روبروزبان وادبنوائے خلق

دارالعلوم دیوبند کی صحافتی خدمات پرایک قابلِ مطالعہ کتاب

تعارف وتبصرہ : محمد افسر علی
دارالعلوم دیوبندبالخصوص اورملک بھرکے مدارس اسلامیہ نے بالعموم مبلغین،مفکرین،دعات،شیوخ الحدیث،واعظین اورخطباپیدا کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف زمانوں میں مضمون نگار اور صحافیوں کو بھی پیدا کیا ہے، کیونکہ دارالعلوم دیوبند،دارالعلوم وقف دیوبند،ندوة العلماءایسے ادارے ہیں جنھوں نے جدیدعہدکے چیلنجز کو قبول کیا، وقت کی نزاکت کو سمجھا اورجس شعبہ کی ضرورت پڑی،ان اداروں میں اسکا قیام عمل میں لایاگیاـ۔ دارالعلوم نے جب انگریزی کی تعلیم کو ضروری سمجھا، تواسکا بھی ایک شعبہ قائم کردیا، کمپیوٹرکی تعلیم آج کی ضرورت ہے، چنانچہ دیوبندمیں یہ شعبہ بھی قائم ہے، جب میڈیا کے ذریعے اسلام پر اعتراضات ہونے لگے، تو اس میدان میں بھی افراد سازی کرنا شروع کی اور دارالعلوم نے ہمیں ایسے بے شمارفضلا دیےجو ایک طرف باطل کا قلع قمع کرنے کے ساتھ اسلام پر ہونے والے اعتراضات کاجواب دیں اور دوسری طرف حکومت وقت جب مسلمانوں یادیگرشہریوں کے حقوق کودبانے یاغصب کرنے کی کوشش کرے،تواپنی حق پرستانہ صحافت وخطابت کے ذریعے اس کا تعاقب بھی کرےـ۔ برادرم نایاب حسن قاسمی کی کتا ب “دارالعلوم دیوبند کا صحافتی منظر نامہ” ایسے ہی فضلائے دیوبندکاتفصیلی تذکرہ ہے، جس میں ندوة العلماء،دارالعلوم دیوبند،دارالعلوم وقف دیوبند اور دیگر مدارس اسلامیہ سے اردو وعربی میں شائع ہونے والے جرائد ومجلات کے تذکرے کے ساتھ ساتھ صحافت کے آغاز وارتقاء،صحافت کی تعریف,اسلامی مدارس:صحافتی سیاق وسباق”آسمانِ صحافت کے تابندہ ستارے”کے عنوان سے بڑے بڑے صحافیوں کا ذکر،اسکے علاوہ آن لائن صحافت اور دارالعلوم، پس منظر وپیش منظر جملہ تفصیلات کے ساتھ، ان کے علاوہ اور بھی بہت کچھ جمع کردیاہے، ان سب معلومات کا احاطہ اس مختصر مضمون میں نا ممکن ہے -میرے مطالعہ اور ناقص علم کے مطابق ” نایاب حسن قاسمی صاحب “نے اس موضوع پربہت ہی جامع کتاب تحریر فرماکر ایک عظیم کارنامہ انجام دیا ہے اسکے لئے وہ قابل مبارک باد ہیں کیونکہ اس کتاب میں انہوں نے ان تمام باتوں کو یکجا کردیا جن سے اس میدان کے “خوشہ چیں”کو کافی مدد مل سکتی ہے اللہ تبارک وتعالی سے دعاء ہے کہ وہ اس کتاب کو شرف قبولیت سے نوازے اور سعادت کا ذریعہ بنائےـ۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker