Baseerat Online News Portal

آپ کے شرعی مسائل

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
گناہ گار کو کافر کہنا
سوال:- اگر کوئی شخص غیر محرم کے ساتھ نظر آئے تو کیا اس کو ’’ کافر ‘‘ یا دھیڑ کہنے کی اجازت ہے ، اور کسی مسلمان کو کافر یا دھیڑ کہنے کا کیا گناہ ہے ؟ (سہیل احمد ، مانصاحب ٹینک)
جواب :- کسی مسلمان کے لئے غیر محرم کے ساتھ تنہائی اختیار کرنا قطعاً جائز نہیں اور ایسے شخص کو ضرور اس حرکت سے روکنے کی کوشش کرنی چاہئے اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لئے بغیر مناسب تدبیر اختیار کرنی چاہئے ؛ لیکن ضروری ہے کہ یہ کوشش شریعت کے دائرہ میں ہو ، کسی مسلمان کو کافر کہنا سخت گناہ ہے ، رسول اللہ انے ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی مسلمان کو فاسق یا کافر ٹھہرائے ؛ حالاںکہ وہ ایسا نہیں ہوتو یہ کہنے والے ہی کی طرف لوٹ آئے گا ، ( بخاری ، باب ماینہی من اسباب واللعن ، حدیث نمبر : ۶۰۴۵) یعنی وہ شخص اللہ تعالیٰ کی نظر میں کافر و فاسق سمجھا جائے گا ، اسی طرح دھیڑ کا لفظ تحقیر ظاہر کرنے کے لئے بولا جاتا ہے اور مسلمان تو کیا کسی بھی انسان کی تحقیر جائز نہیں ؛ اس لئے اس سے بچنا ضروری ہے ، اس کے علاوہ اکثر اوقات ایسی باتیں کہنے سے مخاطب میں ضد پیدا ہوجاتی ہے اور اصلاح کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے ۔
تشہد یا اوراد نماز کو زور سے پڑھنا
سوال:- اگر امام بآواز بلند تشہد ، درُود ابراہیم ، دُعائے ماثور پڑھے تو کیا نماز میں سجدہ سہو ضروری ہوجائے گا ؟ (سہیل احمد ، مانصاحب ٹینک)
جواب :- قرآن کی تلاوت میں زور سے یا آہستہ پڑھنے کا جو حکم دیا گیا ہے ، وہ حکم واجب کے طورپر ہے ؛ لہٰذا نماز کے اندر قرأت قرآن میں اس کی رعایت کرنا ضروری ہے ، اگر اس کی رعایت نہیں کی گئی تو سجدہ سہو واجب ہوجائے گا ؛ لیکن دوسرے اذکار و اوراد کو آہستہ پڑھنا مسنون ہے ، اس کو آہستہ ہی پڑھنا چاہئے ؛ لیکن اگر امام یا مقتدی یا تنہا نماز پڑھنے والے نے ان کو زور سے پڑھ لیا تو نہ نماز فاسد ہوگی اور نہ سجدۂ سہو واجب ہوگا ، فقہاء نے اس کی صراحت کی ہے :’’ قد صرحوا بأنہ إذا جہر سہوا بشیٔ من الادعیۃ والأثنیۃ ولو تشہداً فإنہ لا یجب علیہ السجود ‘‘۔ (ردالمحتار : ۲؍۵۴۶)
نماز میں نیابت
سوال:- جس طرح حج اور عمرہ بدل کیا جاتا ہے ، کیا پانچ وقت کی فرض نماز بدل کی جاسکتی ہے ؟
(محمد واصف خان ، نامپلی )
جواب :- عبادتیں تین طرح کی ہیں ، ایک : خالص مالی ، جیسے زکوٰۃ ، قربانی وغیرہ ، اس میں ایک شخص کی نیابت دوسرا شخص کرسکتا ہے ، دوسرے : وہ جس میں جان بھی خرچ ہوتی ہو اور مال بھی ، جیسے حج و عمرہ ، اس میں بھی بعض شرطوں کے ساتھ نیابت کی گنجائش ہے ، تیسرے : خالص بدنی عبادت ، جیسے نماز ، روزہ ، اس میں کوئی شخص دوسرے کی نیابت نہیں کرسکتا : ’’ البدنیۃ المحضۃ لا تجوز فیہا النیابۃ علی الاطلاق ، لقولہ عزوجل : وأن لیس للانسان إلا ماسعی‘‘ ( بدائع : ۲؍۴۵۴) چنانچہ رسول اللہ انے ارشاد فرمایا ایک شخص دوسرے شخص کی طرف سے روزہ نہیں رکھ سکتا اور نہ ایک شخص دوسرے شخص کی طرف سے نماز پڑھ سکتا ہے : ’’ لا یصوم أحد عن أحد ولا یصلی أحد عن أحد‘‘ (مؤطا امام مالک ، باب النذر فی الصیام ، حدیث نمبر : ۱۰۶۹) اس لئے فرض نماز کسی زندہ شخص کی طرف سے یا مردہ کی طرف سے قضاء کے طورپر کوئی دوسرا شخص نہیں پڑھ سکتا ہے ۔
بے وضو نماز جنازہ
سوال:- کیا بے وضو جنازے کی نماز ادا کی جاسکتی ہے ؟ (محمد واصف خان ، نامپلی )
جواب :- عام نمازوں کے درست ہونے کے لئے جو شرطیں ہیں ، وہی شرطیں نماز جنازہ کے لئے بھی ہیں ، ان شرطوں میں بدن کا ، کپڑے کا اور مکان کا پاک ہونا بھی ہے : ’’ أما الشروط التی ترجع إلی المصلی فہی شروط بقیۃ الصلوات من الطہارۃ الحقیقیۃ بدنا وثوباً ومکانا‘‘ ( ردالمحتار : ۳؍۱۰۳) پاکی ہی کی ایک صورت وضو ہے ، اس لئے باوضو ہونا بھی ضروری ہے ؛ کیوںکہ بغیر پاکی کے نماز جنازہ نہیں ادا کی جاسکتی ہے : ’’ لانہ لاصحۃ لہا بدون الطہارۃ‘‘ ۔ (ردالمحتار : ۳؍۱۰۴)
مقروض کو زکوٰۃ دے کر قرض وصول کرنا
سوال:- مجھ پر پچھلے کچھ سالوں کی زکوٰۃ ادا شدنی ہے ، میرا ایک پھوپھی زاد بھائی ہے ، جو سعودی عرب میں ملازم تھا ؛ لیکن وہاں سے وہ واپس آچکا ہے اور مجھے پتہ ہے کہ اس کے معاشی حالات ٹھیک نہیں ہیں ، اس پر بیوہ ماں ، بیوی اور تین چھوٹے بچوں کی ذمہ داری ہے ، اس کے دو مکانات ہیں جن کا کرایہ بیوہ ماں کے پنشن سے اور گھر کے اخراجات مشکل سے پورے کئے جاتے ہیں ، مکان کی تعمیر اور دوسری ضروریات کے سلسلے میں میں نے اسے ایک لاکھ پینتیس ہزار بطور قرض دیئے ہیں ، اس کے موجودہ معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے مجھے خیال ہورہا ہے کہ میں اس رقم کو اپنی پچھلی ادا شدنی اور اگلی ادا کی جانے والی زکوٰۃ میں شمار کروں تو کیا شرعی لحاظ سے میری زکوٰۃ ادا ہوجائے گی ، کیا اتنی ساری رقم ایک شخص کو بطور زکوٰۃ ادا کی جاسکتی ہے ؟ (محمد عبید ، نام پلی)
جواب :- آپ نے جن صاحب کو قرض دیا ہے ، اگر بنیادی ضروریات ( رہائش کا مکان ، استعمال کی سواری ، گھر کی ضروری اشیاء وغیرہ ) کے علاوہ ان کے پاس کوئی ایسی چیز موجود نہیں ہے ، جو ساڑھے ستاسی گرام سونے کی قیمت کو پہنچے ، یا اگر ہے تو آپ کا قرض ادا کرنے کے بعد دولت کی اتنی مقدار ان کے پاس نہیں بچ سکے گی ، تو آپ کے لئے ان کو قرض کے بقدر زکوٰۃ کی رقم دینا جائز ہے ، اگرچہ فقہاء نے ایک ہی شخص کو ایک نصاب زکوٰۃ کے بقدر زکوٰۃ کی رقم دینے کو مکروہ قرار دیا ہے ؛ لیکن یہ حکم عام حالات سے متعلق ہے ، مقروض جن کو قرآن میں ’’ غارمین‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے ، ( سورۂ توبہ : ۶۰) کو ان کی ضرورت کے بقدر زکوٰۃ دی جاسکتی ہے ، اگرچہ کہ وہ مقدار نصاب سے زیادہ ہوجائے ؛ البتہ زکوٰۃ ادا ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ پیسہ الگ کرتے وقت زکوٰۃ کی نیت کی گئی ہو ، آپ نے جس وقت یہ رقم دی تھی ، اس وقت قرض کی نیت سے دی تھی ؛ لہٰذا اب اس میں زکوٰۃ کی نیت نہیں کی جاسکتی ؛ البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ آپ اسے زکوٰۃ ادا کریں اور ان سے قرض وصول کرلیں : ’’ وحیلۃ الجواز أن یعطی المدیون الفقیر خمسۃ زکاۃ ثم یاخذھا منہ قضاء عن دینہ ، کذا فی المحیط‘‘ ۔ ( البحر الرائق : ۲؍۲۲۸)
خلع کے بعد دوبارہ نکاح
سوال:- میاں بیوی میں خلع ہوچکا اور پھر ایک سال بعد دونوں اپنی غلطی پر نادم ہوئے اور دوبارہ شوہر بیوی بن کر رہنا چاہتے ہیں ، ان کو کیا کرنا ہوگا ؟ (حافظ محمد غوث ، تالاب کٹہ)
جواب:- اگر خلع میں تین طلاق کی صراحت نہ کی گئی ہو تو اس سے ایک طلاق بائن واقع ہوتی ہے : ’’ حکمہ ( ای الخلع) وقوع الطلاق البائن‘‘ (تبیین الحقائق : ۲؍۲۶۷) چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ انے خلع کو ایک طلاق بائن قرار دیا : ’’جعل الخلع تطلیقۃ بائنۃ‘‘ ( سنن الدار قطنی ، کتاب الطلاق والخلع والإیلاء وغیرہ ، حدیث نمبر : ۴۰۲۵) ایسی صورت میں مرد و عورت آپسی رضامندی کے ساتھ دوبارہ نیا نکاح کرسکتے ہیں ؛ البتہ اگر خلع میں تین طلاق کی صراحت ہو تو بیوی اس پر مکمل طورپر حرام ہوگئی ، اب دونوں کے درمیان نکاح نہیں ہوسکتا ، سوائے اس کے کہ اتفاق سے عورت کا کسی اور مرد سے نکاح ہوا ، میاں بیوی کا تعلق بھی قائم ہوا اور پھر کسی وجہ سے طلاق کی نوبت آگئی تو اب سابق شوہر سے اس کا نکاح ہوسکتا ہے ۔
چار سال کے بچے کو دودھ پلانا
سوال:- میرا چار سال کا لڑکا ہے ، میں نے محسوس کیا کہ وہ ہر روز کمزور ہوتا جارہا ہے ، چلتے چلتے گر جاتا ہے ، ڈاکٹروں سے رُجوع ہوئی ، تین ڈاکٹروں نے بھی ایک ہی بات کہی ہے کہ بچہ کے بدن میں کیلشیم کی بہت زیادہ کمی ہے ، علاج جاری ہے ، کوئی فرق نہیں دیکھی تو میں نے محسوس کیا کہ ماں کے دودھ سے بہتر کوئی دوا نہیں ہے ، اس لئے میں نے بچے کو اپنا دودھ دینا شروع کردیا ، بہتری محسوس کررہی ہوں ، ایک دن میرے بھائی نے مجھ کو دیکھ کر کہا : ڈھائی سال سے زیادہ کے بچے کو یا بچی کو دودھ پلانا حرام ہے ، میرا یہ عمل بچے کی صحت اور تندرستی کے لئے ہے ، مہربانی کرتے ہوئے مسئلہ بتائیں ۔ (فہمیدہ بیگم ، نامپلی )
جواب :- آپ کے بھائی نے آپ سے جو بات کہی ، وہ درست ہے ، شریعت میں دودھ پلانے کی جو مدت مقرر کی گئی ہے یعنی دو سال ، اور بعض فقہاء کے قول کے مطابق زیادہ سے زیادہ ڈھائی سال ، اس کے بعد دودھ پلانا جائز نہیں : ’’ وھل یباح الإرضاع بعد المدۃ ؟ قیل : لا ؛ لأنہ ، جزء الآدمی فلا یباح الانتفاع بہ إلا للضرورۃ ، وقد انتفعت ، وعلی ہذا لا یجوز الانتفاع بہ للتداوی‘‘ ( فتح القدیر ، کتاب الرضاع : ۲؍۴۴۶) اس لئے آپ اب بچے کو دودھ نہ پلائیں ؛ البتہ کیلشیم کے لئے بہت سی دوائیں دستیاب ہیں ، جو مریضوں کو دی جاتی ہیں اورکارگر ثابت ہوتی ہیں ،آپ کسی اچھے معالج کے ذریعہ بچہ کا علاج کرائیں ، جو چیزیں حرام ہیں ، علاج کے لئے ان کا استعمال اسی وقت جائز ہوتا ہے ، جب کہ اس کا کوئی حلال متبادل دستیاب نہ ہو ۔
جس کمرے میں آیاتِ قرآنی کے طغرے لگے ہوں …
سوال:- آج کل مکانات کی قلت کی وجہ سے بہت سے لوگ دو ایک کمروں میں زندگی گزار رہے ہیں ، مسلمان ہونے کی وجہ سے نماز روزے کی پابندی تو نہیں کرتے ، اپنے کمروں میں اللہ ، رسول ، اور کلمہ طیبہ ، آیۃ الکرسی کے طغرے یا اسٹیکر دیواروں پر لگاتے ہیں ، ایسی صورت میں میاں بیوی کا صحبت کرنا جائز ہے ؟ کیا بے حرمتی تو نہیں ہوگی ؟ (سید حسان ، قلعہ گولکنڈہ)
جواب :- بہتر تو یہی ہے کہ جس کمرے میں میاں بیوی کا بستر ہو ، اس میں اس طرح کے طغرے نہیں لٹکائے جائیں ؛ لیکن چوںکہ اس وقت عام طورپر مکانات چھوٹے ہوتے ہیں اور اتنے کمرے نہیں ہوتے کہ اس کا اہتمام کیا جاسکے ؛ اس لئے جس کمرے میں قرآن مجید رکھا ہوا ہو ، یا طغرے وغیرہ ہوں ، مگر وہ اوپر ہوں ، یا الگ ہوں ، تو ان میں بھی میاں بیوی کا تعلق جائز ہے ؛ البتہ بہتر ہے کہ ایسے وقت ان کے اوپر کپڑا یاکوئی آڑ کی چیز ڈال دی جائے : ’’ لا بأس بالجماع فی بیت فیہ مصحف للبلوی قیدہ فی القنیہ ، بکونہ مستورا وإن حمل ما فیہا علی الأولویۃ زال التنافی ‘‘ ۔ ( شامی : ۹؍۶۰۶)
(بصیرت فیچرس)

You might also like