مضامین ومقالات

حقوق انسانی اسلام کے آئینے میں

راحت علی صدیقی قاسمی
09557942062

مغربی دنیا حقوق انسانی حقوق انسانی کا شور مچارہی ہے مغربی ذہنیت کے دلدادہ نعرہ لگا رہے ہیں کہ انسانوں کو عزت وتکریم سے نوازا جائے انکے خون کو ارزاں نہ سمجھا جائے ہر کوئی خوشحال ہو تنگ دستی کا خاتمہ ہو جائے مصائب و آلام سے نسل انسانی کو سابقہ نہ ہو ایسے حالات تشکیل دئے جائیں کوئی آنکھ آنسو نہ بھائے کسی کی عزت نیلام نہ ہو کسی کا گھرانہ نہ اجڑے کسی آشیانے کو نذر آتش نہ کیا جائے .اور قراردات کا ایک سلسلہ عرصئہ دراز سے جاری ہے ستم ظریفی دیکھئے یہ الفاظ اس طبقے کی زبان سے نکلے جس کا چہرہ حیونوں اور درندوں سے بھی زیادہ ہیبت ناک ہے جسکے دامن پر ہزاروں انسانوں کے خون کے داغ نمایاں ہیں سفاکیت وبربریت میں جو کسی تاناشاہ سے کم نہیں جسنے کتنے گھروندے پھونک دئے کتنے بچوں کو فنا کے گھاٹ اتار دیا اور زبان حال سے وہ یہ شکوہ کرتے رہے کہ آخر یہ کس جرم کی سزا ہے ممتائیں سینے میں تڑپ کر رہ گئیں کتنی معصوم دوشیزائو ں کی عزتوں سے کھلواڑ کیا گیا کتنے لوگوں کو تہ تیغ کر دیا گیااسی پر بس نہیں انکے جرم کی داستان ہیروشیما ناگاساکی سے پوچھو وہ اپنا دردناک منظربتائینگے جسنے زمین وآسمان کو ہلا کر رکھ دیا انسانیت سہم گئی سینہ میں دل رکھنے والے آنسو بہانے پر مجبور ہوئے لاشوں کا ڈھیر نہ رونے والا نہ ماتم کرنے والا نہ دلاسا دینے والا کچھ بھی تو نہیں کوئی بھی تونہیں انتہا کردی درندگیت کی تاریخ کے صفحات پلٹتے جائیے پچاس مرتبہ ہر صفحہ کو بنظر عمیق دیکھئے پوری کائنات میں اتنا گھنائونا دردناک حادثہ کبھی نہیں ہو محققین کہتے ہیں لمحہ بھر میں ہنستی کھیلتی آبادیاں ریت کے کھنڈر میں تبدیل ہو گئی اور ایسا لگا جیسے صدیوں کا ویرانہ ہو ساری دنیا چیخ پکار کر رہ گئی کچھ نہیں ہوا کوئی قرارداد لیکر نہیں آئی اور یہ سفاکیت کی داستان اتنی مختصر نہیں ہے ذاتی مفاد کی خاطر یہ کسی بھی ملک کو تباہ کردیں اور کسی بھی حکومت کو صفحہ ہستی سے مٹادیں مثالوں کی کمی نہیں جو زیر اثر رہنے کو گوارہ نہ کرے اسے زندگی کی آسائشوں سے محروم کردیا جاتاہے اور اس کی زندگی فیض احمد کے اس شعر کی مصداق کردی جاتی ہے
زندگی کسی مفلس کی قبا ہے جسمیں
ہرگھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں.
بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ سخت دشوار یقین نہ ہو تو دیکھ لیجئے ارض مقدس کو جس کے سینہ پر کبھی عدل و انصاف کے قدم رکھے گئے تھے اود وہ امن و سلامتی کا گہوارہ تھی آج اس کا سینہ انسانیت کے خون سے رنگین ہے معصوموں کے جنازوں کا بوجھ تھرتھراتی اور کانپتی انسانیت اٹھانے پر مجبور ہے اور انسانوں کے خون سے لتھ پتھ افراد بات کرتے ہیں انسانیت کی آزادی کی عجیب وغریب ہے انکے اس قول کا مفہوم یہ تو انسانی جسم کی نمائش کو عزت کہتے ہیں شہوت پرستی کو آزادی گردانتے ہیں زناکاری کو حقوق دہی سے تعبیر کرتے ہیں مگر چونکہ اسلام دین فطرت ہے فطری تقاضوں سے پوری طرح واقف ہے اسلئے وہاں غلط خیالات کی ہوا بھی نہیں وہاں انسانیت کی توقیر ہے تذلیل نہیں (سورہ بنی اسرائیل آیت70)میں اس فلسفے کو بیان کیا گیااور اسلام ان لوگوں کی طرح باتوں کے محل تعمیل نہیں کرتا بلکہ حقائق کو سامنے رکھتا ہے وہاں ایک انسان کی قیمت ساری کائنات سے بڑھکر ہے یہ کرہ ارض اور اس پر آباد تمام مخلوق ایک خون کا معاوضہ نہیں ہیں جسکو اللہ تعالا فرماتے ہیں (سورہ مائدہ آیت32)اگر کسی شخص نے کسی کو قتل کردیا تو ایسا ہے جیسے ساری انسانیت کو قتل کر دیا اور جسنے ایک انسان کو زندہ کیااسنے ساری انسانیت کو حیات نوبخشی .ایک ایسا عمل جو کسی انسان کی زنگی بچانے میں معاون ہو اس کو اتنی قدر سے نوازا ہے کہ ساری کائنات اسکا احسان نہ اتار سکے یہ قراردادوں کا راگ الاپنے والے دیکھیں اسلامی تعلیمات کو اور اپنی حرکتوں کو اور انصاف کا دامن سنبھالتے ہوئے فیصلہ کریں .اسلام تو میدان جہادمیں بھی انسانیت کو پامال نہیں ہونے دیتا بچوں اور عورتوں کو تلوار کی زد میں آنے سے بچاتا ہے اور دوسری طرف یہ لوگ نہ جانے کتنے بچوں کو جوانی کے خوبصورت مناظر دیکھنے سے پہلے ہی صفحہ ہستی سے مٹادیتے ہیں .اسلامی تاریخ میں جتنے انسان جاں بحق ہوئے اتنے انکے یہاں سورج نکلنے اور چاند کے نمودار ہونے تک عرصہ میں قتل کر دئے گئے یہ حقیقت ہے انکے دعوں کی .اسلام مفسدین کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتا ہے اور یہ فساد کی تاریخ رقم کرتے ہیں عجب حال ہے انکا دعوۂ مسیحائی کرتے ہیں اور اعمال کرتے ہیں درندوں سے بھی بدتر کسی حرکت کو دیکھو تو ایسا لگتا ہے جیسے انکی مائوف ہو گئی ہوں .اسلام فرد کو بھی اسکے مکمل حقوق فراہم کرتاہے اور جماعت کو بھی عورت کو بھی مرد کو بھی بچے کو بھی اور انسانیت کو وقار بخشتا ہے کسی بھی مرحلہ میں آدمیت کی کی تو ہین نہیں کرتا اور یہ کیسے ممکن ہے جبکہ صراحتا بیان کیاجا چکا کہ ہم نے نوع انسانی کو عزت سے نوازا. اسالام کی آمد سے پہلے اس دنیا کے منظر نامے کو دیکھئے مغربی ممالک تو اپنا بتاتے بھی نہیں اس ڈارک ایج کہتے ہیں وہ انکی پستی اور پسماندگی کا زمانہ ہے جسکی تکالیف اور ابتری کووہ ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھتے اور عرب ممالک کی کیفیات انتہائی تکلیف دہ یہاں انسانیت کا کوئی معیار ہی نہیں انکی حیثیت قمقموں کی ہے جو تقریبات میں چراغاں کرنے کے لئے استعمال ہو رہے ہیں ۔ یہ ہے انسانیت درد کا احساس ہونا تو دور کی بات ہے انکی آہ و بکا پر فریاد مدد کا جذبہ بیدار ہونا یہ تو بہت دور کا خیال انہیں تصور بھی نہیں ہوتا تھا کہ یہ جو جل رہا ہے یہ بھی ہماری طرح گوست پوست رکھنے والا جاندرا انسان ہے بلکہ تالیوں کی گڑگڑاہٹ کے بیچ وہ جل کر خاکستر ہو جاتے تھے اور زمین وآسمان کانپ کر رہ جاتے.شدت کاعالم انتہا سے زیادہ اگر لڑائی شروع ہوئی توصدیاں بیت گئیں نسل تباہ ہو گئیں مگر رکنے کا نام نہیں .اور ہندوستان صوفی سنتوں کا دیس پیار محبت کا گہوارہ اسکا بھی عجیب حال تھا یہاں صنف نازک کیساتھ بڑا ڈرئوانا برتائو کیا جاتا تھاجس کو خدا نے محبت کے لئے پیدا کیا بچی ہو تو شفقت ماں ہو تو عقیدت بیوی ہو تو پیار اس کو شوہر کی چیتا پر رکھ کر پھونک دیا جاتا تھا .اسلام نہ صرف اس تکلیف دہ ماحول کو تبدیل کیا بلکہ ایک حیات بخش اور انسانیت نواز لائحہ عمل پیش کیا .وہ عورت جو آگ کے حوالہ کی جارہی تھی اسکو میراث تک کا حقدار بنایا وہ انسان جو بلب کی حیثیت رکھتے تھے انکے ساتھ اچھا برتائو کرنے کی تاکید کی وہ لوگ جو تھوک پر تلوار چلا رہے تھے ان میں اخوت کا ایسا جذبہ پیدا کیا کہ جان دے دی مگر دوسرے کی خواہش پامال نہ ہونے دی ۔اپنے درد کوبھول کر دوسرے کے درد کا درماں کرنے لگے ..یہ اسلام میں حقوق انسانی کا نفاذہے پوری دنیا اسکی مثال نہیں پیش کر سکتی تعصب کی عینک ہٹائے اور دیکھئے حقوق کون دیتا ہے انسانیت کی حفاظت کون کرتا ہے اور اسلام اور اسکے حقوق انسانی سے متعلق نظام کی عظمت کے معترف ہو جائیے۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker