شعروادب

پھر کوئی نیا زخم لگائیگا نیاسال

پھر کوئی نیا زخم لگائیگا نیاسال
روتے کو ابھی اور رلائیگا نیا سال
انسان بنالیگا نیا پھر کوئی مقتل
اور خون سے انساں کے نہائیگا نیا سال
ہتھیاروں کا بازار سر عام لگے گا
اور خون میں رنگیں نظر آئیگا
ہو شام کہ عراق و فلسطین کی بستی
بربادی کا منظر ہی دکھائیگا نیا سال
بتلاؤ کہ ہم کیسے نیا سال منائیں
کیا جنگ سے انساں کو.بچائیگا نیا سال
کیا ظلم کے ہاتھوں کو جکڑ دیگا بتاؤ
مظلوم کو حق ان کا دلائیگا نیا سال
کیا جڑ سے اکھاڑے گا یہ ظالم کی حکومت
کیا امن کا موسم لئے آئیگا نیا سال
انصاف کا اب ہند میں کیا خون نہ ہوگا
انصاف کی کیا نہر بہائیگا نیا سال
کیا قوم کے معصوم کو مارے گا نہ کوئی
جو قید ہیں کیا ان کو بچائیگا نیا سال
کیا ہم نظر نہ ہوں گے کبھی آگے
حق ہم کو حکومت سے دلائیگا نیا سال
کیا کوئی نجیب اب نہیں گم ہوگا اے یارو
کیا ماؤں کو اب خون نہ رلائیگا نیا سا
کیا ماں کا دلادےگا یہ کھویا ہوا بیٹا
یہ کام بھی کیا کرکے دکھائیگا نیا سال
نازش یہ نیا سال بتا کیسے نیا ہے
جب کھیل پرانے ہی دکھائیگا نیا سال
نازش ہماقاسمی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker