جہان بصیرتخبردرخبر

بہارالیکشن میں مودی کی فرقہ وارانہ کارڈکھیلنے کی کوشش

مودی جی !مذہب کی بنیادپرریزرویشن سے محرومی کون ساعمل ہے؟
یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ’’ مخصوص طبقہ کون‘‘ہے،
محمدشارب ضیاء رحمانی
ایک طرف وزیراعظم نریندرمودی ملک کومذہب سے بالاترکرکے ترقی یافتہ بنانے کی کوششوں کاوعدہ کرتے ہیں اوراپیل کرتے ہیں کہ مذہبی بھیدبھائواورتشددکوایک طرف رکھ دیاجائے ۔دوسری طرف انہوں نے اپنی انتخابی ریلی میں ریزرویشن پرفرقہ وارانہ کارڈکھیل دیاہے۔یہ نہیں بھولناچاہئے کہ ریزرویشن پرموہن بھاگوت کے مشورہ کے بعدبیک فٹ پربی جے پی پہونچ چکی ہے ۔مہاگٹھ بندھن بی جے پی اورآرایس ایس سرکارکودلتوں کے ریزویشن کی مخالفت جماعت بتانے میں کامیاب بھی ہوچکاہے ۔مہاگٹھ بندھن کوتقویت وی کے سنگھ کے بیان سے بھی مل گئی اورآرایس ایس کے وزیراعلیٰ کھٹرکی ریاست ہریانہ میں دلت مخالف واقعات نے بھی بہارکے سیاسی منظرنامہ کومتاثرکیا۔
ان حالات میں بی جے پی کی بوکھلاہٹ فطری امرہے۔چنانچہ اس بوکھلاہٹ کے شکارخودوزیراعظم ہوگئے۔وزیراعظم کی نفرت کس طبقہ سے ظاہرہورہی تھی اوروہ کس کے ریزرویشن پربرہم ہیں وہ توان کی پارٹی کے نقطہ نظر اوران کی حکومت کی پالیسی سے واضح ہوجاتاہے۔دلتوں کولبھانے اورمذہبی رنگ دینے کیلئے مودی نے ریزرویشن کے مسئلے سے متعلق تنازعہ کونیارخ دیتے ہوئے آج مہاگٹھ بند ھن کے لیڈروں سونیا گاندھی، نتیش کمار اور لالو پرساد پر براہ راست الزام لگایا کہ وہ ووٹ بینک کی سیاست کے تحت دلتوں، مہا دلتوں اور پسماندہ طبقوں کے ریزرویشن کوٹے میں سے پانچ فیصد کی کمی کرکے ایک مخصوص فرقہ کودینے کی سازش رچ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس مخصوص فرقہ کوریزرویشن دینے کے ارادہ کوسازش سے بھی تعبیرکرڈالاچنانچہ انہوں نے عہدکیاکہ اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے وہ اپنی جان کی بازی لگا دیں گے۔وزیراعظم نے آخرکس وجہ سے اس ’’مخصوص طبقہ‘‘ کی وضاحت نہیں کی۔کیایہ اشارہ مسلمانوں کے علاوہ کسی اورکی طرف ہوسکتاہے؟۔
اس سازش کی وضاحت مودی نے مزیدیہ کی کہ آئین سازوں نے کہا ہے کہ ہندو،مسلمان ، پارسی، عیسائی اس طرح سے فرقہ اور مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں دیا جائے۔اور انتخابات میں تمام سیاسی جماعتیں دو فیصد، پانچ فیصدریزرویشن بانٹتی تھیں اور انتخابات میں جیت حاصل کرتی تھیں ۔تب سپریم کورٹ نے کہا کہ 50فیصد سے زیادہ ریزرویشن بڑھانے کا کسی کو حق نہیں ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگرکوئی دلت مسلمان ہوجاتاہے تواسے ریزرویشن سے محروم کردیاجاتاہے اوراب وہ ان مراعات کاحق دارنہیں ہوتاجواسے ہندورہتے ہوئے ملتے رہے ہیں۔وزیراعظم صاحب یہ فرماتے ہیں کہ مذہب کی بنیادپرریزرویشن نہیں مل سکتاکیاوہ یہ بتائیں گے کہ مذہب کی بنیادپرریزرویشن سے محروم کرناکیاسماجی عدم مساوات نہیں ہے۔سب کاساتھ سب کاوکاس کی عملی تصویریہی ہے جوانہوں نے مہاراشٹرمیں ریزرویشن کے حوالہ سے واضح تفریق کرتے ہوئے اورآج انتخابی ریلی میں اپنے بھاشن کے دوران کی ہے؟۔ شہریوں کے درمیان مذہب کی بنیادپران کے حقوق میں تفریق کیاآئینی اعتبارسے درست ہے؟۔دراصل وزیراعظم نے جوکچھ کہاوہ ان کے پرانے کیمپ کی ٹریننگ کااثرتھا۔ان کے آقائوں کے نزدیک مسلمانوں کی حیثیت وہی ہے جوکبھی وزیراعظم نے وزیراعلیٰ رہتے ہوئے کہاتھااورہریجنوں کی حیثیت برہمی کلچرمیں وہی ہے جووی کے سنگھ نے گذشتہ دنوں واضح کردی ہے۔وی کے سنگھ کابیان مودی کے سابقہ بیان کی توسیع ہے ۔بہارمیں اپنی پارٹی کی بدحالی کودیکھتے ہوئے انہوں نے نیامسئلہ چھیڑدیاہے۔گئوکشی،ذات برادری جیسے انتخابی ایشوجب فیل ہوگئے تواب مودی جی نے مذہب کاکارڈکھیلناشروع کردیاہے تاکہ مذہب کے نام پرووٹوں کے ارتکازکی سیاست کی جائے۔وزیراعظم اپوزیشن پرمذہب کی سیاست کاالزام لگاتے رہتے ہیں لیکن آج کاان کایہ بیان کیامذہب کی سیاست کی علامت نہیں بلکہ دلیل ہے۔
مضمون نگاربصیرت میڈیا گروپ کے فیچر ایڈیٹر ہیں
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker