ہندوستان

’نہیں جانتا کہ نوٹ بندی کے بعد کتنے پیسے واپس آئے‘،حالات کب سدھریں گے معلوم نہیں‘

آربی آئی گورنر ارجت پٹیل نے پارلیمانی کمیٹی کے سامنے ہاتھ کھڑے کئے،بیانوں میں واضح تضاد
نئی دہلی، 18جنوری

ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی)کے گورنر ارجت پٹیل نے پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی کو بتایا ہے کہ نوٹ بندی کا عمل جنوری سے ہی شروع ہو گیاتھا۔یہ معلومات این ڈی ٹی وی سے ملی ہیں۔ارجت پٹیل کا یہ بیان کمیٹی کو پہلے دئے گئے اس تحریری بیان کے برعکس ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وزیر اعظم کی طرف سے 8 نومبر کو 500اور 1000روپے کے نوٹوں کو چلن سے ہٹانے کے اعلان سے صرف ایک دن پہلے 7نومبر کو حکومت نے آر بی آئی کو بڑے نوٹوں کو منسوخ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔پٹیل نے کمیٹی کو یہ نہیں بتایا کہ منسوخ نوٹوں میں سے کتنے بینکوں میں واپس آ چکے ہیں۔ارجت پٹیل نے کانگریس لیڈر ویرپا موئلی کی قیادت والی مالی معاملات پر پارلیمنٹ کی مستقل کمیٹی کو بتایا کہ جنوری، 2014میں 1000روپے کے نوٹوں کی ایک سیریز کو جزوی طور پر واپس لے لیا تھا۔ذرائع نے بتایا کہ وزارت خزانہ کے افسران بھی کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور انہوں نے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیا کہ اب تک نئے نوٹوں میں کتنی رقم ریلیز کی گئی ہے۔آر بی آئی سربراہ نے کمیٹی کو بتایا کہ نئی کرنسی میں 9.2لاکھ کروڑ روپے بینکنگ سسٹم میں ڈالے جا چکے ہیں،تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ بینکاری نظام کب تک عام ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker