ہندوستان

جب تک ہماری صفوں میں اتحاد پیدا نہیں ہوگا ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے

حبیب ملت اکبرالدین اویسی کا مدنپورہ میں جم غفیر سے خطاب
ممبئی۔۵؍فروری:(ممبئی اردو نیوز) اتحاد زندگی ہے او رانتشا رموت ۔اور جب تک ہماری صفوں میں اتحاد پیدا نہیں ہوگا ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے حبیب ملت قائد مجلس لیجسلیچر پارٹی تلنگانہ اکبرالدین اویسی نے کیا۔ آج شب مدنپورہ سانکلی اسٹریٹ جنکشن پر منعقدہ ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ۔ اکبرالدین اویسی نے کہا کہ انتشار ہی ہماری تمام تکالیف کا ذمہ دا ر ہے ۔ اگر ہمیں ترقی کرنا ہے تو منظم ہوکر اتحاد کو مضبوط کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی سماج میں اہمیت شخصیت کی نہیں ہے بلکہ اتحاد کی ہوتی ہے۔ اگر اتحاد قائم رہے گا تو ہمیں کسی بھی طاقت کے سامنے جھکنا نہیں پڑے گا۔ آپ نے یہ بھی کہاکہ جب ہمارے نمائندے پارلیمنٹ، اسمبلی، اور بلدیاتی اداروں میں ہوں گے تو یقینا ہماری حق تلفی نہیں ہوگی۔ اکبرالدین اویسی نے مزید کہا کہ مجلس نے عملی میدان میں خدمات کا جو ریکارڈ بنایا ہے اس کا مقابلہ کوئی بھی دوسری سیاسی پارٹی نہیں کرسکتی۔ آپ نے بطور خاص کانگریس این سی پی کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ یہ پارٹیاں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں سے ووٹ مانگنے کے اخلاقی حق سے محروم ہوچکی ہے۔ انہوں نے اپنی مدلل تقریر میں بار بار اس بات کو دہرایا کہ مجلس پر جذباتی تقاریر اور نعرے لگانے کا الزام لگایا جاتا ہے لیکن جو لوگ الزام عائد کرتے ہیں وہ یہ جان لیں ہمارا نعرہ اور ہماری تقاریر قوم وملت کو بیدار کرنے کے مقصد سے لگائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال بھی ہے کہ مجلس حیدرآباد سے مہاراشٹر کیوں آئی ہے؟ مخالفین کی طرف سے بھی اس بات کو ہوا دی جارہی ہے کہ مجلس یہاں کیوں آئی ہے؟ تو ہم ان سوالیوں بتاتے ہیں کہ مجلس اس لئے آئی ہے کہ تاکہ یہاں کے مسلمانوں کو انصاف مل سکے، دبے کچلے، پچھڑے، پسماندہ، مظلوم تمام طبقے کے وہ افراد جو اپنا حق نہیں مانگ سکتے ان کا حق دلا سکے۔ مجلس پر کانگریس اور این سی پی والے بار بار بی جے پی کے ساتھ ساز باز کرنے کا الزام لگاتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ خود پس پردہ بی جے پی سے ملے ہوئے ہیں۔ اپنی تقریر میں حبیب ملت نے اپنی ہی پارٹی کے رکن اسمبلی ایڈوکیٹ وارث پٹھان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فاتح وہ نہیں جو چنائو جیت جائے بلکہ حقیقی فاتح وہ ہے جو دلوں کو فتح کرلے اور اکبرالدین اویسی اسی دلوں کو فتح کرنے کی غرض سے ممبئی آیا ہے۔ انہوں نے وارث پٹھان کو قوم کا ایک بے باک لیڈر بھی قرار دیا او رکہاکہ اسمبلی میں ’بھارت ماتا کی جے‘ کا نعرہ نہ لگا کر وارث پٹھان نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ایمان کی دولت کی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں لیکن مجھے افسوس ہے کہ اس نازک موقع پر ابوعاصم اعظمی، امین پٹیل، نسیم خان اور اسلم شیخ جیسے مسلم اراکین اسمبلی نے فرقہ پرست پارٹی بی جے پی شیوسینا کا ساتھ دیا۔ لعنت ہے کہ انہوں نے اپنے کلمہ گو بھائی کا ساتھ نہ دیا لیکن میں وارث پٹھان کو یہ نصیحت کرتا ہوں جب بھی ایمان کی حفاظت کی بات آئے ، قوم کے وقار کی بات آئے تو اپنی جان کی بازی لگا دینا لیکن فرقہ پرستوںکے سامنے گھٹنے مت ٹیکنا۔اکبرالدین اویسی نے اردو کے تعلق سے کہا کہ یہ وہی مہاراشٹر کانگریسی حکومت ہے جس نے آج تک مہاراشٹر میں اردوبھون کی تعمیر نہیں کی لیکن میں آپ لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر مجلس کے نمائندے کامیاب ہوئے تو ان شاء اللہ ہم مدنپورہ میں اردوبھون قائم کرکے دکھائیں گے۔ انہوں کہ میں اسلئے یہاں آیا ہوں تاکہ جو حقوق دلانے میں این سی پی کانگریس ناکام رہی اسے مجلس دلاسکے۔ وہ لوگ ناکام ہوئے جبھی میں آیا اگر وہ کامیاب ہوئے ہوتے تو کیا مجھے یہاں آنے کی ضرورت پڑتی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں حیدرآباد وتلنگانہ میں مسلمانوں کے لئے فلاح وبہبود کے کئی کاموں کا تذکرہ کیا اور بتایا کہ ملک میں سب سے پہلے اگر مائنا ریٹی کمیشن، مائنا ریٹی وزارت ، مائنا ریٹی فنڈ وغیرہ ملا ہے تو آندھرا کی ریاست میں ملا ہے۔ اگر ریزرویشن ملا ہے تو آندھرا کی حکومت میں ہمیں ملا ہے۔ مہاراشٹر کی صورتحال کو دیکھتے ہیں تو افسوس ہوتا ہے، یہاں اقلیتوں کوکیا ملا؟  اقلیتوں کو کیا تحفظات ملا؟ کیا بے روزگاروں کو روز گار ملا؟ کیا قرض ملا؟ کیا پڑھنے کے لئے مدارس ملے؟ کیا بیماروں کے علاج کے لئے دواخانے ملے؟ کیا بستیوں کی ترقی کے لئے کچھ پیکج ملا؟ جبکہ یہاں اقلیتو ںکے لئے ۲۸۰ کروڑ کا بجٹ تھا لیکن صرف ۸۰کروڑ خرچ ہوا، نہ بینک سے قرض ملا اور نہ ہی حکومت کی طرف سے کوئی مراعات حاصل ہوئی۔ آپ نے مجمع سے یہ سوال کیا کہ مہاراشٹر سے ۱۰۰ گریجویٹ نکلتے ہیں تو صرف 2.4فیصد مسلم گریجویٹ ہوتے ہیں کیا یہ افسوسناک امر نہیں ہے۔ ۱۰۰میں سے لڑکیوں کا تناسب ڈیڑھ فیصد ہوتا ہے۔ انہوں نے ایم بی بی ایس و دیگر پروفیشنل کورسیس میں داخلے کے لئے لازم ’نیٹ‘کے امتحانات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ یہ امتحان پورے ملک میں اردو میں نہیں ہے لیکن ہم نے تلنگانہ حکومت پر دبائو بنا کر اسے وہاں اردو میں نافذ کرایا آج ہمارے بچے نیٹ امتحان اردو میں دے کر کامیاب ہوکر ایم بی بی ایس اور دیگر ڈگریاں حاصل کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے اپنی تقریر میں جیلوں کا بطور خاص تذکرہ کیا اور مجمع سے یہ پوچھا کہ کیا آپ کو پتہ ہے جیلوں میں مسلمانوں کی آبادی کتنی ہے؟ ایک کروڑ تیس لاکھ یعنی ۱۳ فیصد۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں سب سے زیادہ جیلوں میں ٹھونسا جارہا ہے۔ کیا تلنگانہ وحیدرآباد کی طرح کانگریس این سی پی والوں نے مہاراشٹر کے مسلمانوں کو ان کا حق دیا لیکن میں اکبرالدین اویسی آپ لوگوں سے وعدہ کرتا ہوں کہ انشا ء اللہ تعالیٰ آئندہ بجٹ میں ہندوستان دیکھ لے گا کہ ہندوستان کے بجٹ میں چار ہزار چلر کون ہے۔ ہم مسلمانوں کے لئے چار ہزار کروڑ سے زائد بجٹ پا س کروا کر دکھائیں گے۔ آپ نے آخر میں ایک با رپھر اتحاد پر زور دیا اور کہا کہ یہ دنیا اسلام کو صرف جہاد کا مذہب سمجھتی ہے، نفرت کا مذہب سمجھتی ہے لیکن ہم بتاناچاہتے ہیں کہ اسلام اخوت ومحبت کا مذہب ہے ہم نے اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے کے اسلامی سینٹر کے کوششیں کی اور آج حیدرآباد میں پچاس کروڑ روپئے کی لاگت سے اسلامی سینٹر بن رہا ہے اور اس کے پیسے حکومت دے رہی ہے۔ اب م ہاراشٹر میں بھی ایسا ہی ہوگا بشرطیکہ آپ مجلس کے نمائندوں کو ایوان میں پہنچائیں۔ بلدیاتی اداروں میں پہنچائیں۔

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker