Baseerat Online News Portal

قرآن محض قانون کی کتاب نہیں بلکہ انسانی زندگی کے لئے ایک جامع لائحہ عمل ہے

ڈاکٹر صاحب عالم اعظمی ندوی – قاہرہ
قرآن کریم جہاں ایک طرف رحمت وہدایت کی کتاب ہے وہیں اس میں انسانی زندگی کے حوالے سے مجمل طور پر لیکن کھلے انداز میں جامع لائحہ عمل پیش کیا گیا ہے جس کی رو سے اس میں عبادات اورمعاشرتی اور خاندانی معاملات کے حوالے سے اعلی اصول بیان کئے گئے ہیں۔ قرآن جہاں عدل وانصاف شورائی نظام اور میراث سے متعلقہ امور پر بحث کرتا ہے وہیں نکاح وطلاق سے متعلق احکام تفصیلی روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ اخلاق وآداب کے متعلق اعلی اقدار پیش کرتا ہے۔ جس کی روشنی میں قرآن نے انسانی عقل وبصریت کو تدبر وتفکر کا وسیع ترین افق مہیا کیا ہے تاکہ مختلف حالات میں انسان صحیح راہ تلاش کرسکے جس کا تعلق سرفہرست مختلف تہذیبوں بھی ہے اور عملی احکام سے بھی ہے جسے عرف عام سے جانا جاتا ہے۔ اسی طرح اس کا تعلق زمانے کے رد وبدل اور مختلف کیفیات ومراحل سے بھی ہے جس کا اثر بھی احکام پر پڑتا ہے۔
مسلمانوں نے اپنے ابتدائی دور میں جہاں قرآن واحادیث اور صحابہ وتابعین کی مرویات سے احکام وقوانین کے استنباط میں تعاون حاصل کیا وہیں انھوں نے دوسری معاصر ثقافتوں سے بھی اصول وحکمرانی کے نظریات و منطق وادب وفلسفہ کے وضع کرنے میں کما حقہ فائدہ اٹھایا بلکہ حکمرانی اور نظم ونسق کے حوالے سے سیاسی نظریات تقریبا سارے کا سارا ساسانی اور رومی افریقی اقوام سے حاصل کیا، اور اسے علمی طور پر نافذ بھی کیا جس اثرات سے وہ کبھی بھی باہر نہیں نکل سکے۔ اگر قرآن حکیم محض قانون کی کتاب ہوتا تو مسلم حکمرانوں کو ان اقوام سے اصول جہاں بانی اور نظم ونسق کے طور طریقے قطعا مستعار لینے کی ضرورت نہ پڑتی۔ بہرحال ان ثقافتوں کی تاثیر سے مسلمانوں کے یہاں منطق وفلسفہ کی بنیاد پڑی اور اصول فقہ اس منطق وفلسفہ کی دین ہے، جس کی بدولت عقلی نتائج مسلمانوں نے اخذ کئے اور مرویات وآثار ونوازل کو جمع کرنے کی کوشش کی جس کے لئے اصولی طریقہ کار استعمال کیا جو کہ حقیقت میں افریقی اور یونانی طریقہ کار سے مستفاد تھا، اور یہ جاننا چاہیئے کہ ان اقوام میں سول لاء پہلے سے ہی اس وقت کے مطابق کافی ترقی یافتہ تھا، اور پھر متبادل تاثیر وتاثر کے نتیجہ میں آراء واقوال کی کثرت وکثافت کا ہونا ناگزیر تھا۔اور پھر فقہی قواعد کا ظہور ہوا تاکہ ان آراء واقوال نیز فقہی ضوابط کو صحیح طور سے درست اور مرتب کیا جاسکے۔
دوسرے مرحلے میں جب یورپ ترقی کی راہ پر گامزن ہواتو اس نے بھی اسلام کی تطبیقی صلاحیت (Applied) سے بھر پور استفادہ کیا اور جدید قوانین بنائے جو مختلف مصادر اور ضوابط کی روشنی میں پائے تکمیل کو پہنچے ۔ باوجودیکہ ان کے یہاں قدیم قوانین موجود تھے لیکن انھوں نے اندلس کی اسلامی حکومات کے زمانے میں فقہ مالکی سے کافی استفادہ کیا۔ پھر عثمانی اور مغلیہ دور میں اگر چہ اسلامی قوانین کو ازسر نو مذہب حنفی کی رو سے مرتب کیا گيا لیکن پھر جدید فقہی تناظر سامنے آئے جسے یورپی تمدن کی تاثیر کا نتیجہ کہا جا سکتا ہے۔ ہمیں یہ اعتراف کرنے میں ادنی تردد کا شکار نہیں ہونا چاہئے کہ پورے اسلامی دور میں قانون سازی کا عمل مختلف اصطلاحات کے مطابق جاری وساری رہا اور یہ عمل کبھی نہ رکا۔ بہرحال قانون یا قانون سازی کا مکمل تعلق انسان سے ہے جس کے میکنزم مختلف مراحل میں تبدیلی وترقی کے مرحلوں سے گذرتے رہے، یعنی کچھ قدیم قوانین کو خیر باد کہا گیا تو کچھ جدید قوانین وضع کئے گئے اور مستقبل میں بھی حسب ضرورت تغیر وتبدل کا یہ سفر جاری وساری رہے گا۔
یہ ذہن نشین رہے کہ قوانین کی تبدیلی اور ترقی کے مختلف مراحل میں زمان ومکان نیز مختف تمدن وثقافتوں کا بہت اثر رہا ہے، چاہے وہ اسلامی وعربی ممالک ہوں یا مغربی ممالک ہوں۔ لہذا یہ بات پورے یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ قرآن قانون کی کتاب نہیں بلکہ وہ قانون سازی کے حوالے سے ارشادات ونصائح وہدایات مہیا کرتا ہے نیز قانو سازی کا رخ مہیا کرتا ہے یعنی اس کی حیثیت قصدگاہ کی طرح ہے جس کی روشنی میں قانوں سازی کو صحیح رخ دیا جاسکتا ہے، بایں ہمہ وہ قوانین کے بعض اجزاء کے لئے سرچشمہ اور اصل ذریعہ کی حیثیت رکھتا ہے۔
علماء اور اسلامی جماعتوں کی یہ رٹ ’’ہمارا دستور قرآن ہے‘‘ بیکار کا فلسفہ ہے کیوں کہ دستور تو دراصل فارسی لفظ ہے، نیز دستور وہ اعلی قانون ہے جو کسی ملک کے بنیادی قواعد واصول حکم کی تحدید کرتا ہے، جو قانون سازی کے اختیارات، اور عدالتی اختیارات، نیز انتظامی اختیارات پر مشتمل ہوتا ہے، لیکن یہ سب قانون کے جزء ہیں، مکمل قانون نہیں، باوجودیکہ ماضی میں ان کا اطلاق قانون پر ہوتا رہا ہے جیسے کہ مسلمانوں کے یہاں لفظ فقہ جو بطور قانون کے بھی استعمال ہوتا تھا۔
ان اسلامی جماعتوں کا یہ بھی دعوی ہے کہ قرآن میں سیاست کے حوالے سے خاص طور پر جمہوری صحیح نظام کے حوالے سے تفاصیل موجود ہیں۔ اس سے کسی کو انکار نہیں کہ قرآن میں لفظ شوری بھی ہے اور حکومت اور عوام کے باہمی حقوق بھی مذکور ہیں نیز لوگوں کے درمیان عدل ومساوات قائم کرنے کے حوالے سے بے شمار آیتیں بھی ہیں لیکن جب اسلامی تاریخ اور اسلامی حکومت یا خلافت کے اوراق پلٹئے تو کہیں بھی یہ ہمیں یہ نہیں ملتا کہ ان اسلامی حکومتوں نے اس نظام شوری کی ترویج وترقی کے لئے کوئی معقول قدم اٹھایا ہو۔ لہذا آج کے اس دور میں اس شورائی نظام کو ترقی ديئے بغیر کیسے سیاسی نظام کا حصہ قرار دیا جاسکتا ہے؟ حقیقت یہ کہ بہت ابتدائی دور سے ہی اسلامی حکومت نے اس شورائی نظام کو دیوار پر مار ساسانی اور یونانی اور بازنطینی استبدادی نظام کو نہ صرف اپنایا بلکہ اسے سیاسی قانون کا اہم جزء بنا دیا جس کے سیاسی منفی نتائج مسلمانوں کی صدیوں کی تاریخ پر محیط ہیں اور آج عرب دنیا کے سیاسی جوڑ توڑ اور ظلم وستم کے تانے بانے اسی اسلامی خلافت سے ملتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ خود ہندوستان میں عہد اسلامی میں جن قوانین کی تنفیذ کی گئی چاہے وہ اصول حکمرانی سے تعلق رکھتے ہوں یا عقوبات یا عدل وانصاف سے متعلق ہوں وہ کبھی بھی اسلامی قوانین نہیں تھے بلکہ ساسانی اور تاتاری نظام کا چربہ تھے۔ حتی کہ فقہ اور فتاوی کی جو کتابیں برصغیر میں سلطنت دہلی اور مغلیہ دور میں ترتیب دی گئیں وہ قطعا برصغیر کے حالات کے مطابق وضع نہیں کئی گئيں بلکہ ان فتاویٰ کے سارے مضامین عراق اور وسطی ایشیا میں وضع کئے گئے فتاویٰ کی کتابوں سے مستعار ہیں۔ اور یہی حال برصغیر کے مدارس میں تعلیمی نظام کا ہے اس قدیم تعلیمی نظام کو ایران اور وسطی ایشیا کے علماء اپنے ساتھ اس وقت لائے جب یہ تعلیمی نصاب ان علاقوں میں علمی اور سیاسی پستی کی حالت میں آخری سانس لے رہا تھا جس کے منفی اثرات برصغیر میں مسلم دور اور بعد کی صدیوں میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ان فقہی کتابوں میں بنیادی تبدیلی عصر حاضر کے حالات کے مطابق کی جائے ۔ ایسا کیوں ہے کہ ہم ہمیشہ اسلامی شریعت کو مقدس سمجھتے ہیں ؟ جب کہ واقعہ یہ ہے کہ بلکہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ آج برصغیر میں اسی اسلامی شریعت کے کے نام پر مجموعی طور پر ایسے عقائد ونظام مسلمانوں میں پائے جاتے ہیں جن کا صحیح اسلامی شریعت سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں، بلکہ انکا تعلق ان کے ان عادات وتقالید سے ہے جنھیں انھوں نے وقت کے ساتھ اسلامی عقیدہ کا اصل جزء بنا دیا ہے جو اسلام کے الہی قانون پر متسلط ہوچکا ہے جس سے روگردانی علماء اور فقہاء کے بموجب کفر والحاد تک لے جاسکتی ہے۔
اسی طرح سیاست اور اس کی تفاصیل اور اس کے اجزاء ترکیبی کا قرآن میں کہیں وجود نہیں ہے کیونکہ اس کا تعلق انسان سے ہے جس نے حالات کے مطابق اسے ترقی دی اور بطور میکنزم کے اسے وقت وحالات کے مطابق ڈھالا اور اس میں رد وبدل کیا۔ برصغیر میں انقلاب 1857ء کے بعد سے لیکر مختلف جماعتوں نے خاص طور جماعت اسلامی وغیرہ ہمیشہ یہ لفظ استعمال کرتے رہے کہ ہمارا دستور قرآن ہے، مصر کی اخوانی جماعت بھی ہمیشہ اسی کی رٹ لگائے رہتی ہے، ان کے علماء کی کتابیں حاکمیت اور لفظ ’’دستورنا القرآن‘‘ کے موضوعات سے بھری پڑی ہیں، اور اسے پوری طرح سے ترویج ونشر کرنے کی کوشش کی گئی اور کی جارہی ہے، جبکہ واقعہ یہ ہےکہ قرآن میں اس کی کوئی تفصیل نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہےکہ قرآن نے سیاست اور اس کے اجزاء کے حوالے سے ایک رہنما اصول عطا کیا ہے جسے ہم طریقہ کار یا براڈ آؤٹ لائن کا نام دے سکتے ہیں۔
علماء کی’’قرآن ہمارا دستور ہے‘‘ کی نعرہ بازیوں کی بدولت مسلمانوں میں یہ بات عام ہوگئی کہ یورپ اور دوسرے مشرقی ممالک میں وضع کردہ قوانین کفر کا درجہ رکھتے ہیں لہذا وہ مسلمانوں کے لئے قابل قبول نہیں ہوسکتے، کیوں کہ دستور تو صرف قرآن ہے، لیکن اگر ان سے یہ پوچھا جائے کہ قرآن میں حکومت وحکمراں اور اس کے ایڈمنسٹریشن کے حوالے سے منظم احکام و اصول کہاں مذکور ہیں؟ تو ان کے پاس اسکا کوئی جواب نہ مل پائے گا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ مرویات اور ابتدائی اصولی وفقہی کتابوں میں بھی ان کا دور دور تک کوئی نشان نہیں ہے۔ کہیں بھی آپ کو یہ تفاصیل نہیں مل سکتیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ یہ ایک وسیع اور کھلا میدان ہے اور اس کی خاصیت یہ ہے کہ یہ تغیر پذیر وترقی پذیر نیز ہمہ گير ہے، اور اسی لئے قرآن میں اسے مقید نہ کرتے ہوئے انسانی عقل وتدبر کے لئے کھلا چھوڑ دیا گيا ہے کہ وہ حالات وظروف کے مطابق ان میں کمی زیادتی و رد وبدل کرتا رہے۔ اور اس طرح ہم بغیر کسی تحفظ کے یہ بات کہ سکتے ہیں کہ’’قرآن ہمارا دستور یا قانون ہے‘‘ کلی طور پر بے جوڑ اور غیر مطابق فلسفہ ہے اور زمینی حقائق سے کوسوں دور کیوں کہ دستور وقانون سازی کا تعلق انسانی تجربات اور استنتاجات پر مبنی ہے جو قرآن میں مفصل مذکور نہیں ہیں کیوں قرآن ہدایت اور ارشادات کی کتاب ہے جس نے انسان کو ایک ایسا وسیع میدان فراہم کیا ہے جہاں وہ وقت وحالات کے مطابق اپنی زندگی کے تعلق سے مسائل کا استنباط کرسکے جن کا تعلق کفر اور ان احکام وقوانین سے قطعا نہیں ہے جنھیں اللہ نے مکمل یا کلی طور پر قرآن میں ذکر نہیں کیا ہے۔
(بصیرت فیچرس)

You might also like