ہندوستان

عورتوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث زانیوں کو سر راہ پھانسی دی جائے

عصمت دری ، جنسی جرائم اور دیگر معاملے میں سخت قانون مرتب کیا جائے ، حجاب عورتوں کی زینت ہے اس سے وہ معاشرہ میں تعظیم کی نظروں سے دیکھی جاتی ہے : ابوعاصم اعظمی
ممبئی ۔۱۲؍جنوری: (نمائندہ خصوصی) عورتوں کے ساتھ عصمت دری ، دست درازی اور چھیڑ خانی کر نے والے خاطیوں کو پھانسی دی جائے اسلام میں جس طرح سے زانیوں کو سنگسار کرنے کا حکم دیا گیا ہے اسی طرز پر یہاں بھی قانون مرتب کیا جائے اس قسم کا پر زور مطالبہ آج ممبئی کے کریمی لائبریری انجمن اسلام میں سنکلپ ویلفیئر سینٹر کے زیر اہتمام ملک کے سلگتے مسائل پر اہم مذاکرہ عورتوںکے خلاف بڑھتے جنسی جرائم وجوہات اور روک تھام سے خطاب کر تے ہوئے رکن اسمبلی اور ایس پی لیڈر ابوعاصم اعظمی نے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ میں فحاشیت عریانیت کے خلاف ہوں اور رہوں گا کیونکہ میرا اسلام اور ہندوستانی تہذیب اس کی اجازت نہیں دیتی کہ عورتیں نیم برہنہ حالت میں گھوم کر بازاروں کی رونق بنیں ۔ عورتیں توگھر کی زینت ہے اور وہ حجاب میں ہی محفوظ ہیں ۔ سعودی عربیہ میں عصمت دری سمیت عورتوں کے خلاف جنسی جرائم نہ کے برابر ہے کیونکہ وہاں شریعہ قانون نافذ ہےدبئی میں بھی یہ معاملہ نہیں ہوتا جبکہ دبئی میں تو غنڈے بدمعاش اور ہر قسم و ملک کے لوگ رہتے ہیں یہاں اےسے جرائم اس لئے نہیں ہوتے کیونکہ یہاں کا قانون سخت ہوتا ہے ۔ ابوعاصم اعظمی نے عورتوں کو بھی تہذیب کے دائرہ میں رہنے کی صلاح دیتے ہوئے کہا کہ مجمع میں بیٹھی ایک برقعہ پوش دوشیزہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر بازار میں یہ دوشیزہ اور کم کپڑے والی لڑکی جائے گی تو کس کے ساتھ چھیڑخانی ہوگی یہ غور کر نے کی بات ہے ایسے معاملے میں ہمیں سر جوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے اسلام نے سلیقہ زندگی سکھایا ہے اگر اس پر عمل کیا جائے تو اس قسم کے جرائم کبھی بھی پنپ نہیں سکتے میرا یہ کھلا دعوی ہے.۔آزاد ی نسواں کے نام پر عورتوں کے حقوق کےلئے آواز بلند کر نے والی خودساختہ تنظیموں اور میڈیا پر سخت تنقید کر تے ہوئے ابوعاصم اعظمی نے کہا کہ آزادی کا نام بے ہودہ لباس زیب تن کرنا نہیں ہے بلکہ حدو د میں رہ کر صالحہ معاشرہ بنانا ہے میڈیا پر برہمی کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ جس طرح سے میڈیا میرے بیان پر واویلا اور ہنگامہ مچا رہی ہے اس سے میں خوفزدہ نہیں ہونے والا بلکہ میری فحاشیت اور عریانیت کے خلاف لڑا ئی جاری رہے گی کیونکہ وہ خواتین کی عزت و احترام اور تعظیم کرتا ہوں ۔ بھارت بچائو اندولن کے عہدیدار فیروز میٹھی بور والا نےآزادی نسواں کی پر زور وکالت کر تے ہوئے کہا کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے یہاں کسی پر بھی ڈریس کوڈ نافذ نہیں کیا جاسکتا ہرلڑکی کو اپنے من پسند کپڑے پہننے اور رہن سہن کی آزادی حاصل ہے لیکن بدقسمتی سے آج جس لڑکی یا خواتین کے ساتھ عصمت دری یا دست درازی کے واقعات پیش آتے ہیں انہیں کو قصور وار ٹھہرایا جارہا ہے اور اس پر سیاسی پارٹیاں غیر ذمہ دارانہ بیان بازی بھی کرتی ہے آج خواتین تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ملک کے قانون سے بھی واقف ہے اور وہ اپنے حقوق حاصل کر نے کے لئے کوشاں ہوچکی ہے اسے ہم نظر انداز نہیں کر سکتے ان خواتین ہم شدت پسند پنڈت یا مولوی کے سامنے جھکنے پر مجبور نہیں کر سکتے اور یہ عورتیں اپنے حقوق کی بذات خود علمبردار ہے کیونکہ ان میں بیداری پیدا ہوئی ہے ۔ فرید خان نے کہا کہ آج عورتوں کو ایک پروڈکٹ بنا کر پیش کیا جارہا ہے اور ان کا ہر جگہ جنسی استحصال کیا جارہا ہے عورتوں کو اسلام میں گھر کی ملکہ کا درجہ دیا گیا ہے جبکہ مرد کو بادشاہ کہا گیا ہے ایسے میں دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ باہمی تال میل سے رہ کر زندگی بسر کر یں ۔ عورتوں کو اسلام میں حیا کا نام دیا گیا ہے لیکن آج جنسی درندے انہیں بے حیا کر رہے ہیں یہ افسوسناک ہے ۔ مولانا شاہنواز نے آنحصور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں پر مسلمانوں بالخصوص عورتوں کو زندگی گزارنے کا درس دیتے ہوئے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے قبل فحاشیت عریانیت اور ہر طرح کے جرائم عام تھے لوگ 100 سے زائد قسم کی شراب تک نوش کر تے تھے لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد ایک صالحہ معاشرہ تشکیل پایا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلا کام کیا کہ لوگوں کو اپنے دلوں کی اصلاح کر نے کی دعوت دی ۔ گناہوں کے قریب نہ جانے کی تلقین کی گئی ، گناہو ں پر ندامت کے علاوہ مردوں کو عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کر نے کی تاکید فرمائی عورتیں قابل احترام ہے عورتوں اور مردوں کو نگاہیں نیچی رکھنے اور غیر محرم سے دور رہنے کی بھی تعلیم دی گئی زنا کے قریب نہ جانے کی تعلیم اسلام نے ہی دی جو شخص زنا کرتا ہے اس کا چہرہ بے نور ہوجاتا ہے جبرا زنا کر نے والوں کے لئے سخت سزا فرمائی جس میں زانی کو سر عام سنگسار کر نے کا حکم دیا گیا ہے ۔ عورتوں کو غیر محرم سے نہ ملنے کی تعلیم اسلام نے ہی دی ہے ۔للن یادو نے عورتوں کو مریادہ کا درس دیتے ہوئے کہا کہ رام لکشمن اور سیتا کا وہ واقعہ پیش کیا جس میں سیتا کی حفاظت کےلئے رام نے اپنی بھائی لکشمن کو متعین کیا تھا اور جب لکشمن ،رام کی تلاش میں گئے تو گھر کے باہر لکشمن ریکھا کھینچ کر گئے لیکن سیتا نے وہ لکشمن ریکھا پار کر دی جس کے سبب اس پر مصیبت آئی اس لئے عورتوں کو اپنی حدود میں رہ کر ہندوستانی سنسکرت کو اپنا نا چاہئے عورتیں ہماری ماں بہنیں ہیں اور منتر میں بھی ہندو دھرم میں اس کا تذکرہ موجود ہے ۔شیعہ عالم دین شیر محمد جعفری نے بتایا کہ اللہ رب العزت نے کائنات میں دو چیزیں بنائی ایک مرد اور دوسرا عورت ،عورتوں کے بغیرکائنات کا تصور بھی نہیں تھا یہ کائنات کو مکمل کر تی ہے آدم علیہ السلام اور حوا علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور پھر ان دونوں کو زمین پر اتار کر جدا کر دیا تو آدم علیہ السلام ، حوا کی یاد میں گریا وزاری کیا کرتے تھے تب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صدقہ میں انہوں نے توبہ کی اور انہیں حوا عطا ہوئی ۔ عورت کے بغیر گھر نامکمل ہوتا ہے ۔ جب کوئی شادی کر تا ہے تو اس کا نصف ایمان محفوظ ہوجاتا ہے یہ برکت ہے شادی کی ۔ کانگریس کے لیڈراور سماجی خادم نظام الدین راعین نے تھرٹی فرسٹ نائٹ کو معاشرہ کے لئے ناسور قرار دیتے ہوئے اس قسم کی بےہودہ تقریبات پر پابندی عائد کرنے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ کرسچن ازم کے بھی خلاف ہے کیونکہ راہبہ بھی اچھے اور بہتر لباس زیب تن کر تی ہے تو پھر تھرٹی فرسٹ میں اس قسم کی بیہودہ حرکتیں کیوں ہوتی ہے یہ کرسچن ازم کے نام پر کچھ لوگ بیہودہ اور عریانیت کو فروغ دے رہے ہیں ۔ سابق پرنسپل سلمی لوکھنڈ والا نے کہا کہ آ ج ہمارا معاشرہ کہاں جارہا ہے یہ بتانے کی ضرورت ہے نہیں اپنے بچوں کی نگرانی اور ان کی بہترین تربیت کی ضرورت ہے چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی وہ کیا کر رہے ہیں یہ دیکھنا ضروری ہے،۔ این سی پی لیڈر جلال الدین نے بھی اخلاقیات کا درس دیتے ہوئے کہا کہ بےہودہ حرکتیں اسی وقت وجو د میں آتی ہیں جب اخلاقیات کی تعلیم میں میں کہیں کمی ہو جاتی ہے ہمارا معاشرہ آج نا پید ہوتا جارہا ہے اس لئے اصلاح معاشرہ کی ضرورت ہے۔ صحافی سعید حمید نے کہا کہ بیہودہ اور فحاشیت پر پابندی سے متعلق قانون موجود ہے اور عوامی مقامات پر اگر کوئی نازیبا حرکت کرتا ہے تو اس پر کارروائی بھی کی جاتی ہے لیکن آج میڈیا ابوعاصم اعظمی کے بیان پر واویلا مچا کر عوام کو گمراہ کر رہی ہے جبکہ یہ معاملہ بالکل منفرد ہے میڈیا بدگمانیاں پیدا کر رہا ہے جو پیشہ صحافت کے خلاف ہے۔ پروفیسر دیانند تیواری نے بھی اپنے گھر سے اصلاح معاشرہ چلانے کی ترغیب دیتے ہوئے عورتوں کو تہذیب اختیار کر نے کی صلاح دی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker