مضامین ومقالات

یوم جمہوریہ اور اس کا پیغام

اسامہ عاقل حافظ عصمت 9534677175
26 جنوری 1950 کو ہمارے نئے آئین نے گور نمنٹ اف انڈیا ایکٹ انگریزوں کا بنایا ہوا قانون(جو 1935 تیار کیا گیا تھا)کی جگہ لی ۔اس کے بعد 26 جنوری کو ہمارے لئے ایک قومی دن قرار دیا گیا ۔جیسے 15 اگست کو آزاد ی ہند کو ایک قومی دن قرار دیا گیا ہے۔اس دن کو ہم تمام ہندستانی قومی تہوار کے طور پر مناتے ہیں۔یوم جمہوریہ کی یہ اہم تقریب قومی راجدھانی (ہندوستان کاپایا تخت)نئی دہلی میں راج پتھ پر منا تے ہیں۔صدر ے ہند اس عظیم موقع پر پر یڈ کی سلامی لیتے ہیں ۔سلامی سے پہلے ملک کے وزیر آعظم ملک کی آزادی کیلئے قربانی ہونے والے شہیدوں (سپاہیوں)کی یاد میں جوان جیوتی (انڈیا گیٹ )پر عقیدت کے پھول نظر کر تے ہیں اس کے بعد ان عظیم شہیدوں کی یاد میں دومنٹ کی خاموشی ہوتی ہے ۔اس کے بعد وزیراعظم اسٹیج پر تشریف فر ماکر اکر معزز وی آئی پی لوگوں کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں اسی درمیان صدر ہند کی تشریف آوری ہوتی ہے ان کے ہاتھوں تر نگا جھنڈا پر چم کشائی کے ساتھ قومی ترانہ ـــ’’جن گن من ۔۔۔‘‘ پڑ ہا جاتاہے انہیں سلامی دی جاتی ہے۔
مسلح ہندوستانی فوج کے تینوں دستہ کے کمانڈین ان چیف کی حیثیت سے صدر ہند سلامی لیتے ہیں۔تینو دستہ آرمی (ARMY )نیوی(NAVI )اور ائیر (AIR )فورس کے دستے پوری تیاری کے ساتھ پر یڈ کر تے ان تینوں فورس کا زبر دست نمائش ہوتی ہے۔بچوں کو بہادری ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے۔
بھارت کی سر زمین میں سب کو ملی خوشی
26جنوری ہے یہ 26جنوری
جمہوریت دلائی ہے بھارت خوشحال ہے
سونا اگلتی ہے یہ مالا مال ہے
لہراتا ہے تر نگا ،خوشی سے ہر آدمی
26جنوری ہے یہ26جنوری
آج ہم 26جنوری 2017 کو68 واں یوم جمہوریہ منا رہے ہیں ۔ہم ہر سال جوش خروش حب الوطنی کا جذبہ سے ان قومی تقریب کو شاندار طر یقہ سے منا تے ہیں۔اس کو مرکزی طر یقہ سے صدر اور وزیر اعظم کے ذریعہ منایا جاتا ہے۔اور ریاستی سطح پر ریاستی گورنر ریاستی حکومت کی جانب سے منعقد تقر یبات میں شر کت فر ماتے ہیں۔ان کے ہاتھوں تر نگا لہر ایا جاتا ہے،اورصدارتی تقرر کر تے ہیں اگر گورنر ریاست میں موجود نہ ہوتو ریاست کے وزیر اعلیٰ یہ ذمہ داری نبھاتے ہیں۔حب الوطنی کے ذبہ کے ساتھ ہم دیکھے تو یوم جمہورہ کے تمام رسم ورواج وتقر یبات میں صرف سر کاری آدمی خصوصی مہمان یا وی آئی پی لوگ ہی اس میں نظر آتے ہیں۔ان تقر یبات میں ملک کے لوگ زیادہ تر شامل نہیں ہوتے ، جبکہ قومی تہورار صرف حکومت ،سر کاری مشینری ،اسکولوں اور مدرسوں کے ذمہ داروں کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ بلکہ یہ عام جمہوری تہوار ہے۔عام آدمی ہی اس سے دور ہوتا جارہا ہے۔جس سے ملک کے عام آدمیوں میں آزادی یا جمہوریت کے بارے میں فکر خیال احساس اور ذمہ داری کم ہوتی جارہی ہے۔ہمارا ملک پہلے کیا تھااب کیا ہے۔اب ہم جس آزادانہ ماحول میں سانس لے رہے ہیں ۔کیا وہ آزادی سے پہلے اتنا آزاد اور خوشگوار ماحول تھا۔آج ہم یہ سب فکر وسوچنے کی مونڈ میں نہیں ہے۔ہم صرف عیش آرام کے سامان جمع کر نے میں لگ گئے ہیں۔اب یہ سوچنے کی فر صت نہیں ہے۔
مغرب کی تیز وتند ہوائوں میں گم ہوئیں
مشر ق میں اب خلوص کی پروائیاں نہیں
خوشبونہیںبزرگوں کے ایثا ر جیسی اب
تہذیب نو کی فکر میں اونچائیاں نہیں
ساری دنیا میں جمہوری انقلاب آیا ہواہے خصوصااسلامی ملکوں میں بادشاہت ختم کر انے کیلئے احتجاج وخون ریزی ہورہی ہے اس کی مثال مصر،لیبیا،شام،دمشق اور پاکستان میں تو آج تک مظبوط جمہوریت ہوئی نہیں ۔ آج دنیا کے ہر کونے میں ہندوستانی طرز کی جمہوریت پر حکومتیں بن رہی ہیں۔
یونان ومصروں روماسب مٹ گئے جہاں سے
اب تک مگر ہے باقی ناموں نشاں ہمارا
ہندوستانی جمہوریت کیا ہے؟یعنی ایک جماعت کی لیڈر شپ وہ بھی عوامی طر یقے سے یعنی عوام نمائندے بن کر آنے کے بعد اس کا اصل معنی عوام کی حکومت عوام آقا ہوتے ہیں جو ہر پانچ سال میں ایک مر تبہ انتخاب کے ذریعہ یہ جماعت (پارٹی)اقتدار پر آتی ہے اور سارے ملک کا نظام چلاتی ہے۔جمہوریت آزادی مساوات قانوں کی قومیت اور انفرادی تر قی کو زیادہ اہمیت دیتی ہے۔ذات کا بھید بھائوبھٹک ہی نہیں سکتا اس جمہوری نظام کے تحت قانون کی بہت اہمیت ہے۔کیونکہ عام وخواص لیڈروں نیتا سبھی قانون کے دائرے میں آتے ہیں ۔قانون کی نظر میں سب برابر ہے۔کچھ فر قہ پر ست طاقت جمہوری نظام کو دہم بر ہم کر ناچاہتے ہیں وہ فرقہ پرست کان کھول کر سن لیں۔
شمع جمہور کی لو کم نہیںہونے دیںگے
مادر ہند کا سر خم نہیں ہونے دے گے
لاکھ اشکوں سے نوازے دنیا لیکن
اے وطن!آنکھ تیری نم نہیں ہونے دیںگے
ہندوستان وہ ملک ہے جہاں واحد شہریت کا نٖفاذ قانونی طور پر واضح ہے کوئی بھی ہندوستانی شہری ملک کے کسی بھی حصے میں رہ سکتا ہے۔اس کے لئے مذ ہب کی آزادی ہے۔وہ جس مذہب کو چاہئے جس زبان کو پسند کر ے اور اپنے اپنے طر یقہ سے مذ ہبی رسم ادا کر سکتا ہے۔ کوئی زبر دستی کا سودا نہیں۔
اس لئے ہمیں اس عظیم الشان دن کو پورے جوش وخروش اور محبت وعقیدت سے منانا چاہئے۔تمام جمہوری نظام کا پاسو لحاظ رکتے ہوئے اس کے دائرے میں رہنا چائے ساتھ ہی قومی پرچم ،قومی ترانہ یا قومی گیت کی بھی ہمیں قدر کر نی چاہئے۔
دنیا میں آج ہند کا اونچا مقام ہے
ہر ملک کی زباں پر بھارت کانام ہے
آزادی کی خوشی میں چمکتی ہے روشنی
26جنوری ہے یہ 26جنوری
(یو این این)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker