نوائے خلق

پروفیسر اختر الواسع صاحب اپنا ایوارڈ واپس کریں 

مکرمی!
ہندوستان کے موجودہ حالات بد سے بدتر ہوچکے ہیں ۔ ہرطرف شدت پسندی اور نفرت کا بازار گرم ہے ۔ افواہوں کی بنیاد پر بے گناہوں کا قتل روز مرہ کا معمول بن گیا ہے۔حق بولنے اور لکھنے کی آزادی سلب کر لی گئی ہے ۔ مرکز میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد دنیا بھر میں ہندوستان کی شبیہ خراب ہوگئی ہے ۔ایسے میں قابل مبارکباد ہیں وہ ادباء ، دانشواران اور شعراء جنہوں نے اپنا ایوارڈ واپس کرکے قلم کی حرمت کا پاس و لحاظ رکھا اور صاف لفظوں میں یہ کہ دیا کہ جب تک ایماندار لوگوں کے ہاتھوں میں قلم ہے ملک میں جبر و تشدد کو راوا نہیں رکھا جاسکتا ہے ۔ اب تک تقریبا 50 سے زائد ادباء ، شعرا اور دانشواران اپنا ایوارڈ لوٹا چکے ہیں ۔ جن میں تین چار کے علاوہ سبھی غیر مسلم ہیں ۔ مسلمان اس معاملے میں سب سے پیچھے ہیں ۔ کچھ تو وہ ہیں جو کئی کئی سرکاری ایوارڈ لے چکے ہیں ۔ لیکن اخلاق جیسے معاملات کے مسلسل پیش آنے کے باوجود بھی کچھ نہیں بول رہے ہیں ۔ مسلم دانشوروں میں ایک بڑا نام جناب پروفیسر اختر الواسع صاحب کا بھی ہے جن سے توقع تھی کہ وہ ملک کے بگڑتے حالات کے پیش نظر اپنا پدم شری ایوارڈ واپس کرکے احتجاج درج کرائیں گے لیکن افسوس کہ ایوارڈ واپس لوٹانا تودور کی بات اخبارات میں ان کی جانب سے مذمت کا ایک لفظ بھی پڑھنے کو نہیں مل سکا ہے ۔
ہم درخواست کرتے ہیں تمام مسلم ایوارڈ یافتگان سے خواہ انہیں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ ملا ہو ، اردو اکادمی ایوارڈ ملا ہو ، صدرجمہوریہ ایوارڈ ملا ہو ، پدم بھوشن یا پدم شری ایوارڈ ملا ہو ، الغرض تمام طرح کا سرکاری ایوارڈ پہلی فرصت میں واپس کرکے احتجاج درج کرائیں ۔
نسیم اختر مظفر پوری
جامعہ نگر ،نئی دہلی 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker