ہندوستان

بہار ایجوکیشن بورڈ کی دھاندلی جاری

۱۱؍ماہ سے ا بورڈ کے ملحقہ مدارس کے ساتذہ کوتنخواہ نہیں ملی
جالے۔۱۹؍جنوری: (مظفررحمانی) بہار ایجوکیشن بورڈ کے ملحقہ مدارس کے تئیں حکومت کتنی سنجیدہ ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے ہے کہ تقریباً 11/ماہ سے 609 /اور 205/زمرے کے اساتذہ کوتنخواہ نہیں ملی ہے اور بھوکے پیٹ یہ اساتذہ خدمت پر مامور ہیں، تعلیم ایک پاکیزہ خدمت ہے اس خدمت پر مامور اساتذہ کو کتنی یکسوئی ہونی چاہئے اس کا اندازہ ان تمام لوگوں کو ہے جو علم دوست ہیں، لیکن ایک بڑا سوال یہ ہیکہ جن اساتذہ کو دس ماہ سے تنخواہ نہ ملی ہو کیا وہ یکسوئی کے ساتھ اس اہم فریضہ کوانجام دینے میں کامیاب ہوسکتے ہیں؟ اگر کوئی یہ کہتا ہیکہ ملحقہ مدارس میں تعلیمی معیار کافقدان ہے تو وہ یہ کہنے میں بجا طور پر جھوٹ کا سہارا لے رہا ہے، اور اگر تھوڑی بہت تساہلی ہورہی ہے تو اس کا ذمہ دار خود حکومت ہے، ایک بڑا سوال یہ ہیکہ کوئی بھی بھوکا پیٹ کب تک بھجن گائے گا، سچائی اور حقیقت پر پردہ ڈالنا مجھے نہیں لگتا ہے کہ دانشمندی ہوگی، گھٹا ٹوپ اندھیری رات کو اگر کوئی حوصلہ مند شخص ملحقہ مدارس میں پڑھانے والے اساتذہ کو جھانک کر دیکھے توآہوں اور سسکیوں کے علاوہ اسے اور کچھ سنائی نہیں دے گا، تعجب خیز بات تو یہ ہے کہ جب بہار ٹیچر ایسوسی ایشن کے صدر مولانا ظہیرالحق اور جنرل سکریٹری الحاج مولانا شہاب الدین رحمانی نے وزیر تعلیم کو تنخواہ کے نہ ملنے کی بابت اطلاع دی کہ اچھا اس بات کی تومجھے خبر ہی نہیں ہے کہ 609 /اور 205/کے اساتذہ کو تنخواہ نہیں ملی ہے، اسے آپ ایک بڑا المیہ کہ سکتے ہیں، افسوس اس بات پر نہیں ہے کہ وزیر تعلیم کو اس بابت کی اطلاع نہیں ہے افسوس اس بات پر ہیکہ آخر مختلف تنظیمی ڈھانچے اپنے شہروں اورحلقوں میں صرف میٹنگ کرنے کے لئے قائم کئے گئے ہیں یا پھر مضبوطی کے ساتھ ان اساتذہ کی دقتوں کو حکومت تک پہونچانے کے لئے قائم کی گئی ہے، کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ سب ایک پلیٹ فارم پر آکر اتحاد کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی مانگوں کو حکومت کے سامنے رکھیں، وقت رہتے اگر ہم ہوش کے ناخن نہیں لئے تو ہمیں یہ کہنا پڑے گا کہ،، لمحوں نے خطاکی صدیوں نے سزاپائی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker