستانوں ، مزاروں اور عیدگاہوں کے لئے اراضیوں کا اعلان کیا جاتاہے تو مسلمانوں میں اس قدر جوش بھر جاتاہے کہ وہ اعلان کرنے والی سیاسی جماعت کو مسلمانوں کی حقیقی ہمدرد سمجھ بیٹھتے ہیں اور سیاست کے نوٹنکیوں کو مسلمانو ں کا قائد سمجھ بیٹھتے ہیں ، سوال یہ جو مسلمان زندہ رہ کر سکون کی زندگی گزارنے سے قاصر ہیں وہ مرنے کے بعد قبرستانوں کی زمینیں لے کر کیا کریں گے ؟۔ حال ہی میں مولانا ارشد مدنی کو دہلی حکومت نے قبرستان کی زمین جاری کرنے کے دستاویزات سونپیں ہیں اور اس بات کو لے کر جمیعت میں خوب خوشی کی لہر پیداہوئی ہے ۔ ایسا معاملہ پہلا نہیں ہے بلکہ ہر ضلع میں ، ہر گائوں میں مسلمانوں کو اگر کچھ آسانی سے دیا جاتاہے تو وہ قبرستان کی زمینیں ہیں باقی سب مرنے تک نہیں ملتا۔ قوم سے ہمارا ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا مسلمانوں کی سوچ اس حد تک ہی محدود ہوچکی ہے کہ مسلمان اپنے لئے حکومتوں سے قبرستان کے لئے جگہ ، مسجدوں کے میناروں کے لئے مالی امداد ، مدرسوں کے لئے بورویل ، نابلد محلوں میں جھنڈوں کے محرابوں کے لئے جگہ یامالی امداد ، عرس کے موقع پر چادر وں کی امید، اجتماع کے موقع پر پانی کی رسائی ، جلسے و اجلاس کے لئے مائک کا پرمیشن ہی بڑے مدعے ہیں ؟۔ کیا ان مدعوں کی ہی آج مسلمانوں کو ضرورت ہے ؟۔ کیا ہم اس لائق ہی ہیں کہ حکومتوں کی بھیک کی زمینیوں پر اپنے آپ کو دفن کریں ، ہماری مسجدوں کے میناروں پر حکومتوں کا پیسہ لگے ؟۔ آخر کب تک ہم ان معمولی باتوں کو اپنے مدعے بناتے رہینگے ؟۔ آخر کب تک ہماری رہنماء تنظیمیں حکومتوں کے چاکلیٹس لے کر قوم کو خوش کرنے کی کوشش کرینگے ؟۔ اپنے معمولی مطالبات کی تکمیل پر کب تک قوم کو گمراہ کرتے رہیں گے ؟۔ پچھلے دس سالوں میں کیا کسی منچ یا اسٹیج سے سچر کمیٹی کی سفارشات کو لاگو کرنے کے لئے آواز بلند ہوئی ہے ؟۔ کیا ہم مسلمانوں نے کبھی اپنے لئے یونیورسٹیاں نہ سہی یونیورسٹیوں میں ریزرویشن کا مطالبہ کیا ہے ؟۔ کیا ہم نے آئی پی یس یا آئی اے یس میں مسلمانوں کے لئے ریزرویشن نہ سہی کلرک یا چپراسی جیسے عہدوں کے لئے ریزرویشن کا مطالبہ کیا ہے ؟۔ کیا ہم نے ہمارے لاکھوں مسلمان بے گھروں کے لئے گھر کا مطالبہ کیا ہے ؟۔ ہم نے ہمیشہ بابری مسجد کی باز آباد کاری کو مدعہ بنایا لیکن مسلمانوں کے لئے دس گز زمین کی کوٹھی کو اپنا مدعہ نہیں بنا یا ۔ یہ ہے ہمارا المیہ ، افسوس کی بات تو یہ ہے کہ آج سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کو ایک بریانی اور ایک پیپسی میں بکنے والی قوم قرار دے دیا ہے اور ہم ہر بار بریانی کھاکر اپنے ہاتھ صاف کررہے ہیں لیکن غیر اپنی قوموں کی فلاح و بہبودی کے لئے تعلیمی ادارے حکومتوں کے تعاون سے قائم کررہے ہیں ۔ انکی قوموں کے ریزرویشن کے لئے دھرنے و احتجاجات کاانعقاد کیا جارہاہے ، انکے مٹھوں و آشرموں میں بڑے بڑے لیڈروں کو بلایا جارہاہے اور اپنے مطالبات کی تکمیل کے لئے وزراء کو مجبورکیا جارہاہے جبکہ ہماری قوم کے مولانا سے لے کر عمائدین تک صبح تا شام سیاستدانوں سے ملاقات کے لئے وقت مانگتے ہیں ۔ آج غیرانکے اجلاس میں حکومتوں کے کارندوں کو بلاکر اپنے مطالبات کااعلان بھی کروارہے ہیں اور اسے مکمل ہونے تک پیچھا نہیں چھوڑ رہے ہیں جبکہ مسلمان اپنے اسٹیجوں پر سیاستدانوں کو بلاکر انکی گل پوشی و شال پوشی کے بعد پکچر ختم کررہے ہیں ۔ بس یہی فرق ہے ہم میں اور غیروں میں ۔ اس وجہ سے غیر آگے نکل چکے ہیں اور ہم ابھی نکلنے کی بھی سوچ نہیں رہے ہیں۔ انہیں حالات کے تنا ظر میں راحت اندوری نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’ہم کو قبروں کی زمینیں دے کر مت بہلائے ‘‘۔ کاش ہم قبروں کی زمینوں سے باہر نکل کر زندہ رہنے کی ضرورتوں کو ترجیح دیں تو یقینا مسلمانوں کی حالت بہتر ہوسکتی ہے ۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker