سیرت وشخصیاتشعروادبمضامین ومقالات

خودی کے آشیاں کا مکیں ڈاکٹر جاوید اقبال

خودی کے آشیاں کا مکیں ڈاکٹر جاوید اقبال
سیف الرحمن ندوی
متعلم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ
مختصر تعارف :
ڈاکٹر جاوید اقبال کی شخصیت چنداں محتاج تعارف نہیں ہے ، آپ شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال ؒکےفرزند ہیں ، 1924 ء میں لاہور میں پیدا ہوئے ،مکتبی تعلیم کے بعد پنجاب یونیور سٹی سے بی اے پاس کیا ، اس کے بعد انگریزی اور فلسفہ میں ایم اے کا امتحان دیا جس میں امتیازی نمبرات سے کامیابی ملی اور طلائی تمغہ حاصل کیا ، 1954 ء میں کیمبرج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے کے بعد 1956 ء میں آپ بار ایٹ لا ہوئے ، 1960 ء میں آسٹریا کے شہر کینبرا میں ایک مذاکرہ بعنوان ” ایشیا میں آئین کا مستقبل ”میں شرکت کی ، متعدد بار آپ اقوام متحدہ میں پاکستانی وفد کے اہم رکن کی حیثیت سے شریک ہوئے ، 1961 ء میں حکومت امریکہ کی دعوت پر وہاں گئے ،کالج اور یونیورسٹیوں میں ”اقوام متحدہ کا مستقبل ” کے عنوان پر آپ نے وہاں کئی لیکچر ز دئیے ، 1965 ء میں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر اور 1971 ء میں لاہور ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے ، اس کے علاوہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے بورڈ آف گورنر ز کے معزز رکن کی حیثیت سے بھی آپ نے خدمات انجام دیں ، اور سولہ برس کے طویل عرصہ تک آپ ” تحریک پاکستان ورکر ٹرسٹ ” کے چیئر مین کے عہدہ پر بھی فائز رہے ، مزید براں متعدد انگریزی اوراردو کتابیں بھی آپ کے قلم سے نکلیں ، جیسے
(1)” زندہ رود ”والد محترم کی سوانح عمری ہے جو تین جلدوں پر مشتمل ہے ، اور علامہ اقبالؒ پر کتابوں میں ایک قیمتی اضافہ ہے ، بلکہ اقبال ؒ پر ایک مکمل کتاب ہے ، یہ تحقیقی کام کرکے انہوں نے فرزند اقبال ہونے کا فرض ادا کیا ہے ،
(2)”میراث قائد اعظم ” 1967 ء میں شائع ہوئی ،
(3)” آئیڈیا لوجی آف پاکستان ” یہ کتاب آپ نےصدر ایوب خان کی فرمائش پر تصنیف کی ، جو 1999 ء میں شائع ہوئی ،
(4)” اپنا گریباں چاک ”یہ آپ کی اپنی خود نوشت ہے جو حقائق پر مبنی ہے ،
اس کے علاوہ نظریہ پاکستان کی ” آڈیو ویژؤ ل ” لا ئبریری میں آپ کے خطبات و بیانات کا ایک عظیم ذخیرہ موجود ہے ۔
ہائی کورٹ سے ریٹائر منٹ کے بعد ایک دانشور کی حیثیت سے آپ سرگرم رہے ، 91 / سال کی عمر پائی اور 3 / اکتوبر 2015 ء کو فرشتہ اجل نے اختتام حیات کا پروانہ تھما دیا اور آپ ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ گئے ۔
”کر اپنی خودی میں آشیانہ ”
ڈاکٹر جاوید اقبالؒ ایک بھر پور زندگی بسر کرنے کے بعد اس دارفانی سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگئے ، ان کی رحلت پر ایک زمانہ اشکبار ہے ، فرزند اقبال ؒ ہونے کی نسبت سے لوگ ان سے بہت پیار کرتے تھے ، بے شک وہ اپنے عظیم المرتبت والد ؒ کا عکس جمیل اور ان کی دعائے نیم شبی کا ماحصل تھے ، علامہ اقبال آرزومند تھے کہ ان کا بیٹا خودی کو زاد راہ بنا کر غریبی میں نام پیدا کرے ، خدائے بزرگ وبرتر نے ان کی دعاؤں کو شرف قبولیت بخشا ، اور ان کے بیٹے کو دنیاوی لحاظ سےاعلی مراتب و مناصب سے سرفراز فرمانے کے ساتھ ساتھ عہد حاضر میں فکر اقبال کا مفسر اعظم بنا کر حیات جاویداں بخش دی ۔
ڈاکٹر جاوید اقبال ؒ نے افلاس تخیل کی شکار قوم کو فکر اقبال کی ان جہتوں سے متعارف کرانے کا بیڑا اٹھایا جو اس کے لیے عزت ووقار سے جینے کی ضامن اور ترقی و خوشحالی کی نوید تھی ، امت مسلمہ کے احوال و آثار کے متعلق مسلسل متفکر رہ کر انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ مسلمانوں کی زبوں حالی کا سب سے بڑا سبب جدید علوم و فنون سے لا تعلقی ہے ، چنانچہ اکثر و بیشتر ان کی گفتگو کا مرکزی نکتہ یہ ہوتا تھا کہ اہل اسلام اپنے اسلامی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے جدید علوم و فنون پر دسترس حاصل کریں ، پاکستان کی اعلی عدلیہ میں انتہائی اعلی مناصب پر تعیناتی کے دوران انہوں نے ہمیشہ عدل و انصاف اور انسانی حقوق کے تحفظ کا پرچم سر بلند رکھا ، وہ انصاف کی فراہمی میں کبھی کسی دباؤ کو خاطر میں نہ لائے ، انہوں نے نہایت باوقار انداز میں اپنی مدت ملازمت پوری کی ، بعد ازاں خود کو علم و تحقیق کے لیے وقف کردیا ، اللہ نے انہیں اس قدر فراست سے نوازا تھا کہ فکر اقبال کے بعض دقیق پہلو حاضرین کی ذہنی سطح کے مطابق بڑے عام فہم انداز میں بیان کردیتے تھے ،وہ اپنی سوچ میں روایت اور جدت کا حسین امتزاج تھے ، ان کی گفتگو علم و دانش کا مرقع ہوتی تھی ، فرزند اقبال ہونے کااعزاز اپنی جگہ ، تاہم انہوں نے مسلسل محنت سے دنیائے علم و تحقیق میں خود ایک ممتاز مقام حاصل کرلیا تھا،
آپ کے والد ماجد ڈاکٹر علامہ اقبال ؒ جب صاحب فراش تھے ، آخری گھڑیوں کی دستک اور قدموں کی دبی دبی چاپوں کا آغاز ہو چکا تھا ، تو ڈاکٹر جاوید اقبال اپنے والد ڈاکٹر علامہ اقبال ؒ کے کمرہ میں داخل ہوئے ، تو علامہ نہایت مہین مہین سی آہٹ پر چونکے اور پوچھا کون ؟ آپ نے جوابا عرض کیا ”میں جاویدہوں ”،علامہ اقبال ؒ اس عالم سکر میں مسکرائے اور فرمایا ” جاوید بن کے دکھاؤ تب جانیں ”، ڈاکٹر جاوید اقبال کےدل میں اپنے والد کا یہ جملہ تا حیات بسیرا کیے رہا کہ ” جاوید بن کے دکھاؤ تب جانیں ”چونکہ والد نے کبھی بڑے مؤثر انداز میں کہا تھا کہ

خودی کے ساز میں ہے عمر جاوداں کا سرا غ
خودی کے سوز سے روشن ہیں امتوں کے چراغ
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے کہ جوانی تیری رہے بے داغ ( )
ایک موقعہ پر جب علامہ اقبالؒ لندن میں تھے تو ڈاکٹر جاوید اقبال نےاپنے والد کو خط لکھا ، اس خط کے جواب میں علامہ اقبال ؒ آپ سے یوں گویا ہوئے
دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر
مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر ( )
اور کبھی یوں فرمایا
خالی ان سے ہوا دبستاں
تھی جن کی نگاہ تازیانہ
جس گھر کا مگر چراغ ہے تو
ہے اس کا مذاق عارفانہ
شاخ گل پہ چہک و لیکن
کر اپنی خودی میں آشیانہ( )
یہ سچ ہے کہ ڈاکٹر جاوید اقبال نے ” جاوید ” بن کے دکھایا ، ساری حیات شاخ گل پہ پورے طمطراق ، عجز و وقار اور قلب و ضمیر کے ساتھ چہکتے رہے اور کبھی بھی اپنی خودی کا سودا نہ کیا ۔
”—- اگر زندوں میں ہے ”،
ڈاکٹر جاوید اقبال نے ایک بیٹے کے طور نہیں بلکہ ایک محنتی طالب علم ہونے کے ناطے فلسفہ اقبال کو سمجھنے کی کوششوں کے بعد ایک واضح پیغام دیا کہ علامہ اقبال ؒ اسلامی تعلیمات کے سچے پیروکار تھے اور اس حوالے سے اقوام مسلم کی حالت زار پر فکر مند ہی نہیں رہے بلکہ مسلمانان ہند اور امت مسلمہ کے مسائل کے حل بھی تجویذ کیے ۔
مرحوم ڈاکٹر جاوید اقبال تھے تو بہت بڑے باپ کے بیٹے ؛ لیکن ساری زندگی اس کوشش میں رہے کہ دنیا مجھے میرے باپ کی وجہ سے عزت نہ دے ؛ بلکہ میرے اپنے کارناموں اور اپنی قابلیت سے میری پہچان ہو ، چونکہ والد ماجد کی نصیحت یاد تھی انہوں نے فرمایا تھا کہ
اللہ کی دین ہے جسے دے : میراث نہیں بلند نامی
اپنے نور نظر سے کیا خوب :فرماتےہیں حضرت نظامؒی
جائے کہ بزرگ بایدت بود
فرزندئ من نداردت بود ( )
” کہ شہرت و نیک نامی کسی کو میراث میں نہیں مل سکتی ، یہ نعمت صرف اسے مل سکتی ہے جو اس کے لیے کوشش کرے ، اور میں تمہیں وہی نصیحت کرتا ہوں جو حضرت نظامی گنجوی ؒ نے اپنے نور نظر سے کی تھی ، کہ محض میرا بیٹا ہونے کی وجہ سے تمہیں بزرگی کی جگہ نہیں ملے گی ،بزرگی کے مقام پر پہونچنے کےلیے بزرگ ہونا شرط ہے، ”
ڈاکٹر جاوید اقبال نے تاریخ و فلسفے ، سیاست و قانون اور مذاہب کے گہرے مطالعے سے اپنی ایک واضح علمی شناخت بنانے میں بہت حد تک کامیابی حاصل کی ؛ لیکن اقبالیات کی فہم اور ان کے تجزیے نے ان کی دانشوری کے درجے کو مزید بلند تر کر دیا تھا ، اور سب کچھ ان کی اپنی ہی کاوش سے ہوا ، لہذا جن احباب کی نظر جاوید اقبال کی شخصیت کے اس پہلو پر نہیں پڑی ان پر واضح ہو کہ انہوں نے خالصتا اپنی ذاتی کاوش و ذہانت سے علم و فضل کا جو رتبہ حاصل کیا وہ ان کے والد کے اس پیغام کی پیروی کا واضح عکاس تھا جس میں علامہ نے اپنے فرزند جاوید کو یہ سبق دیا تھا کہ
”اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے( )”
”قبول حق ہیں فقط ——-”
کشادہ دلی اور فراخ دلی آپ کو ورثے میں ملی تھی ،آپ نہایت حق گو ، بےباک اور وسیع القلب تھے، اس کا اندازہ اس طرح ہوتا ہے کہ آپ نے عدلیہ پر ایک کتاب لکھی ، اس میں عدالتی نظام کی خامیوں اور ججوں کی مجبوریوں کا ذکر کیا ، لیکن اس وقت لوگوں کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ انہوں نے اپنے کیے گئے فیصلوں پر بھی تنقید کی ، اور مزید براں اینکہ انہوں نے فیصلوں کے بارے میں انصاف کی راہ میں رکاوٹوں کا بھی کھل کر تذکرہ کیا ہے ، اپنی خود نوشت سوانح ” اپنا گریباں چاک ” میں انہوں نے اپنی زندگی کے جن گوشوں سے پردہ اٹھایا ہے ،ہمارے معاشرے میں جرات کی ایسی مثال نہیں ملتی ہے ۔
1970 /میں آپ اپنے چاہنے والوں کے اصرار پرلاہور سے کونسل مسلم لیگ کے ٹکٹ پر ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف الیکشن بھی لڑے ، اور ہار گئے ، چونکہ وہ بھٹو کے سیاسی عروج کا زمانہ تھا ، اس کے باوجود جب ان سے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی سزا کے بارے میں پوچھا گیا تو صاف کہا کہ میری دانست میں بھٹو کی پھانسی کی سزا درست نہیں تھی ۔
جب انہوں نے اپنے والد کی سوانح عمری ” زندہ رود ” لکھی تو بہت سے محبان اقبال کا گلہ تھا کہ انہیں اپنے والد کے خانگی حالات کے بارے میں اس قدر سچ نہیں لکھنا چاہیے تھا کہ وہ بھی عام لوگوں کی طرح ایک والد ، ایک خاوند اور ایک دوست نظر آئیں ؛ لیکن جاوید اقبال کو یہ حق گوئی کی جرات ان کے والد ہی کی تربیت سے ملی تھی کہ
” قبول حق ہیں فقط مرد حر کی تکبیریں ” ۔
افکار و نظریات کی جنگ میں بزدلی ، سمجھوتے اور خوف و منافقت کی بدکرداریوں سے ہمیشہ پاک رہے ، اسلام ، کائنات اور فلسفہ حیات کے تناظر میں ان کے تدبر و فکر کا شاہکار اثاثہ ان کی تحریروں اور کتابوں میں ہمیشہ موجود رہے گا ، ایک ایسا فیض عام ان سے جاری ہوا ہے جس میں کسی قوم کی آئندہ نسلیں علم اور ارتقاء کے ہفت خواں طے کرتی ہیں ، ایک جج کی حیثیت سے ان کے فیصلے زندگی کے سربستہ رازوں کی ناقابل تصور گہرائیوں کو چھوتے ہیں ، ایک ممتاز قانون داں اور ایک لبرل دانشور کے طور پر انہوں نے اپنے فیصلوں میں قانونی تہذیب کے ایسے ایسے روحانی پہلو آشکار کیے جو کسی ممکنہ حسین ترین معاشرے کے عملی خواب کی تعبیر کہے جاسکتے ہیں۔
1924 /میں آپ نے اس عالم آب و گل میں آنکھیں کھولی، پھر 91 / برس کی عمر میں 3 / اکتوبر 2015 / کو خودی کے آشیاں کا یہ مہکتا چہکتا پرندہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا ۔
انا للہ و انا الیہ راجعون !
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker