اسلامیاتمضامین ومقالات

لوگو! سنو، محرم الحرام کیا کہتا ہے؟؟

محمد فرید حبیب ندوی
نائب مدیر، ماہنامہ ندائے اعتدال، علی گڑھ
ماہ محرم کو تین پہلوؤں سے دیکھنا چاہیے، ایک طرف تو یہ سال نو کا آغاز ہے، دوسری طرف یہ ہمیں واقعہ ہجرت کی یاد دلاتا ہے، اور تیسری طرف شہادت حسینؓ کا واقعہ بھی اس کی طرف منسوب ہے۔
(۱) محرم الحرام سے اسلامی کلینڈر کے حساب سے ایک سال کا اختتام اور دوسرے نئے سال کا آغاز ہوتا ہے، یہ موقع ہوتا ہے کہ ہم اپنا محاسبہ کریں، اور یہ جائزہ لیں کہ گذرنے والے سال میں ہم نے کیا اچھے کام کئے اور ہم سے کون سی باتیں غلط سرزد ہوئیں، ہم پر جو حقوق و ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ان میں سے کتنی ہم نے امانت کے ساتھ نبھا ئیں اور کتنی ذمہ داریوں میں نے خیانت کی یا ہم سے کوتاہی ہوئی۔
– کتنی نمازیں ادا کیں اور کتنی فوت ہوگئیں
– ادا کردہ نمازوں میں سے بھی کتنی ہم نے کما حقہ ادا کیں اور کتنی ہم نے بس یوں ہی اپنے سر سے بوجھ اتارنے کی کوشش کی۔
– اس پورے سال جو لقمہ ہمارے منہ میں گیا اس میں کتنا حرام تھا اور کتنا حلال؟
– زکوۃ فرض تھی یا نہیں، اگر تھی تو ہم نے پوری ایمانداری سے حساب لگا کر اسے ادا کیا یا نہیں؟
– ہم پر حج کی فرضیت ہوگئی تھی یا نہیں، اگر تھی تو کس حد تک اس کے لئے ہم نے کوشش کی؟
– شوہر ؍بیوی کے حقوق ہم نے کہاں تک ادا کئے؟ ہم نے کہیں ان کی حق تلفی تو نہیں کی؟
– اولاد کی تعلیم و تربیت پر ہم نے کہاں تک توجہ دی؟
– والدین کی خدمت اور ان کی رعایت ہم نے کس حد تک کی؟ کہیں ہمارے کسی عمل سے ان کو دل کو چوٹ تو نہیں پہنچی؟
– اپنے اصحاب، رفقاء کار، اقارب اور ملنے جلنے والوں سے ہمارا رویہ کیسا رہا؟
– ہم نے کتنی مرتبہ جھوٹ اور دھوکہ دہی کے جرم کا ارتکاب کیا؟؟
– دین وملت کے لئے بھی ہم نے کچھ کیا یا نہیں؟ کہیں صرف ہم تن کے غلام بن کر تو نہیں جیتے رہے؟
غرض یہ اور اس طرح کے بے شمار سوالات ہم اپنے آپ سے کریں، اور سوچیں کہ ہم نے جانے والے سال کو کس طرح گذارا، ہمارے لئے کتنا بہتر رہا اور کتنا نا مناسب؟ ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ یہ سب کچھ سوچیں ، اپنا جائزہ لیں اور پھر نئے شروع ہونے والے سال کو اس طرح گذارنے کی کوشش کریں کہ سال گذشتہ جو کوتاہیاں ہم سے ہوئیں وہ اس مرتبہ نہ ہونے پائیں۔ یہ محرم الحرام کا سب سے بنیادی اور اہم پیغام ہے۔
(۲) محرم الحرام کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ یہ ہمیں واقعۂ ہجرت کی یاد دلاتا ہے، اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ دور فاروقی تک اسلامی کلینڈر کا آغاز نہیں ہوا تھا، وہی پرانی تاریخیں جیسے عام الفیل وغیرہ چلی آرہی تھی، حضرت عمر فاروق کا جب دور آیا تو آپ نے سوچا کہ اسلامی کلینڈر کی بھی شروعات کرنی چاہیے، لیکن مسئلہ یہ تھا کہ کس واقعہ کو بنیاد بنا کر پہلا اسلامی سال مقرر کیا جائے، یعنی جس سال سب سے اہم واقعہ پیش آیا ہو اسی کو اسلامی کیلینڈر کا پہلا سال تجویز کیا جائے، اب ظاہر ہے کہ اس طرح کے اہم واقعات تو حضور اکرم ﷺ کے زمانے میں ایک دو نہیں، بے شمار ہیں، اور ان میں سے ہر ایک اپنی جگہ بہت اہمیت کا حامل ہے، جس سال آپ کی پیدائش ہوئی اس کی اہمیت کو کوئی بیان کرے، جس سال آپ کو نبوت سے سر فراز فرمایاگیا اس سے زیادہ اہم سال اور کون سا ہو سکتا ہے؟ جس سال آپ نے طائف کا رخ کیا اس کی اہمیت کیا کسی سے کم ہے؟ جس سال غزوہ بدر میں مسلمانوں کو زبردست فتح نصیب ہوئی اس کی اہمیت کے کیا کہنے! اسی طرح صلح حدیبیہ فتح مکہ، حجۃ الوداع اور آپ ﷺ کی وفات کے واقعات! غرض بہت سے واقعات تھے، صحابہ نے اپنی اپنی رائیں پیش کیں، لیکن عمر فاروقؓ کی دور بین نگاہیں پس پردہ بھی بہت کچھ دیکھ رہی تھیں، آپ کو شاید اندازہ تھا کہ اگر ولادت رسول، آغاز نبوت، غزوہ بدر اور وفات رسول میں سے کسی واقعہ کی طرف اسلامی کیلینڈر کو منسوب کر دیا گیا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ آگے چل کر مسلمان اسے ایک رسم بنالیں اور اسے اس طرح یادگار کے طور پر منانا شروع کر دیں جس کی اسلام اجازت نہ دیتا ہو۔
اس لئے آپ نے اس واقعہ کو منتخب کیا جس میں بے پناہ دروس اور عبرت کے سامان ہیں، آپ نے واقعہ ہجرت کا انتخاب کیا، اور جس سال یہ واقعہ پیش آیا اسے پہلا اسلامی سال مقرر کر دیا۔ مہینوں کی ترتیب جو پہلے سے چلی آرہی تھی کہ محرم سے سال کا آغاز ہوتا تھا اور ذی الحجہ پر ختم ہوجاتا تھا اسے جوں کا توں رہنے دیا۔
تو گویا اسلامی کیلینڈر کی نسبت واقعہ ہجرت سے جوڑی گئی، تاکہ جب بھی نیا اسلامی سال شروع ہو تو ہجرت کی یادیں تازہ کر لی جائیں اور اس میں چھپے اسباق کو ذہن نشین کیا جائے، اور واقعہ ہجرت کیا ہے؟ اللہ کے لئے، دین کے لئے اور اسلام کی سر بلندی کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دینا،مال و دولت، زرو زیورات، زمین و جائداد، اہل و عیال اور آل اولاد سب کو راہ خدا میں نچھاور کر دینا، اپنی ہر خواہش پر رب کی مرضی کو ترجیح دینا، اپنی ہر چیز کو دین کے تقاضے کے آگے تج دینا، یہ واقعہ ہجرت کا پیغام اور اس کا پیام ہے۔
لہذا اس روشنی میں ہم اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ ہم نے بھی خدا اور دین کے لئے کچھ قربانی دی؟ ہم نے بھی اپنی خواہشات پر اللہ کو راضی کرنے کے لئے بندش لگائی؟ ہم نے بھی اپنے مال و متاع اور آل اولاد میں سے خدا کی راہ میں کسی قربانی دی؟ اگر کبھی ہمارے سامنے حلال وحرام کی کشمکش آئی تو ہم نے حلا ل کو اختیار کیا یا حرام کو؟ اگر دین پر عمل کرنے کے نتیجے میں ہمیں بظاہر نقصان نظر آرہا ہو تو ہم نے دین پر ہی عمل کیا یا اسے چھوڑ کر دنیا کے وقتی فائدہ کو ترجیح دی؟ حاصل یہ ہے کہ جس طرح نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام نے دین کی سر بلندی کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ کر مدینہ ہجرت فرمائی تھی ہم نے اپنے اندر دین کے لئے قربانی دینے کا جذبہ کہاں تک اور کس حد تک پیدا کیا؟ اور صرف جذبہ ہی نہیں بلکہ موقع پڑا تو ہم اس قربانی پیش کرنے میں کہاں تک کامیاب ہوئے؟ یا خدا نخواستہ ہم اپنے اندر یہ جذبہ بھی نہ پیدا کر سکے؟؟۔
(۳) محرم الحرام کا تیسرا پہلو واقعۂ شہادت حسین رضی اللہ عنہ ہے، یہ واقعہ کیا ہے؟ ایک طرف ظلم وجور اور وحشت درندگی اور دوسری طرف مظلومیت و مقہوریت اور بے بسی وبے کسی کی داستان غم، تاریخ انسانی میں اس طرح کے ظالمانہ دجابرانہ واقعات شاذ و نادر ہی پیش آئے ہیں، یہ پورا واقعہ دردناک، کربناک اور المناک ہے، شعراء و ادباء نے اس واقعہ کی تصویر غم اپنی اپنی تخلیقات میں کھینچی ہے، اور صرف اس ایک واقعہ کی سنگینی پر ہزاروں صفحات سیاہ کے گئے ہیں۔
لیکن یہ داستان جس طرح داستان غم ہے اسی طرح بلکہ اصل معنی میں داستان عبرت بھی ہے، جہاں ایک طرف حضرت حسینؓ اور ان کے بے بس اہل خانہ کی مظلومانہ شہادت کا حادثۂ غم ہے، وہیں دوسری طرف اس کے پس پردہ ان کی عظمت و جانبازی، ہمت و حوصلہ، شجاعت و بہادری اور جذبۂ جہاد و شوق شہادت کی منہ بولتی تصویر بھی ہے۔
حضرت حسین ؓ نے باوجود اپنی بے سروسا مانی اور بے کسی و بے بسی کے یہ اقدام کیوں کیا؟ کس چیز نے انہیں آمادہ کیا کہ وہ اپنی جان کی بازی لگائیں؟ کس چیز نے انہیں ابھارا کہ وہ اپنی متاع زیست کو اس طرح داؤ پر لگادیں؟؟
اس کے پیچھے جو جذبہ تھا وہی حاصل قربانی ہے، جذبہ تھا اسلام کی سربلندی کا، حق کے اظہار کا، جذبہ تھا نظام خلافت کے بقاء کا، جذبہ تھا خدا کو راضی کرنے کا، دین کے لئے قربانی پیش کرنے کا، دین کی خاطر اپنا سب کچھ نچھاور کر دینے کا،یہی جذبہ اصل تھا، یہ اندر کی روح تھی جو حضرت حسین کو بے تاب کئے ہوئی تھی، یہ ولولہ آپ کو بے چین کئے ہوئے تھا، اس نے راتوں کی نیند اور دن کا چین حرام کر دیا تھا، آپ دیکھ رہے تھے کہ اسلامی خلافت کا رخ دوسری طرف موڑا جا رہا ہے، اور آپ سے یہ دیکھا نہیں جا رہا تھا، آپ کی دینی حمیت یہ برداشت کرنے کو تیار نہ تھی کہ میرے جیتے جی اسلام یا اسلامی نظام میں کوئی کمی یا زیادتی کی جائے۔
واقعہ یہ ہے کہ حضرت حسین ؓ کی اس شہادت میں ہمارے لئے عبرت و نصیحت کا بڑا سامان ہے، حضرت حسین نے تو اسلام کا سر بلندی کی خاطر جام شہادت نوش فرمایا اب سوال یہ ہے کہ ہم نے اسلام کی سر بلندی کی خاطر کیا کیا؟
کیا اسلامی نظام کو نافذ کرنے کے لئے ہم نے کچھ تگ و دو کی؟
بلکہ کیا ہم نے صرف اپنے گھر کی حد تک بھی اسلامی نظام نافذ کیا؟
کیا ہم نے دنیا کو اسلامی نظام سے واقف کرانے کے لئے کچھ بھی حرکت کی؟
جنہوں نے اسلامی نظام کا دنیا سے خاتمہ کیا ان کے خلاف ہم نے اپنی عمل سے اعلان بغاوت کیا؟
خود جو مسلم ہیں ان حکمرانوں کو ہم نے اس پر آمادہ کرنے کی ہلکی سی بھی کوشش کی کہ وہ اپنے ملکوں میں اسلامی نظام نافذ کریں۔
اسلام کی پس پشت ڈال دی گئی تعلیمات کے احیاء میں ہم نے کیا رول ادا کیا؟
اسلام کے نام پر جو بیہودہ رسمیں ہمارے سماج کا حصہ بن چکی ہیں انہیں ختم کرنے کے لئے ہم نے ہمت جٹائی؟
اسلام کو جن چند رسم ورواج میں قید کر دیا گیا ہے ہم نے اسے ان سے آزاد کرنے کی کچھ بھی سعی کی؟
کیا ہم نے کبھی حق کی سر بلندی کی خاطر دنیا سے لڑنے کا جذبہ اپنے اندر پیدا کیا؟
یا ہم نے زمانے کے رخ پر چلنا سیکھ لیا ہے کہ ہوا جدھر کی ہمارا رخ بھی ادھر؟
کیا دنیا میں اسلام و قرآن کی تعلیمات کی نشرو اشاعت کے لئے ہم نے کچھ جد وجہد کی؟
اگر ہمیں بظاہر دور حاضر میں اسلامی تعلیم کے حاصل کرنے میں کوئی فائدہ نظر نہیں آرہا ہو اور عصری تعلیم میں سراسر نفع ہی نفع دکھائی دے رہا ہو تو کیا ہم نے اس نفع کو قربان کرکے دین کی تعلیم کو اس پر ترجیح دے کر اسے حاصل کرنے کی کوشش کی؟
حضرت حسینؓ نے تو اس دین کی خاطر اپنی ہر چیز قربان کر دی ہم نے جان کی بات تو دور رہی، کیا اپنی خواہشات اور معمولی دنیاوی منافع کو قربان کرنے کی بھی ہمت کی!۔
بہرحال محرم الحرام کے یہ تین پہلو ہیں اور ہر ایک کے اندر درو س ونصائح موجود ہیں، محرم کو صرف حضرت حسین کی شہادت سے جوڑنا اور بقیہ چیزوں سے اسے یکسر کاٹ دینا محرم کے اصل پیغام کو فراموش کر دینا ہے۔

(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker