ہندوستان

طارق فتح ایک نیا فتنہ ہے مسلمان زی ٹی وی کا بائیکاٹ کریں: علماء کونسل

علماء کونسل کی مجلس عاملہ کی میٹنگ میںطلاق ثلاثہ، NETاور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال
ممبئی۔۵؍فروری:(پریس ریلیز)مسلم پرسنل لاءاور تحفظ شریعت کے تعلق سے غور وخوض کرتے ہوئے کہاگیا کہ گزشتہ دنوں الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ دستور سے بالاتر نہ کوئی مذہب ہوسکتا ہے او رنہ ہی کوئی عقیدہ ودستور ہند کی دفعہ 25،26 میں بنیادی حقوق کے متعلق کہاگیا ہے کہ ملک کے ہر شہری کو اپنے پسندیدہ مذہب اور عقیدہ پر چلنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا پورا حق ہے، مسلمان بھی دستور کی اسی دفعہ کے مطابق اپنے مذہب اور عقیدے پر عمل کرتے ہیں اور اس کی تبلیغ کرتے ہیں انہیں اس حق سے کوئی طاقت اور عدالت محروم نہیں کرسکتی۔ طلاق جو آک کل حکومت کی دلچسپی کا موضوع بنا ہوا ہے فی الواقع یہ معاملہ مسلمانوں کا ذاتی شرعی معاملہ ہے حکومت کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے لیکن عورتوں کے حقوق کا بہانہ بناکر اس حق کو چھین کر عدالت کو دیناچاہتی ہے یہ حق اللہ کا دیا ہوا ہے اسے خوئی ختم نہیں کرسکتا مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ وہ اس حق کو کتاب وسنت کی ہدایت کی روشنی میں استعمال کریں۔ طارق فتح ایک نیا فتنہ ہے جو زی ٹی وی میں پیش کیاجارہا ہے، جس میں طارق فتح جو ایک پاکستانی شہری ہے اسے ہتھیار کے طو رپر استعمال کرکے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کیا جارہا ہے ۔ علماء کونسل مسلمانوں سے اپیل کرتے ہی کہ وہ اس شو اور زی ٹی وی کا بائیکاٹ کریں یہ مکمل ایک غیر شرعی اور غیر اسلامی شو ہے جس میں اسلام عقیدہ اور مسلمانوں کو ذلیل کیا جاتا ہے۔ علمائے کرام بھی جو ملت کی نمائندگی کرنے کےلئے مباحثوں میں حصہ لیتے ہیں وہا ں نہ جائیں اور اس شو کو مکمل طور سے نظر انداز کرکریں۔ میڈیکل کے داخلہ کا معاملہ کے تعلق سے غور وخوض ہوا اب میڈیکل میں داخلے نیٹ کے ذریعہ ہوں گے۔ نیٹ ٹیسٹ اب دس زبانوں میں ہوگا لیکن اردو کو کوئی جگہ نہیں دی گئی اس طرح ہمارے سینکروں لڑکے جو اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کررہے ہیں میڈیکل میں داخلہ سے محروم رہ جائیں گے علماء کونسل حکومت کے اس طرز عمل کی مذمت کرتی ہے۔ اور مطالبہ کرتی ہے کہ اردو کو بھی NETمیں دوسری زبانوں کی طرح شامل کیا جائے جو کروڑوں ہندوسانیوں کی زبان ہے۔ حالات حاضرہ کے ضمن میں ممبئی او ریوپی انتخابات زیر غور آئے علماء کونسل محسوس کرتی ہے کہ ملت کے کچھ ایسے ذی شعور سمجھدار باحوصلہ اور قابل نوجوان آگے آکر اپنی خدمات پیش کریں عوام کو یوپی اور ممبئی کے انتخابات کی اہمیت کو سمجھائیں ان امیدواروں کے حق میں رائے عامہ کو ہموار کریں جو فرقہ پرست عناصر کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں نیز زیادہ سے زیادہ ووٹنگ کو یقین بنائیں اس کے بعد دعائیہ کلمات پر یہ میٹنگ ختم ہوئی، صدر محترم کے علاوہ اس میٹنگ میں مولانا محمود احمد دریابادی ، مولانا اعجاز کشمیری، مولانا ز ین الدین خان قاسمی، مولانا محمد توفیق اسلم خان، عبدالحفیظ فاروقی ودیگر افراد نے شرکت کی۔

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker