مضامین ومقالات

باشعور عوام ہی جمہوریت کے حقیقی محافظ

ڈاکٹر مرضیہ عارف(بھوپال)
ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے، یہاں ۶۶سال سے جاری جمہوری نظام پر ہر ہندوستانی بجا طور پر فخر کرسکتا ہے کیونکہ اس کے ساتھ اور بعد میں آزاد ہونے والے کئی ممالک میں جمہوریت کو وہ استحکام حاصل نہیں ہوسکا جو مطلوب ہے جبکہ ہندوستان جیسے جغرافیائی وسعت اور آبادی کی کثرت والے مختلف تہذیبوں اور زبانوں کے ملک میں جمہوریت کا قیام اور استحکام اس دور کا ایک اہم کارنامہ ہے۔
سات دہائیوں کے دوران ہندوستان کی اس جمہوریت نے کتنے ہی نشیب وفراز کو دیکھا اور پرکھا ہے، جس کے نتیجہ میں یہ جمہوریت یہاں کے عوام میں ایک جمہوری مزاج پیدا کرنے میں کامیاب رہی تو دوسری طرف جمہوری فکر اور اداروں کے زوال سے بھی یہ دوچار ہوتی رہی ہے اسی لئے ہندوستان میں جمہوریت کے استحکام کے تمام تر دعوئوں کے پیچھے اس کی کمزور شکل بھی دانشوروں کی تیز نگاہوں سے پوشیدہ نہیں ہے۔
ہندوستان کے جمہوری دستور کی بنیاد اس اصول پر قائم ہے کہ یہاں کے سارے شہری مساوی حقوق کے مالک ہیں، مذہب کی بنیاد پر ان سے بھید بھائو نہیں کیا جاسکتا، خود دستور کی تمہید میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان ایک غیر مذہبی مملکت ہے، دوسرے الفاظ میں یہاں کی حکومت کا کوئی مذہب نہیں ہوگا اور وہ کسی خاص مذہب یا عقیدے کی حمایت و مخالفت بھی نہیں کرے گی ، اسی طرح سیکولرزم کو دستور میں خاص اہمیت دی گئی ہے پھر بھی ملک کی سیکولر اساس دن بدن کمزور پڑتی جارہی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کی کئی سیاسی پارٹیاں فرقہ پرستی پھیلانے میں مصروف ہیں وہ مختلف فرقوں، گروہوں اور نظریوں کے حامل شہریوں کے درمیان تفریق ڈال کر اپنی سیاست چلانے میں یقین رکھتی ہیں، بعض کھلے عام اکثریت کے مذہبی جذبات کو بھڑکا کر اس کی تھوک تجارت کررہی ہیں۔ حالانکہ ملک کا دستور کہتا ہے کہ کوئی شخص یا پارٹی مذہبی جذبات کا استحصال کرکے الیکشن نہیں لڑسکتی، فرقہ وارانہ جذبات کو نہیں بھڑکا سکتی لیکن ماضی میں دانستہ طور پر بابری مسجد اور رام جنم بھومی کے مسئلہ کو زندگی کیا گیااور اسے ایک قومی موضوع بنا کر الیکشن لڑے گئے جس سے ملک کے قومی اتحاد اور جمہوری نظام کو شدید خطرہ لاحق ہوگیا، یاترائیں نکالی گئیں جن سے فرقہ وارانہ فسادات بھڑک اٹھے اور بڑی تعداد میں انسانی جان ومال کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا، دسمبر ۱۹۹۲ء؁ میں جب بابری مسجد شہید کی گئی تو ملک کی سیکولر اساس کو بنیاد بناکر بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیر قیادت چار ریاستوں اترپردیش، مدھیہ پردیش، گجرات اور راجستھان کی سرکاروں کو مرکزی حکومت نے برطرف کردیا اور اس فیصلہ کے خلاف جب مقدمہ سپریم کورٹ میں پہونچا تو اس نے برخاستگی کو جائز قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ سیکولرزم دستور کے بنیادی ڈھانچہ کا جزو ہے اور وہ حکومتیں جو اس کے خلاف کام کررہی تھیں ان کو برخاست کرکے صدر راج کا نفاذ صحیح اقدام ہے۔ ملک کی اسی سیکولر اساس کو آج کبھی نظام تعلیم ، تو کبھی تاریخ کے حقائق کو بدل کر نقصان پہونچایا جارہا ہے۔
ہندوستان کو دنیا کا سب سے بڑا پارلیمانی جمہوری نظام چلانے والا ملک قرار دیا جاتا ہے اسی لئے یہاں کا الیکشن کافی بڑا ہوتا ہے اور اس میں ۸۰ کروڑ ووٹر اپنی رائے کا استعمال کرتے ہیں لیکن وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ یہاں کا الیکشن بھی ملاوٹی ہوتا جارہا ہے۔ اس میں عوام کی پسند کے بجائے روپے، پیسے اور ذات پات کا اثر بڑھ رہا ہے، ملک کی ہر سیاسی پارٹی ان برائیوں کا اعتراف ضرور کرتی ہے لیکن الیکشن کو صاف ستھرا بنانے میں اسے دلچسپی نہیں ہے بلکہ سب کو اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے اور قائدین کے اخراجات پورے کرنے کے لئے سرمایہ کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور کیونکہ عوامی نمائندے آج اپنے انتخابی حلقہ میں اثر ورسوخ برقرار رکھنے کیلئے عوام کی خدمت کے بجائے سرمایہ پر انحصار کرتے ہیں اور جب پارٹی کی طرف ان کی ضرورت پوری نہیں ہوتی تو وہ علاقے کے مالداروں اور ان سے بھی آگے بڑھ کر رجائم پیشہ افراد سے سانٹھ گانٹھ کرلیتے ہیں اور کیونکہ یہ لوگ اپنے ناجائز کاروبار کو چلانے کیلئے سیاست دانوں کی مانگوں کو خوشی خوشی پورا کردیتے ہیں اس لئے ان کا حلقہ اثر دن بدن بڑھتا جارہا ہے، اب تو حالت یہ ہوگئی ہے کہ الیکشن کمیشن کے مطابق پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں بھی مجرمانہ کردار کے لوگوں کی تعداد کافی بڑھ چکی ہے، یہ لعنت کسی ایک پارٹی کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ چھوٹی بڑی سبھی پارٹیاں اس مہلک بیماری میںمبتلاء ہیں اور اس کا سب سے زیادہ اثر ملک کے جمہوری نظام پر پڑرہا ہے۔
جمہوریت کی بنیاد انصاف ومساوات ہے اور دکھ کے ساتھ یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ آزادی کی آدھی صدی گزارنے کے باوجود ہندوستان میں انصاف ومساوات کا حال بہتر نہیں ہوا، یہاں کے عوام کو کافی حد تک سیاسی جمہوریت تو میسر آگئی لیکن اس کو معاشی جمہوریت میں تبدیلی نہیں کیا جاسکا۔ حالانکہ ہر فلاحی جمہوری حکومت کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ جہاں حکومت کے کاروبار میں جمہوری اصولوں کو اپنائے وہیں ایسے اصول وقانون بھی بنائے جن میں ہر شہری کو اپنی ضرورت کے مطابق روزی و روٹی کمانے کا مساوی حق ہو، ملک کی دولت سے سب زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں اور معاشی نظام ایسا ہو کہ وسائل چند ہاتھوں میں سمٹ کر نہ رہ جائیں۔ مزدوروں کا استحصال نہ ہو، صنعتوں کے انتظام میں محنت کش بھی برابر کے شریک ہوں، معذوروں اور عمر رسیدہ باشندوں کی سرکار مدد کرے، غریبوں کیلئے مفت قانونی مدد کا انتظام کیا جائے تاکہ وہ غریبی کی وجہ سے انصاف سے محروم نہ رہ جائیں، اس میں بھی سب سے زیادہ اہم یہ ہے کہ درج فہرست ذاتوں (دلتوں) درج فہرست اقوام (آدیباسیوں) اور دوسرے پچھڑے طبقات سے متعلق دستور کے ہدایتی اصولوں کو تشفی بخش طریقہ سے عملی جامہ پہنایا جائے اور گائوں پنچایتوں نیز گھریلو صنعتوں کا قیام کرکے نشہ بندی اور ایسے ہیدوسرے عوامی بہبودی کے کام کئے جائیں لیکن گزشتہ دس برسوں سے جس اقتصادی کھلے پن کی پالیسی کو ہندوستان میں نافذ کیا جارہا ہے اس کے نتیجہ میں نہ صرف غریب پہلے سے زیادہ غریب اور امیر طبقہ پہلے سے زیادہ خوشحال ہورہا ہے بلکہ روزگار کے مواقع بھی گھٹ رہے ہیں، دولت مخصوص ہاتھوں تک محدود ہوتی جارہی ہے۔ یہ صورت حال ہماری اس فلاحی جمہوریت سے میل نہیں کھاتی جس کو بڑی چاہ سے یہاں اپنایا گیا تھا ایک اچھے جمہوری دستور کی خوبی یہ بتائی گئی ہے کہ وہ زمانہ کی ترقیوں کے ساتھ دے اس لئے اس کو جامد نہیں ہونا چاہئے لیکن اتنا لچکدار بھی نہیں کہ مفاد عامہ کا ہی اس میں لحاظ نہ ہو۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندوستان کے اس جمہوری نظام پر چھائے ان خطرات اور ان کی سنگینی سے ہر باشعور ہندوستانی واقف ہو کیونکہ باخبر عوام ہی جمہوریت کے حقیقی محافظ ہوتے ہیں اور ان کو درپیش مسائل صرف مقننہ (پارلیمنٹ) عدلیہ (سپریم کورٹ) اور انتظامیہ (سرکاری مشنری) سے حل نہیں ہوسکتے ، خاص طور پر جمہوریت کا ایک بازو جب دوسرے کے دائرہ اختیار میں مداخلت کرتا ہے تو اس سے پیدا ہونے والے مسائل ان تینوں کے بجائے زیادہ بہتر طریقہ پر باخبر عوام ہی سلجھا سکتے ہیں، حکومت کا کاروبار چلانے والے کسی قائد یا اس کی پارٹی کی غیر ذمہ داری سے جب جمہوری نظام کو صدمہ پہونچتا ہے تو اس کو سنبھالنے والے عوام ہی ہوتے ہیں جیسا کہ ۱۹۷۵ء میں ہوا کہ ایک خود پسند وزیر اعظم کی طرف سے ملک میں ایمرجنسی لگاکر جمہوریت کا خون کرنے کی کوشش کی گئی تو اس وقت سپریم کورٹ، پارلیمنٹ یا سرکاری مشنری نے ہندوستانی جمہوریت کی حفاظت کا کام نہیں کیا بلکہ ملک کے ایک ذمہ دار سیاسی رہنما جے پرکاش نارائن نے عوام کو بیدار کیا اور الیکشن کے موقع پر متحد کرکے ایسی موثر پہل کی کہ ایمرجنسی کے حامی لیڈر اور ان کی پارٹی دونوں کو اقتدار سے باہر نکلنا پڑا لہذا اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ باشعور عوام ہی جمہوریت کے حقیقی محافظ ہوتے ہیں۔(یو این این)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker