احوال مدارس اسلامیہمضامین ومقالات

مدارس اسلامیہ کی عصری معنویت

ڈاکٹرظفر دارک قاسمی
یہ سچ ہے کہ اسلام سے پہلے دنیا پر جہالت و نادانی کی تاریک گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں۔بعض مقامات مثلاً یونان، ایران اور قدیم ہندوستان میں خرافات، توہمات کا دور دورہ تھا عوام عقل و معرفت اور علم و دانش کی روشنی سے قطعی محروم تھی ادیان سابقہ کی معرفت اور تعلیم و تعلم کی اجارہ داری کاہن، ساحر ،احبار و رھبان ،پروہتوں اور پنڈتوں کو حاصل تھی۔
مگر چھٹی صدی عیسوی میں جب رسالت محمدی کا آفتاب عالم تاب مکہ معظمہ سے طلوع ہوا تو بعثت محمدی نے دنیا کو نیاآسمانی صحیفہ عطاکیا نیا علم و حکمت نیا ذوق و شوق اور نئی بلند نظری سے ہمکنار کرایا اور علم و دانش کی روشنی سے دنیا کے تاریک گوشوں کو تا بناک کردیا یہ اسلام ہی کا دنیاپر احسان عظیم ہے کہ اس نے علم و معارف، عقل و آگہی کے تمام پوشیدہ خزانوں کو وقف عام کردیا۔
اگر ہم موجودہ زمانے میں مدارس اسلامیہ کی تاریخ و تاسیس کو تلاش کریں تو ماخذ کے حوالے سے یہ بات عیاں ہوجاتی کہ ان کی کڑی عہد رسالت سے جاکر ملتی ہے۔عہد رسالت میں صفہ کے نام سے ایک یونیورسٹی تھی جس میں شائقین علوم و معارف کی بڑی تعداد موجود رہتی تھی۔ جن کی کفالت خود حضورﷺ فرماتے تھے، نبی کریمﷺ کے حکم سے صحابہ میں سے متعدد اشخاص کتابت وحی کے عمل پر مامور تھے ماخذ کا بیان ہے کہ کاتبین وحی کی مجموعی تعداد چالیس سے متجاوز ہے۔ عقبہ ثانیہ کی بعت کے بعد اور ہجرت سے قبل حضرت معصب بن عمیرؓ کو مدینہ منورہ بھیجا گیا کہ وہ ایمان لانے والوں کو علم دین سکھائیں۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس واقعہ سے بھی لگایا جاسکتاہے کہ غزوۂ بدر کے بعض قیدیوں کو حضورﷺ نے اس شرط پر رہا کیا کہ وہ مسلمانوں کے دس دس لڑکوں کو لکھنا پڑھنا سکھائیں۔ اس طرح ہجرت کے بعد حضور ﷺ کی تعلیم کا طریقہ یہ تھا کہ مسجد نبوی عبادت کرنے کے علاوہ علم حاصل کرنے کا بھی اہم ترین مرکز تھا۔
چنانچہ آہستہ آہستہ ہر شہر میں مسجد یں درسگاہیں اور دانش گاہیں بن گئی۔ نیز کچھ صحابہ کرام کے مکان اور اہل علم کے مسکن کی شکل میں مدینہ اور اطراف و اکناف میں خاصی تعداد میں مدارس و جامعات کا جال بچھ گیا، علاوہ ازیں مختلف علاقوں اور قبائل کی تعلیم کے لیے اہل علم حضرات کو بھیجا جاتا تھا۔ بالآخر صحابہ کرام کی سکونت کے ساتھ ساتھ علم کے بڑے بڑے مرکز قائم ہوئے اورپھر وہاں قرآن اور دیگر مضامین کے نغمے سامعہ نواز ہونے لگے۔ اور کوفہ، دمشق، فسطاطہ وغیرہ میں علم کے اہم ترین مرکز تیار ہوگیے۔اس کے علاوہ اور بہت سے ثبوت اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ عہد رسالت میں کافی زوروں پر تھا کیونکہ سب سے پہلی وحی حضور پر نازل ہوئی اس میں علم سیکھنے پر خاصا زور دیا گیا ہے۔
مدینہ کے بعد سب سے بڑے علمی مرکز کوفہ میں قائم ہوئے۔ حضرت علی، اور فقھاء صحابہ (عبداللہ بن مسعود، حضرت ابو موسیٰ اشعری وغیرہ) کی موجوگی سے کوفہ اہم ترین علمی مراکز میںشمار ہونے لگا۔ ماخذ کا بیان ہے کہ مدینہ کے بعد کوفہ سب سے بڑی علمی دانشگاہ شمار ہوتی تھی۔ امام ابوحنیفہ صاحبین جیسے ا ساطین علم نے انھیں درسگاہوں میں رہ کر احکام شرعیہ کی تدوین کا اہم کام انجام دیا۔ آگے ماخذ کا بیان ہے کہ قرآن و حدیث کو سمجھنے کے لیے عربی لغت اور عربی زبان کے قواعد کی معرفت کی ضرورت محسوس ہوئی۔ کیونکہ عرب عام طور پر اپنی مادری زبان میں غلطیاں کرنے لگے۔ اس لیے قرآن مجید میں اعراب لگائے گئے اور معانی، بیان، صرف و نحو جیسے علوم کو فروغ حاصل ہوا۔

عہد صحابہ میں مدارس :
اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ حضرت ابو بکرصدیقؓ کا زمانہ خلافت زیادہ تر مرتدین کی شو رشوں کے قلع قمع میں گزرا مگر پھر بھی آپ ؓ کے زمانے میں تحصیل علم اور لکھنے پڑھنے کا بھی کافی حد تک زور تھا۔ہاں حضرت عمرفاروقؓ نے اپنے زمانہ میں تمام مفتوحہ ممالک میں درس قرآن اور علوم اسلامیہ کی تحصیل کے لئے درسگاہیں قائم کی۔ اور ان کے معلمین کی تنخواہوں کا بندوبست کیا گیا۔ خانہ بدوش بدؤں کے لیے قرآن مجید کی تعلیم، جبری طور پرلازم کی قرآنی مکاتب میں لکھنا بھی سکھایا جاتا تھا۔ حضرت عمرؓ نے عام طور پر تمام اضلاع میں احکام بھیج دیے کہ بچوں کو شہسواری اور کتابت کی تعلیم دی جائے ان کے علاوہ ادب اور عربیت کی تعلیم بھی لازمی کردی تاکہ لوگ صحت الفاظ و صحت اعراب کے ساتھ قرآن مجید پڑھ سکیں۔
فتح شام کے بعد علوم اسلامیہ کی تعلیم کو بہت فروغ حاصل ہوا۔حضرت عبادہؓ بن صامت معلم قرآن کی حیثیت سے حمص میں قیام پذیر ہوئے حضرت معاذ بن جبل نے فلسطین اور حضرت ابو درداء ؓنے دمشق میں سکونت اختیار کی۔ انھوں نے اپنی مساعئی جمیلہ سے علوم اسلامیہ کی تعلیم کے لیے مکاتب قائم کیے نتیجتاً لوگ امڈتے ہوئے سیلاب کی طرح ان کے درس میں شریک ہوتے تھے۔ اس زمانے میں کتاب و سنت کے علاوہ علوم فقہ کی بھی اشاعت ہوتی اور تعلیم کی خصوصیات یہ تھیں (۱) قرآن،حدیث اور فقہ کے سواکسی دوسرے علم کی تعلیم نہیں دی جاتی تھی۔(۲) تعلیم کتابی نہ تھی، یعنی قرآن کے علاوہ حدیث و فقہ زبانی پڑھائے جاتے تھے۔ (۳) تعلیم پر تنخواہ وغیرہ لینے کی باضابطہ ممانعت تھی (۴)تحصیل علم کے لیے دنیاوی اغراض کا شامل کرنا جائز نہیں تھا۔ (۵)تعلیم کے لیے سفر کرنا لازمی تھا۔ (۶)مسجد یں اور علماء کے معمولی مکان تعلیم گاہوں کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔

عہد اموی میں مدارس:
خلافت راشدہ کے بعد اموی حکومت قائم ہوئی اس کی مدت خلافت (۴۰-۱۳۲ھ) ہے اس زمانے میں فقہ، تفسہر ادب، نحو و صرف کے علاوہ دیگر علوم و فنون کو کافی حد تک فروغ حاصل ہوا بڑے بڑے اساطین علم پیدا ہوئے جنہوں نے قوم و ملت کی علمی تشنگی بجھانے میں اہم رول ادا کیا۔ ماخذ کا بیان یہ ہے کہ عہد اموی میں بیشتر مقامات پر کتاب (جمع کتاتیب و مکاتب) قائم ہوگیے۔ ابن خلکان نے اپنی وفیات الاعیان میں لکھا ہے کہ ابو مسلم خرسانی نے عیسیٰ بن معقل کے یہاں پرورش پائی تھی اور جب وہ بڑا ہوگیا تو حصول تعلیم کے لیے ایک مکتب میں جاتاتھا ۔
اس طرح اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے ملک کی بڑی بڑی مساجد، مدارس اور جامعات کا کام دیتی تھیں۔ مکہ معظمہ میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا حلقہ درس بیت وسیع تھا اور وہ قرآن حدیث، فقہ، فرائض اور عربی زبان بھی سکھاتے تھے مدینہ منورہ میں ربیعۃ الرائی کا حلقہ درس بہت وسیع تھا۔ امام مالک اور امام اوزاعی جیسے ماہر فن اس حلقہ درس کے تعلیم یافتہ تھے۔ ادھر کوفے میں عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ امام شعبی، اور بصرہ میںامام حسن بصری کا حلقہ درس کافی اہمیت کا حامل تھا۔ اس کے باوجود بھی اموی خلفاء شہزادوں کو عربیت کی صحیح تعلیم کے لیے بادیۃ الشام میںبھی بھیجا کرتے تھے۔ اس کا ذکر کرنا بھی مناسب ہوگا کہ شہزادوں کی تعلیم کے لیے ممتاز استاد مقرر کیے جاتے تھے جو ’’مودب‘‘ کہلاتے تھے: پتہ یہ چلا کہ اس زمانے میں تحصیل علم سے لوگوں کو کافی حد تک شوق و شغف تھا اور اموی امراء بھی اصحاب علم و فضل کی کافی قدر کیا کرتے تھے عہد اموی کے طریقہ۔ تعلیم میں جو خصوصیات تھیں انھیں ذیل میں درج کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ (۱)علوم و فنون کی اشاعت و ترویج کے لیے تالیف وتصنیف اور ترجمہ کا سلسلہ قائم ہوا (۲)اساتذہ اور طلبہ کے وظائف مقرر کیے گیے (۳)مساجد میں حصول تعلیم کے لیے باضابطہ درس کے حلقے قائم ہوئے۔ (۴)بعض اسلامی ملکوں میں اہل علم کو اپنا تعلیمی کام جاری و ساری رکھنے کے لیے جہاد سے مستشنی کردیا گیا۔ (۵)زبانی تعلیم کے علاوہ املا کا طریقہ رائج ہوا۔ یعنی استاد جو کچھ بتاتے تھے شاگرد اسے لکھ لیا کرتے تھے۔ (۶)کتابوں کی قرأت سند و اجازت کارواج بھی اسی عہد میں ہوا۔

عہد عباسی میں مدارس:
عہد عباسی میں علوم و فنون کو جس قدر فروغ حاصل ہوا وہ تاریخ کے صفحات پر رقم ہے۔ اس عہد کو علم کا عہد زریں سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ بیت الحکمت کا قیام اس عہد کی اہم ترین خدمت ہے جس کا سہرا ہارون الرشید کے سر جاتا ہے جس میں مختلف زبانوں کے تراجم اور مختلف علوم و فنون کو سکھانے کے لیے مترجم اور اساتذہ متعین کیے گیے تھے۔ جنھوں نے اپنی کوشش و کاوش سے علوم اسلامیہ کے علاوہ دیگر اہم ترین موضوعات پر کام کیا۔
عہد عباسی میںمدارس اور جامعات کی جگہ استعمال ہونے والی عموماً مساجد کے صحن خانقاہوں کے حجرے اور امراء کی حویلیاں تھیں۔ مدینہ منورہ کے علاوہ کوفہ، بصرہ اور فسطاطہ وغیرہ ۔مشہورترین علمی مراکز تھے۔ اس عہد کی دو درسگاہیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ (۱)امام ابوحنیفہ کی درسگاہ اور (۲)مدینہ منورہ میں امام مالک کی، ماخذ کا بیان ہے کہ امام ابوحنیفہؒ کے حلقہ درس میں ہرات افغانستان سے لیکر دمشق اور شام تک کے طلباء شریک ہوتے تھے اس سے آپ کی مقبولیت و اخلاص کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ نیز امام مالک کے درس کی بادشاہت بھی کچھ کم نہ تھی۔ ان کے حلقہ درس میں بخارا سے سمر قند تک ادھر تونس، قیروان۔قرطبہ تکہ کے طلباء آپ کے علم و فضل سے فیضیاب ہونے کے لیے مدینہ آیا کرتے تھے۔ آہ آج بھی ہمارے زمانے میںا سطرح کے مخلصین کی جماعت ہوتی تو یقینا امت کو اس کا بے حد فائدہ ہوتا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مامون الرشیدا ور مابعد کے خلفاء کے دور میں بغداد ساری دنیائے اسلام کے طلباء کا کعبۂ تعلیم اور علماء و فضلاء کا قبلہ حاجت تسلم کیا گیا تھا۔ ان مرکزی شہروں کے علاوہ بعض دور دراز مشرقی مقامات میں بھی درس و تدریس کا چرچا تھا۔ چنانچہ ابن حوقل(م۳۶۷ھ) نے سجستان میں بہت مساجد دیکھی تھیں، جن میں ابتدائی تعلیم سے لیکر اعلیٰ تعلیم تک کانظم و ضبط تھا۔ مقدسی کا بیان ہے کہ چوتھی صدی ہجری میں فلسطین ، شام ،مصر اور ایران میں ایسی بے شمار مساجد سے گزر ہوا۔ا صبھان ،نیشاپور ،ہمذان ،سمرقند اور بخارا میں مشہور دانشگاہوں کے نام سے جانی جاتی تھیںان میںان گنت فقہاء، محدثین، صوفیاء ،ادبااور دیگر علوم و فنون کے شہسوار بن کر نکلے۔

مختلف ادوار میں مدارس:
مقریزی کا بیان ہے کہ مصرمیں جامع عمرو بن عاص صحابہ، تابعین و تبع تابعین کے زمانے سے علوم دینیہ کا مرکز تھی۔ عہد طولونی میں مسجد احمد بن طولون علوم اسلامیہ کا دوسرا مرکز تھی لیکن اس کو حقیقی سرپرستی امام شافعیؒ اور ان کے تلامذہ مثلاً البویطی، المزنی اور الربیع الشافعی کے ساتھ ساتھ ابوجعفر الطحاوی اور ابن ہشام کی حاصل تھی۔ ۳۵۹ھ / ۹۷۰ء میں فاطمی جرنیل جوہر الکاتب الصقلی نے جامع ازھر کی تاسیس کی۔ اور فاطمیوں نے اسے مزید وسعت دی اس وقت درسگاہ میں شیعی علوم و فنون کی تعلیم دیجاتی تھی اور یہاں سے فاطمی دعاۃ دنیائے اسلام میں بھیجے جاتے تھے۔ جب سلطان صلاح الدین ایوبی نے مصر پر قبضہ کیا تو جامعہ ازہر کو اہل سنت و الجماعت کے علوم و معارف کی تدریس کا مرکز قرار دیا۔
چوتھی صدی کے اواخر میں مدارس کے لیے مستقل عمارت بنانے کی بناء پڑی، طبقات الشافعیہ میں لکھا ہے کہ دنیائے اسلام میں مدرسہ کے لیے پہلی عمارت نیشا پور میں بنائی گئی۔
آگے مصنف نے لکھا ہے کہ محمود غزنوی نے متھراکی فتح سے واپس جاکر ۴۱۰ھ میں ایک عالیشان مدرسہ بنوایا تھا جس میں مختلف کتب خانوں سے کتابوں کی نقل کرواکر نہایت اہتمام سے سنوارا گیا تھا۔ سلطان کے بھائی امیر قیصر نے اپنی عمارت میں ایک مدرسہ نیشا پور میں قائم کیا۔ اس کو پھر امام ابواسحاق (م۴۱۸ھ) کو سونپ دیاگیا۔ علام شبلی نے بڑی اہم بات لکھی ہے بلخ ،ہرات اور نیشا پور کے مدارس علمی حیثیت سے خاصے ممتاز تھے۔ خوارزم کا بڑا مدرسہ فلسفہ کے امام فخرالدین رازی (م۶۰۶ھ) کی ذات سے منسوب تھا۔ اسی طرح آل سلجوق میں ارسلان اور ملک شاہ نامور اور باعزت حکمراں ہوئے ہیں انھوں نے اپنی عملداری میںمکاتب اور مدارس قائم کیے تھے اور اپنی کل جاگیروں میں سے دسواں حصہ مدارس کے لیے وقف کردیا تھا اس کا عظیم الشان کارنامہ مدرسہ نظامیہ کی تعمیر تھا۴۵۷ھ میں اس کی تعمیر شروع ہوئی اور ۴۵۹ھ میں اس کا افتتاح عمل میں آیا مدرسہ نظامیہ کا فیض تین سوسال تک جاری رہا، فارسی کے مشہور ادیب شیخ سعدی شیرازی اس کے آخری زمانے کے طالب علم تھے۔ ابو اسحاق شیرازی، امام غزالی، ابوعبداللہ طبری، خطیب شیرازی، اور بہاؤالدین بن شدادجیسے اصحاب علم فضل اس مدرسہ میں موقع بموقع صدر مدرس کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ اس کے احاطے میں ایک کتب خانہ بھی موجود تھا جس میں دنیا کے تمام علوم و فنون کی کتابیں موجود تھیں ۔طب کیلیے وظیفے مقرر تھے جس کا اس سے پہلے کبھی رواج نہ تھا۔ مدرسہ بغداد کے بعد دوسرا اہم ترین علمی مرکز مدرسہ مستنصریہ تھا جس کی تاسیس ۶۲۵ھ خلیفہ مستنصرباللہ نے کی تھی۔
چھٹی صدی ہجری میں نورالدین زنگی نے حلب، حماۃ، حمص اوربعلبک میں بڑے بڑے مدرسے قائم کیے۔ اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ نورالدین کی عظمت اور فخر کیلیے اتنا ہی کافی کہ اس نے دمشق میں دارالحدیث تعمیر کرایا جو اسلامی دنیا میں پہلا دارالحدیث تھا۔ یوں تو دمشق میں اٹھارہ دارلحدیث تھے لیکن سب سے ممتاز ویگانہ نوریہ دارلحدیث تھا۔جس کی زیارت کے لیے دوردراز سے لوگ آتے تھے۔ ابن عساکر اس کے شیخ الحدیث تھے۔ اس زمانہ میں دوسرا بڑا مدرسہ عادلیہ تھا جو دمشق کے مدرسہ شافعیہ میں امتیازی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کے مدرسین بھی بڑے پائے کے عالم مثلاً ابن خلکان، جلال الدین القزوینی ، اورابن مالک النحوی تھے۔ حتیٰ کہ ابن خلکان نے اپنی مشہور تاریخ وفیات اس مدرسہ میں مرتب کی تھی۔
اسی طرح اندلس سسلی میں ابتداء میں تعلیم و تدریس کے لیے علیحدہ عمارتوں کا دستور نہ تھا۔ عموما ً مساجد میں ہی تفسیر و حدیث اور لغت اور نحو کی تعلیم دیجاتی تھی۔ ہاں قرطبہ غرناطہ اور اشبیلیہ کی جامع مسجدیں مرکزی درسگاہیں تھیں ماخذ کا بیان ہے کہ جامعہ قرطبہ میں فقہ کے علاوہ فلکیات، ریاضی اورطب کی تعلیم کا بھی انتظام تھا۔ طلباء ہزاروں کی تعداد میں موجودتھے۔ اور وہ یہاں سے فراغت کے بعد حکومت میں بڑے عہدوں پر فائز ہوتے تھے۔ نیز جامع غرناطہ میںفقہ و فلسفہ کے علاوہ طب کی اور کیمیا کی بھی تعلیم دیجاتی تھی۔ مشہور مورخ اور شاعر لسان الدین الخطیب اس درسگاہ کا مہتمم تھا۔ ان درسگاہوں پر عموماً یہ کتبہ کندہ ہوتا تھا۔ کہ دنیا کی عمارت چارستونوں پر قائم ہے۔ عقلمندوں کا علم، بڑے آدمیوں کا عدل و انصاف ،صلحاء کی دعا اور بہادروں کی شجاعت۔
ماخذ میں لکھا ہے کہ ابن جبیر نے ۵۸۰ھ میں صقلیہ دورہ کیا تھا اس کا بیان ہے کہ اٹلی کی اکثر مساجد میں تعلیم قرآن کے مدارس تھے اس سرزمین سے بڑے بڑے محدث فقہاء صوفیہ اور ارباب ادب پیدا ہوئے صقلیہ کے اسلامی علوم و فنون کے اثر سے اٹلی میں تعلیم کے متعدد مراکز قائم ہوگئے ان میں اٹلی کے مدرسہ طبیہ کو بڑی شہرت حاصل ہوئی۔ اس کی داغ بیل مسلمانوں نے ڈالی تھی یہ یورپ میں سب سے پہلا طبی مدرسہ تھا۔ جسے مسلمانوں نے اٹلی میں قائم کیا اور اس کے ذریعہ یورپ علم طب سے آشنا ہوا مدرسہ کے نصاب کی بیشتر کتابیں عربی زبان میں تھی۔ اس طرح شمالی اٹلی کے شہر ہیڈا میں مسلمان اساتذہ کی نگرانی میں ایک یونیورسٹی قائم ہوئی جس میں مسلمان، یہود اور عیسائی اساتذہ تعلیم دیتے تھے اور اس میں مختلف علوم و فنون کی تعلیم دیجاتی تھی۔ ابن رشد کے فلسفہ کو اسی جامعہ میں بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔ یعنی اٹلی کے مدارس و جامعات اور عربی کتب کے ذریعہ سے یورپ میں نشاۃ ثانیہ اور آزادخیالی کی بنیاد پڑی۔
شبلی نے اپنے سفر نامہ میں لکھا ہے کہ مدارس رشیدیہ کی تعداد ۸ ۶ا تھی مگرجب سلطان عبدالمجیدخاں ثانی تخت پر متمکن ہوا تو مدارس رشدیہ کی تعداد ۴۰۵ ہوگئی۔ان کے بیان کے مطابق قسطنطیہ میں ہرقسم کے مدارس وجامعات تھیں ان میں نیز بڑے کالج تھے اور اسکولوں میںاہم ترین یہ تھے(۱) مکتب حریبہ شاہانہ، فوجی مدرسہ تھا ۔ (۲) مکتب سلطانی: اعلیٰ تعلیم کی درسگاہ تھی جس میں تمام علوم و فنون فرانسیسی زبان میں پڑھائے جاتے تھے علوم دینیہ کے علاوہ حساب جبر و مقابلہ، جغرافیہ، ہندسہ ، کیمسٹری، طبعیات اور الکٹرسٹی کی تعلیم بھی دیجاتی تھی۔ (۳)مکتب ملکیہ : یہ سول سروس کالج تھا۔ (۴)مکتب الحقوق میں قانون اور اس کی تاریخ کی تعلیم دیجاتی تھی۔ (۵) مکتب ہندسہ انجیرنگ کالج (۶) مکتبہ طبیہ میڈیکل کالج تھا ۔
مذکورہ بالا سطور کی روشنی میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ مسلمانوں میں پڑھنے پڑھانے مدارس و جامعات قائم کرنے کا شوق کس قدر غالب تھا۔یعنی یہ ہماری تابناک تاریخ ہے مگر آج ہم نے روشن ماضی کو پس پشت ڈال دیا اور تعلیم کے میدان میں دنیاکی تمام اقوام سے پیچھے ہیں اس لیے ضرورت ہے ایک بار پھر روشن ماضی سے سبق حاصل کریں تاکہ مسلمانوں میںگرتے تعلیمی معیار کو دوبارہ زندہ کیاجائے۔
یہی وجہ تھی کہ انھوں نے زیور تعلیم سے مزین ہوکر پودی دنیا کے سامنے بڑی آن بان اور شان کے ساتھ زندگی گزری، مگرافسوس اس بات کا ہے جو قومیں علم نام کی کسی شئی سے واقف نہیںتھیں آج وہ دنیا کے ہرمیدان میں مسلمانوں سے سبقت لے جارہی ہیں جب کہ پوری دنیائے انسانیت کو علوم و فنون سے روشناس کرانے میں مسلمانوں کا کافی رول رہا ہے۔ وہ سب سے پیچھے ہیں۔
جب تک ہمارے معاشرے میں علم کی خوشگوار فضا نہیں چلے گی اس وقت تک یقینا ہم ہرطرح سے پسماندہ شمار کیے جاتے رہیں گے اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی نسل کو دینی و عصری علوم سے لیث کرکے میدان عمل میں اتاریں۔
اور اپنے سماج و ملک میں تعلیم کو عام کریں ۔

عصری چیلنج
آج مدارس کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے کبھی انھیں دہشت و بربریت کا اڈہ بتایا جاتا ہے تو کبھی مدارس کے نصاب کو تحریف کرنے کی بات ہوتی ہے اور کبھی مدرسہ بورڈ کا افیون کھلانے کی پر زور حمایت کیجاتی ہے یہ بھی عرض کرتاچلوں کہ ہندوستانی مدارس دینہ کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈہ کی مہم کی شروعات ۲۰۰۱ میں ملک کی داخلی سلامتی سے متعلق وزارتی گروپ کی اس شر انگیز رپورٹ سے ہوئی جس میں کھلے طور پر اور خاص طور پر سرحدی علاقوں کے مدارس کو دہشت گردانہ سرگرمیوںمیں ملوث دکھانے کی کوشش کی گئی رپورٹ میں مدارس پر عالمی اسلامی اتحاد نظریے کے علم برادر ہونے کا بھی الزام عائد کیا گیا تھا۔ حالانکہ مدارس خود اس قدر بکھرے ہوئے اور مسلکی اختلاف کے شکار ہیں کہ خود مدارس کے درمیان بھی اتحاد پیدا ہونا مشکل ہے۔ ایسے میں ان پر عالمی اسلامی اتحاد کا الزام محض مذاق نظر آتا ہے۔
مدارس کو اس وقت خارجی سطح پر جو چیلنجز لاحق ہے ان میں سب سے بڑا یہ ہے کہ یہ انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں۔ دوسرا چیلنج یہ ہے کہ مدارس کے نظام تعلیم اور طبقہ علماء سے متعلق خود مسلمانوں کے جدید تعلیم کے حامل ایک بڑے طبقے کے درمیان پیدا ہونے والی بے اعتمادی ہے۔ اس طبقے کی طرف سے مدارس اور طبقہ علماء پر یہ ا عتراض کیاجاتا ہے کہ وہ معاصر زندگی کے حقائق سے آشنا نہیں ہیں اور دور جدید کے تقاضوں سے انھوں نے عمداً چشم پوشی اختیار کررکھی ہے۔ اس میں ایک حلقہ بلاشبہ معاندین پر مشتمل ہے لیکن دوسرے حلقے میں سنجیدہ و مخلص اور ثقہ افراد بھی شامل ہیں۔ بلکہ خود علماء اور فاضلین مدارس کی ایک تعداد بھی اس میں شامل ہے جو اسی بات کے پر زور حامی ہیں کہ مدارس کے اصل اور مطلوبہ کردار کو بحال کرنے کے لیے بڑی سطح پر اس میں تبدیلی لائی جائے۔ اس طرح داخلی سطح پر مدارس کے نظام و نصاب کی اصلاح و تجدید کا سوال بھی مدارس کی بقائو فروغ کے لیے نہایت اہم ہے ۔ مدارس کے ذمہ داران اور ارباب حل و عقد کی طرف سے ان دونوں سطحوں پر اقدام کی ضرورت ہے۔
یہ مسلم حقیقت ہے کہ دینی مدارس اسلام کی تقویت۔ شریعت کی حقانیت مذہب کی حفاظت اور ایمان کی طہارت کے ضامن ہوتے ہیں۔ یہ مدارس ہی کا فیضان ہے کہ جن کے توسط سے انسانوں میں خدمت خلق کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور حق و باطل میں خصوصی امتیاز پیدا کرنا انھیں کاطرہ ہے۔ انھیں مدارس کے وجودسے اسلام و شریعت اور دین و ایمان کی شمعیں تمام انسانیت کے لیے رحمت و راحت اور بقا و تحفظ کا سامان فراہم کرہی ہیں۔مگر افسوس کہ کچھ شر پسند عناصر انھیں کے وجود کو خطرہ محسوس کررہے ہیں ان کی بڑھتی مقبولیت دشمنان اسلام کے لیے برداشت نہیں ہورہی۔

مدارس میں موجودہ نصاب تعلیم:
یہ مسئلہ بھی بہت اہمیت کا حامل ہے کہ مدارس کے نصاب تعلیم میں تبدیلی کی جائے یا نہیں؟ جبکہ تاریخ شاہد ہے کہ مدارس کے نصاب میں وقتاً فوقتاً تبدیلی ہوتی رہی ہے ، بڑی بڑی جامعات کی بنیاد مسلمانوں نے رکھی اور ان میں دینی علوم کے ساتھ عصری علوم پڑھائے جاتے تھے اور ان کے نصاب تعلیم میں دین و دنیا کی کوئی تفریق نہیں تھی۔ بلکہ اسلامی مدرسہ بغداد، قاہرہ، دمشق حلب، فارس، مراکش، قرطبہ میں عقائد و عبادات، کتاب و سنت کی تشریحات، فقہ کے ساتھ ساتھ فلکیات، ہندسہ،اقلیدس ، ریاضیات کیمیا، علم حیوان و نباتات تشریح الاجسام کے علاوہ جملہ سائنسی علوم اور صنعتی وزرعی علوم کی تعلیم کا بہترین اہتمام تھا ۔
دراصل سرسید نے بھی اس مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا قیام کیا تھا۔ وہ ایک ایسے نظام تعلیم کے خواہاں تھے کہ جس میں دین اور دنیادونوں کاامتزاج پایا جاتا ہو اور وقت کے تقاضوں کے مطابق قوم کی نئی نسل خودکو پروان چڑھائے سرسید کا مشہور قول بھی ہے،فسلفہ ہمارے دائیں ہاتھ میں ہوگا اور نیچرل سائنس بائیں ہاتھ میں اور کلمہ لاالہ الااللہ کا تاج سرپر ان کے تعلیمی رجحانات کا یہ سب سے بڑا ترجمان ہے۔ ہاںابتدائی صدیوں کی تاریخ اس بات پرشاہد ہے کہ ہمارے اسلاف علوم وفنون کی ترقی ایجادات میں قافلہ سالار نظر آتے ہیں ۔ میں یہ بڑے وثوق کے ساتھ کہہ سکتاہوں کہ عصری علوم میں کو ئی اضافہ ایسا نہیں ہے جو مسلمانوں کا رہین منت نہ ہو۔ خود ہمارے ہندوستان میں انگریزوں سے قبل علوم دینہ کے ماہر ہونے کے ساتھ ماہرین ریاضیات طبعیات مورخین واطباء پیدا ہوئے ان کے علمی کارنامہ سے تاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مدراس کے نصاب تعلیم میں واقعی ترمیم کی جائے۔ اور سائنس یا دیگر علوم شامل نصاب کرلیے جائیں۔ اس سلسلے میں راقم کی رائے یہ ہے کہ اگر ہم مدارس میں عصری علوم کو بحیثیت مضمون پڑھانے کے قائل نہیں ہیں اس کے باوجود ہمیں اپنے نصاب تعلیم پر نظر ثانی کرنے کی بے حد ضرورت ہے۔ مدارس میں جو علوم دینہ پڑھائے جاتے ہیں۔ وہ عمومایہ ہیں قرآن، حدیث، اصول حدیث، فقہ و اصول فقہ، منطق،نحو و صرف، بلاغت و فصاحت وغیرہ ان مضامین کے ساتھ ارباب مدارس کو حسب ذیل مضامین شامل کرنے کی ضرورت ہے (۱)تاریخ اسلام (۲)سیاسیات (۳)سماجیات (۴)تاریخ مذاہب (۵) فقہ الا قلیات (۶)صحافت (۷)اردو ادب (۸)صنعت و حرفت ۔ یہ تمام مضامین دینی ہیں ان کوہم مضمون کی حیثیت سے اپنے نصاب میں جگہ دیں تبھی جاکر ہمارا نصاب صحیح معنوں مکمل و مدلل ہو گا۔ کیونکہ یہ سب علوم ہم بڑھاتے ہیں مگر مضمون کی حیثیت سے نہیں پڑھاتے ان کو اگر بحیثیت سبجیکٹ مدارس اپنے نصاب تعلیم میں شامل کرلیں تو یقینا یہ قوم و ملت اور مدارس اسلامیہ کے فضلا ء کے لیے نہایت سود مند اور وقت کے تقاضوں کے مطابق انتہائی مفید ہوگا۔
کیونکہ فضلائے مدارس کے لیے معاش کا اہم مسئلہ ہے۔ حضرت سفیان ثوریؒ کاقول ہے کہ لولا المال لدینا النمتدل بنا الامراء اگر ہم علماء دین کے پاس مال نہ ہوتو امراء ہمیں اپنے ہاتھ کارومال بنالیں۔ اس قول کے تناظر میں آج کی صورت حال پر غور کریں توایسا محسوس ہوتا ہے کہ واقعتاً معاشی مجبوریوں نے فضلاء مدارس کی ایک بہت بڑی تعداد کودینی اسپرٹ اور اصل مشن سے بے گانہ کردیاہے۔ اس اعتبار سے مدارس میں تکنیکی تعلیم کو بھی بقدر ضرورت شامل کیا جانا وقت کا اہم تقاضا ہے۔

مدارس کی عصری معنویت:
مدارس اسلامیہ کا وجود مسلم ہے، ان کی خدمات کا اعتراف پوری دنیا نے کیا ہے، ان کی افادیت و اہمیت کی وضاحت کے لیے صرف یہ اعتراف کافی ہے کہ آج نئی نسل تک جو اسلام پہنچا ہے وہ انھیں کی بدولت پہنچا انھیں مدارس میں خالق کی طرف سے مخلوق کی طرف نازل کردہ احکام کی تعلیم دی جاتی ہے جو پوری دنیا کے لیے امن امان اور سکون و اطمینان کا بیش خیمہ ہیں۔
موجودہ زمانے میں مدارس کی اہمیت و معنویت کیا ہے یہ ایک اہم مسئلہ ہے، مدارس سے فراغت کے بعد فضلاء مدارس کا سماج کی تعمیرو ترقی میں کیا رول ہوتا ہے مدرسہ کا نصاب تعلیم ان کے روزگارمیں کس قدر معین و مدد گار ثابت ہوتاہے۔ دراصل ہمیں اپنے نظریات میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارا یہ تصور کہ ہم صرف اخروی تیاری کے لیے کام کرتے ہیں تو میں کہہ سکتا ہوں کہ یقینا یہ بالکل غلط ہے کیونکہ قرآن و حدیث کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہے کہ معاش اور وسائل معاش کواختیار کرنابھی عبادت ہے۔ مدارس کی عصری مقبولیت میں چار چاند لگانے کے لیے حسب ذیل چیزیں اگر شامل کرلی جائیں تو یقینا یہ امت محمدیہ کے لیے بہت مفید ثابت ہوگا۔
(۱)درس و تدریس، رشد و ہدایت اور دعوت و تبلیغ کے لیے مختلف زبانوں کا سیکھ کر اسلام کا پیغام پہنچانا۔ کیونکہ قرآن میں مذکور ہے کہ انبیاء اکرام اپنی قوم کی زبانوں میں ہی دعوت دیتے تھے مگر افسوس ہمارے مدارس میںزیادہ تراردو بولنے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ (۲)برادران وطن سے ربط و تعلق، افہام و تفہیم اور پیغام رسانی بھی علماء کی اہم ترین ذمہ داری ہے اور اس کے لیے لازمی ہے کہ ہم برادران وطن کی زبان، ان کے عقائد و مذاہب کی معلومات ہونا ضروری ہے۔ (۳) طلباء مدارس کی اکثریت، باالعموم اس بات سے بے خبر ہوتی ہے کہ ان کی مدارس میں آمد کا مقصد کیا ہے۔ اور فراغت کے بعد ان کا میدان کیا ہوگا۔ دوسری بات یہ ہے کہ عموماً ہمارے مدارس فراغت کے بعد عصری تعلیم اوراس کے مواقع کی طرف رہنمائی تو دوسری بات اس پہلو پر گفتگو کو شجر ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے ارباب مدارس کو چاہیے کہ وہ طلباء مدارس کی عصری تعلیم کی طرف کافی حد تک رہنمائی کریں۔ ان تمام باتوں کے باوجود اس پر آشوب دور میںمدارس کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے جس جانفشانی کے ساتھ وہ خدمت انجام دے رہے ہیں بلا شبہ وہ لائق ستائش اور قابل تعریف ہے بڑے کرب کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ موجودہ وقت میں ہمارے طلبا کے اندر فعالیت، سودمندی، خود اعتمادی، مستقل مزاجی اور سنجیدگی کم ہی نظر آتی ہے اس لیے ان کی عظمت کو دوبالا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم فضلاء و مدارس کی صحیح خطوط پر رہنمائی کریں تاکہ ملک و قوم اور سماج کی ترقی میں معنی و مدد گار ثابت ہوں۔
(بصیرت فیچرس)
*ریسرچ اسکالر: شعبہ دینیات (سنی)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ
zafardarik85@gmail.com

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker