طب وسائنس

گنجا پن ختم کریں

ہیلتھ ڈیسک یو این این
بالوں کا جھڑنا یا گنجا پن کلی یا جزوی طورپر بالوں کا گر جانا کہلاتا ہے جو کسی عضو کی کارکردگی میں خرابی یا موروثی وجوہات کے سبب ہوتا ہے۔ یہ اکثر مرحلہ وار یا آہستہ آہستہ بڑھتا ہے۔ عام اندازے کے مطابق تقریباً سو کے قریب بال روزانہ گرتے ہیں یا ٹوٹتے ہیں۔ ایک سر کی اوسط جلد میں تقریباً ایک لاکھ بال ہوتے ہیں۔ ہر ایک بال کی زندگی اوسطاً ساڑھے 4سال ہوتی ہے۔ اس مدت کے دوران یہ ایک ماہ میں تقریباً آدھا انچ بڑھتا ہے۔ عام طورپر پانچویں سال میں یہ بال گرجاتا ہے اور 6ماہ کے دوران اس کی جگہ دوسرا بال لے لیتا ہے۔ جینیاتی گنجا پن جسم کی نئے بال اگانے کی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے نہ کہ بالوں کے زیادہ گرنے کی وجہ سے۔ مرد اور عورت دونوں عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بالوں کا گھنا پن کھونے لگتے ہیں۔ موروثی یا مکمل گنجے پن سے عورتوں کی نسبت مردزیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ تقریباً 25فیصد مرد 30سال کی عمر میں گنجے ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور تقریباً دو تہائی گنجے ہوجاتے ہیں یا 60سال کی عمر تک پہنچنے تک مکمل گنجے ہوجاتے ہیں۔ عام طورپر مردانہ گنجے پن میں بالوں کی باریک لکیر سر کے اردگرد کرائون کی صورت میں شامل ہوتی ہے یا گنجے پن کے بڑے بڑے ٹکڑے ہوتے ہیں۔ کسی میں گھوڑے کے نال جیسی شکل میں بال سر کے پہلوئوں میں رہ جاتے ہیں۔ جینیاتی طورپر مکمل یا علامتی گنجے پن کے لیے مردانہ ہارمونز ٹیسٹی ٹیرون Testosterone کی موجودگی ضروری ہے۔ جن لوگوں میں کسی جینیاتی عمل کے سبب ٹیسٹی ٹیرون پیدا نہیں ہوتے ان میں اس قسم کاعلامتی گنجا پن پایا جاتا ہے۔ بعض خواتین میں بھی خاص قسم کے گنجے پن کی علامات پائی جاتی ہیں۔ جینیاتی اور عمر کے حساب سے یا مردانہ ہارمونز کے سبب یہ علامات مردوں سے مختلف ہوتی ہیں۔ خواتین کے گنجے پن میں سارے سر کی جلد پر موجود بال کم ہوجاتے ہیں مگر سامنے کا حصہ عام طورپر جوں کا توں رہتا ہے۔ گنجا پن عام طورپر کسی بیماری کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ اس کی وجہ بڑھتی عمر ، موروثیت اور ٹیسٹی ٹیرون کا پیدانہ ہونا ہوتا ہے۔ اکثر مردوں اور عورتوں کے گنجے پن کی مثال میں انہیں علامات کے عوامل کا ملاپ ہوتا ہے۔ دوسری ممکنہ وجوہات میں اگر غیرمعمولی طورپر گنجا پن وقوع پذیر ہورہا ہو تو اس میں ہارمونی تبدیلیاں شامل ہوتی ہیں۔ مثال کے طورپر تھائی رائیڈ کی بیماری بچے کی پیدائش یا خاندانی منصوبہ بندی کی گولیاں۔ بال گرنے کے اسباب: ٭…کوئی خطرناک بیماری اور طویل مدتی بخار۔ ٭…ادویاتی استعمال جیسے کینسر، کیموتھراپی۔ ٭…حدسے زیادہ شیمپو کا استعمال۔ ٭…جذباتی یا جسمانی تنائو۔ ٭…نفسیاتی عادات جیسے مسلسل بالوں کو کھینچنا ٭…ریڈیائی شعاعوں سے علاج ٭…بالوں کو ہیئرڈرائیرسے خشک کرنا۔ ٭…ہارمونی تبدیلیاں ،مثال کے طورپر تھائی رائیڈ، بچے کی پیدائش ، حمل روکنے کی گولی کا استعمال۔ ٭…ہیئرکنڈیشنر کا حدسے زیادہ استعمال وغیرہ۔ ٭…جسمانی نظام میں خرابی یا انفیکشن بھی بالوں کے جھڑنے یا گرنے کا سبب ہوتے ہیں۔ ٭…ہائی پاور گولیوں کا استعمال بال گرنے (جھڑنے) کا سبب ہوتا ہے۔ ٭…ایک طبی تحقیق کے مطابق 30سال کی عمر گزر جانے کے بعد بالوں کے جھڑنے کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔ کیسے کریں حفاظت : ٭…ہربل شیمپو سے بالوں کو اور سر کی جلد کو ہفتے میں دو مرتبہ نرمی سے صاف کریں اور سرکی جلد کا کسی اچھے ہومیوپیتھک آئل سے مساج کریں۔ ٭…بالوں کو نقصان پہنچانے والی مصنوعات جن میں بلیچ، پروکسائیڈ، امونیا،،غیرمعیاری کنڈیشنر اور صابن سے پرہیز کیا جائے۔ ٭…بالوں کو گھنگھریالا کرنے والے گرم رولر اور بالوں کو حرارت دینے سے پرہیز کیا جائے۔ ٭…بالوں کو توڑنے والے ربڑبینڈز یا کلپ وغیرہ سے پرہیز کریں۔ ٭…کھلے دانتوں والے کنگھے کا استعمال کریں۔ ٭…سرکو براہ راست تیز دھوپ سے بچائیں۔ ٭…نرم تکیے کا استعمال کریں۔ ٭…سوتے وقت خواتین چاہیں تو بالوں کی نیٹ لگائیں اس سے بال کھنچائو سے محفوظ رہیں گے۔ ٭…ہیئرکنڈیشنر استعمال کم کریں وغیرہ ٭…زیتون، آملہ اور بادام کے تیل سے سر کی مالش کریں یہ بالوں کو مضبوطی دینے میں مددگار ثابت ہوں گے ساتھ ہی اگر سر کی جلد خشک ہوگئی ہوتو تیل اس خشکی کو ختم کرکے تروتازگی دے گا۔ ٭…بالوں میں آہستہ کنگھی کریں۔ خواتین اکثر کنگھی کرتے وقت بالوں کو سیدھا کرنے کے لیے جھٹکے دیتی ہیں۔ اس طرح سے بالوں کی جڑوں کو نقصان پہنچتا ہے اور وہ کمزور ہوتی ہیں۔ ان تدابیر پر عمل کرکے آپ یقیناً بالوں کو جھڑنے سے روک سکتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے اسباب میں بتایا ہے کہ بالوں کا جھڑنا موروثی بھی ہوتا ہے اس لیے ان خواتین وحضرات کو زیادہ فکر مند نہیں ہونا چاہیے جو اس کا شکار ہیں۔ ٭…اس حد سے زیادہ فکر مندی سے وہ تنائو کا شکار ہوں گے اور بالوں کے جھڑنے کا سلسلہ برقرار رہے گا۔ ہمارا ایسے تمام لوگوں کو مشورہ ہے کہ بالوں کے جھڑنے پر ٹینشن لینے کی بجائے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا چاہیے اور خوش مزاجی اپنانا چاہیے اس سے ان کی صحت بہتر رہے گی اور اعصابی نظام بہتر ہوگا جو بالوں کے جھڑنے کو روکنے میں مددگار ثابت ہوگا۔(یواین این)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker