مضامین ومقالات

جمہوریت کی روح مجروح

ڈاکٹر مفتی عرفان عالم قاسمی
جس ملک کو ہمارے آباء و اجداد نے اپنے خون پسینے سے سینچا تھا آج اسی ملک میں ان کے اخلاف شدید ترین نازک دور سے گزر رہے ہیں۔ اس ملک کے جمہوری نظام کا عالم یہ ہے کہ ہر طرف اکثریتی آمریت پارٹی ڈکٹیٹرشپ اور مذہبی اور تہذیبی عصبیت کا بول بالا ہے۔ اس ملک میں سب سے بڑی اقلیت یعنی مسلمانوں کو تمام تر آئینی و جمہوری حقوق و اختیار حاصل ہیں لیکن اس کے باوجود مسلمان زندگی کے ہر شعبہ میں اکثریتی آمریت اور تنگ نظری کا شکار ہے۔ آج انہیں ہندو تو کے رنگ میں رنگنے اور ہندو مزاج بنا دینے کی ایک زبردست کوشش حکمراں ٹولے اور ان کی سرپرست تنظیموں کی طرف سے کی جارہی ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں یوگا، وندے ماترم، گیتا، پاٹھ اور سوریہ نمسکار جیسی مشرکانہ اعمال سے نئی نسل کو مانوس کیا جارہا ہے۔ اس جمہوری ملک کو باقاعدہ ایک اعلان شدہ ہندو راشٹر قرار دینے کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ حکومت اپنی پوری قوت استعمال کرکے دستور میں بنیادی تبدیلی کرنے کی مکمل تیاری کر چکی ہے۔ بس اب انہیں صرف راجیہ سبھا میں اکثریت کا انتظار ہے۔ حالانکہ ہمارے ملک کے آئین میں ملک کے ہر باشندہ کو مذہبی آزادی کا حق دیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس ملک میں ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہے، یہاں تمام مذاہب کا یکساں احترام کیا جاتا ہے، مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیاز نہیں برتا جاتا۔ یقینا ہمارے ملک کا جمہوریہ ۲۱ویں صدی میں دنیا کا سب سے بہترین جمہوریہ کہلانے کا حقدار ہے، لیکن کیا جمہوریت کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہم کو ہر طرح کی آزادی حاصل ہو یا یہ بھی ہے کہ ہر مذہب کو تحفظ بھی حاصل ہو۔ آج اس ملک میں پرنٹ میڈیا ہو الیکٹرانک میڈیا یا سوشل میڈیا ہر طرف مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز بیانات اور شعلہ بیانی کا دور دورہ ہے، حتیٰ کہ یہاں کی عدلیہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک نے بھی کئی فیصلے مسلم پرسنل لاء کے خلاف کئے ہیں، جبکہ یہ ملک مختلف تہذیبوں اور متعدد مذاہب کیماننے والوں کا رہا ہے اور ہے اور اس ملک کی خمیر میں ہی مذہب شامل رہا ہے، ہمیشہ اس ملک میں مختلف مذاہب کے ماننے والے اپنے اپنے مذہب پر پوری آزادی کے ساتھ عمل کرتے رہے ہیں۔ اس ملک کا زمام اقتدار مسلمانوں نے صدیوں تک سنبھالا ہے، اس وقت ہندو داں کے معاملات و مسائل کے حل کے لئے ’’برہمن‘‘ متعین کئے جاتے تھے اور مسلمانوں کے معاملات مسلم قاضیوں کے ذریعہ طے پاتے تھے، مسلم عہد کے خاتمے کے بعد انگریزوں نے اپنے عہد میں بھی اسلام کے شخصی قوانین کو دستور میں جگہ دی، جسے مسلم پرسنل لا کہتے ہیں جو دراصل مسلمانوں کا شرعی قانون ہے، جس کا مآخذ قرآن و سنت، اجماع اور اجتہاد ائمہ ہے۔ کچھ شرپسند لوگ جنہوں نے ملک کی آزادی کے وقت بھی ہندو مسلم منافرت کا ماحول پیدا کیا تھا اس چمنستان کے جمہوری نظام کو کچل کر ’’یونیفارم سول کوڈ‘‘ یا ’’یکساں شہری قانون‘‘نافذ کرنا چاہتے ہیں، اس طرح تو اس ملک میں مسلمانوں کو اپنی مذہبی ہدایات کے خلاف نکاح، طلاق، فسخ و ہبہ، وصیت و وراثت اور تبنیت جیسے معاملات مذہبی قانون کے بجائے دوسرے قوانین کے مطابق حل کرنا ہوں گے اور اس طرح تو دوسرے مذاہب کے لوگوں کو بھی جو اس رنگا رنگ تہذیب والے ملک میں بستے ہیں، ان کو بھی اپنا مذہب چھوڑنا ہوگا اور اپنے رسم و رواج کو مٹا کر ایک نئے قانون کا پابند ہونا ہوگا، جس سے ملک کی جمہوریت و سالمیت کو ایک عظیم نقصان سے گزرنا ہوگا، اس لئے اس ملک سے محبت کرنے والے ہر ہر فرد سے میری گزارش ہے کہ وہ یوم جمہوریہ کے موقع پر یہ عہد کریں کہ وہ کسی بھی قیمت پر اس ملک میں ’’یکساں سول کوڈ‘‘ قائم نہیں ہونے دیں گے۔ کیونکہ آزاد ہندوستان میں قانون نے ہر باشندے کو اپنی اپنی پسند کا مذہب اختیار کرنے، اس پر عمل کرنے، اس کی تعلیم دینے اور اس کی تبلیغ کرنے کی مکمل آزادی بخشی ہے۔
آزادی کے بعد ہر ایک برسراقتدار پارٹیوں نے مسلمانوں کا استحصال کیا ہے۔ مسلمانوں کو اپنے خوش کن وعدوں کے جال میں پھنسا کر ان سے ووٹ تو حاصل کیا ہے لیکن اپنے اندرونی تعصب اور تفریق کی بناپر نہ ان کے غریبوں کو ریزرویشن دیا نہ تعلیم و روزگار جس کی وجہ سے اس جمہوری ملک میں مسلمانوں کی حالت پچھڑی ، قوموں سے بھی ابتر ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ اس جمہوری ملک کا سب سے بڑا المیہ فرقہ وارانہ فسادات کا لامتناہی سلسلہ ہے۔ دلت کی پٹائی، بھوپال انکاؤنٹر، معصوم نوجوانوں پر دہشت گردی کے الزامات، ان کے خلاف جھوٹی رپورٹیں وغیرہ وغیرہ اس عظیم جمہوری ملک کا کڑوا سچ ہے۔ مسلمانوں سے میری ابھی خاص طور سے گزارش ہے کہ وہ اپنے دماغ کی کھڑکیاں کھول کر رکھیں، اس لئے کہ ابھی چند مہینوں میں ملک کے کئی ریاستوں میں انتخابات ہونا ہے، اس میں نہایت سوجھ بوجھ سے کام لینا ہے اور ہمیں ان نمائندوں کو ہی منتخب کرکے لانا ہے جو اس جمہوری ملک میں بھائی چارہ کا ماحول بنائیں اور جو مسلمانوں کو زندگی صحت اور تعلیم و ترقی کے مواقع فراہم کریں، کیوں کہ یہی ہمارے دستور کی اسپرٹ اور روح ہے۔(یو این این)
E-mail:- aabehayatnewspaper@gmail.com. Mob:- 9826268925

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker