مضامین ومقالات

نوٹ بندی کے سر بستہ راز سے پردہ اٹھنے لگا

دستور کے رہنما اصولوں کا پابندو با اختیار ادارہ ریزو بینک پر حکومت نے فیصلہ تھوپا!
تنویر احمد، کلکتہ
ملک میں نوکر شاہوں کی اکثریت اپنے سیاسی آقاو ¿ں کے خواہ کتنے ہی خوشامدی اور بد عنوان ہو جائیں، ملک کا دستوری ڈھانچہ اور جمہوری نظام اتنا مضبوط اور ہم آہنگ ہے کہ فسطائیت کا تکبر اورآمریت کا گھمنڈ زیادہ دیر تک اپنی من مانی نہیں کر سکتا۔8 نومبر کی رات بڑے طمطراق سے وزیر اعظم نریندر مودی جب ٹی وی کے اسکرین پر جلوہ افروز ہوکر پانچ سو اور ہزار روپئے کی کرنسی کو منسوخ کرنے کا فرمان جاری کیا تو ملک کی ساری اپوزیشن پارٹیاںہی نہیں بلکہ بیشتر عوام حتیٰ کہ کم پڑھے لکھے لوگ بھی اس فکر میں پڑ گئے کہ آیا وہ ایک جمہوری ملک میں جی رہے ہیں یاغلامی کے جاگیرانہ دور میں سانس لے رہے ہیں۔9 نومبرکی صبح سے ہی آلام و مصیبتوں کے اندیشے جب سچ ثابت ہونے لگے تو کارپوریٹ میڈیا کی اکثریت ” مودی کی سرجیکل اسٹرائیک“ کی اصطلاح اختراع کر کے عوام کو دیش بھگتی اور دیش دروہی کے دو انتہائی خطوں میں باٹنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ آزاد ہندوستان کا یہ وہ افسوسناک لمحہ تھا جب کارپوریٹ میڈیا نے اپنے ضمیروں کا سودا کر کے 77 19کے ایمرجنسی کی تاریکیوں کو بھی شرمسار کر دیا۔ ایام ایمرجنسی میں صحافت کا قلم پا با زنجیر ضرور تھا لیکن ضمیر اسکے اسوقت بھی آزاد تھے۔ روٹی جٹانے کی ترجیحات نے عوام کو بینکوں کی قطاروں میں کھڑا کر کے انہیں اتنا بے بس کر دیا کہ کئیوں کی جانیں بھی چلی گئیں۔عوام اپنے ہی پیسوں کیلئے بینکوں کے محتاج ہو گئے۔ آج بھی انہیں یہ یقین نہیں کہ ان کی خون پسینے کی کمائی ان کے تحویل میں کب آئیں گے۔ ادھر دوسری طرف لیکن حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے چور اور لٹیرے کڑوڑوں کے نئے نوٹوں سے اپنا گودام بھرتے رہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کے جداگانہ ڈفلی کے جدا گانہ راگ نے انہیں اتنا بے وقعت بنا دیا کہ حکمراں جماعت نے پارلیمنٹ کے اجلاس کو بھی خاطر میں نہیں لایا۔ وزیراعظم ریڈیو اور ٹی وی کے علاوہ عوامی سطحوں پر سب کچھ بکتے رہے ، لیکن پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے مطالبے کو خاطر میں لانے سے بھاگتے رہے۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں غالباً پارلیمنٹ کا ایسا نظارہ یہ پہلی بار دیکھا گیا ہوگا جب لوک سبھا کی اسپیکر کارپوریٹ میڈیا کے اینکر پرسن کا کردار نبھاتے ہوئے ” منی بل“ کو انتہائی عجلت میں بغیر بحث کے پاس کرا دیتی ہیں۔
2014 کے انتخاب میںبی جے پی نے جب حکومت کی تشکیل کی تو مغربی بنگال کے سابق گورنر گوپال کرشن گاندھی نے وزیراعظم کے نام ایک کھلا خط میں تحریر کیا تھا کہ نریندر مودی کو یاد رکھنا چاہئے کہ انہیں 31% لوگوں نے ہی ووٹ دیاہے۔ لہذاموصوف گاندھی کی اس یادشت کے ضمن میں یہ سوال اپنی جگہ آج بھی مسلم ہے کہ ملک کا وہ وزیراعظم جسے 69% ہندوستانی عوام نے رد کر دیا ہو ، وہ نوٹ بندی کا آمرنہ فیصلہ لینے کا حق رکھتا بھی ہے؟ یہی وہ سوال ہے جس کے جواب دینے سے حکومت بھاگتے رہی تھی، پبلک اکاو ¿نٹ کمیٹی یاپی اے سی ( عوامی محاسبہ کمیٹی ) نے بالآخر اسے دھر دبوچا۔ واضح رہے کہ جس طرح پولیس کسی چور کو گرفتار کرنے کیلئے کبھی براہ راست اس کے گریبان میں ہاتھ نہیں ڈالتی ہے بلکہ پہلے جال بچھاتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح ملک کی معیشت کو تباہ و برباد کرنے نیز امیروں کو مزید امیر بنانے کامحرک نوٹ بندی کے فتور اور دماغی اپج کا پتہ چلانے کیلئے پی اے سی نے پہلے یزرو بینک کے گورنر ارجیت پٹیل کو دس سوالات پر مبنی ایک مکتوب میں ان سے پوچھا ہے کہ ”عوام کے پیسوں پر پابندی لگا کر ا سے محروم رکھنے کے کسی بھی قانون کی عدم موجودگی میںکیاگورنر ریزو بینک نے اپنے دفتری اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں کیا ہے ؟ لہذا اس فاش تجاوز کی پاداش میں ان پر قانونی چارہ جوئی کیوں نہ کی جائے“؟
انگریزی اخبار دی انڈین ایکسپریس کے دعوے کے مطابق ریزو بینک نے مذکورہ پی اے سی ( عوامی محاسبہ کمیٹی) کو اپنا جواب ارسال کیا ہے، اور اخبار مذکورہ کے دعوے کے مطابق اس کی کاپی اسکے تحویل میں محفوظ بھی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ” حکومت اب تک یہی تاثر دیتی آ رہی تھی کہ پانچ سو اور ہزار کے نوٹوں کی منسوخی کا فیصلہ اس کا نہیں بلکہ آر بی آئی( ریزو بینک آف انڈیا) کا ہے۔ لیکن آر بی آئی نے شعبہ پی اے سی کے ذیلی دفتر کے ایم ویرپا موئیلی کو مورخہ 22 دسمبر کے اپنے مکتوب میں یہ واضح کیاہے کہ وہ نوٹ بندی کے حکومت کے منطقی قیاسات سے اتفاق کرتے ہوئے، اسکی ( حکومت) کی ایما پر ایسا قدم اٹھا یاہے“ ۔ پی اے سی کے مذکورہ دفتر کو ریزو بینک مزید واضح کرتا ہے کہ ” 7 نومبر2016 کو حکومت نے جعلی نوٹوں، افراط کالادھن اور دہشت گرادانہ فنڈنگ کے مسائل کو کم کرنے کے مدنظر اسے( بینک) ”مشورہ“(دراصل یہ مشورہ حکم کے مقام پر ہے جو سلسلہ متن میں واضح ہوتا ہے) دیا کہ وہ پانچ سو اور ہزار کے نوٹوں کی قانونی حیثیت ختم کرسکتا ہے“۔ یاد رہے کہ ریزو بینک کے نام مذکورہ مکتوب میں کالا دھن کو متوازی معیشت باور کراکر حکومت نے اپنے منطق کو مدلل کیا تھا نیز کہا تھا کہ ” اس ( حکومت) کا ماننا ہے کہ پانچ سو اور ہزار کے نوٹوں کے ذخیروںسے کالا دھن اور جعلی کرنسیوں کی معیشت میں اضافہ ہورہا ہے۔ لہذا حکومت ہند آر بی آئی کو صلاح دیتی ہے کہ وہ پانچ سو اور ہزار کے پرانے کرنسی نوٹوں کو منسوخ کرنے کے ضمن میںریزو بینک کے مرکزی بورڈ میں ڈائریکٹروں کی میٹنگ میںفوری طور پر ان محرکات اور عوامل پر گفتگو کرے“۔ ریزو بینک کے مطابق اسکا مرکزی بورڈ دوسرے دن یعنی 8 نومبر2016 کو ہی حکومت کی تاویلات(نوٹ بندی کے جواز) پر تبادلہ خیال کی رسم خانہ پری اداکرنے کے بعد ” پانچ سو اور ہزار روپئے کے نوٹوں کی قانونی حیثیت ختم کرنے کا تہیہ کرتا ہے“۔
بادی ¿ نظر میں معلوم ہوتا ہے کہ نوٹ بندی کا حکم ریزو بینک لے رہا ہے، کیوں کہ وزیراعظم کے نوٹ بندی کے اعلان کے ٹھیک آٹھ دنوں بعد مرکزی وزیر برائے توانائی، کوئلہ پیوش گوئیل نے راجیہ سبھا میں اس کے مکرر اعلان سے یہی تاثر بھی دیا تھاکہ ” ریزو بینک کے بورڈ نے یہ نرنئے لئے۔ اسکو سرکار کے پاس بھیجا اور سرکار نے اس نر نئے کی سراہنا کرتے ہوئے ، کابینہ نے سے منظوری دی کہ پانچ اور ہزار کے پرانے نوٹوں کو رد کیا جائے، نئے نوٹ آئے۔ کابینہ نے بھی اسکی حامی بھری کہ پانچ سو اور ہزار کے پرانے نوٹوں کو منسوخ کر اس کی جگہ نئے نوٹ لائے جائیں“۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت ریزو بینک جو دستور کے رہنما اصولوںکا پابند با اختیار ادارہ ہے ، اس کو اپنے رعب اور دبدبہ کے بل پر اپنے فیصلوں کا پابند بناتی رہی ۔ سابق آر بی آئی گورنر رگھوراجن پر ”ملک دشمن“ کا لیبل چسپاں کر اسے دوسرے ٹرم کی خدمات سے محروم کرنا اور اپنی پسند کا گورنرارجیت پٹیل کو اس عہدہ پر بحال کرنا اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔
جو لوگ بین السطور پڑھنے کا ہنر جانتے ہیں وہ بخوبی ” فوری اور مشورہ “کا معنی خوب سمجھتے ہیں۔ ریزو بینک نے اپنے مکتوب میں یہ تاثر دینے کی اگرچہ کوشش کی ہے حکومت کی ایما پر اس نے مرکزی بورڈ کی میٹنگ میں کالا دھن، جعلی نوٹ اور دہشت گرد فنڈنگ کی سرکاری تاویلات سے مطمی ¿ن ہوکر حامی بھری تھی، تاہم نوٹ بندی کے جواز کی دلیل میں ” پس منظر اور تیاریاں“ کی بھی بحث کی ہے۔ ریزو بینک کہتا ہے” حکومت ہند اور ریزو بینک کو یہ گمان یا قیاس تھا کہ پرانے پانچ سو اور ہزار کے نوٹوں کی منسوخی کے بعد اس کے مقام پر نئے نوٹوں کی آمد سے مذکورہ تین مسائل سے خاطر خواہ نپٹا جا سکتا ہے۔ البتہ شروعات میں نوٹ بندی کا فیصلہ نہیں لیا گیا تھا اگر چہ نئے نوٹوں کی چھپائی جاری تھی کہ وہ بہر کیف ضرورت پڑنی تھی“۔ ریزو بینک مزید لکھتا ہے کہ” اس نے کافی پہلے 7 اکتوبر2014 میں نقدی کی کمیت کی بتدریج گراوٹ کے مد نظر حکومت کو پانچ ہزار اور دس ہزار روپئے کے بڑے نوٹوں کو جاری کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ لہذا حکومت اس تجویز کے احترام نیز مشاورت کے بعد 18مئی 2016 کو اپنے دو ہزار روپئے کے نوٹ کو جاری کرنے کے” اصولی فیصلہ“ سے باخبر کیا۔ واضح رہے کہ ” اصولی فیصلہ“ حکومت کی من مانی کا محض ایک چوردروازہ ہ ۔ بہر کیف حکومت کا بھرم رکھنے کیلئے ریزو بینک نے بھی 27 مئی 2016 میں حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ دوہزار کے اپنے ” اصولی فیصلہ“ کو جامہ پہنانے کیلئے نئے رنگ و روپ، سائز اور اس سے وابستہ مرکزی خیال(تھیم) سے مزین نئے نوٹ جاری کرے۔ حکومت نے لہذا 7جون 2016 کو حتمی طور پر اپنے فیصلے سے ریزو بینک کو آگاہ کیا اور جون کے مہینہ میں چھاپہ خانوں کو ” مشورہ“ دیا کہ وہ نئے نوٹوں(دوہزار کے) کی چھپائی شروع کرے۔
قارئین محترم ! انگریزی کا لفظ advised کی کرامت اور خوبی دیکھ رہے ہیں۔ ہدایت اور حکم کے مقام پر بھی مشورہ یعنی advised کا لفظ استعمال دھڑلے سے کیا گیا ہے۔ حکومت بینک کو مشورہ دی رہی ہے، بینک چھاپہ خانوں کو مشورہ دے رہا ہے۔ یعنی نوٹ بندی کی ہمالیائی فاش سرکاری غلطی پر پردہ دالنے کیلئے ریزو بینک پی اے سی کو کیا تاثر دے رہا ہے وہ بین السطور واضح ہے۔ ریزو بینک نے اعلان نوٹ بندی کی تاریخ کے جواز میں اپنا یہ اندازہ اور قیاس ظاہر کیا ہے کہ جب دو ہزار نوٹوں کا ذخیرہ ” Critical minimum“ کو بتایا ہے حالانکہ ریزو بینک کے اپنے ہی اندراج میں 8 نومبر 2016 کا ذکر موجود ہے۔ وزیراعظم نے جب اعلان کیاتو اس وقت ریزو بینک کے تحویل میں دوہزار روپئے کی نئی کرنسی کی تعداد 94660 کڑوڑ روپئے کی کل مالیت کی تھی یعنی منسوخ شدہ پرانے پندرہ لاکھ کڑوڑ روپئے کی بمشکل چھ فیصد۔ اس ناقص تیاری کے باجود بھی ریزو بینک حکومت کی عجلت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے کہتا ہے کہ” نوٹ بندی کے اعلان کا اس سے زیادہ مناسب وقت کبھی نہیں آ سکتا تھا“۔ریزو بینک نے اپنے مکتوب میں اسی طرح جعلی نوٹ، کالے دھن اور دہشت گردانہ فنڈنگ کی وجہوں کی تکرار سے حکومت کے فیصلے کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس درمیان پی اے سی کے ذیلی دفتر کے سربراہ موئیلی8 جنوری کو مالیاتی وزراءنیز مختلف بینکوں کے اعلیٰ نمائندوں اور ارجیت پٹیل کی میت میں ایک میٹنگ میںمتعلقین سے نوٹ بندی کے موضوع پر استفسار کیا۔ آر بی آئی نے اپنے جوابی مکتوب میں یہ بھی کہا ہے کہ” اسے یہ گمان تھا کہ حکومت کی ایماپر لئے گئے اس فیصلہ کے نتیجہ میں عوام میں نئے نوٹوں کی سپلائی، مالیاتی کمیت کے مقاصد کے عوض جمع کے ضمن میں قلت کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے حتیٰ کہ کمیت اور ماہیت کے لحاظ سے صورتحال کی فوری بحالی بھی ممکن نہیں ہو سکتی۔ تاہم آر بی آئی کا دعویٰ ہے کہ دو ہزار کے نئے نوٹوں کی مسلسل چھپائی اور مناسب تقسیم سے مانگیں ایک مخصوص مدت میں پوری ہو سکتی ہیں۔ ( اگرچہ مخصوص مدت کا تعین کرنے میں بھی حکومت اور ریزوبینک ناکام ہے)۔
انگریزی اخبار ”دی انڈین ایکسپریس“ کے مذکورہ انکشافات سے یہ معلوم ہو ا کہ حکومت ہی 7 نومبر 2016 کو ایک خط کے ذریعہ ریزو بینک کو اپنے فیصلہ سے باخبر کرتی ہے کہ وہ نوٹ منسوخ کرنے جا رہی ہے لہذا ریزو بینک ضابطے کی کاروائی بلا تاخیر پوری کر کے اسے مطلع کرے۔ ریزوبینک 8 نومبر 2016 کو حسب ہدایت خانہ پوری کرتی ہے اور اسی رات 8 بجے وزیراعظم قوم کو نوٹ منسوخی کا فرمان سناتے ہیں۔ وزیراعظم نے اپنی ضد پوری کرنے اور ”سرجیکل اسٹرئیک “ کا ڈرامہ رچنے کیلئے جو تگ و دو کیا اس کے سر بستہ راز سے اب آہستہ آہستہ پردہ اٹھنے لگے ہیں۔ لیکن آر بی آئی بھی اپنی مبہم تحریروں سے نوٹ بندی کے جواز ، اسکے اثرات اورصورتحالی کی بحالی پر نہ صرف اپنی بلکہ حکومت کی قیاسی رویوں کو جہاں ثابت کرتا جا رہاہے، وہیں نوٹوں پر رقم اپنے پیمان وفا کی لاج بچانے میں ناکامی کی مہر ثبت کر کے عوام کا اعتماد بھی متزلزل کرتا جا رہاہے۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker