Baseerat Online News Portal

مودی پر ملائم نرم،ایس پی اوربی جے پی میں بڑھتی قربت

یوپی الیکشن کیلئے ابھی سے مسلمان مضبوط لائحہ عمل تیارکریں
محمدشارب ضیاء رحمانی
وسیع سیکولراتحادکی پٹنہ میںکل ہونے والی ریلی میںسونیاگاندھی کی شرکت متوقع ہے لیکن جنتاپریوارکے مکھیااورلالوجی کے سمدھی ملائم سنگھ اس ریلی میں شرکت نہیں کررہے ہیں، مودی کے تئیں نرم رویہ اپنانے کے بعدملائم سنگھ اب سخت نہیں ہوں گے۔ذرائع کے مطابق ایس پی سپریمودہلی میں جمعرات کے دن پی ایم سے ملے تھے،مودی نے کون سی ایسی من کی بات کرلی تھی کہ اس ملاقات کے بعدہی وہ پٹنہ ریلی سے دوری بنائے رکھنے کاذہن بناچکے ہیں،وہ سونیاگاندھی کے ساتھ اسٹیج شیئرکرکے مودی سے اپنے مضبوط ہوتے تعلقات کوخراب نہیں کرناچاہتے ہیں۔ یہ بھی یادرکھناچاہئے کہ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پالیسی( استعفیٰ نہیں توکاروائی نہیں)کی پالیسی کی مخالفت کرتے ہوئے ملائم سنگھ نے اپوزیشن کوالٹی میٹم بھی دیاتھا۔اس سے قبل ملائم سنگھ کی سنگھ پریوارسے خفیہ ملاقات کی بھی خبریں ہیں۔پھرمظفرنگرفسادات اورریاست بھرمیں مسلم مخالف سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں،پارٹی سپریموکام نہیں کرنے پراپنے و زیراعلیٰ بیٹے کوڈانٹ ڈپٹ بھی کرتے رہے ہیں لیکن کبھی بھی فرقہ وارانہ فسادات پرقدغن لگانے کیلئے بیٹے کی کھنچائی نہیں کی۔ان کی پارٹی یہی کہتی رہی کہ یہ سب ہمیں بدنام کرنے کی سازش رچی جارہی ہے۔لیکن یہ سب لوگ سمجھتے ہیں کہ ان منظم فرقہ وارانہ فسادات میں نسبتاََفسادیوں کے حکومت،زیادہ ذمہ دارہے ۔حکومت اگرچاہے توفسادکی ایک چنگاری بھی نہیں جل سکتی۔اگرآپ مخالفین کی سازش کوناکام نہیں بنا پا رہے ہیں تو یہ ناکامی کس کی ہے ،ٹھیکرا اپوزیشن پر پھوڑ کر کوئی بھی حکومت اپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتی۔ ریاست کے اس وقت کے گورنرنے بھی پنی رپورٹ میںریاستی حکومت کوہی فسادات ذمہ دارقراردیاہے۔ان کے سنیئروزیراعظم خان کوسیفئی فیسٹول کی رنگ ریلیوں میں جانے کاتوموقعہ ملتاہے لیکن فسادات سے متاثرعلاقوں کے دورہ کی فرصت نہیں؟۔ فرقہ پرستوں کے ساتھ ملائم سنگھ کے پرانے یارانہ کوکون نہیں جانتا؟۔ مسٹرملائم سنگھ کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ فرقہ پرستی کوفروغ دینے اورفرقہ پرستوں کے سیاسی کیریئرکوجلابخشنے میں انہوں نے ہمیشہ اہم کرداراداکیاہے جس کی واضح مثال اپنی سیاسی ساکھ کھوگئے کلیان سنگھ کواپنے آغوش میں پاس پول کردوبارہ سیاسی زندگی بخشناہے۔آخرپچھلے فسادات کے ان گناہگارافسران کے خلاف کیاکاروائی کی گئی ؟۔،درگاشکتی معاملہ کوہوادے کرمسلمانوں کوبے وقوف بنانے والی حکومت نے ان خاطی پولیس اہلکاروں کے خلاف کیوں نہیں کاروائی کی جس کی حراست میں خالدمجاہدکی شہادت ہوئی ،پھران بے گناہ مسلم نواجوانوں کی برات سے متعلق نمیشن کمیشن کی رپورٹ پرچپکی کیوں سادھ لی گئی ؟۔بے گناہ مسلم نوجوانوں کوجیل سے آزادکرانے کے ایشوپراقتدارپربراجمان ہونے والی حکومت ،مسلمانوں کے تحفظ میں ہی ناکام ہورہی ہے۔ اپنی وزار ت دفاع کے زمانہ میں سنگھیوں پرگولی چلاکرواہ واہی لوٹنے والے ’’مولاناجی‘‘ آرایس ایس سے اپنی’’ غلطی‘‘ پر معافی مانگ بھی چکے ہیں۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ کیااس سوال کاجواب دے سکتے ہیں کہ ورون گاندھی پر سے مقدمہ ہٹانا،استھان سانحہ میں توگڑیا پرمقدمہ نہ درج کر نا، فرخ آباد میں وشوہندو پریشد اور سنگھ پریوار کے فرقہ وارانہ دہشت گردوں پر سے مقدمے واپس لینا،کانپورمیں 1992میںہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے وقت کے ایس ایس پی اے سی شرما جن کے مجرمانہ کردار کی تحقیقات کے لئے ماتھر کمیشن کا قیام کیاگیاتھا،اس پرکارروائی کرنے کی بجائے اسے ریاست کے پولیس کا سربراہ بناناکیایہی سب سیکولرزم کی علامت ہیں۔ملائم سنگھ بارباریہ کہہ رہے ہیں کہ بیشترانتخابی وعدے انہوں نے پورے کرلئے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں سے کئے گئے وعدے تاحال پس منظرمیں ہیں۔مسلمانوں کو2017کے اسمبلی الیکشن کے لئے ابھی سے لائحہ عمل تیارکرناہوگاتاکہ سیکولرزکاچولہ اوڑھ کرایک مرتبہ پھرمسلمانوں کو جھانسانہ دیاجاسکے۔
(بصیرت فیچرس)

You might also like