جہان بصیرتمضامین ومقالاتنوائے بصیرت

بزدل’کرنی سینا‘

شکیل رشید (ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍گروپ ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
انوپم کھیر کو ہدایت کار وفلمساز سنجے لیلا بھنسالی پر جے پور میں انتہائی دائیں بازو کی نظریات والی ’ہندو تنظیم کرنی سینا‘ کے کارکنان کے ذریعے حملے پر ’افسوس‘ ہے اور وہ اس کی ’مذمت‘ بھی کرتے ہیں مگر وہ ان پر بھی ’ناراض‘ ہیں جو بقول ان کے اس سارے معاملے کو ’فرقہ وارانہ‘ نظر سے دیکھتے ہیں۔ مگر کیا ’کرنی سینا‘ نے سنجے لیلا بھنسالی پر جو حملہ کیا وہ واقعی ’فرقہ وارانہ حملہ‘ نہیں تھا؟ کیا یہ حملہ ’کرنی سینا‘ کے شرپسندوں نے اس لئے نہیں کیا تھا کہ انہیں ’پدماوتی‘ نام سے بنائی جانے والی سنجے لیلا بھنسالی کی فلم میں رانی کا نام علاء الدین خلجی سے جوڑنے پر اعتراض تھا او رکیا ایسا ہی اعتراض اس سخت گیر نظریات رکھنے والی تنظیم نے آشوتوش گواریکر کی فلم ’جودھا اکبر‘ کی فلم بندی کے دوران نہیں کیاتھا؟ ’کرنی سینا‘ کا اعتراض خالص ’فرقہ وارانہ ذہنیت‘ کی پیداوار تھا لہذا جو بھی سنجے لیلا بھنسالی پر اس کے کارکنان کےحملے کا ذکر کرے گا وہ یہی کہے گا کہ ’کرنی سینا‘ ایک فرقہ پرست تنظیم ہے اور اس کے کارکنان کا سنجے لیلا بھنسالی پر حملہ خالص ’فرقہ وارانہ حملہ‘ تھا۔
’کرنی سینا‘کے کارکنان کے ذریعہ ’پدماوتی‘ فلم کے سیٹ پر کی گئی توڑ پھوڑ، بھنسالی پر تھپڑو ںکی برسات اور فلمی عملے کو ڈرانے او ردھمکانے کی کوشش کواگر ’بزدلانہ‘ حرکت سے تعبیر کیا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ ویسے بھی وہ جماعتیں اور تنظیم جو شرپسندوں ، غنڈوں اور فسادیوں کی ’کثرت‘ پر اکڑتی اور عام جنتا کو ڈراتی دھمکاتی ہیں وہ ’کائر‘ اور ’بزدل‘ ہی ہوتی ہیں۔ ’کرنی سینا‘ راجپوتوں کی تنظیم ہے۔ ایک ’ذات‘ کےنام پر یہ تنظیم قائم ہے مگر دعویٰ یہ کرتی ہے کہ وہ ذات پات کے خاتمے کی لڑائی لڑ رہی ہے! آج بھی اکبر ا عظم سے رانی جودھا بائی کا نام جڑنے سے اس کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔ مگر تاریخ میں جو بات سچ ہے اسے کوئی جھوٹ کیسے قرار دے سکتا ہے! معروف تاریخ داں شریمتی رومیلا تھاپر کا تویہ کہنا ہے کہ دائیں بازو کے انتہا پسند من مانی تاریخ لوگوں پر تھوپنا چاہتے ہیں۔ مگر تھوپ نہیں سکتے چاہے جس قدر کوشش کرلیں۔ اس تلخ حقیقت کو بھلا کوئی کیسے جھٹلا سکتا ہے کہ راجپوت راجائوں نے عام طور پر اپنی عورتوں کو ’مہرہ‘ کی طرح استعمال کیا تھا تاکہ ان کے قلمرو میں امن وامان برقرار رہے اور ان کی جاگیر اور املاک محفوظ رہ سکے!یہ سوال اُٹھایا جارہا ہے کہ ’کیا ’کرنی سینا‘ نے کبھی یہ محسوس کیا کہ ان خواتین پر کیا گزری ہوگی‘؟
تاریخ کی سچائیاں بڑی تلخ ہوتی ہیں۔ مغلوں کے ساتھ راجپوتوں کے تعلقات پر کوئی چاہے جس قدر پردہ ڈالنے کی کوشش کرے، چاہے جس قدر تاریخ کو مسخ کیاجائے، یہ سچ کوئی نہیں چھپاسکتا کہ مغلوں اور راجپوتوں کے درمیان شادی اور رشتے داری کا تعلق تھا، عام طور پر راجپوت عورتیں مغلوں کے ساتھ بیاہی تھیں۔
فلمی دنیا ایسی ہی تاریخی باتوں کو کچھ سچ اور کچھ جھوٹ کے ساتھ، جسے فکشن کہا جاتا ہے، پردۂ سیمیں پر پیش کرتی ہے، اور مدت دراز سے ایسا کرتی رہی ہے، اسے عام طور پر لوگوں نے قبول کیا ہے، بس ادھر ایک عرصہ سے، جب سے مودی سرکار نے شدت پسندوں کو ڈھیل دینا شروع کیا ہے، مظاہروں بلکہ پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ انوپم کھیر جیسی ذہنیت رکھنے والوں نے مزیدبیڑا غرق کیا ہے، کچھ ایسا غرق کہ ’سیکولر فلمی دنیا‘ بھی دو خانوں میں بٹ کر رہ گئی ہے۔
فلمی دنیا کو ایسی شدت پسندی کے خلاف متحد ہونا ہی چاہئے۔ آج بھنسالی کے ساتھ مارپیٹ ہوئی، کل کرن جوہر اور شاہ رخ خان کو ’پاکستانی اداکاروں‘ کے بیان پر پریشان کیا جارہا تھا۔ اس سے بھی پہلے عامر خان اور کرن رائو نشانے پر تھے۔ آنے والے دنوں میں پھر کوئی نشانے پر ہوگا۔ شدت پسندی، انتہا پسندی او رکٹر پن کا یہ کھیل ختم ہوناچاہئے۔ آرٹ اور فن کو ایک دائرے میں آزاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ جمہوریت میں کسی پر قدغن نہیں لگائی جاسکتی۔ مگر اس حکومت میں شاید ’قدغن‘ لگانے کو ہی آزادی سمجھ لیاگیا ہے۔ مودی سرکار کا دستور زبان بندی ہے۔ فلم ادب، آرٹ اور فن پر قدغن۔۔۔اور یہ سب اس لئے ہے کہ سچ فرقہ پرستوں کے لئے تلخ ہے۔
(بصیرت فیچرس)

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker