Baseerat Online News Portal

آپ کے شرعی مسائل

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
داڑھی منڈانا
سوال :- مجھے داڑھی منڈوانا پسند نہیں ہے ؛ لیکن میں داڑھی رکھتا بھی نہیں ہوں ، کیا میں داڑھی نہ رکھنے کی وجہ سے اسلام سے خارج ہوجاؤں گا ؟ (مصباح الدین ، عنبر پیٹ)
جواب :- رسول اللہ انے خود داڑھی رکھی ہے ، تمام صحابہ داڑھی رکھتے تھے ، رسول اللہ انے داڑھی رکھنے کی تاکید فرمائی ہے ، آپ انے فرمایا : مشرکین کے طریقہ کے خلاف عمل کرو ، داڑھی رکھو اور مونچھیں ترشواؤ : خالفوا المشرکین و أوفروا اللحی ، وأحفوا الشوارب، ( صحیح البخاری ، باب تقلیم الاظفار ، حدیث نمبر : ۵۸۹۲) اس لئے داڑھی رکھنا واجب ہے اور داڑھی کا منڈانا حرام ہے : یحرم علی الرجل قطع اللحیۃ ، ( الدر المختار مع رد المحتار : ۹؍۵۸۳) اور یہ رسول اللہ اسے محبت کا تقاضا ہے ، آج کل تو لوگ اپنے محبوب کھلاڑی اورپسندیدہ فلم اسٹار کی شکل و صورت اور وضع قطع کی بھی نقل کرتے ہیں ، کیا ہم سب کے آقا و مولی رسول اللہ اسے محبت کا تقاضہ اتنا بھی نہیں ہے کہ ہم آپ کی صورت کو اپنائیں ، اس لئے آپ ضرور داڑھی رکھئے ؛ البتہ داڑھی نہ رکھنے کی وجہ سے یا داڑھی کو واجب نہ سمجھنے کی وجہ سے کوئی شخص کافر نہیں ہوجاتا ؛ تاہم ایسا شخص فاسق ہے : أما المعصیۃ الثابتۃ بالدلیل الظنی کخبر الواحد فإنہ لا یکفر مستحلھا ولکن یفسق۔ ( شرح فقہ اکبر : ۱۹۹)
اعضاء کا ہبہ
سوال:- کیا کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کی جان بچانے کے لئے اپنا عضو اسے ہبہ کرسکتا ہے؟ ( عبد الرحمن، نام پلی)
جواب :- اُصولی طور پر ایک انسان کے لئے دوسرے انسانی اجزاء جسم کو استعمال کرنا احترام انسانیت کے خلاف ہونے کی وجہ سے درست نہیں ؛ لیکن شریعت میں حالت اختیار اور حالت مجبوری کے احکام الگ الگ ہیں ، مجبوری کی حالت میں بعض ایسی باتوں کی گنجائش ہوتی ہے ، جو عام حالات میں نہیں ہوتی ؛ اس لئے موجودہ دور کے علماء کی اکثریت نے کچھ شرطوں کے ساتھ اس کی اجازت دی ہے ، وہ شرطیں یہ ہیں :
(۱) عضو ہبہ کرنے والے شخص کی عضو دینے کی وجہ سے ہلاکت یا شدید مضرت کا اندیشہ نہ ہو ۔
(۲) جس شخص کو عضو دیا جارہا ہے ، اس کی وجہ سے اس کی جان کے بچ جانے کا غالب گمان ہو اور اس کے بغیر اس کی ہلاکت کا قوی اندیشہ ہو ۔
(۳) عضو کے دینے اور لینے کا عمل پوری طرح رضامندی کے ساتھ ہو ۔
(۴) خرید و فروخت کا معاملہ نہ ہو ، یعنی عضو ہبہ کرنے والا اس عضو کی قیمت وصول نہ کرے ، قیمت لینا جائز نہیں ؛ کیوںکہ انسانی اجزاء کی خرید و فروخت ناجائز ہے اور یہ انسان کی کھلی ہوئی اہانت ہے کہ اس کے اجزاء کو سامانِ خرید و فروخت بنالیاجائے ۔
اسقاطِ حمل
سوال:- بہت سی دفعہ عورت کو حمل قرار پاجاتا ہے ؛ لیکن طبی نقطۂ نظر سے یا کسی اور وجہ سے اس کو ساقط کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے ، یہ کس مدت تک جائز ہے ؟ میرے پاس ابھی ایک کیس آیا ہے جس میں حمل پر چھ ماہ عرصہ گذر چکا ہے ؛ لیکن یہ حمل زنا کا تھا ، اس لئے لڑکی اور اس کے والدین حمل ساقط کرانا چاہتے ہیں ، کیا میں اس سلسلہ میں ان کی مدد کرسکتا ہوں ؟ اسی طرح ایک اور خاتون کا کیس ہے ، اس کے حمل پر بھی چھ ماہ سے کچھ کم عرصہ گزرچکا ہے ، میڈیکل رپورٹ یہ ہے کہ اس بچہ کا پچاس فیصد سے زیادہ دماغ نہیں بنا ہے ، اس لئے وہ پیدا ہوگا تو معذور پیدا ہوگا اورکم وقت میں مرجائے گا ، کیا ایسے حمل کو ساقط کرایا جاسکتا ہے ؟ ( ڈاکٹر فرحان ، بنگلور)
جواب :- جب تک حمل پر چار ماہ کا عرصہ نہیں گذرا ہو ، کسی طبی عذر کی وجہ سے حمل ساقط کرنے کی گنجائش ہے ، طبی عذر سے مراد یہ ہے کہ مولود کے بیماری میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو ، یا عورت کی جان خطرہ میں ہو ، یا اس کے کسی سخت مضرت میں مبتلا ہوجانے کا اندیشہ ہو ، یاکوئی اور شدید قسم کا عذر ہو ، ایسے ہی اعذار میں بعض اہل علم نے زنا کے حمل کو بھی شامل رکھا ہے ، خواہ زنا بالجبر ہو یا باہمی رضامندی سے گناہ کا ارتکاب ہوا ہو ، اس صورت میں بھی اسقاط حمل کی گنجائش ہے ، چار ماہ سے پہلے بھی کسی معقول عذر کے بغیر اسقاط حمل درست نہیں ؛ لیکن جب حمل پر سولہ ہفتے گذر جائیں تو اب اسقاط بالکل جائز نہیں ، خواہ زنا کا حمل ہو ، یا زیر حمل بچہ ناقص الخلقت ہو ؛ کیوںکہ اب وہ زندہ وجود ہے اور کسی زندہ شخص کو بیمار ہونے کی وجہ سے یا ولد ِزنا ہونے کی وجہ سے قتل کردیا جائے ، نہ اسلام میں اس کی گنجائش ہے اور نہ انسانی نقطۂ نظر سے اس کا کوئی جواز ہوسکتا ہے ، ناقص الخلقت بچہ کو پیدا ہونے دیا جائے ، جب تک زندگی مقدر ہے ، زندہ رہے گا ، والدین کو اس کی پرورش کا اجر حاصل ہوگا ، اسی طرح ولد الزنا کو پیدا ہونے دیا جائے ؛ البتہ زانی کو مجبور کیا جاسکتا ہے کہ وہ اس عورت سے نکاح کرے : ویکرہ الخ … أی مطلقا قبل التصور وبعدہ وجاز لعذر…کالمرضعۃ إذا ظہر بہا الحبل وانقطع لبنھا… قالوا : یباح لھا ان تعالج فی استنزال الدم مادام الحمل مضغۃ أو علقۃ ولم یخلق لہ عضو وقدروا تلک المدۃ بمائۃ وعشرین یوما وجاز لأنہ لیس بآدمی۔ ( ردالمحتار : ۹؍۶۱۵)
خواتین اور تبلیغ دین
سوال:- الحمد للہ میں ایک سرکاری ملازم ہوں ، جب مجھے فرصت ملتی ہے ، تب میری اولین ترجیح اورپسندیدہ کام یہ ہے کہ اللہ کا دین اللہ کے بندوں تک پہنچاؤں ، قرآن اور صحیح احادیث کے ذریعہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر انجام دے رہی ہوں ، خواتین سیکھنے اور عمل کرنے میں آگے آرہے ہیں ، یہ کام میں پچھلے تین سالوں سے انجام دے رہی ہوں ، ہمارے بستی میں ایک مسجد بنی ، جو صرف پانچ ماہ ہوئے ، وہاں کے ذمہ دار حافظ صاحب کہتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ کوئی خواتین کا اجتماع نہیں ہوگا ، صرف مرد حضرات سے ہی کوئی آکر ہر ماہ بیان کریں گے ، ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہئے ؟ کیا کسی کو دعوت دین سے روکا جاسکتا ہے ؟ (اُم ایمن ،مہدی پٹنم)
جواب:- نیکی کی طرف بلانا اور برائی سے روکنا شرعی حدود کی رعایت کے ساتھ مسلمان مردوں کی بھی ذمہ داری ہے اور مسلمان عورتوں کی بھی ؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ’’ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُہُمْ أَوْلِیَاء بَعْضٍ یَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ‘‘ ۔ ( التوبۃ : ۷۱)
خواتین کے لئے شرعی حدود یہ ہیں کہ اس کو عورتوں یا نابالغ بچوں ہی میں دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دینا چاہئے ، وہ مردوں میں دعوت و تبلیغ کا کام نہ کریں اور خواتین کے اجتماع میں بھی اس طرح بیان کریں کہ آواز غیر محرموں تک نہ پہنچے ، اور ان کا یہ کام کرنا اپنے والد اور شادی شدہ ہو تو اپنے شوہر کی اجازت سے ہو ، ان حدود کی رعایت کے ساتھ وہ خواتین کے اجتماع میں دینی باتیںکہہ سکتی ہیں ، امام صاحب کا غالباً یہی منشاء ہوگا کہ یہ کام بے احتیاطی کے ساتھ نہیں کیا جائے ، خواتین کے اجتماع سے اگر کوئی مرد خطاب کرے تو اس میں بھی ضروری ہے کہ عورتیں پس پردہ ہوں ، مرد مقرر کے ساتھ کوئی اور مرد بھی موجود ہو ، یا جو خواتین تقریر سن رہی ہوں ، ان میں خطاب کرنے والے کی بیوی یا کوئی محرم خاتون شامل ہو ، جیساکہ فقہاء نے اس صورت کا حکم لکھا ہے جب مرد امام ہو اور عورتیں مقتدی ہوں ، بہر حال عورت سے آواز کی حفاظت اور آواز کا ستر بھی مطلوب ہے : نغمۃ المرأۃ عورۃ وتعلمھا القرآن من المرأۃ أحب … فلا یحسن أن یسمعہا رجل ۔ ( ردالمحتار : ۲؍۷۸-۷۹)
قضاء میں اذان و اقامت
سوال:- کیا فرض نمازوں کی قضاء پڑھتے وقت اقامت کہنا ضروری ہے ؟ (رفیق احمد ، کرنول)
جواب:- اذان و اقامت کہنا ضروری تو نہیں ہے ؛ لیکن بہتر ہے ، فتاویٰ عالمگیری میں اُصول نقل کیا گیا ہے کہ فرض نماز ادا ہو یا قضاء ، اور تنہا پڑھی جائے یا جماعت کے ساتھ ، اس کے لئے اذان و اقامت کہنا چاہئے : ومن فاتتہ صلوۃ فی وقتھا فقضاھا أذن لھا وأقام واحدا کان أو جماعۃ ھکذا فی المحیط ، والضابطۃ عند نا إن کل فرض أداء کان أو قضاء یؤذن لہ ویقام سواء اداہ منفردا او بجماعۃ ، ( فتاویٰ ہندیہ : ۱؍۵۰) فقہ حنفی کی مشہور کتاب مراقی الفلاح میں بھی یہی بات لکھی ہوئی ہے ۔ ( دیکھئے : مراقی الفلاح : ۱۰۸)
جہری نمازوں کی قضاء میں جہر یا سر ؟
سوال:- کیا جہری نمازوں کی قضاء کرتے ہوئے بھی جہر کے ساتھ نماز پڑھنی چاہئے ؟
(احتشام الدین ، فلک نما)
جواب:- جو جہری نماز چھوٹ گئی ہو ، اگر اس کو جماعت کے ساتھ ادا کیا جائے تو امام کو زور سے قراء ت کرنی چاہئے اور اگر تنہا نماز ادا کرے ، تو اختیار ہے چاہے ، زور سے قراء ت کرے یا آہستہ : ومن قضی الفوائت إن قضاھا بجماعۃ فإن کانت الصلاۃ یجھر فیھا یجہر الامام فیھا بالقراء ۃ وإن قضاھا وحدہ یتخیر بین الجہر والمخافتۃ والجھر افضل ، ( فتاویٰ ہندیہ : ۱؍۱۲۱) اگرچہ بعض فقہاء نے تنہا نماز پڑھنے والوں کے لئے جہری نماز کی قضاء میں بھی آہستہ پڑھنے کو واجب قرار دیا ہے ؛ لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کو اختیار ہے کہ چاہے زور سے پڑھے یا آہستہ : ویخافت المنفرد حتما أو وجوبا إن قضی الجھریۃ فی وقت المخافتۃ … لکن تعقبہ غیر واحد ورجحوا تخییرہ ۔ (الدر المختار مع ردالمحتار : ۲؍۲۵۱-۲۵۲)
بصیرت فیچرس

You might also like