فقہ وفتاویٰمضامین ومقالات

آپ کے شرعی مسائل

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی

کیا شیطان فرشتوں سے افضل تھا ؟
سوال:- عام طورپر مقرر حضرات نقل کرتے ہیں کہ شیطان فرشتوں سے بھی اونچا درجہ رکھتاتھا اوران سے بھی افضل تھا ، جب اس نے اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے سے انکار کردیا ، تب اس کا درجہ گرادیا گیا ، یہ کہاں تک حقیقت ہے ؟ ( احمد علی ، سلطان شاہی )
جواب :- تفسیر کی کتابوں میں حضرت عبداللہ ابن عباس ؓکی روایت آئی ہے کہ دُھتکارے جانے سے پہلے ’ ابلیس ‘ کا نام ’ عزازیل ‘ تھا ، ابتداء ًاس کی رہائش زمین میں تھی ، اور وہ بڑا صاحب ِعلم تھا ؛ بلکہ علم کے لحاظ سے فرشتوں پر بھی فائق تھا ؛ ( تفسیر ابن کثیر :۱ ؍۱۳۰) لیکن یہ ایک جزوی فضیلت تھی،جو اسے حاصل تھی ، اور کوئی شخص یا کوئی مخلوق صرف اس جزوی فضیلت کی وجہ سے اشرف ہو جائے ، یہ ضروری نہیں ؛ کیوںکہ اس کی طرف سے جو تکبر اور انکار پیش آنے والا تھا ، وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا ، اور بظاہر یہ بات ناقابل فہم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اِس کے باوجود اس کو فرشتوں کے مقابلہ اشرف و افضل قرار دیا گیا ہو ، نہ جنوں کے لئے فرشتوں سے اشرف ہونے کی بات قرآن مجید میں فرمائی گئی ہے اور نہ رسول اللہ ا سے ایسی کوئی بات معتبر طریقہ پر منقول ہے ، مفسرین کے یہاں چوںکہ عام طور پر روایت نقل کرنے میں تساہل پایا جاتا ہے ؛ اس لئے اس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ۔
اگر تلاوت کے درمیان حضورا کا نام آجائے ؟
سوال :- رسول اللہ ا پر درُود شریف پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے اور جب بھی آپ اکا نام آئے تو درُود شریف پڑھنے کا حکم آیا ہے ، جیسا کہ علماء سے سنا ہے ، اب اگر قرآن مجید کی تلاوت کے درمیان آپ اکا نام آجائے تو اس صورت میں تلاوت کو جاری رکھنا چاہئے یا درُود شریف پڑھنا چاہئے ؟ (محمد سعد ، بی بی نگر )
جواب :- قرآن مجید کی تلاوت بھی نہایت اہم عمل ہے ، جس کے ہر ہر لفظ پر دس نیکیاں ہیں ، اور درُود شریف بھی نہایت باعث اجر ہے ، ان دونوں کی اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر قرآن مجید میں رسول اللہ ا کا اسم گرامی آجائے تو بہتر ہے کہ تلاوت جاری رکھی جائے ؛ تاکہ قرآن کی ترتیب اور تلاوت کے تسلسل میں فرق نہ آنے پائے ؛ البتہ تلاوت مکمل ہونے کے بعد درُود شریف پڑھ لیا جائے ؛ تاکہ دونوں کا ثواب حاصل ہوجائے ، تلاوت کا بھی اور درُود کا بھی : ’’ ولو قرأ القرآن فمرَّ علی اسم النبی صلی اﷲ علیہ وسلم فقرأۃ القرآن علی تالیفہ ونظمہ أفضل من الصلوٰۃ علی النبی صلی اﷲ علیہ وسلم فی ذلک الوقت فإن فرغ ففعل فھو أفضل وإلا فلا شییٔ علیہ ‘‘ ۔ ( ردالمحتار : ۱؍۵۱۹)
روٹی کو چاقو سے کاٹنا
سوال:- کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ ا نے روٹی کو چاقو سے کاٹ کر کھانے سے منع کیا ہے ؛ لیکن آج کل نان ، شیر مال ، بریڈ وغیرہ کو چاقو سے کاٹا جاتا ہے ، کیا یہ رسول اللہ اکے حکم کی خلاف ورزی نہیں ہے ؟ (فرحین ، نام پلی)
جواب :- بعض روایات میں یہ بات آئی ہے کہ آپ انے روٹی اور گوشت کو چاقو سے کاٹ کر کھانے کو منع فرمایا ہے ؛ لیکن مشہور فقیہ علامہ شامی ؒنے علامہ صنعانی ؒسے نقل کیا ہے کہ یہ روایت موضوع یعنی من گھڑت ہے اور فقہاء نے صراحت کی ہے کہ روٹی یا گوشت کو کاٹ کر کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے : ’’ … قال الصنعانی : موضوع وفی المجتبی : لا یکرہ قطع الخبز واللحم بالسکین‘‘ (ردالمحتار : ۶؍۳۸۴) — نیز روٹی کی جو صورتیں آپ نے ذکر کی ہیں ان کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ ان کو چاقو سے کاٹنا ہی پڑتا ہے ؛ اس لئے اگرچہ تواضع اور ادب کا طریقہ یہی ہے کہ روٹی ہاتھ ہی سے توڑی جائے اور یہی رسول اللہ ا کا عمل تھا ؛ لیکن اس مخصوص روٹی کو چھری سے کاٹنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے؛کیوں کہ ان کوچھری ہی سے بہ آسانی کاٹاجاسکتاہے۔
بار بار چھینک آئے تو الحمد للہ اور یرحمک اللہ
سوال:- بعض دفعہ نزلہ کی بیماری کی وجہ سے بار بار چھینک آتی ہے ، تو کیا ہر بار ’ الحمد للہ ‘ کہنا چاہئے اور چھینکنے والا ’ الحمد للہ ‘ کہے تو کیا جواب دینے والے کو ہر بار ’ یرحمک اللہ ‘ کہنا چاہئے ؟ (وقایت اللہ ، ممبئی)
جواب :- بہتر یہی ہے کہ چھینکنے والا ہر بار ’ الحمد للہ ‘ کہے ؛ کیوںکہ یہ مستحب ہے اور اس کے ترک پر گناہ نہیں ہے ؛ البتہ جواب دینے والے کو تین دفعہ تک تو جواب دینا چاہئے ، اگر تین بار کے بعد جواب نہ دے پائے تو حرج نہیں ہے : ’’ وفی العطاس فوق الثلاث إن شمتوہ فحسن و إن لم یفعلوا فلا بأس بہ ، والعاطس یحمد اﷲ ‘‘ ۔ (خلاصۃ الفتاویٰ ، کتاب الکراہیۃ : ۴؍۳۳۴ ، نیز دیکھئے : فتاویٰ قاضی خان علی ہامش الہندیہ : ۳؍۴۲۴)
بواسیر کی تکلیف اور وضوء
سوال:- مجھے بواسیر کی تکلیف ہے اور جن دنوں یہ تکلیف بڑھتی ہے ، ان دنوںمسلسل یہ کیفیت ہوتی ہے کہ خون یا پیپ رِستا رہتا ہے ، ایسی صورت میں کس طرح نماز ادا کی جاسکتی ہے ، اگر میں وضو کروں تو فوراً ہی وضو ٹوٹ جاتا ہے ؟ (محمد خورشید ، فلک نما)
جواب :- جو صورت آپ نے لکھی ہے ، اِس کیفیت سے دوچار شخص کو فقہ کی اصطلاح میں ’ معذور ‘ کہتے ہیں ، شریعت میں تمام احکام انسان کی قدرت اور طاقت کے لحاظ سے ہیں ؛ اسی لئے معذور کے لئے خصوصی رعایت ہے کہ وہ ہر نماز کے شروع ہونے کے وقت وضو کرلے ، اس کے بعد وقت کے ختم ہونے تک اسی وضو سے نمازیں ادا کرسکتا ہے ، بشرطیکہ عذر کی اِس خاص صورت کے علاوہ کوئی اور ناقضِ وضو پیش نہ آئے ، یہی حکم آپ کے لئے بھی ہے : ’’ ومن بہ سلسل البول والرعاف الدائم والجرح الذی لا یرقأ یتوضؤن لوقت کل صلاۃ فیصلون بذلک الوضوء فی الوقت ماشاء‘‘ (الہدایہ : ۱؍۵۰) اور معذورین کے لئے یہ خصوصی رعایت خود حدیث سے ثابت ہے کہ جس عورت کو استحاضہ یعنی بیماری کی وجہ سے خون آتا ہو ، اس کے لئے آپ ا نے یہی ہدایت فرمائی تھی ۔ (ترمذی ، ابواب الطہارۃ ، حدیث نمبر : ۱۲۵)
اگر امام رُکوع و سجدہ سے پہلے سر اُٹھالے؟
سوال:- ہماری مسجد کے امام صاحب بہت تیز رفتار ہیں اور اتنی جلدی جلدی رُکوع و سجدہ کرتے ہیں کہ مجھ جیسے لوگوں کی تین تسبیح بھی مکمل نہیں ہوپاتی ہے ، تو اگر امام صاحب نے پہلے سر اُٹھالیا ، تو ہمیں تین تسبیح پڑھ کر ہی سر اُٹھانا چاہئے ، یا امام صاحب کے ساتھ سر اُٹھانا چاہئے ؟ (حمید اللہ ، ناگپاڑہ)
جواب :- تین بار تسبیح پڑھنا سنت ہے ، فرض یا واجب نہیں ہے ؛ جب کہ مقتدی کے لئے امام کی پیروی کرنا واجب ہے ؛ اس لئے ایسی صورت میں امام کے ساتھ اُٹھ جانا چاہئے : ’’ لو رفع الإمام رأسہ من الرکوع والسجود قبل أن یتم المأموم التسبیحات الثلاث وجب متابعتہ ‘‘ ( درمختار :۱؍ ۵۳۴) نیز علامہ شامیؒ فرماتے ہیں : ’’ یسبح فیہ ثلا ثا فإنہ سنۃ علی المعتمد المشھور فی المذھب لا فرض ولا واجب کما مر فلا یترک المتابعۃ الواجبۃ لأجلھا‘‘ ( ردالمحتار : ۱؍۴۶۳-۴۹۵) اسی طرح دوسرے فقہاء نے بھی لکھا ہے ، (دیکھئے : مراقی الفلاح : ۲۱۵) — البتہ امام کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ مقتدی کم سے کم تین تسبیحات مکمل کرلیں ؛ اسی لئے فقہاء نے لکھا ہے کہ امام جماعت کی نماز میں چار پانچ تسبیحات کے بقدر رُکوع و سجدہ میں وقت لگائے ، اس سے زیادہ دیر نہ کرے ؛ تاکہ جن لوگوں کو دیر تک رُکوع و سجدہ کرنے میں عذر ہو ، یا کسی وجہ سے جلدی ہو ، ان کو دشواری نہ ہو ، اور اس سے کم بھی نہ پڑھے ؛ تاکہ جو لوگ آہستہ آہستہ پڑھتے ہیں ، ان کو تین تسبیح پوری کرنے میں دشواری نہ ہو ۔
عورتوں کا نماز جنازہ پڑھنا اور پڑھانا
سوال:- اس وقت عالم اسلام اور بالخصوص عالم عرب میں ایسا ظلم وجور ہورہا ہے کہ بعض دفعہ پورا شہر َمردوں سے خالی ہوجاتا ہے ، مرد یا تو مارے جاتے ہیں یا بھاگ جاتے ہیں ، بہت سی لاشیں پڑی رہتی ہیں اور عورتیں بچ جاتی ہیں ، جنھیں دشمن فوج اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کے لئے قتل نہیں کرتے ، کیا ایسی صورت میں خواتین نماز جنازہ پڑھا سکتی ہیں ؟ ( محب اللہ ، بنگلور )
جواب :- اللہ تعالیٰ ایسی صورت حال سے عالم اسلام اور اُمت ِمسلمہ کی حفاظت فرمائے ؛ لیکن صورت حال یہی ہے ، جو آپ نے لکھی ہے ، تو ایسی صورت میں خواتین نماز جنازہ ادا کرسکتی ہیں ، خود رسول اللہ ا پر صحابیات نے بھی نماز جنازہ ادا کی ہے ، (خصائص الکبریٰ : ۲؍۴۱۲) فقہاء نے بھی صراحت کی ہے کہ اگر عورتیں نماز جنازہ پڑھیں اور کوئی عورت نماز جنازہ کی امامت کرے تو نماز جنازہ ہو جائے گی : ’’ و لو أمت امرأۃ فیھا تأدت الصلاۃ‘‘ (البحر الرائق ، فصل فی الصلاۃ علی المیت : ۲؍۱۸۰) — البتہ امامت کرنے والی عورت مرد امام کی طرح آگے بڑھ کر امامت نہیں کرے گی ؛ بلکہ صف کے درمیان میں کھڑی ہوگی : ’’ و إذا صلین النساء جماعۃ علی جنازۃ قامت الإمامۃ وسطھن کما فی الصلوٰۃ المفروضۃ المعھودۃ‘‘ ۔ (بدائع الصنائع : ۱؍۳۱۴)
اگر وکیل نے اپنے طورپر تین طلاق لکھ دیا
سوال:- زید اور اس کی بیوی کے درمیان تعلقات خراب ہیں ، اور معاملہ عدالت میں پہنچ چکا ہے ، زید کے وکیل نے کہا کہ ’ طلاق نامہ ‘ بنادیتے ہیں ، زید نے کہا :صرف دھمکی دینا ہے ، وکیل نے انگریزی میں طلاق نامہ بنایا ، اس میں تین دفعہ ’ طلاق ، طلاق ، طلاق ‘ لکھا اور اس پر زید سے دستخط کرالیا ، جب کہ زید کو انگریزی نہیں آتی ، اس صورت میں کیا حکم ہوگا ؟ (شریف محمد ، بنجارہ ہلز)
جواب :- وکیل کے طلاق نامہ کی بات کہنے پر زید کا کہنا کہ صرف ’’ دھمکی دینا ہے ‘‘ کا بظاہر مطلب یہ ہے کہ ایسا مضمون نہ بنایا جائے ، جس میں طلاق واقع کی جاتی ہو ؛ بلکہ یہ لکھا جائے کہ اگر تم اپنے طریقہ سے باز نہیں آئی تو میں تم کو طلاق دے دوں گا ، اور قاعدہ یہ ہے کہ اگر وکیل مؤکل کی مقرر کی ہوئی حد سے تجاوز کر جائے تو اس کا تصرف معتبر نہیں ہوتا ؛ اس لئے اگر زید کا مقصد وہی رہا ہو ، جس کا اوپر ذکر آیا ہے ، تو زید کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوگی اور وکیل کا تصرف غیر معتبر ہوگا ۔

(بصیرت فیچرس)

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker