نوائے خلق

کیسے کیسے ایسے ویسے ہو گئے

ممتاز میر
07697376137
منور رانا مشاعروں کی ہی نہیں اردو دنیا کا بھی ایک بڑا نام ہیں ۔نظم ہی نہیں نثر میں بھی جناب کا قلم چلتا ہے۔چند دنوں پہلے جناب نے بھی اپنا ساہتیہ اکادمی ایوارڈواپس کر دیا تھا ۔اور مسلمان عوام خوش ہو گئی تھی کہ چلئے صاحب بعد از خرابیء بسیار کسی اردو شاعر یا ادیب نے اپنا
ایوارڈ واپس تو کیا۔ورنہ غیر مسلم ادیب و شاعر تو دھڑا دھڑ اپنے ایوارڈس واپس کر رہے ہیں۔ سرکاری اداروں سے استعفے ٰدے رہے ہیں
مگر اردو والوں کے یہاں سناٹا چھایا ہوا ہے۔اردو والوں کے یہاں ایوراڈواپسی کی محفل تو کیا گرم ہوتی ،ٹی وی پر یہ دیکھکر جان جل گئی کہ
کشمیری ادیب شاعر وصحافی ہنس ہنس کر بی جے پی و پی ڈی پی حکومت سے ایوارڈ وصول کر رہے ہیں ۔سوچ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ وہ صحافی،ادیب و شاعر جنھوں نے انگریزوں سے لڑتے ہوئے جانیں دی ،اپنا گھر بار لٹوایا انہی کی نسل میں کیسے بے شرم ادیب و شاعر و صحافی پیدا ہو رہے ہیں۔۔ایسے ہی لوگون کے لئے کہا گیا ہے۔۔یہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا۔۔بے شرمی کی حد ہے کہ جب ایوارڈس واپس کرنے کا وقت ہے تو کشمیری ٹی وی پر ایوارڈ لے رہے ہیں۔ہم روزانہ مجرموںکو زانیوں کوٹی وی پر کیمرے سے چہرہ چھپاتے ہوئے دیکھتے ہیں،کم از کم اتنا تو کیا جا سکتا تھا۔۔۔خیر۔۔
جناب منور رانا شاعر ہی نہیں تاجر بھی ہیں ۔عام شاعروں کی طرح بھوکے پیٹ شاعری نہیں کرتے ۔ایوارڈ واپس کرنے کی جو خوشی انھوں نے عوام کو دی تھی وہ ایک ہفتہ بھی نہ رہنے دی۔کل ( ۲۳۔اکتوبر ۲۰۱۵)کے انقلاب کی ایک رپورٹ کے مطابق انھیں نریندر مودی نے ملاقات کے لئے بلایا ہے ۔اس دعوت پر ان کا رد عمل بڑا غیر معمولی ہے ۔خوشی کے مارے ان کے قدم کہا ںکہاں کیسے کیسے پڑ رہے تھے ہمیں نہیں معلوم۔مگر منہ سے جو کچھ نکلا وہ اخبار نے رپورٹ کیا ہے’’ میں ذاتی طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کی بہت عزت کرتا ہوں۔(کیوں؟
م م) اگر وہ بڑے بھائی کی حیثیت سے کہیں گے تو ان کا جوتا بھی اٹھا لوں گا‘‘(سر پر ؟؟م م )انھوں نے یہاں تک کہا کہ وزیر اعظم کہیں گے کہ میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ واپس نہ کروں تو میں یہ بھی کرنے کو تیار ہوں ۔یہاں بس ایک ہی جملے کی کسر رہ گئی ہے جو ہم لکھ نہیں سکتے اور اخبار شائع نہیں کر سکتے ۔بہت ممکن ہے کہ حکمرانوں کی خوشنودی کے لئے اردو کے عظیم شاعر جناب منور رانا نے وہ جملہ بھی ادا کیا ہو اور
رپورٹر ہماری طرح مجبور ہو۔اسی تعلق سے ایک رپورت اردو تائمز میں بھی شائع ہوئی ہے جسمیں بتایا گیا ہے کہ جناب منور رانا وزیر اعظم مودی سے ملاقات کے بعد ساہتیہ اکادمی ایوارد کے تعلق سے فیصلہ لیں گے۔انھوں نے دبی زبان سے یہ بھی کہا کہ ایوارڈ کے ساتھ جو رقم دی جاتی ہے وہ بہت کم ہے ۔تین سے پانچ لاکھ تک دئے جانے چاہپئے۔
برسوں پہلے ہم نے جناب راحت اندوروی کو ان کے اس طرح کے شعروں پر۔۔یہ لوگ پاؤں نہیں ذہن سے اپاہج ہیں۔ادھر چلیں گے جدھر رہنما چلاتا ہے ۔لکھا تھا کہ کیا شاعر عوام کا استحصال نہیں کرتے۔جتنے چور ڈاکو بدمعاش سیاستداں ہوتے ہیں اتنے نہ سہی کچھ کم شاعر بھی ہوتے ہیں۔یہی کام جناب منور رانا ۔۔ماں ۔۔ماں ۔۔چلا کر کرتے ہیں۔لوگ ان کی ماں ماں سن کر بور ہو چکے ہیں ۔اور مودی کے تعلق سے ان کا تازہ موقف بتا رہا ہے کہ اب تک انھوں نے ماں کے تعلق سے جو کچھ کہا وہ عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے ہی تھا ۔مودی کے گجرات میں کتنی ماؤں کی عصمتیں لٹیں۔کتنی ماؤں کی گود اجاڑی گئیں،کتینی ماؤں کے سہاگ اجاڑے گئے مگر منور رانا صاحب مودی کا جوتا اٹھانے کو تیار ہیں۔راحت صاحب منور رانا کے بڑے قریبی دوست ہیں۔سوچئے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔خوف کی نفسیات کی بھی ایک حد ہوتی ہے ۔آپ جنگل میں نہیں رہ رہے ہیں۔۔۔ہمیں تو لگتا ہے کہ منور رانا نے اب تک جو کیا ہے وہ مودی اور ان کی ملی بھگت ہے تاکہ وہ نین تارا سہگل اشوک واجپئی وغیرہم سے کہہ سکیںکہ دادری کے محمد اخلاق کا غم تم کو کیوں ہو ؟دیکھو محمد اخلاق کے بھائیوں کا کیا حال ہے ؟وہ تو ہماری راہ میں بچھے جا رہے ہیں۔اخلاق یا کسی اور مسلمان کو مار دیا تو کیا ہوا۔مالک غلاموں کو مارتا ہی ہے ۔تم مفت میں اکڑ رہے ہسو وہ تو ہمارے جوتے اٹھانے کو بھی سرمایہء افتخارسمجھتے ہیں۔رہی بات نریندر دابھولکر ،گووند پانسرے اور مالیشپا کلبرگی کی تو وہ بھی اندر سے
مسلمان ہی تھے۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker