شعر و ادبمضامین ومقالاتمیزان بصیرت

أدلۃ الحنفيۃ کی تکميل

بسم اللہ الرحمن الرحيم

حضرت مولانا محمد قاسم مظفرپوری قاضي شريعت دارالقضاء امارت شرعيہ پٹنہ کا ايک  اہم علمی کارنامہ

تبصرہ وتعارف: أبوسعد قاسمی ،ريسرچ اسکالرأم القری يونيورسٹی ،مکہ مکرمہ

شريعت اسلامي احکام خداوندی  اور سنت نبويہ کا وہ حسين گلدستہ ہے جسے تاقيامت انسانيت کي رہبری   ورہنمائی  انجام دينا ہے،اسی مہتم بالشان عمل کی تفصيل و توضيح اور انسانی    ضرورتوں کے مطابق شرعی أحکامات کی وضاحت کے لئے اللہ رب العزت نے فقہاء کی ايک جماعت پيدا فرمائی  ،اور ان ميں بھی  فقہاء أربعہ کی فقہ کو محفوظ فرماکر اللہ تعالی نے انہيں امت ميں ايک امتيازی شان بخشا ہے،

فقہاء أربعہ ميں بھی ان ميں سب سے عظيم المرتبت اور عہد نبوی سے قريب ترين شخصيت حضرت امام ابوحنيفہ رحمہ اللہ کی ہے ،جن کی وفات سن 150 ہجري ميں ہوئی اور محققين کے اقوال کے مطابق آپ کو کئ صحابي رسول صلی اللہ عليہ وسلم  سے شرف ملاقات کا موقع بھی ملا ہے،فقہ حنفی کے لئے اعزاز اور عند اللہ مقبوليت دليل ہی ہے کہ  مشرق و مغرب اور شمال وجنوب ميں موجود امت مسلمہ کی أکثريت آج بھی اسی دبستان فقہ سے وابستہ ہے،

فقہ اسلامی چوں کہ مصادر شرع سے مستنبط مسائل کا نام ہے ،اس لئے فقہ حنفی کے فقہی متون ميں عام طور پر دلائل کے ذکر کا اہتمام نہيں کياجاتا ہے،اس سے بعض حضرات کو يہ غلط فہمی ہوئی کہ نعوذ باللہ فقہ حنفي کتاب وسنت سے مأخوذ نہيں بلکہ اس کے استنباط ميں صرف عقل و قياس کا گھوڑا دوڑايا گيا ہے،مگر يہ ايک بےجا غلط فہمی ہے،جسے لوگوں کے ذہن ميں پيدا کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے، جب کہ حقيقت حال کچھ اور ہی ہے،

چنانچہ اگر ہم متقدمين أحناف کی کتابوں پر نظر ڈاليں تو بہت سی کتابيں ہميں ايسی نظر آتی ہيں جن ميں محدثين کرام کے طرز کو اختيار کرتے ہوئے فقہ حنفی کے مسائل کی بنياد ہی أحاديث پاک پر رکھی گئی ہے،امام ابوحنيفہ رحمہ اللہ کے مشہور شاگرد اور فقہ حنفی کے اہم ستون حضرت قاضی امام ابويوسف رحمہ اللہ کی کتاب الآثار اور امام محمد رحمہ اللہ کی مؤطأ اور امام ابوجعفر طحاوی رحمہ اللہ  کی شرح معاني الآثار فقہ حنفی ميں محدثانہ طرز تاليف کی نمائندہ  اور قابل تقليد کتابيں ہيں،

اس کے علاوہ مذکورہ بالا غلط فہميوں کے ازالہ اور طلبہ علوم اسلاميہ ميں أحاديث نبوی کا علمی ذوق پيدا کرنے کے لئے بہت سے محققين علماء نے خاص طور پر ايسی کتابيں تاليف کی ہيں جن ميں فقہ حنفی کے مسائل کو کتاب وسنت کے دلائل سے مزين و منور کياگيا ہے،اس ضمن ميں علامہ جمال الدين أبو محمد المنبجی(ت 686 ) کی اللباب فی الجمع بين السنۃ والکتاب اور علامہ  محمد الزبيدی(ت  1205 ) کی عقود الجواہر المنيفۃ ،شيخ عبد الحميد طہماز کی الفقہ الحنفي في ثوبہ الجديد ،شيخ أسعد محمد صاغورجي کی الفقہ الحنفي وأدلتہ،خاص طور پر قابل ذکر ہيں.

اسی سلسلہ کی ايک کڑی غير منقسم ہندوستان کی ايک عظيم علمی شخصيت شيخ محمد بن عبد اللہ البہلوي رحمہ اللہ  کی ايک قابل قدر تاليف أدلۃ الحنفيۃ من الأحاديث النبويۃ علی المسائل الفقہيۃ ہے،يہ کتاب ايک زمانہ تک برصغير کے بعض علاقوں کے مدارس ميں داخل نصاب اور علماء کے درميان مقبول رہی ہے،گذشتہ کئی دہائيوں سے يہ کتاب مفقود ہوچکی تھی ،اللہ جزاء خير دے حضرت مولانا محمد رحمت اللہ ندوی مدنی کو ،کہ انہوں نے اپنی توجہ کا مرکز اس کتاب کو بنايا اور  اپنی علمی وتحقيقی کاوشوں  سے اسے مزين کرکے علماء کی آنکھوں کا سرمہ بنايا،فجزاہم اللہ خير الجزاء،

علامہ بہلوی کیيہ تأليف  چوں کہ تمام فقہی أبواب پر مشتمل نہيں تھی ،مؤلف نے صرف عبادات کے مسائل سے بحث کی تھی اس لئے دوسرے فقہی ابواب مثلا نکاح وطلاق،خريد وفروخت ،وصيت و وراثت جيسی اہم بحثيں اس کتاب ميں شامل نہيں تھيں،اس لئے علمی حلقوں ميں شدت سے اس بات کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ اس کتاب کی تکميل کردی جائے تاکہ تمام فقہی ابواب سے متعلق اہم مسائل کے دلائل ايک جگہ جمع ہوجائيں اور اہل علم کے لئے استفادہ ميں آسانی پيدا ہو،

اصحاب علم ودانش ، مفتيان کرام اور طلباء مدارس کے لئے يقينا يہ ايک انتہای خوشی کاموقع ہے کہ ہندوستان کے ممتاز فقيہ ،مدرسہ رحمانيہ سوپول دربھنگہ بہار کے سابق شيخ الحديث،دارالقضاء امارت شرعيہ بہار ،اڑيسہ وجھارکھنڈ کے سينئر قاضی ،اسلامک فقہ اکيڈمی انڈيا کے رکن تاسيسی اور آل انڈيا مسلم پرسنل لاءبورڈ کے رکن حضرت مولانا محمد قاسم مظفرپوری نے اس علمی خلاء کوپر کيا ہے،آپ نے اس کی تکميل دو جلدوں ميں کی ہے،الحمد للہ پہلی جلد دارالقلم دمشق سے طبع ہوکر منظرعام پربھی آچکی ہے،

کتاب کی اس دوسری جلد ميں خريدوفروخت،معاملات،نکاح ،طلاق،جنايات اور حدود کے ابواب شامل ہيں،يہ جلد 576 صفحات پر مشتمل ہے،کتاب کی ابتداء  ميں ممتاز فقيہ واديب ،اسلامک فقہ اکيڈمی انڈيا کے نائب صدر حضرت مولانا ڈاکٹر بدرالحسن قاسمی  مدظلہ العالی (مقيم کويت) کا علمی مقدمہ شامل ہے،

مؤلف کتاب حضرت مولانا قاضی محمد قاسم مظفرپوری مدظلہ نے مذکورہ ابواب سے متعلق فقہ حنفی کے دلائل کو مختلف کتب حديث سے جمع کيا ہے،نيز آپ نے اپنے مخصوص قرآنی ذوق جس سے اللہ ياک نے آپ کو نوازا ہے کی مدد سے بہت سے فقہی مسائل پر قرآنی آيات سے استشہاد کيا ہے جو يقينا ايک منفرد علمی کارنامہ ہے،فجزاہم اللہ خير الجزاء.

پہلی جلد کی طرح اس جلد کو بھی حضرت مولانا محمد رحمت اللہ ندوی مدنی (مقيم قطر) ،چيئرمين ابو الحسن ندوی ايجوکيشنل اينڈ ويلفئير ٹرسٹ نے اپنی علمی تحقيق اور عصری اسلوب بحث سے مزين کيا ہے اور قارئين کی سہولت کے پيش نظر فقہی ابواب کی تشريح ،احاديث کی تفصيلي تخريج،احاديث کی درجہ بندی،بعض مسائل ميں أحاديث کے متابعات وشواہد کا تذکرہ ،نيز مسائل کا اجمالی تعارف ذکر کرکے اس کتاب کی علمی قيمت ميں چارچاند لگاديا ہے،

کتاب کے محقق  مولانا رحمت اللہ ندوی نے ايک بڑا علمی وتاريخی سرمايہ جو انہوں نے اس کتاب ميں جمع کرديا ہے وہ ہے حضرت مولانا قاضی محمد قاسم مظفرپوری  مدظلہ العالی کی زندگی  کے  کچھ حالات  اور اس ضمن ميں ہندوستان کے ممتاز علمی ودينی شخصيتوں  اور اداروں کا تعارف ،جو يقينا بعد ميں آنے والوں کے لئے نقش پا اور خضر طريق کا درجہ رکھتی ہے،فجزاہم اللہ خير الجزاء.

اس اہم علمی سرمايہ کی تکميل وطباعت پر مؤلف اور محقق مد ظلہم العالي يقينا اہل علم کی جانب سے لائق صد شکر ہيں،دعاء ہے کہ اللہ تعالی اسے شرف قبوليت بخشے اور اس مجموعہ کی تيسری وآخری جلد بھی جلد قارئين کے آنکھوں کی زينت بنے،وماذلک علی اللہ بعزيز

(بصیرت فیچرس)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker