برجستہجہان بصیرتزبان وادبشعر و ادبشعروادبمضامین ومقالات

منصور قاسمی : رجائیت کا نیا روشن عنوان 

افتخاررحمانی 
(سب ایڈیٹر بصیرت میڈیاگروپ) 
علماء دیوبند اور ازہر ہند دارالعلوم سے علمی خوشہ چینی کرنے والے نیز علوم و معارف میں کسب فیض کرنے والے ایک بڑے طبقہ کا تعلق شعر وادب سے رہا ہے، ماضی میں بڑے بڑے کہنہ مشق شاعر نیز معارف و نکتہ رسی کے قد آور غواص گذرے ہیں جن کے کارنامے ادبی تاریخ کا زریں باب ہیں ۔  حجۃ الاسلام مولانا قاسم نانوتوی علوم شریعہ میں مہارت کے ساتھ ساتھ شعر و ادب میں بھی کامل دستگاہ رکھتے تھے، قصائد قاسمیہ ان کی نغزگوئی، شاعرانہ لطافت اور نکتہ سنجی کے گواہ ہیں۔ ان کے علاوہ شیخ الہند مولانا محمودحسن، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا اعزاز علی، قاری محمد طیب صاحب وغیرہم بھی شاعرانہ ذوق رکھتے تھے ۔ علاوہ ازیں عامر عثمانی، علامہ قمر عثمانی، کفیل الرحمن نشاط، علامہ عبدالعزیز ظفر جنکپوری، مولانا انظر شاہ، مولانا ریاست علی بجنوری، مولانا فضیل احمد عنبر ناصری اور ذکی انجم جیسے قدآور اسماء بھی قابل ذکر ہیں جنھوں نے شاعری کا لوہا منوایا ہے ۔  عہد حاضر میں شرعی علوم سے وابستگی رکھنے والے افراد نے جس طرح اپنی ادبی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے یقیناً دارالعلوم دیوبند کے چشمہ فیضان کا ہی معجزہ ہے ۔ علاوہ ازیں صحافت میں بھی نوجوان فضلاء قوم و ملک کی بیش بہا خدمات انجام دے رہے ہیں جو اپنی مثال آپ ہیں ۔
شاعری و ادب محل وقوع اور مقامات میں قید نہیں رہتے؛ بلکہ شاعری جن جذبات و احساسات کے عناصر کا مجموعہ ہے وہی عنصر شاعر کو منظر نامہ پر لاتا ہے۔ یہ کہنا مبالغہ نہیں کہ یہی محسوسات و مدرکات شاعر کو قریہ قریہ لے جاتی ہیں اور دنیا کو ایک “احساس مند دل ” سے روشناس بھی کراتی ہیں۔ منصور قاسمی پر یہی معانی اور عبارتیں صادق آتی ہیں کہ انہیں ان محسوسات نے ادبی افق پر نمایاں کیا ہے اور اپنے سوز دل کی شمعیں روشن کر رہے ہیں ۔ خاندانی پس منظر آدمی کو بڑا نہیں بناتا؛ بلکہ آدمی اپنے کارنامے سے بڑا ہوتا ہے، اس کی لاکھوں مثالیں ہیں ۔ منصور قاسمی کا خاندانی پس منظر زیادہ اہم نہیں ہے، دور دور تک خواندہ افراد نظر نہیں آتے، جھارکھنڈ کے دھنباد ضلع کے دور افتادہ گاؤں “مٹیالہ ” سے تعلق رکھتے ہیں جہاں تعلیمی پسماندگی کے ساتھ افلاس و غربت بھی اپنا مضبوط پنجہ جمائے ہوئی ہے۔ ان امور کے باوجود جس دم خم کے ساتھ صدائے ہستی رسا بلند کی ہے یقیناً قابل تحسین ہے ۔ابتدائی تعلیم اپنے وطن کے مدرسہ اصلاح المسلمین سرکار ڈیہ میں حفظ سے عربی دوم تک اس کے بعد جامعہ حسینیہ لال دروازہ جونپور میں ششم عربی اور پھر دارالعلوم دیوبند میں دورہ تک کی حاصل کی ۔  بعدہ  امارت شرعیہ پٹنہ میں افتاء و و قضاء کی تربیت حاصل کی، ابتداء سے ہی نظم گوئی اور شاعری سے تعلق تھا  ۔ ادھر چند سالوں سے جیسی شاعری کر رہے ہیں وہ ان کے وسیع مطالعہ، کائنات میں تدبر، عصری مسائل سے وابستگی اور ان کے نتائج کا ممکنہ ادراک کا مظہر ہے ۔ ان کی شاعری کا مدار اور لب و لہجہ کا محور انسانیت ہی ہے۔ انسان دوستی انسان کا ازلی رشتہ ہوا کرتا ہے اور یہی چیز ان کی شاعری سے لمحہ بہ لمحہ جھلکتی ہے ۔ معاشرتی قصے اور عشق کے فسانوں کے عنوانات ضمناً ہیں؛ لیکن انسانی اقدار سے الفت بیاں ہوتی ہے ۔  
شاعری محض نازک خیالی، آمد، برجستگی، بداہت، زود گوئی وغیرہم کا نام نہیں ہے ؛ بلکہ کائنات کا مطالعہ، معاصرتی ادراک و فہم اور بقائے انسانیت کے ضمن میں تفکرات بھی اپنا کلیدی مقام رکھتے ہیں ۔ جیسا کہ مقدمہ شعر و شاعری میں خواجہ الطاف حسین حالی نے توضیح کی ہے۔ انسانی اقدار اپنے معاشرتی انقلاب کے ساتھ ساتھ معاصرتی تغیرات کے ادوار سے بھی برسرپیکار ہوا کرتے ہیں اس امر کی تفہیم و ادراک شاعری کی روح سمجھی گئی ہے، لازماً کہنا ہوگا کہ شاعری ان عناصر کے بغیر قالب بے روح جیسی ہے؛ کیوں کہ اس میں انسانی اقدار کے ساتھ ساتھ بدلتے معاشرتی و قومی و رجحانات کے “صدمہ ہائے گریز ” کا کوئی پہلو موجود نہیں ہوتا، منصور قاسمی نے جس انسانی اقدار کی تفہیم و ادراک کا مظاہرہ اپنی شاعری میں کی ہے، اس کی مثالیں ذیل ہیں    ؎
ہم نے بھی آج کمال کیا
دل کو پتھر سے جوڑ آئے ہیں
دیکھیے مِل رہے ہیں خار کہ گل
خون دل نچوڑ آئے ہیں
خواہشوں کا بنا کے تاج محل
اپنے ہاتھوں سے توڑ آئے ہیں
“خواہشوں ” کے “تاج محل ” کی اپنے ہاتھوں سے مسماری جسے صوفیاء نے ” طول امل سے اجتناب ” کہا ہے، تصوف کا یہی عالمگیر پیغام ہے، جس پر تصوف کی بنیاد ہے ۔ مولانا روم، حافظ شیرازی، شیخ سعدی، وغیرہم نے اپنی شاعری میں ایسے مضامین مختلف طرز خطاب کے ذریعہ جا بجا بیان کیا ہے ۔ ادب میں اسے انسانی اقدار سے بے لوث محبت کہا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ خطائے ذہنی کے باعث شعراء سوشلزم میں دلچسپی رکھتے ہیں، حالانکہ مذہبی تعلیم ازل سے اس کی رہنمائی کرتی ہوئی آئی ہے کہ انسانی اقدار کا تحفظ اور اس پر تیقن لازمی ہے ۔ قرآنی آیات اس پر مشیر ہیں کہ لاکھوں پیغمبر انسان کی ہدایت اور اس کے فلاح کیلئے دنیا میں بھیجے گئے ۔ منصور قاسمی نے جس پیرائے کے تحت دنیا سے بے ثباتی، طول امل سے اجتناب اور خلق سے بے لوثی ظاہر کی ہے، یہ وہی اظہار ہے جس کی تعلیم انھوں نے 8 – 10 سالوں کے عرصہ میں دینی درسگاہوں سے حاصل کی ہے ۔غزلیاتی لب و لہجہ میں معاشرتی و تمدنی تقاضوں اور اس کے مطالبات کا اظہار ان کا طرہ امتیاز ہے؛ لیکن بوجوہ تمام بسا اوقات آدمی کو تغیرات کی المناکیوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ یہ طے ہے کہ مقتضیات کے عدم وفا کی صورت میں جگر خراشی ہوگی، ان ہی جگر خراشیوں کا ذکر منصور قاسمی یوں کرتے ہیں ۔
رنگ چہرے کا بہت اترا ہوا لگتا ہے
سرمئی شام نے پھر آج ستایا ہوگا
ہم نے بھی سنگ تراشے ہیں وفا کے کئی
اس نے بھی شیش محل کوئی بنایا ہوگا
قبر پر رات گئے آکے مرے قاتل نے
ہچکیاں لے کے کوئی دیپ جلایا ہوگا
رجائیت کی موجودگی ان چند اشعار سے مترشح ہوتی ہے، یہی انسانی اقدار کا لازمہ بھی ہے۔ یہ وثوق سے کہہ لیجیے کہ اہل ادب و ناقدین جس قنوطیت کی آمد اور رجائیت کے بتدریج عنقا کا ماتم کر رہے ہیں، ان کے ماتم کو یہاں سرور و انبساط مل سکتا ہے ۔ عصر حاضر کی ادبی روایت جو بتدریج تنزل پذیر ہے؛ لہذا ناقدین کا اس کا شکوہ کرنا درست بھی ہے،  البتہ منصور قاسمی کا یہ کیف و طرز شادمانی  بخشے گا۔ جس زیر و بم اور معنوی شکلوں کیساتھ منصورقاسمی غزل سرا ہیں، یقینا گم ہوتے ادبی جواہر کے حزن و ملال کا تریاق ہے۔”رات گئے ” ” قاتل ” کی آمد اور پھر مستزاد یہ کہ “دیپ ” بھی روشن کیے جانے کا تخیل بھی کار فرما ہے، یہی رجائیت ہے جس کے ناپید ہونے پر افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ خوشی کی بات ہے کہ جو ادبی روایت عصری تغیرات کے باعث فسانہ بن رہی ہیں انہیں  پھر زندہ کیا جا رہا ہے، روح پھونکی جا رہی ہے ۔ منصورقاسمی نے اپنی شاعری سے یہی مستحسن اقدام کیا ہے، اسے جاوداں منزل کی تعیین کی خوش آئند کوشش بھی کہنا چاہیے ۔ یہ حوصلہ اور بانکپن براہ راست دارالعلوم دیوبند کے چشمہ فیضان سے ملا ہے، اور اسی کی لو جلا رہے ہیں    ؎
چاک دامن، شق گریباں، حال برہم ہے مگر
“سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے “
نذر طوفاں کرکے ہم کو، ہنسنے والے یاد رکھ
خرمن ہستی بھی تیرا، حلقہ ساحل میں ہے
سانحہ اس شہر میں شاید کوئی ہونے کو ہے
آج کل غمخوارِ ملت صحبت قاتل ہے
ماقبل میں راقم نے جن معاشرتی المیوں کے درک و فہم کا موصوف کی شاعری میں ذکر کیا تھا، ان المیوں سے وابستگی اور پھر اس سے بڑی بے جگری کے ساتھ نبردآزمائی صاف نمایاں ہے ۔ یہ عموم ہے کہ انسان اور انسانی تہذیب و اقدار بتدریج زوال پذیر ہے، برائیاں صالح معاشرہ کو گھن کی طرح چاٹ رہی ہیں، اخلاقی گراوٹ، لوٹ مار، فرقہ پرستی، عریانیت و بدکاریاں عروج پر ہیں جنہیں ہر ایک مذہب نے قبیح سمجھا ہے، منصور قاسمی نے بھی اپنے حاصل کردہ اثرات کے باعث اس قبح سے بڑی دلیری اور شجاعت سے خطاب کیا ہے اور یہی ان کا وصف خاص بھی ہے ۔
جدیدیت اور مابعد جدیدیت نیز پھر ترقی پسندی کے رجحان نے مشرقی ادب اور اس کے اقدار کو متنازع بنا دیا ہے، نئی نسل کے سامنے مشرقیت کی واضح غیر مسخ شدہ تصویر پیش کرنا چیلنج بنتا جارہا ہے؛ کیوں کہ قدامت سے گریز کے عنوان سے مشرقیت سے بدترین عناد روا رکھا گیا ہے، گو یہ شجر ممنوعہ ہو ۔ ناقدین نے مشرقیت کو اردو ادب کی روح قرار دیا ہے، پروفیسر عبدالمغنی نے “تنقید مشرق ” میں کئی مقامات پر شدت کے ساتھ مشرقیت سے صرف نظر کا شکوہ کیا ہے، جو کہ ایک ادبی المیہ ہے ۔ جب مشرقیت ہی عنقا ہوجائے تو اسے مشرقی تہذیبکا سفیر نہیں کہہ سکتے، مشرقیت کے خمیر کے بغیر اردو شاعری بے جان ہے ۔ منصور قاسمی کی اب تک کی شاعری میں جہاں معنی آفرینی، کیف، رجائیت یاس سے گریز وغیرہم جیسے عناصرمحمودہ سے ہم آہنگی ہے تو وہیں جدیدیت کے ساتھ ساتھ مشرقی اطوار اور اس کی خو بھی بدرجہ اتم موجود ہے، خارجی اثرات سے بالکل پاک، نغزگوئی اور آمد کی زندہ تصویر ہے ۔ ذیل کے اس شعر میں پنہاں شاعرانہ کمالات قابل غور ہے کہ کس خوبی اور فنی مہارت کے ساتھ رجائیت، مشرقیت اور انسانی اقدار سے الفت جیسے محمود عناصر کو ایک کوزہ میں جمع کردیا     ؎
اگر ڈوبا ہے سورج آج، تو پھر کل طلوع ہوگا
تعلق ٹوٹ جانے سے امیدیں مر نہیں جاتیں 
یہ شاعرانہ کمالات انہیں شاعری کے آفاق کا سیر کراتے ہیں اور ان کے شاعرانہ قد کو جاوداں بھی بناتے ہیں ۔ ان کا یہ سفر ’دبستان قاسمی ‘کے فکر کے احیاء و فروغ کے ساتھ شروع ہوا ہے، مستقبل میں یقیناً ممتاز ادبی مقام کے حامل بھی ہوں گے ۔ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker