Baseerat Online News Portal

مودی سرکارکارول ماڈل

محمدشار ب ضیاء رحمانی
بہارالیکشن کے انتخابی اجلاس میں بی جے پی گڈگورننس کاوعدہ کررہی ہے ۔کل ہی ہیمامالنی نے کئی انتخابی ریلیوں میں کہاہے کہ ریاست میں احساس عد م تحفظ کی وجہ سے یہاں سرمایہ کارصنعت کاری سے احترازکررہے ہیں۔دوسرے لیڈران بشمول وزیراعظم نریندرمودی’’ گڈگورننس کاانتخابی جملہ‘‘ بول رہے ہیں۔لیکن بی جے پی یہ نہیں بتارہی ہے کہ پوری دنیامیں گھومنے کے بعداب تک ہندوستان میں سرمایہ کارکیوں نہیں آرہے ہیں۔میک ان انڈیااورایف ڈی آئی کی مہم فلاپ لگ رہی ہے۔ملک میں بڑھتی بے چینی نے پوری دنیامیں ہندوستان کوشرمسارکیاہے۔جہاں اپنے گھرسے لے کراسمبلی اورادبی اجلاس تک تک ،ایک غریب پریوارسے لے کرایم ایل اے اورادیب وقلمکار تک محفوظ نہیں ہے۔اگرمحفوظ ہے توصرف ایک پریوار،یعنی سنگھ پریوارکے ہی اچھے دن آسکے ہیں۔مہنگائی نے غریبوں کی کمرتوڑدی ہے۔مودی کے وزیربہارمیں دال اورپیازکی بڑھتی قیمتوں کیلئے نتیش کوذمہ دارقراردے رہے ہیں لیکن وہ یہ بتانے سے قاصرہیں کہ بی جے پی کی زیراقتدارریاستوں میں قیمتوں پرکنٹرول کیوں نہیں ہوا،مہاراشٹر،ہریانہ ،جھارکھنڈاورجموں کشمیرمیں بھی یہی صورتحال کیوں ہے۔ سرمایہ کاروں کے مفادکوعزیزرکھنے والی سرکارکس منہ سے بہارمیں بہترحکومت کالالی پاپ دے رہی ہے۔بی جے پی کی انتخابی مہم کی ہوااس وقت نکل گئی جب ان کی حکومت کی سرپرستی میں ہریانہ میں دلتوں پرمظالم کے پہاڑتوڑے گئے۔واضح ہوکہ بی جے پی نے دلت لیڈرجیتن رام مانجھی اوررام ولاس پاسوان کوپوری جدوجہدکرکے اپنے ساتھ اسی لئے کیاتھاتاکہ دلت ووٹ نتیش کی طرف نہ جاسکے ۔اوراس کی یہ حکمت عملی کامیاب بھی نظرآرہی تھی۔یہ بھی حقیقت ہے کہ برہمن،تیلی اوردلت وہریجن ووٹ نوے فیصدبی جے پی کی طرف جارہے تھے اورانہیں مودی میں اپنامسیحانظرآرہاتھا،دلتوں پراحسان کی بھرمارکرنے والے نتیش سے دلتوں کوبی جے پی ورغلانے میں کامیاب ہوگئی تھی لیکن اس کی حکمت عملی کی ہواپہلے تومودی کے گروموہن بھاگوت نے ہی نکال دی۔ریزرویشن کوختم کرنے کامشورہ دے کربی جے پی بری طرح پھنس گئی جسے لالو،نتیش ،مایاوتی نے خوب اچھالااوربی جے پی کے ووٹ بینک میں زبردست سیندھ لگ گئی۔آخرکارڈیمج کنٹرول کیلئے امت شاہ کوپریس کانفرنس کرکے اپنے آقاکے حکم کی خلاف ورزی کاسرعام اعلان کرناپڑالیکن اس وقت تک بہت دیرہوچکی ہے۔پھرمایاوتی کے تنہاالیکشن لڑنے سے بھی بی جے پی کے ووٹ بینک(ہریجن) کومتاثرکیاہے۔اوررہی سہی کسرکل کے ہریانہ کے واقعہ(جس میں مودی کی رہائش گاہ سے تقریباََپچاس کلومیٹردورفریدآبادکے ایک گائوں میں دودلتوں کوزندہ جلادیاگیاہے۔یہ بھی نہیں بھولناچاہئے کہ یہاں کے وزیراعلیٰ مودی کے قریبی اورآرایس ایس لیڈرمنوہرلال کھٹرہیں ) نے پوری کردی ۔
مودی سرکارکے وزیراوربہارمیں این ڈی اے کااہم چہرہ رام ولاس پاسوان نے یہ کہہ کرزخم پرنمک چھڑک دی ہے کہ ہریانہ کے دلتوں پرمظالم کیلئے ریاستی حکومت(کھٹرسرکار)ذمہ دارہے۔پھرکیاتھانتیش ،لالواورراہل نے اسے اچھال دیا۔اوراچھالناچاہئے بھی ۔لالونے یہاں تک کہہ دیاکہ پہلے ریزرویشن ختم کرنے کی بات کہی گئی اب دلتوں کاہی خاتمہ کیاجارہاہے ۔
بی جے پی کارول ماڈل ایک اورریاست مہاراشٹرہے جہاں ٹرین میں لوڈکرکے بہارسے نوجوانوں کوبی جے پی لے کرگئی تھی لیکن یہ کسے معلوم نہیں کہ چھ ماہ میں ساڑھے چھ سوکسان خودکشی کرچکے ہیں۔بیف بینڈکے ذریعہ پانچ لاکھ سے زائدافرادکوروزگارسے محروم کردیاگیاہے یہاں تک کہ کچھ دنوں کیلئے مٹن اورچکن تک پرپابندی لگادی گئی جس کی مخالفت چکن بیچ کرمہاراشٹرنونرمان سینااورشیوسینانے بھی کھل کرکی۔بیف بین کے خلاف کوئی مسلمان عدالت میں نہیں گیابلکہ سب سے زیادہ نقصان غیرمسلموں کاہواہے۔دھیرے دھیرے اس پربھی پردہ اٹھ رہاہے کہ بیف کے اصل سپلائرکون لوگ ہیں۔ملک کے چاروں گوشت ایکسپورٹرہندوہیں۔الکبیرکے ستیش اوراتل سبروال ،عربین ایکسپورٹ کے سنیل کرن اورایم اے ارفروزین فوڈزکے مدن ایبٹ اورپی ایم ایل انڈسٹریزکے اے ایس بندراء مسلمان نہیں ہیں۔بیف پرپابندی کسی مذہبی جذبات کی بنیادپرنہیں لگائی گئی ہے بلکہ سرمایہ کاروں کی یہ سرکاراصل سپلائروں تک اوربڑے سرمایہ داروں تک زیادہ سے زیادہ سپلائی کویقینی بناناچاہتی ہے یہی وجہ ہے کہ کل تک جس بیف فروختگی پرمودی جی کاکلیجہ رورہاتھااب بھی ڈیڑھ برس کے بعدہندوستان اسی طرح دنیاکاسب سے بڑاسپلائربرقرارہے۔بیف پرپابندی چھوٹے کاروباریوں سے روزگارچھین کربڑے سرمایہ کاروں تک بیف پہچاناچاہتی ہے ۔اگریہ جرم ہے توگئوکشی کرنے والے کی طرح گائے کے بیچنے والوں پربھی پابندی لگنی چاہئے۔آخروزیراعظم نے اپنے پہلے ہی بجٹ میں گوشت ایکسپورٹ کرنے والوں کیلئے پندرہ کروڑکی سبسڈی کیوں دے ڈالی؟َ۔منموہن حکومت کے آخری سال میں ہندوستان سے 23162کروڑقیمت کاگوشت ایکسپورٹ کیاگیاتھا۔نریندرمودی حکومت کے ابتدائی مہینوں میں گوشت کے برآمدمیں تیس فیصدکااضافہ ہوااورایکسپورٹ 30127تک پہونچ گیا۔
اس کے علاوہ شیوسینانے بی سی سی آئی کے دفترمیں گھس کردہشت گردی مچائی جسے ارون جیٹلی بھی غنڈہ گردی کہتے ہیں۔یہ کون ساگڈگورننس ہے وزیراعظم نریندرمودی کا۔ بی جے پی کی ایک اوررول ماڈل ریاست کشمیرہے جہاں اسمبلی میں جمہوریت کوطمانچہ لگایاگیا۔ممبراسمبلی انجینئررشیدپراسمبلی کے اندربی جے پی ایم ایل اے کی غنڈہ گردی کیاجنگل راج اورغنڈہ راج کی مثال نہیں ہے؟۔چھپن انچ کے وزیراعظم کی زیراقتدارریاست کشمیرمیں ہردن پاکستانی دراندازی ہورہی ہے،مودی جی اسے روکنے میں کیوں ناکام ہیں۔اب ان کے بلندعزائم کہاں سبوتاژہوگئے ہیں۔گجرات مودی کاپرانارول ماڈل ہے لیکن ہاردک پٹیل نے جوکرکری ان کی کی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ راجستھان اورمدھیہ پردیش کے گھوٹالوں اوربدعنوانیوںکے الزام نے بی جے پی کے شفافیت کے دعوے کوکھوکھلاکردیاہے۔ وسندھراراجے ،للت گیٹ ،ویاپم گھوٹالہ ،مہاراشٹرمیں پنکجامنڈے پرالزامات کے بعدبھی وزیراعظم لال قلعہ کی فصیل سے ساری دنیاکوبے وقوف سمجھتے ہوئے یہ کہیں کہ اب تک ایک پیسے کی بدعنوانی کابھی الزام نہیں لگاہے توسفیدجھوٹ کی اس سے زیادہ واضح مثال اورکیاہوسکتی ہے ۔ہریانہ میں آئے دن دلتو ں کے استحصال کے واقعات ہورہے ہیں،دہلی میں پولیس مرکزی وزارت داخلہ کے انڈرمیں ہیں لیکن یہاں نہ خواتین محفوظ ہیں نہ عام انسان۔مودی سرکاری کی ناک کے نیچے گورننس کایہ حال ہے تواورریاستوں کی بات ہی چھوڑدیجئے۔مودی جی کواپنی ریلیوں میں یہ بھی بتاناچاہئے کہ بہارمیں وہ کس ماڈل کونافذکرنے کاارادہ رکھتے ہیں۔اے بی پی نیوزکے مطابق مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کے گائوں میں ایک بھی شخص پڑھالکھانہیں ہے۔توپھرکس منہ سے ہیمامالنی بہارکوجاہل کہہ کراپنے لیڈروں کی طرح اس ریاست کامذاق اڑارہی ہیں؟۔ مودی کے حلقہ انتخاب وارانسی میں کون ساوکاس ہوگیاہے؟۔وہاں کی بدحالی بدستورباقی ہے۔کتنے لوگوں کووزیراعظم نے روزگارمہیاکرادیاہے؟۔بنکراپنی بدحالی پرابھی تک رورہے ہیں۔ان کے آدرش حلقہ انتخاب کاجب یہ حال ہے توملک بھراوربہارمیں وہ خاک وکاس کرسکیں گے؟۔لمبی لمبی باتیں کرنااورہیلی کاپٹرپرسیرکرناالگ ہے اوریکسوئی کے ساتھ دیش کے وکاس کی کوشش الگ چیزہے۔من کی بات کے ذریعہ عوام کوبہت دنوں تک بہلایانہیں جاسکتا۔مہنگائی،بدعنوانی،غنڈہ گردی،کمزوروں پراستحصال کاکون ساماڈل ان کی پلاننگ میں ہے؟۔اگروزیراعظم اس کی وضاحت نہیں کرتے تواپوزیشن کواسے ہی موضوع بناناچاہئے۔ ہمیشہ برہمنوں کے استحصال کے شکاردلتوں کویہ سمجھانے کی کوشش کرنی چاہئے کہ تمہارے حقیقی دشمن یہی ہیںپاسوان اورمانجھی پریم اسی کی عملی شکل ہے۔نہ توانہیں ملک کے وقارسے کوئی محبت رہی ہے،نہ کمزوروں کامفادمطمح نظررہاہے اورنہ عمومی ملکی مسائل پرکبھی یہ توجہ دے سکتے ہیں۔مسلمان،یادواورکرمی توانہیں ووٹ دینے سے رہے اب دلتوں کے کندھے پرسوارہوکر اقتدارکی کرسیوں تک پہونچناان کابنیادی مقصدہے۔تاکہ راجیہ سبھامیں تعدادبڑھاکراپنے ناپاک عزائم کوملک پرمسلط کرنے کاانہیں موقعہ مل سکے۔بہارمیں بی جے پی نے سارے دائوآزمالئے ہیں۔کبھی مودی کوپہلااوبی سی وزیراعظم بتاکراورکبھی فرقہ وارانہ کارڈکھیل کر۔لیکن اس کے سارے منصوبے فیل ہوچکے ہیں۔بہارکی عوام بہت سوچ سمجھ کرصرف ترقی کے ایجنڈے پرووٹ کرناچاہتی ہے۔
مضمون نگار بصیرت میڈیا گروپ کے فیچر ایڈیٹر ہیں
(بصیرت فیچرس)

You might also like